وجود

... loading ...

وجود

ادویہ کی تھوک فروش مارکیٹ کے صدر پر قاتلانہ حملہ

جمعرات 15 اکتوبر 2015 ادویہ کی تھوک فروش مارکیٹ کے صدر پر قاتلانہ حملہ

ghulam hashim noor

پاکستان کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کراچی کے صدر غلام ہاشم نورانی پر 14 اکتوبر بدھ کی شب ادویہ کے اسمگلروں اور کھیپیوں کی جانب سے قاتلانہ حملے نے پوری مارکیٹ میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ہول مارکیٹ کے صدر غلام ہاشم نورانی کچی گلی ، میریٹ ہوٹل مکہ میڈیسن میں واقع اپنے دفتر کی بالائی منزل سے اُتر کر اپنے شراکت دار منیر کے ہمراہ پارکنگ کی جانب بڑھے تو اُن پر پیچھے سے آنے والے آٹھ دس ملزمان نے تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا۔ جس سے اُن کی گردن اور بازو پر گہرے زخم آئے۔اس دوران میں مارکیٹ کے نجی محافظوں نے اُنہیں حملہ آوروں سے بچا کر سول اسپتال پہنچا یا۔ ابتدائی طبی روداد کے مطابق ہاشم نورانی کے بازو پر تیرہ ٹانکے آئے ہیں اور اُن کے بائیں ہاتھ کی اُنگلی ٹوٹ گئی ہے۔

غلام ہاشم نے طبی قانونی کارروائی (میڈیکو لیگل ) کے دوران میٹھادر پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ حملہ کرنے والے بعض ملزمان کو جانتے ہیں۔ پولیس کو دیے گیے اپنے ابتدائی بیان میں اُنہوں نے کہا کہ اُن پر حملہ کرنے والوں میں شاہ زیب اقبال ، اسلم پولانی عرف جاوید کولمبو، شاہ نواز عرف شانی کے علاوہ سات آٹھ دیگر لوگ بھی شامل تھے۔ جنہیں وہ سامنے آنے پر شناخت کر سکتے ہیں۔ غلال ہاشم نے پولیس کو بتایا کہ اُن پر حملہ کا حکم دینے والوں میں عارف چوہدری اور شاہد چوہدری شامل ہیں۔

غلام ہاشم نے اُن پر حملے کے پسِ پردہ اسباب واضح کر دیےہیں۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اُنہوں نےا یک گفتگو میں وضاحت کی کہ کراچی میڈیسن مارکیٹ میں دواؤں کے اسمگلروں اور کھیپیوں کی لائی ہوئی دوائیوں کی مارکیٹ میں کھلی فروخت سے اُس کاروبار پر نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو ڈرگ قوانین کے مطابق کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں کو متوجہ بھی کیا گیا ہے۔ جس پر اُنہیں تین ماہ سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ جس کی وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری اور زبانی اطلاعات بھی دیتے رہے ہیں۔ غلام ہاشم نے یہ بھی دُہرایا کہ گزشتہ روز پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن (پی سی ڈی اے) کے سالانہ عشائیے میں اپنے خطاب میں اُنہوں نے برملا یہ مطالبہ کیا تھا کہ ارباب ِ اختیار کراچی ہول سیل میڈیسن مارکیٹ میں ڈرگ مافیا کی سماج دشمن سرگرمیوں پر توجہ دے۔ اس مطالبے کے ٹھیک تین روز بعدغلام ہاشم پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔

یہ ایک حیرت انگیز امر ہے کہ پولیس غلام ہاشم کی جانب سے ملزمان کی نامزدگی کے باوجود ایف آئی آر کے اندراج سے گریز کر رہی ہے۔اس کے بالکل برعکس سندھ رینجرز کے افسران نے اسپتال جاکر غلام ہاشم سے واقعے کی تفصیلات معلوم کی ہے۔

طاہر پرنس پاکستان میں ممنوعہ ادویہ کی اسمگلنگ کے الزام میں ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتار ہو کر امریکی جیل میں قید ہے ۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ کراچی ہول سیل میڈیسن مارکیٹ سمیت شہر کے بڑے بڑے میڈیکل اسٹورز پر ادویہ کے اسمگلروں اور کھیپیوں کا ایک ایسا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ جس کی سرپرستی کرنے والوں میں ضلع جنوبی کے ایک اہم ترین پولیس افسر ملوث قرار دیے جارہے ہیں۔ ادویہ مارکیٹ میں یہ بات عام طور پر گردش کر رہی ہے کہ وہی افسر دراصل ادویہ کے غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں جبکہ یہ غیر قانونی کاروبار کرنے والے عناصر خود کو سماجی کارکن کے طور پر خیراتی کاموں میں بھی حصہ لے کر اپنی شہرت کو داغدار ہونے سے بچانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن غلام ہاشم کی جانب سے جن حملہ آوروں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ ادویہ کے غیر قانونی کاموں میں ملوث خاصے مشہور نام ہیں۔ اس میں شامل شاہ زیب اقبال ، طاہر پرنس کا بھانجا ہے۔ طاہر پرنس ، گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں ممنوعہ ادویہ کی اسمگلنگ کے الزام میں ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتار ہو کر امریکی جیل میں قید ہے ۔

مارکیٹ ذرایع کے مطابق طاہر پرنس اور وسیم کو ایف بی آئی کے اہلکاروں نے فرضی گاہک کے ذریعے پاکستان سے لندن بلایا تھا اور اُنہیں وہاں سے گرفتار کرکے اپنے ساتھ امریکا لے گئی تھی۔جبکہ اسلم پولانی عرف جاوید کولمبو کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ادویہ کے غیر قانونی کاروبار میں بیرون ملک سے سزا یافتہ ہے۔

کراچی میں جاری نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے دوران میں ادویہ کے اسمگلروں اورکھیپیوں کی دیدہ دلیری پر مبنی ان سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ پولیس میں شامل بعض کا لی بھیڑیں وفاقی اداروں کے ساتھ عدم تعاون پر مبنی رویے سے ایک رکاؤٹ بن رہی ہیں۔ بلکہ بالواسطہ شہر میں جاری دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہیں جس کا تازہ ثبوت ایک بڑی تجارتی ایسوسی ایشن کے زخمی صدر غلام نورانی کی جانب سے نشاندہی کے باوجود ملزمان کے خلاف ایک آئی آر کے اندراج سے گریز ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر