... loading ...

بروس ریڈل نے اپنی تازہ کتاب میں سابق امریکی صدر جان ایف کینڈی (1961 تا 1963)کے سرد جنگ کے زمانے کے زیادہ خطرناک دور کے ایک فراموش شدہ بحران کی اندرونی کہانی پیش کی ہے ۔
بروس ریڈل کی کتاب”JFK’s Forgotten Crisis” دراصل چین اور بھارت کے درمیان اُس جنگ کا اندرونی احوال بتاتی ہے جس میں پاکستان کے بھی کودنے کے خطرات پوری طرح موجود تھے۔ مصنف کے مطابق جان ایف کینیڈی کا دورِ صدارت عام طور پر کیوبا میزائل بحران کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ جب دنیا امریکا اور سوویٹ یونین کے مابین ایٹمی جنگ کے خطرے سے دوچار تھی۔ تب تاریخ میں نظر انداز ہونے والی چین بھارت جنگ پر بھی امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اپنا خاصا وقت صرف کیا تھا۔ بروس ریڈل نے لکھا ہے کہ جب چین کی مسلح افواج نے اکتوبر 1962ء میں بھارت کے زیرانتظام سرحدی علاقے میں جمع ہونا شروع کیا تو کینیڈی نے ہنگامی طور پر بھارت کی فوجی امداد کا حکم دیا اور پڑوسی ملک پاکستان کو ایک سفارتی گفتگو میں مصروف کیا جس کا مقصد اُسے اس جنگ سے باہر رکھنا تھا۔
بروس ریڈل نے اپنی کتاب کے ایک باب جموں وکشمیر کے بھولے ہوئے بحران میں لکھا ہے کہ 1962 میں پاکستان بھارت پر پوری طرح سے حملہ کرنے کے قابل تھا اور بھارتی فوج اس قابل نہیں تھی کہ وہ دوطرفہ جنگ میں خود کو سنبھال پاتی۔ مصنف کے مطابق پاکستانی حملے کی صورت میں بھارتی فوج ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی۔ ریڈل کے مطابق امریکی صدر کینیڈی نے پاکستان کو ممکنہ حملے سے روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ کینیڈی اور برطانوی وزیر اعظم ہیرلڈ میکملن نے تب پاکستان پر سخت دباؤ ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ کہ اگر وہ حملہ کرتا ہے تو اسے بھی چین کی طرح ہی حملہ آور ملک قرار دیا جائے گا۔اس پر پاکستان کا موقف یہ تھا کہ یہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدوں کی حدود سے متعلق دیرینہ جھگڑے سے متعلق جنگ ہے جسے سرد جنگ اور کمیونزم سے جوڑ کر دیکھنا درست نہیں۔ مگر امریکا ایک کمیونسٹ طاقت کی طرف سے اِسے ایک جمہوری ملک پر حملے کی طرح ہی سمجھ رہا تھا۔ مصنف کے دعوے کے مطابق پاکستانی صدر ایوب خان نے اُن حالات میں بھارت پر حملہ نہ کرنے کے عوض امریکا سے کشمیر کا مطالبہ کیا تھا۔ کتاب کے مطالعے سے اندازا ہوتا ہےکہ امریکا اور برطانیا کی طرف سے پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جنگ کے بعدبھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے گا۔ مگر جنگ کے بعد جب ایوب خان نے اس کا مطالبہ کیا تو بھارت میں امریکی سفیر گیلبریتھ نے واشنگٹن کو یہ جواب دیا کہ چین سے شکست کے بعد نہرو مکمل ٹوٹ چکے ہیں اور مقامی سیاست میں ان کی ساکھ اب ایسی نہیں رہی ہے کہ وہ کشمیر جیسے معاملے پر کوئی اہم فیصلہ کر سکیں۔لہذا اس طرح کشمیر کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
بروس ریڈل کے مطابق اس معاملے میں کینیڈی کے معتمد مشیربھارت میں امریکی سفیر گیلبریتھ ہی تھے جنہیں نہرو سے بے پناہ قربت کے باعث خود نہرو کا ہی مشیر کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں گیلبریتھ نے اپنی ڈائری میں ایوب خان کی طرف سے حملہ نہ کرنے کی صورت میں کشمیر دلانے کے مطالبے کو “بلیک میلنگ” قرار دیاتھا۔ کتاب کے مطابق ایوب خان نے کینیڈی سے اس بات پر ناراضی بھی ظاہر کی تھی کہ امریکا نے پاکستان کو بتائے بغیر ہی بھارت کو ہتھیار فراہم کیے۔اس پر ایوب خان کا کہنا تھا کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ 1961 کے اس سمجھوتے کو توڑا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ چینی حملے کے باوجود امریکا بھارت کو پاکستان کی منظوری کے بغیر فوجی امداد نہیں دے گا۔
ریڈل نے لکھا ہے کہ 1962 میں پاکستان نے حملےکا موقع ہونے کے باوجود بھارت پر حملہ اس لیے نہیں کیا کہ اس طرح اُسے امریکا اور برطانیاکی ناراضی مول لینا پڑتی ۔ اور تب پاکستان اور چین کے تعلقات ایسے بھی نہیں تھے کہ پاکستان اس وقت چین پر کوئی یقین کر سکتا۔
بروس ریڈل کی یہ انکشافات بھری کتاب 177 صفحات پر مشتمل ہے جسے امریکی تھنک ٹینک “بروکنگز” نے شایع کیا ہے۔ بروس ریڈل کی اس کتاب کی اشاعت کا وقت نہایت اہم ہے کیونکہ یہ کتاب ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عوام بڑے پیمانے پر آزادی کی خاطر مودی سرکار کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور بھارتی فوج ایک مرتبہ پھر انہیں دبانے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔
کتاب کے مصنف بروس ریڈل تیس برس تک سی آئی اے میں کام کرتے رہے ۔ اس کے علاوہ مصنف نے چار امریکی صدور کے مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ اُن کی نوگیارہ کے بعد آنے والی تمام کتابوں کو بہت زیادہ اہمیت ملی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...
برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...
جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...
علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...
حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...
خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...