وجود

... loading ...

وجود

لاہور کا انتخابی دنگل۔۔۔نون کے ساتھ انصاف ہو گیا

بدھ 07 اکتوبر 2015 لاہور کا انتخابی دنگل۔۔۔نون کے ساتھ انصاف ہو گیا

pml-n-workers-lahore

اگر انتخابی دفاتر کی تعداد، ان پر بجنے والے ڈھولوں پر ناچنے والے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد، سڑکوں پر دوڑتی پھرتی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں ، کھمبوں پر لٹکے بینرز، پوسٹرز، ہورڈنگز اور الیکٹرانک میڈیا پر ائیر ٹام خرید کر اپنی کوریج کروانے سے مطلوبہ انتخابی نتائج حاصل ہو سکتے تو پھر سمجھ لیجئے کہ علیم خان نے چوہدری سرور کی سربراہی میں حلقہ ۱۲۲ کا یہ انتخابی معرکہ جیت لیا ہے۔ لیکن اس کا فیصلہ گیارہ اکتوبر کو ووٹوں کے ذریعے ہونا ہے تو اس حوالے سے ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں۔ تحریکِ انصاف ابھی تک دکھاوے کی سیاست پر پورا زور صرف کر رہی ہے تو مسلم لیگ نواز نے بھی اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیرنے یعنی خود احتسابی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صاف پانی کی سہولت سے محروم اس حلقے کے عوام جب بھی سابق سپیکر کے پاس یہ مسئلہ لے کر جاتے تھے تو انہیں یہ جواب ملا کرتا تھا کہ فنڈز نہیں ہیں اس لئے اگر آپ کے گھروں میں پینے کے لئے فراہم ہونے والا پانی آلودہ ہے تو اس کو اُبال کر استعمال کرلیں۔ یوں حلقے کے عوام اُبلے ہوئے پانی سے زیادہ کھولتے ہوئے اپنے گھروں میں لوٹتے تھے۔

مسلم لیگ نواز کے سابق ایم پی اے اور موجودہ امیدوار محسن لطیف تو ایاز صادق سے بھی کئی ہاتھ آگے نکل گئے ۔ موصوف نے انتخابات جیتنے کے بعد مڑ کر بھی اپنے حلقے کی خبر نہیں لی۔ اسی لئے اب مسلم لیگ کے ووٹرز کا ایک حلقہ ان کو مزہ چکھانے کے موڈ میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نواز لیگ لاہور کاایک اور بڑانام چوہدری شریف اور ان کے صاحبزادے آجاسم شریف جن کا اس حلقے کی آرائیں برادری میں گہرا اثر و رسوخ ہے ، اوریہ باپ بیٹے آگے پیچھے ۱۹۸۵ ء سے لے کر ۲۰۰۸ء تک اس حلقے سے پانچ دفعہ ایم پی اے منتخب ہو چکے ہیں ، وہ بھی تحریکِ انصاف کو پیارے ہو چکے ہیں۔

نواز لیگ کے اس سابق ایم پی اے اور ان کے ابا جی، جو میاں صاحبان کی جدہ موجودگی کے دوران ان کے بہت سے ’’خاندانی رازوں ‘‘کے امین رہے ہیں ، لہذا پورے شریف خاندان کا صرف انہی پر انحصار رہا ہے۔ لیکن اقتدار کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ اقتدار میں واپس آتے ہی ۲۰۰۸ء کے انتخاب میں تو آجاسم شریف کو برقرار رکھا گیا، لیکن ۲۰۱۳ ء میں اس حلقے سے میاں صاحب نے رشتے داری کے باعث محسن لطیف کو ایم پی اے کا ٹکٹ دے دیا ۔ اسی عدم توجہ اور بے اعتناعی پر شکوہ کناں چوہدری شریف کو بالآخر اپنے صاحبزادے کی فرمائش کے آگے سرنگوں ہونا پڑا اور وہ تحریکِ انصاف کی گود میں جا گرے۔

اسی طرح آرائیں برادری کی ایک اور اہم شخصیت حافظ نعمان جو اپنے مرحوم چچا میاں عثمان کے ووٹوں پر بھروسا کرتے ہیں ، وہ مشرف کے مشکل دور میں یہاں سے ایم پی اے رہ چکے ہیں ۔ ان کو بھی گزشتہ انتخابات میں نظر انداز کر کے اولمپیئن اختر رسول کو ٹکٹ دے دیا گیا۔ جو شاندار طریقے سے اسلم اقبال حسین سے ہار گئے۔ ایک اور آرائیں رہنما میاں منیر اچھرہ والے بھی تحریکِ انصاف کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اگرچہ حافظ نعمان نے حمزہ شہباز شریف کو ایک عدد استقبالیہ بھی دے ڈالا ہے لیکن واقفانِ حال کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نواز کی حمایت پر ان کی برادری میں ابھی تک اختلافات موجود ہیں۔ اسی ایم این اے کی سیٹ سے ملحقہ ایم پی اے کے حلقے سے اختر رسول کو ہرا کر منتخب ہونے والے تحریکِ انصاف کے اسلم اقبال حسین کے بھائی جن کی شہرت کرکٹ پر جوا کروانے کے حوالے سے ہے، اور جو اس حوالے سے حوالات کی سیر بھی کرتے رہے ہیں، وہ بھی اپنے پورے سرمایے کے ساتھ روبہ عمل ہیں جس کے ثبوت اس حلقے کی ہر گلی، ہر کھمبے اور ہر دروازے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی لاہور کی زمان پارک رہائش بھی اسی حلقہ میں ہے جہاں ان کا اپنا ووٹ رجسٹر ہے۔

اس ساری دگرگوں صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اپنے بیٹے کے بعد خادم اعلیٰ بھی اس دنگل میں یوں کودے ہیں کہ اس حلقے میں انتخابات کی ذمہ داری لاہور کے نواحی شاہدرہ کے حلقے سے ایم این اے ریاض ملک کو دے کر یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر یہاں سے شکست ہوئی تو آپ کو آئندہ ٹکٹ نہیں ملے گا۔ وہ خادمِ اعلیٰ جنہوں نے کبھی اپنے وزراء کو منہ تک نہیں لگایا ، انہوں نے اس حلقے میں مسلم لیگ کے یونین کونسل کے ناظمین اور نائب ناظمین کو ایک پرتکلف کھانے پر مدعو کیا۔ کئی گھنٹے تک ان کی جلی کٹی سننے کے بعد ان کے تمام گلے شکووں کو دور کرنے کا اعلان تو کردیا مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ شرط عائد کی مجھے اس حلقے میں جیت چاہیے۔

انتخابی دنگل کی دگرگوں صورتِ حال کو دیکھ کر اپنے وزرا کو منہ تک نہ لگانے والے خادم اعلیٰ اپنے بیٹے کے بعد خود بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔

لاہور کے سیاسی تھڑے بازوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ تحریکِ انصاف ـ’’ماحول بنانے‘‘ اور مسلم لیگ نواز سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔ اس لئے انتخابات کے دن کا نتیجہ تحریکِ انصاف کو حیران بھی کر سکتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح گزشتہ انتخابات میں اسی حلقے کے عیسائی بھائیوں کی آبادیوں کے انتخابی نتائج نے اُن کو حیران کیا تھا جہاں علیم خان صاحب نے اپنی جیب سے ترقیاتی کام کروائے تھے۔

لیکن ان سب باتوں میں جو بات نظر انداز ہو رہی ہے، وہ محسن لطیف کے مقابلے میں آنے والے شعیب صدیقی کا کردار ہے جو گزشتہ انتخابات سے لے کر دھرنے اور پھر اب تک تمام سرگرمیوں کے دوران پارٹی اور ’’اُنگلی والی سرکار‘‘ کے درمیان پیغام رساں رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حلقے میں بچے بچے کی زبان پر ہے کہ اس انتخابی دنگل کی پلاننگ ’کہیں اور‘ سے ہو رہی ہے اور اب تک اس پرحرف بہ حرف عمل کیا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم کے حوالے سے اب تک اس حلقے میں تحریکِ انصاف کافی آگے نظر آتی ہے۔ کچھ ظالم عمران خان کی طرف سے حلقے کے ہرپولنگ بوتھ کے ساتھ ایک ایک فوجی کی تعیناتی کے’’ عمرانی‘‘ مطالبے کو بھی اسی پس منظر میں شعیب صدیقی کی کارروائی کے طورپر دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں بھی ہے تو پھر اسے مسلم لیگ کی پہلی کامیابی کہیے کہ وہ دھرنے کی طرح اس حلقے کے انتخابات کو بھی ’’اُنگلی والی سرکار‘‘ کی طرف سے اُن کے خلاف برپا کی گئی جنگ باور کرانے میں کامیاب ہے اور اِس جنگ میں اپنی مظلومیت اور بے چارگی کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتی ہے۔

اس پورے تناظر میں ایک حقیقت یہ بھی سامنے کی ہے کہ مسلم لیگ نون کو خود اس کے گھر میں جس چیلنج کا سامنا ہے وہ ہار جیت سے قطع نظر اب ایک حقیقی چیلنج بن چکا ہے۔ مسلم لیگ نون خود اپنے حلقہ انتخاب میں اپنے ہی ووٹروں کو بھی پوری طرح مطمئن کرنے میں ناکام ہے اور اُس کے اقربا پروری کے مزاج نے اُس کے تمام فتح گر مہرے اُس سے چھیننا شروع کر دیے ہیں۔ موجودہ ضمنی انتخاب کا نتیجہ کچھ بھی آئے، خواہ وہ مسلم لیگ نون کے حق میں ہی کیوں نہ ہو، مگر اب اُسے اس حقیقی چیلنج سے مستقل طور پر پنجاب میں نبرد آزما رہنا ہے مگر مسلم لیگ نون کی خاندانی قیادت اس حقیقی مسئلے کو مستقل حل کرنے کے بجائے اسے بس انتخابات کے ماحول میں ہی عارضی طور پر اپنے سامنے رکھتی ہے۔ اس کی یہ روش بعد میں اس کے خلاف زیادہ بڑے ردِ عمل کو پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ دوسری طرف عمران خان اور اس کی تحریک انصاف کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ اپنی تشہیری مہم کو انتخابی کامیابی میں تبدیل کرنے کی تنظیمی صلاحیت سے محروم ہے اور پنجاب کے انتخابی ماحول کے سیاسی اور عملی شعور سے مکمل تہی دامن ہے۔ چنانچہ وہ اپنے خلاف نتائج اور اپنے گرد پیدا کردہ نمائشی ماحول کے بیچ کا فرق سمجھنے سے قاصر ہے۔ اور اِسی کو سب سے زیادہ بہتر مسلم لیگ نون سمجھتی ہے جس کا وہ مکمل فائدہ اور تحریک انصاف مکمل نقصان اُٹھاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر