وجود

... loading ...

وجود

”سب کے فون پر قانونی قبضہ“، برطانیہ کی خفیہ ایجنسیاں تیار

هفته 24 اکتوبر 2015 ”سب کے فون پر قانونی قبضہ“، برطانیہ کی خفیہ ایجنسیاں تیار

برطانیہ کی قدامت پسند حکومت اسمارٹ فون اور کمپیوٹرز کے ذریعے عوام کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے جاسوس اداروں کو کھلی اجازت دے رہی ہے۔ اگلے ماہ پارلیمان میں ایک ایسا قانون پیش کیا جا رہا ہے جو انٹیلی جنس اداروں کو قانونی بنیاد فراہم کرے گا کہ وہ برطانیہ بھر میں کمپیوٹرائزڈ نظاموں میں داخل ہو سکیں۔ اس قانون کا نام ڈیٹا رٹینشن اینڈ انوسٹی گیٹری پاورز ایکٹ (DRIPA) ہے۔

اس سے کیا ہوگا؟ تو جان رکھیں کہ اگر آپ اسمارٹ فون رکھتے ہیں، آن لائن خریداری کرتے ہیں، سوشل نیٹ ورکس استعمال کرتے ہیں، تو امکان ہے کہ آپ کا ڈیٹا برطانیہ کے گورنمنٹ کمیونی کیشنز ہیڈ کوارٹرز (GCHQ) کے نگرانی پروگرام سے ہوتا ہوا گزرے گا، خاص طور پر اگر آپ غیر ملکی ہوں تو۔

برطانوی اخبار ‘انڈیپنڈنٹ’ کے مطابق جاسوسی ادارے آپ کے فون پر قبضہ جمانے اور اپنی مرضی کا سافٹ ویئر انسٹال کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوجائیں گے تاکہ کسی بھی وقت آپ کے ڈیٹا کو جانچ سکیں۔ نئے بل کی منظوری کی صورت میں وزارت داخلہ مواصلاتی اداروں کو حکم دے گی کہ وہ برطانیہ میں موجود ہر شخص کی ای میل، کال، پیغامات اور ویب سرگرمیاں 12 ماہ تک اپنے پاس محفوظ رکھے۔ ایسے ہی اختیارات دیگر ڈیٹابیس جیسا کہ طبی، سفری اور مالیاتی ریکارڈز وغیرہ کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں وہ رابطہ کاری بھی شامل ہے جسے خفیہ سمجھا جاتا ہے جیسا کہ ڈآکٹر، وکلاء، صحافیوں اور اراکین پارلیمان کے باہمی رابطے۔

آئندہ بل کم از کم ان کے لیے تو حیران کن نہیں ہے جو عرصے سے برطانیہ میں حکومت کی نگرانی کے مختلف طریقوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں، جن پر سے امریکی خفیہ ادارے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈین نے پردہ اٹھایا تھا۔

پرائیویسی انٹرنیشنل نامی ادارہ برطانیہ کے خفیہ اداروں کو عدالت میں گھسیٹ چکا ہے جس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایرک کنگ کہتے ہیں کہ “خفیہ طور پر اداروں کو حکم دینا کہ وہ اپنا ریکارڈ بڑی تعداد میں حکومت کے حوالے کریں، تاکہ وہ جس کی چاہیں جاسوسی کریں اور اس کام کی کوئی آزادانہ نگرانی بھی نہ ہو تو یہ بہت بڑا قانونی سقم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “لاکھوں بلکہ کروڑوں ایسے افراد کے ڈیٹا کو بڑے پیمانے پر جمع کرنا صریحاً غلط ہے، جن کا نہ دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ کسی جرم میں شک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ حکومت اقرار بھی کرتی ہے کہ ان میں سے بیشتر معلومات سرے سے کوئی انٹیلی جنس اہمیت ہی نہیں رکھتی، لیکن اس کے باوجود یہ قبیح فعل جاری ہے۔”

امریکی خفیہ ادارے کے سابق اہلکار اور حکومتوں کی جانب سے عوام کی جاسوسی کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے ایڈورڈ سنوڈین سے جب پوچھا گیا تھا کہ وہ ان افراد کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اور حکومت کی جانب سے نگرانی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، تو انہوں نے کہا تھا کہ “یہ معاملہ کسی سے چھپنے چھپانے والا نہیں ہے، بلکہ یہ اس آزادی کی خلاف ورزی ہے جو آپ کا حق ہے۔ آپ جسے چاہیں دوست بنائیں، اس بارے میں سوچے بغیر کہ حکومت کے نامہ سیاہ میں آپ کے نجی ریکارڈ پر اس شخص کے ساتھ دوستی کیسی لگے گی؟ یہ فطری ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ہمیں غسل خانے میں داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ پولیس وڈیو کیمرے لگائے اور ہمیں غسل خانے میں نہاتے ہوئے دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے سام سنگ ٹی وی کے حوالے سے پریشان ہیں، جو اپنے اردگرد ہونے والی تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ کرسکتا ہے اور اسے کسی اور کے پاس بھی پہنچا سکتا ہے۔ بس آگے یہی ہونے جا رہا ہے، اب ہم ٹی وی نہیں دیکھ رہے، بلکہ ٹی وی ہمیں دیکھ رہا ہے۔”

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں جب ایڈورڈ سنوڈین سے سوال کیا گیا کہ انہوں جو کچھ کیا ہے، کیا اس پر شرمندگی ہے؟ انہوں نے جواب دیا “جی ہاں، لیکن صرف اتنی کہ یہ سب میں نے پہلے کیوں نہیں کیا۔ اگر یہ معاملات جلدی سامنے لاتا تو ہوسکتا ہے ہمیں اپنی آن لائن زندگی میں زیادہ آزادی میسر ہوتی۔” انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “ایسے نگرانی پروگراموں کی اصلاح کرنے میں درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وسیع سرمایہ کاری اور عوام کی اطلاع میں لائے بغیر ایک مرتبہ کام کے آغاز کے بعد توپھر اسے تبدیل کرنا بڑا مشکل ہوتاہے۔”


متعلقہ خبریں


اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر