وجود

... loading ...

وجود

نریندر مودی کا زوال شروع ۔۔۔یادو اور نتیش کے ’’عظیم اتحاد‘‘ کی فتح نے بی جے پی کا غرور خاک میں ملادیا

پیر 09 نومبر 2015 نریندر مودی کا زوال شروع ۔۔۔یادو اور نتیش کے ’’عظیم اتحاد‘‘ کی فتح نے بی جے پی کا غرور خاک میں ملادیا

modi

بہار کے تازہ انتخابی نتائج نے بی جے پی کی قیادت میں قائم اتحاد کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا ہے اور نتیش کمار کی قیادت والے ’’عظیم اتحاد‘‘ کو دوتہائی اکثریت کے ساتھ کامیابی دلا دی ہے۔اس طرح بی جے پی اور شیوسینا کے اتحاد کی جانب سے پاکستان مخالفت کا نسخہ کام آیا اور نہ ہی گائے کے گوشت کی مخالفت کا منجن فروخت ہو سکا۔مرکزی وزیر وی کے سنگھ کی جانب سے دلتوں کو کتے قرار دینے سے لے کر مسلم دشمنی کے تمام حربے آزمائے جانے کے باوجود بہار کے انتخابات میں نتیش کمار کی قیادت والے مہا گٹھ بندھن یعنی عظیم اتحاد نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو تقریباً پچھاڑ کر رکھ دیا ہے۔

نتیش کمار کے عظیم اتحاد نے 243 رکنی ایوان میں دوتہائی اکثریت کے ساتھ 178نشستیں اپنے نام کر لیں۔ اور بہار کی انتخابی مہم کا خود بیڑا اٹھا کر تابڑ توڑ تیس عوامی جلسے کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم اتحاد صرف 58 نشستیں ہی بچا پایا۔ جس پر بھارتی اخبار نے یہ سرخی جمائی کہ ’’انکسار سرخرو،غرور کا سرنیچا۔‘‘

نتیش کمار اور لالو پرساد یادو بغلگیر ہوتے ہوئے

ان انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں تمام کارپوریشنز اور انڈسٹریز گزشتہ عام انتخابات کی مانند نریندر مودی اور اُن کی جماعت بی جے پی کے ساتھ تھی۔ جنہوں نے نہایت مہارت سے تمام سرویز بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کے حق میں جاری کراکے انتخابات کی فضا مودی کے حق میں بنا دی تھی۔ انتخابات سے دور وزقبل بھی جاری کیا جانے والا سروے بی جے پی کے حق میں ہی تھا۔ یہاں تک کہ تمام پیش گوئیاں اور فال بھی بی جے پی کے حق میں ہی نکالے جارہے تھے۔ مگر فالوں ، پیش گوئیوں اور سرویز کو جعلی ثابت کرتے ہوئے لالو پرشاد یادو اور نتیش کمار کے اتحاد نے بہار میں وہ جادو کیا کہ بی جے پی کا تمام غرور خاک میں مل گیا اور اِسے نریندر مودی کی شکست سے تعبیر کیا گیا۔ یہاں تک کہ بی جے پی کو ایک وضاحتی بیان میں یہ کہنا پڑا کہ بہار شکست کا ذمہ دار صرف ایک شخص (مودی) کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مگر خود بی جے پی کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے کی سب سے اہم انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا کے ایک اہم رہنما سنجے راؤت نے براہِ راست نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہار انتخابات کے نتائج ایک رہنما (مودی) کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ابھی مہاراشٹر میں انتخابات ہو جائیں تو یہی نتائج (یعنی بی جے پی کی شکست کی صورت میں) نکلیں گے۔ شیوسینا لیڈر نے واضح الفاظ میں تسلیم کیا کہ نتیش کمار ایک سپر اسٹار ثابت ہوئے ہیں۔

بہار انتخابات نے اپنے سیاسی مستقبل سے پریشان لالو پرشاد یادو کو ایک مرتبہ پھر قومی سیاست میں اہم مقام بلکہ بادشاہ گر کی حیثیت دلا دی ہے۔ اور اُن کی جماعت راشٹریہ جنتا دل سب سے زیادہ 78نشستیں جیت کر پہلے نمبر پر واپس آگئی ہے۔ جبکہ اُن کی اتحادی جماعت نتیش کمار کی جنتا دل یو71 نشستیں جیت کر دوسری بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جماعت کا دعویٰ رکھنے والی بی جے پی بہار میں تیسرے نمبر پر سمٹ کر آکھڑی ہوئی ہے۔ لالو پرساد یادو نے کہا ہے کہ مودی اپنی جماعت کو واپس گجرات لے جائیں ۔

انتخابات میں تمام کارپوریشنز اور انڈسٹریز نریندر مودی اوراُن کی جماعت بی جے پی کے ساتھ تھی۔ جنہوں نے نہایت مہارت سے تمام سرویز بی جے پی کی قیادت والے اتحاد کے حق میں جاری کراکے انتخابات کی فضا مودی کے حق میں بنا دی تھی۔

بہار انتخابات میں 24 مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں سب سے زیادہ لالو پرساد یادو کی جماعت سے ہیں،جن کی تعدار بارہ ہے۔ دوسرے نمبر پر کانگریس سے چھ مسلم امیدوار کامیاب ہوئے۔ اور تیسرے نمبر پر نتیش کمار کے جنتادل یو سے پانچ امیدوار کامیاب ہوئے۔ تمام کے تمام چوبیس مسلمان امید واروں کی کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سب بہت بھاری فرق کے ساتھ اپنے حریفوں سے کامیاب ہوئے۔

بہار انتخابات میں عظیم اتحاد کی کامیابی نے پورے بھارت پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرنا شروع کردیئے ہیں ۔عظیم اتحا دکی کامیابی کے ساتھ ہی بی جے پی اور شیوسینا کی کامیابی والی سب سے اہم ریاست مہاراشٹر کی حزب اختلاف نے جشن منایا۔ اور ممبئی میں بی جے پی کے دفتر میں ایک سناٹا چھا گیا۔ بھارتی تجزیہ کار بہار انتخابات کو ایک ایسامثالی( ماڈل )انتخابات قراردے رہے ہیں جو آئندہ ہر انتخاب میں بی جے پی کے خلاف اپنے اثرات پیدا کرے گا اور یوں اِسے مودی کے زوال کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر