وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

جمعه 02 اکتوبر 2015 نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

nandipur-power-project

نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ اُنہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات اور حکومت کے سب سے بڑے دشمن وہ خود ہوتے ہیں۔ اچھے کام بھی کرتے ہیں مگر اتنے کم کہ اُن کے بُرے کاموں پر غالب نہیں آسکتے۔ اپنے موجودہ پانچویں اقتدار کا نصف گزارنے کے بعد اپنے آپ کو تاحال ’’مسٹر کلین ‘‘ کے طور پر منوا نہیں سکے ۔ یکے بعد دیگے ایک دو نہیں، درجنوں ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں ،جن میں ان کی عوام دوستی کے دعوؤں کے برخلاف لوٹ مار اور بدعنوانیاں واضح نظر آرہی ہیں۔ اس میں سرفہرست نندی پور تھرمل پاؤر پراجیکٹ ہے۔

نندی پور ایک ایسا بھد نامہ (اسکینڈل)ہے جو نہ صرف موجودہ حکومت کی کھلی لوٹ مارکا واضح ثبوت ہے۔ بلکہ اُن کی پیپلز پارٹی کے لیے محبت کا ایک اور عملی مظاہرہ بھی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ ماضی کی حکومتوں میں تیار ہوا۔ مگر اس بہتی گنگا میں موجودہ حکومت نے بھی اپنے ہاتھ کھل کر دھوئے ہیں۔ اور اب انکوائری،تحقیقات اور آڈٹ کے نام پر قربانی کا بکرا تلاش کرنے اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی بے سود کوششیں ہورہی ہیں،جو عذرِ گناہ بدتراز گناہ کے مترادف ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں نندی پور اور اس طرح کے نقد آور منصوبوں کے پس منظر میں نہ صرف کھلی بلکہ ننگی گفتگوئیں ہورہی ہیں۔ حقائق اور ثبوت خزاں کے خستہ پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔گو’’ آئی سی ایس ‘‘ کے (یہ پرانی انڈین سول سروس والی اصطلاح نہیں ، بلکہ جدید ’’اتفاق سول سروس‘‘ اس سے مراد ہے) حاضر باش افسران بھی اپنے سرتاجوں کو بچانے میں معروف ہیں۔ اور حکومت کے چار اعلیٰ ترین عہدیداران اور تین منظورِ نظر بیورو کریٹس کو بچانے کے لیے ’’پھرتیاں‘‘ دکھا رہے ہیں۔اور اس عمل میں قومی احتساب بیورو (نیب) ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی آر) جیسے قومی اداروں کو بدنیتی اور غیر آئینی طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

وجود ڈاٹ کام کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس قومی لوٹ مار کے دو حصے ہیں۔اول حصہ اُس دور سے تعلق رکھتا ہے جس میں اس منصوبے کی خلافِ ضابطہ منظوری دی گئی۔ سابق ’’مردِآہن‘‘ پرویز مشرف کے دور ِ حکومت میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ تب اس425 میگاواٹ کے منصوبے کی لاگت 329 ؍ملین ڈالر(23؍ارب ڈالر) تھی۔اس منصوبے کے معاہدے پر 2008ء کے انتخابات سے محض ایک ماہ قبل جنوری 2008ء میں دستخط کیے گئے۔ جسے اپریل 2011ء میں مکمل ہونا تھا۔ پاکستان الیکٹرک پاؤر کمپنی (PEPCO) کو اس منصوبہ کا مالک قرار دیاگیا۔ پیپلز پارٹی کے دوسرے دورِ حکومت یعنی نوے کی دہائی میں نجی تھرمل کمپنیوں کی لوٹ مار کے بعد دنیا بھر کے ماہرین یکسو تھے کہ پاکستان کی لڑکھڑاتی معیشت اب مزید کسی تھرمل جنریشن کی مار سہہ نہیں سکتی۔ تاہم جادو گر وزیراعظم شوکت عزیز کی انتہائی متنازع اور نقصان دہ تھرمل پالیسی کے تحت ہی اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دور میں جب پیٹرول کی قیمتیں آسمان پر چڑھتی جارہی تھیں اور عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی قیمت120 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے والے اس منصوبے کی منظوری اس طرح دی گئی کہ نہ تو یہ ماپا گیا کہ اس فیصلے کا زرِ مبادلہ پر کتنا بوجھ پڑے گا، (کیونکہ اس وقت قومی ذخائر پندرہ ، سولہ ارب ڈالر سے زیادہ نہ تھے )اور نہ ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ بجلی کی پیداواری لاگت کیا ہوگی اور نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لیے اس منصوبے سے کس قیمت پر بجلی خریدی جائے گی؟ پیپلز پارٹی کے گیلانی دورِ حکومت میں آصف علی زرداری کے دستِ راست ڈاکٹر عاصم حسین، وزارتِ پیٹرولیم کے مدارالمہام ہونے کی حیثیت سے پیپلز پارٹی کے نہایت چہیتے سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کے ذریعے آنکھیں بند کرکے اس آلودہ منصوبے کے سرپرست بن گئے۔پھر چینی کنٹریکٹر ہو اور پیپلز پارٹی کی حکومت ، منصوبے میں سے لذتیں کشید کرنے کے وہ راستے ڈھونڈے گئے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ ایوانِ اقتدار کی راہداریوں میں یہ کوئی خفیہ معاملہ نہیں تھا۔ وہاں تو کھلی بولیاں لگتی تھیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سرپرستی کے باوجود منصوبے کے تعمیراتی کاموں، زمین کی خریداری، آلات کی درآمد اور تنصیب فرنس آئل کی خریداری اور سب سے بڑھ کر منصوبے کے لیے فنڈز کی ریلیز میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی اور کمیشن لیے گئے ہیں

ڈاکٹر عاصم کے ایما پر نہ صرف وزارتِ خزانہ اور وزارتِ پانی وبجلی نیپرا اور منصوبہ بندی کمیشن نے منصوبے کی حتمی منظوری دی۔ بلکہ نیپرا نے بھی ایک دباؤ کے تحت نہایت اونچی قیمت کی منظوری دی۔ یہ تمام تفصیلات گزشتہ ایک ماہ کے دوران موصوف رینجرز کی تحویل میں بتا چکے ہیں۔ بلکہ اس سے متعلق ضروری دستاویزات تک دی گئی ہیں جو مناسب مقامات پر مستقبل میں استعمال کے لیے محفوظ ہو چکی ہیں۔ اس دور کی اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک قطعی ناقابلِ عمل اور نقصان دہ منصوبہ کی فائل بغل میں لے کر ایک وزارت سے لے کر دوسری وزارت اور ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک جانے والے ایک تابعدار بیورو کریٹ کو ہی (جو آج وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منظورِ نظر ہونے کے ناطے آڈیٹر جنرل پاکستان کے آئینی عہدہ پر براجمان ہیں ) اس منصوبے کے آڈٹ کے لیے چُنا گیا۔ ان صاحب کو ذمہ داران کے تعین کی جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ آئین کی صریح خلا ف ورزی اور تحقیقات کے نام پر کھلا فراڈ ہے۔ اگر موجودہ حکومت تحقیقات میں سنجیدہ ہوتی تو اس منصوبے کے’’ پی سی ون ‘‘سمیت تمام فائلیں نکلواتی اور اس پر دستخط کرنے والوں سے تحقیقات کرتی۔ اور کچھ نہیں تو تمام متعلقہ افراد کے اثاثوں کے گوشوارے اور ملکی وغیر ملکی اور خفیہ و اعلانیہ بینک اکاؤنٹس چیک کرلیں تو ساری حقیقت کھل جائیگی۔ مگر ڈاکٹر عاصم اور زرداری کے پسندیدہ افسران نے پھر سے اقتدار میں آتے ہی ’’چھوٹے میاں‘‘ کو بتایا کہ حضور ابھی ان پھولوں میں بہت رس باقی ہے اور موجودہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ صرف اُن چند سرکاری افسران کو قبول کیا بلکہ نندی پور منصوبے کو بھی گود لے لیا۔ اس طرح 23؍ارب کا وہ منصوبہ جسے پیپلز پارٹی نے 37؍ارب تک پہنچایاتھا، اب عوام دوست حکومت کے عہد میں 95؍ارب روپے کا ہوچکا ہے۔

خوشامد اور چاپلوسی کے ہتھیار ہمیشہ کاری وار کرتے ہیں جس طرح ماضی میں سلمان فاروقی اینڈ کمپنی، شیرشاہ سوری ثانی کہہ کر پھونک بھرتے رہے۔ موجودہ ’’آئی سی ایس‘‘ نے بھی انجینئر بادشاہ (شاہجہاں) کے لقب سے وہ پھونک بھری کہ قاعدے، قانون اور ضابطے سب دھرے رہ گئے۔ وزیراعظم توشاید اسی پھونک سے اڑتے رہے مگر عین اُن کی ناک کے نیچے وزیراعلیٰ شہباز شریف اس منصوبے کے بگ باس بن گئے۔ اور پھولوں میں وہ رس بھی چوس لیا جس کی توقع خود چمن اُگانے والوں تک کونہ تھی۔ چنانچہ داڑھی سے بھی مونچھیں لمبی ہوتی گئی اور 23 سے 37؍ارب ہونے والا منصوبہ 95؍ ارب روپے کا ہوگیا۔

وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں نندی پور اور اس طرح کے نقد آور منصوبوں کے پس منظر میں نہ صرف کھلی بلکہ ننگی گفتگوئیں ہورہی ہیں۔

اقتدار میں آتے ہی چھ ماہ میں بجلی کی قلت ختم کرنے کا وعدہ توایک سال میں بھی پورا نہ ہوسکا مگر چھوٹے میاں نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے 31؍مئی 2014ء کو کریڈٹ لینے کے شوق میں وزیراعظم سے اس بوگس، نامکمل اور ناقابلِ عمل منصوبے کے 95 میگاوائٹ کے ٹربائن کا فیتہ کٹوادیا۔ جو دو دن چلنے کے بعد بند ہوگیا۔ یہ میاں شہباز شریف ہی تھے جن کی سرپرستی میں اسی ڈونگ فینگ (Dong Fang) نامی چینی کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ دے دیا گیا جسے حکومت پاکستان 21؍ مئی کو پیپرا قواعد کے مطابق قومی خزانہ کو ریلوے انجنوں کی خریداری میں 98 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے پر بلیک لسٹ قرار دے چکی ہے۔ 4 ستمبر 2015ء تک وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور ان کے بچونگڑے عابد شیر علی اور سیکریٹری پانی وبجلی یونس ڈھاگا ہر پلیٹ فارم پر اڑے رہے کہ اس منصوبے میں کوئی کرپشن یا گڑبڑ نہیں ہوئی۔ یونس ڈھاگا ان ہی خدمات کے عوض اکیسویں گریڈ میں ہو کر بائیسویں گریڈ میں مزے اڑارہے ہیں۔ بآلاخر 4؍ستمبر کو وزارت پانی وبجلی جاگ گئی۔ اور انہوں نے نندی پور پاؤر کمپنی کو خط لکھا کہ کمپنی وضاحت کرے کہ پیداوار شروع نہ ہونا کس کی غلطی اور ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی نومولود برقیاتی صحافت یعنی الیکٹرانک میڈیا کے پاس مواد اور سوالات کی شدید قلت ہے، اسی بناء پر وہ تاحال نندی پور پراجیکٹ کو کھنگال نہیں پائے اورمحض رسمی زبانی جمع خرچ کی چند جگالیاں کر رہے ہیں وگرنہ یہ سوالات بار بار اُٹھائے جاتے کہ چھوٹی کمیت کے آئل ٹربائن کیوں منگوائے گئے؟ منصوبے میں کتنا بڑا پلانٹ مانگا گیا تھا؟ موجودہ پلانٹ کی کیفیت اور پیداواری صلاحیت کو کمیشننگ سے قبل اور بعد میں پڑتال کرنا کس ادارے کی ذمہ داری تھی ؟ وزیراعظم نے کس کے کہنے پر اور کیوں ایک نامکمل اور ناقص پلانٹ کا افتتاح کیا؟ سابق صدر آصف زرداری کے مفادات کے نگہبان سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کیوں کر میٹرو بس پراجیکٹ کے بہانے نندی پور تھرمل پاؤر کے فرنس آئل کی درآمد کے لئے فنڈز ریلیز کرنے سے معذوری ظاہر کی؟ 23؍ارب کا منصوبہ 95؍ارب تک کیوں کر پہنچا؟ وفاقی وزارء اور سیکریٹری کیوں کر ہر پارلیمانی فورم پر جھوٹ بولتے رہے، آخر اُن کا کیا مفاد ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (NTDC)کے شور مچانے پر جب بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ہے تو ایک ایک کرکے سارے جھوٹ بھی کھلنے لگے ہیں وگرنہ اداروں کے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب کی سرپرستی کے باوجود اس منصوبے کے تعمیراتی کاموں، زمین کی خریداری، آلات کی درآمد اور تنصیب، فرنس آئل کی خریداری اور سب سے بڑھ کر منصوبے کے لیے فنڈز کی ریلیز میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور کمیشن لیے گئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک حکومتی ادارے سے دوسرے حکومتی ادارے کو بجلی کی فروخت میں بھی قیمتوں میں ہیر پھیر کرکے بڑے کمیشن بنائے جارہے ہیں اور کس کس کا بھانجا ، بھتیجا اور داماد فرنٹ مین بن کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ وہی رانا اسد امین جو خزانہ کے اسپیشل سیکریٹری کی حیثیت سے سچے جھوٹے سرٹیفیکٹ جمع کراکے منصوبے کی رقمیں ریلیز کرایا کرتے تھے۔ اب ان ہی خدمات کے عوض آڈیٹر جنرل کی حیثیت سے خود ہی اس منصوبہ کا آڈٹ کرنے کے ذمہ دار ٹہرے ہیں اور اُنہیں ہدف یہ دیا گیا ہے کہ قربانی کا بکرا بھی اُن کو ہی تلاش کرنا ہے۔ حالانکہ یہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا دیگر حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے آڈیٹر جنرل سے ذمہ داریوں کا تعین کرانا قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ وہ صرف آڈٹ کرنے کے مجاز ہیں۔ یہ کام دراصل آڈیٹر جنرل کے دستوری عہدے کی آڑ میں اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچا نے کی کوشش ہے۔

بعض وزراء نے قربانی کے بکرے کی تلاش میں جب نیپرا کو رگڑنے کی کوشش کی تو چونکہ گھر کی دائی ہونے کے ناطے نیپرا حکومتوں کے تمام سچے جھوٹ کا گواہ بلکہ ثبوت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے مذکورہ ادارے نے پلٹ کر حکومت کے منہ پر وہ پنجہ مارا کہ وہ ابھی تک منہ اور زخم دونوں سہلا رہے ہیں۔ نیپرا کی حالیہ رپورٹ ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت اور طلب میں کوئی فرق نہیں۔ اصل میں حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ بجلی کا شارٹ فال نہ ہونا ماہرین کے لیے تو کوئی نئی بات نہیں لیکن عوام یہ سن کر سکتے میں آگئے ہیں کہ شارٹ فال نہیں تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے؟

عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، اصل کرپشن کے کرداروں کو چھپا کر معصوم یا چھوٹے گناہ گاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی حکومتی کوششیں ایک جانب عروج پر ہیں تو دوسری جانب بھی تیزی سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایک کے بعد ایک وعدہ معاف گواہ، سلطانی گواہ اورنہ معلوم کیا کچھ نکل رہا ہے۔ یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ نیب ، ایف آئی اے کے ساتھ آئی بی کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ تاکہ متعلقہ لوگ اپنے منہ بند رکھیں ۔ جبکہ شنید یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں نندی پور سے بھی بہت بڑا بدعنوانی کا مقدمہ تیار ہو چکا ہے۔ جس کے تمام شواہد اور دستاویزات حاصل کر لی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ پاک بازی کے اُجلے دامن کو اور بھی’’ اُجلا ‘‘کرنے بہت جلد باہر آنے والا ہے۔

دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اُچھلتا ہے کیا

چونکہ یہ مقدمہ خاص الخاص وزیراعظم نوازشریف اور ان کے ایک چہیتے ترین وزیر اور اُن کے چہیتے سیکریٹری کا ہے، یہ سیکریرٹری موصوف بھی اپنے قد سے بڑے عہدے پر براجمان ہیں، یعنی اکیسویں گریڈ میں ہو کر بائیسویں گریڈ میں ملک وقوم کی خدمت کر رہے ہیں۔اس لیے اپنی جان چھڑانے کے لیے حکومت اوگر اکی تنظیمِ نو کا بیڑہ اٹھا رہی ہے تاکہ اس بھد نامے کے سیاہ بادل غائب کر دئے جائیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ تمام کاغذات اور شواہدمحفوظ ہاتھوں میں جاچکے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ عمران خان جیسے خطرناک مخالف کا ایک چہیتا بھی جناب وزیراعظم کی اس مار دھاڑ میں برابر کا شریک ہے۔ اپوزیشن میں بھی سیاست کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس حمام میں تو سب کے پیرہن ایک جیسے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت وجود - بدھ 08 اپریل 2020

سعودی عرب میں کورونا وائرس کی باعث وزارت افرادی قوت نے اعلان کیا ہے کہ نجی ادارے غیر ملکیوں کو بلا تنخواہ چھٹی پر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ ادارے ملازمین سے معاہدے ختم کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ سعودی حکومت مہلک وائرس کورونا کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کر رہی ہے ۔وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے جاری بیان میں کہا کہ درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے نجی ادارے ملازمین کے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی اور انہیں بلاتنخواہ چھٹی پر بھیجنے یا ہنگامی چھٹی د...

سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد وجود - بدھ 08 اپریل 2020

دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی ، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ سے بھی زائد ہے ۔عالمی ادارہ صحت اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بنائے گئے کورونا وائرس کے عالمی آن لائن میپ کے مطابق 7 اپریل کی شام تک کورونا وائرس سے 75 ہزار 973 ہلاکتیں ہوچکی ہیں ، وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار رہی۔عالمی میپ کے مطابق دنیا بھر میں بیمار ہونے والے مریضوں میں سے 7 اپریل کی شام تک تک 2 لاکھ 91 ہزار 991 افراد صحت یاب بھی ہوچکے تھے ، ج...

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے وجود - بدھ 08 اپریل 2020

جزیرہ نما یورپی ملک آئرلینڈ کے وزیر اعظم 41 سالہ لوئے ورادکر نے ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور وہاں پر ڈاکٹرز کی قلت کے باعث بطور ڈاکٹر ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔لوئے ورادکر سیاست میں متحرک ہونے سے قبل بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتے تھے تاہم 2013 میں انہوں نے سیاست میں انٹری دی تو انہوں نے خود کو ڈاکٹری کے پیشے سے الگ کرلیا۔سیاست میں آتے ہی انہیں کامیابی ملی اور چند ہی سال میں وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن گئے ، اس سے قبل ہی انہوں نے آئرلینڈ کی سیاست اور حکومتی ...

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم وجود - بدھ 08 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کوورنا وائرس کوویڈ 19 کے مرض میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حالت اب بہتر ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بورس جانسن بغیر کسی آلہ کی مدد سے سانس لے رہے ہیں اور ان میں نمونیا کی تشخیص نہیں ہوئی ہے ۔ گزشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو حالت خراب ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا۔ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم بورس جانسن کو ڈاکٹروں کی ہدایات کے بعد ہس...

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی وجود - پیر 06 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی، امریکا میں عالمی وبا سے 9 ہزار 633 افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے 208 ممالک اور علاقے کورونا کی زد میں آگئے ۔ امریکا بدستور دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ ہو رہی ہیں، 24 گھنٹوں میں 1200 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار 633 ہوگئی۔ 3 لاکھ 36 ہزار 830 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔نیویارک کے بعد نیو جرسی اور نیو آرلین...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این وجود - پیر 06 اپریل 2020

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک گھروں میں امن سے رہیں۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کو گھروں میں تشدد کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں م...

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل وجود - پیر 06 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لندن کے ایک مقامی ہسپتا ل میں منتقل کردیا گیا کیونکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دس دن بعد بھی ان میں کورونا وائرس کی علامات مسلسل موجود تھیں اور ان کی طبیعت بدستور خراب تھی۔ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کے ترجمان نے اس منتقلی کو احتیاطی قدم قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بورس جانسن کو ڈاکٹروں کے مشورے پر مزید ٹیسٹ کیلئے ہسپتا ل منتقل کیا گیا ۔واضح رہے کہ 55 سالہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں 27 مارچ کے روز کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد وہ ازخود ...

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے تناظر میں ایک حوصلہ افزا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور مقامی کمیونٹی کو ایک روشن مستقبل کی نوید دی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف نے ٹویٹر پر یہ ویڈیو پیغام جاری کیا ۔اس میں کہا گیاکہ لوگ ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے ملیں گے ،ایک دوسرے سے مصافحے کریں گے ،اسکول دوبارہ کھلیں گے ،نمازیں ادا کی جائیں گی، اسٹیڈیمز دوبارہ شائقین سے بھریں گے ،طیارے فضائوں میں اڑانیں بھریں گے لیکن تب تک ہمیں کرونا وائرس کے خلاف لڑائی جاری رکھ...

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے بتایا ہے کہ مملکت میں کرونا کے مزید 140 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد کل متاثرہ افراد کی تعداد 2179 ہوگئی ہے ۔ ان میں 1730 کو معمولی نوعیت کی بیماری ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا کے حوالے سے روزانہ کی بریفنگ کے دوران وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک کرونا سے 29 افراد ہلاک اور 420 صحت یاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا سے متعلق افواہوں پرنہیں بلکہ مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی وزارت...

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ وجود - پیر 06 اپریل 2020

ایران کے ایک سرکردہ سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک تیسرے فریق کی وجہ سے غیرمعمولی طورپر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ فلاحت پیشہ ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بھی ہیں کا کہناتھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہ دونوں ملکوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس کا اصل سبب ایک تیسرا فریق ہے ۔حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی کرانے...

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف وجود - پیر 06 اپریل 2020

مصری وزیر برائے اوقاف نے اعلان کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وباء اسی طرح بدستورموجود رہی تو رمضان المبارک کے دوران بھی مساجد بند کردی جائیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار نے ایک بیان میں کہا کہ وباء کے خاتمے سے پہلے مساجد کھولنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ مساجد وبا کے ختم ہونے کے بعد ہی کھلیں گی۔مصری وزیر برائے اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر رمضان المبارک میں یہ وائرس موجود رہتا ہے تو ہم اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور خدا کے قانون کی پاسداری کے لیے مساجد...

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا وجود - پیر 06 اپریل 2020

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دفتر کے ایک سینئر ذمہ دار کی افشا ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ذمے دار نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر میں انارکی پر شرط باندھی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ آڈیو ریکارڈنگ نارڈیک مانیٹر ویب سائٹ نے جاری کی ہے ۔ ویب سائٹ کے مطابق اردوان کے دفتر کے سربراہ حسن دوآن نے یہ شرط باندھی تھی کہ محمد مرسی کی معزولی کے تین سے پانچ سال بعد الاخوان المسلمین تنظیم کی بڑے پیمانے پر واپسی ہو گی۔ مرسی کو عوامی احتجاج کے ن...

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا