وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

جمعه 02 اکتوبر 2015 نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

nandipur-power-project

نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ اُنہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات اور حکومت کے سب سے بڑے دشمن وہ خود ہوتے ہیں۔ اچھے کام بھی کرتے ہیں مگر اتنے کم کہ اُن کے بُرے کاموں پر غالب نہیں آسکتے۔ اپنے موجودہ پانچویں اقتدار کا نصف گزارنے کے بعد اپنے آپ کو تاحال ’’مسٹر کلین ‘‘ کے طور پر منوا نہیں سکے ۔ یکے بعد دیگے ایک دو نہیں، درجنوں ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں ،جن میں ان کی عوام دوستی کے دعوؤں کے برخلاف لوٹ مار اور بدعنوانیاں واضح نظر آرہی ہیں۔ اس میں سرفہرست نندی پور تھرمل پاؤر پراجیکٹ ہے۔

نندی پور ایک ایسا بھد نامہ (اسکینڈل)ہے جو نہ صرف موجودہ حکومت کی کھلی لوٹ مارکا واضح ثبوت ہے۔ بلکہ اُن کی پیپلز پارٹی کے لیے محبت کا ایک اور عملی مظاہرہ بھی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ ماضی کی حکومتوں میں تیار ہوا۔ مگر اس بہتی گنگا میں موجودہ حکومت نے بھی اپنے ہاتھ کھل کر دھوئے ہیں۔ اور اب انکوائری،تحقیقات اور آڈٹ کے نام پر قربانی کا بکرا تلاش کرنے اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی بے سود کوششیں ہورہی ہیں،جو عذرِ گناہ بدتراز گناہ کے مترادف ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں نندی پور اور اس طرح کے نقد آور منصوبوں کے پس منظر میں نہ صرف کھلی بلکہ ننگی گفتگوئیں ہورہی ہیں۔ حقائق اور ثبوت خزاں کے خستہ پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔گو’’ آئی سی ایس ‘‘ کے (یہ پرانی انڈین سول سروس والی اصطلاح نہیں ، بلکہ جدید ’’اتفاق سول سروس‘‘ اس سے مراد ہے) حاضر باش افسران بھی اپنے سرتاجوں کو بچانے میں معروف ہیں۔ اور حکومت کے چار اعلیٰ ترین عہدیداران اور تین منظورِ نظر بیورو کریٹس کو بچانے کے لیے ’’پھرتیاں‘‘ دکھا رہے ہیں۔اور اس عمل میں قومی احتساب بیورو (نیب) ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی آر) جیسے قومی اداروں کو بدنیتی اور غیر آئینی طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

وجود ڈاٹ کام کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس قومی لوٹ مار کے دو حصے ہیں۔اول حصہ اُس دور سے تعلق رکھتا ہے جس میں اس منصوبے کی خلافِ ضابطہ منظوری دی گئی۔ سابق ’’مردِآہن‘‘ پرویز مشرف کے دور ِ حکومت میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ تب اس425 میگاواٹ کے منصوبے کی لاگت 329 ؍ملین ڈالر(23؍ارب ڈالر) تھی۔اس منصوبے کے معاہدے پر 2008ء کے انتخابات سے محض ایک ماہ قبل جنوری 2008ء میں دستخط کیے گئے۔ جسے اپریل 2011ء میں مکمل ہونا تھا۔ پاکستان الیکٹرک پاؤر کمپنی (PEPCO) کو اس منصوبہ کا مالک قرار دیاگیا۔ پیپلز پارٹی کے دوسرے دورِ حکومت یعنی نوے کی دہائی میں نجی تھرمل کمپنیوں کی لوٹ مار کے بعد دنیا بھر کے ماہرین یکسو تھے کہ پاکستان کی لڑکھڑاتی معیشت اب مزید کسی تھرمل جنریشن کی مار سہہ نہیں سکتی۔ تاہم جادو گر وزیراعظم شوکت عزیز کی انتہائی متنازع اور نقصان دہ تھرمل پالیسی کے تحت ہی اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دور میں جب پیٹرول کی قیمتیں آسمان پر چڑھتی جارہی تھیں اور عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی قیمت120 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے والے اس منصوبے کی منظوری اس طرح دی گئی کہ نہ تو یہ ماپا گیا کہ اس فیصلے کا زرِ مبادلہ پر کتنا بوجھ پڑے گا، (کیونکہ اس وقت قومی ذخائر پندرہ ، سولہ ارب ڈالر سے زیادہ نہ تھے )اور نہ ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ بجلی کی پیداواری لاگت کیا ہوگی اور نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لیے اس منصوبے سے کس قیمت پر بجلی خریدی جائے گی؟ پیپلز پارٹی کے گیلانی دورِ حکومت میں آصف علی زرداری کے دستِ راست ڈاکٹر عاصم حسین، وزارتِ پیٹرولیم کے مدارالمہام ہونے کی حیثیت سے پیپلز پارٹی کے نہایت چہیتے سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کے ذریعے آنکھیں بند کرکے اس آلودہ منصوبے کے سرپرست بن گئے۔پھر چینی کنٹریکٹر ہو اور پیپلز پارٹی کی حکومت ، منصوبے میں سے لذتیں کشید کرنے کے وہ راستے ڈھونڈے گئے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ ایوانِ اقتدار کی راہداریوں میں یہ کوئی خفیہ معاملہ نہیں تھا۔ وہاں تو کھلی بولیاں لگتی تھیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سرپرستی کے باوجود منصوبے کے تعمیراتی کاموں، زمین کی خریداری، آلات کی درآمد اور تنصیب فرنس آئل کی خریداری اور سب سے بڑھ کر منصوبے کے لیے فنڈز کی ریلیز میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی اور کمیشن لیے گئے ہیں

ڈاکٹر عاصم کے ایما پر نہ صرف وزارتِ خزانہ اور وزارتِ پانی وبجلی نیپرا اور منصوبہ بندی کمیشن نے منصوبے کی حتمی منظوری دی۔ بلکہ نیپرا نے بھی ایک دباؤ کے تحت نہایت اونچی قیمت کی منظوری دی۔ یہ تمام تفصیلات گزشتہ ایک ماہ کے دوران موصوف رینجرز کی تحویل میں بتا چکے ہیں۔ بلکہ اس سے متعلق ضروری دستاویزات تک دی گئی ہیں جو مناسب مقامات پر مستقبل میں استعمال کے لیے محفوظ ہو چکی ہیں۔ اس دور کی اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک قطعی ناقابلِ عمل اور نقصان دہ منصوبہ کی فائل بغل میں لے کر ایک وزارت سے لے کر دوسری وزارت اور ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک جانے والے ایک تابعدار بیورو کریٹ کو ہی (جو آج وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منظورِ نظر ہونے کے ناطے آڈیٹر جنرل پاکستان کے آئینی عہدہ پر براجمان ہیں ) اس منصوبے کے آڈٹ کے لیے چُنا گیا۔ ان صاحب کو ذمہ داران کے تعین کی جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ آئین کی صریح خلا ف ورزی اور تحقیقات کے نام پر کھلا فراڈ ہے۔ اگر موجودہ حکومت تحقیقات میں سنجیدہ ہوتی تو اس منصوبے کے’’ پی سی ون ‘‘سمیت تمام فائلیں نکلواتی اور اس پر دستخط کرنے والوں سے تحقیقات کرتی۔ اور کچھ نہیں تو تمام متعلقہ افراد کے اثاثوں کے گوشوارے اور ملکی وغیر ملکی اور خفیہ و اعلانیہ بینک اکاؤنٹس چیک کرلیں تو ساری حقیقت کھل جائیگی۔ مگر ڈاکٹر عاصم اور زرداری کے پسندیدہ افسران نے پھر سے اقتدار میں آتے ہی ’’چھوٹے میاں‘‘ کو بتایا کہ حضور ابھی ان پھولوں میں بہت رس باقی ہے اور موجودہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ صرف اُن چند سرکاری افسران کو قبول کیا بلکہ نندی پور منصوبے کو بھی گود لے لیا۔ اس طرح 23؍ارب کا وہ منصوبہ جسے پیپلز پارٹی نے 37؍ارب تک پہنچایاتھا، اب عوام دوست حکومت کے عہد میں 95؍ارب روپے کا ہوچکا ہے۔

خوشامد اور چاپلوسی کے ہتھیار ہمیشہ کاری وار کرتے ہیں جس طرح ماضی میں سلمان فاروقی اینڈ کمپنی، شیرشاہ سوری ثانی کہہ کر پھونک بھرتے رہے۔ موجودہ ’’آئی سی ایس‘‘ نے بھی انجینئر بادشاہ (شاہجہاں) کے لقب سے وہ پھونک بھری کہ قاعدے، قانون اور ضابطے سب دھرے رہ گئے۔ وزیراعظم توشاید اسی پھونک سے اڑتے رہے مگر عین اُن کی ناک کے نیچے وزیراعلیٰ شہباز شریف اس منصوبے کے بگ باس بن گئے۔ اور پھولوں میں وہ رس بھی چوس لیا جس کی توقع خود چمن اُگانے والوں تک کونہ تھی۔ چنانچہ داڑھی سے بھی مونچھیں لمبی ہوتی گئی اور 23 سے 37؍ارب ہونے والا منصوبہ 95؍ ارب روپے کا ہوگیا۔

وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں نندی پور اور اس طرح کے نقد آور منصوبوں کے پس منظر میں نہ صرف کھلی بلکہ ننگی گفتگوئیں ہورہی ہیں۔

اقتدار میں آتے ہی چھ ماہ میں بجلی کی قلت ختم کرنے کا وعدہ توایک سال میں بھی پورا نہ ہوسکا مگر چھوٹے میاں نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے 31؍مئی 2014ء کو کریڈٹ لینے کے شوق میں وزیراعظم سے اس بوگس، نامکمل اور ناقابلِ عمل منصوبے کے 95 میگاوائٹ کے ٹربائن کا فیتہ کٹوادیا۔ جو دو دن چلنے کے بعد بند ہوگیا۔ یہ میاں شہباز شریف ہی تھے جن کی سرپرستی میں اسی ڈونگ فینگ (Dong Fang) نامی چینی کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ دے دیا گیا جسے حکومت پاکستان 21؍ مئی کو پیپرا قواعد کے مطابق قومی خزانہ کو ریلوے انجنوں کی خریداری میں 98 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے پر بلیک لسٹ قرار دے چکی ہے۔ 4 ستمبر 2015ء تک وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور ان کے بچونگڑے عابد شیر علی اور سیکریٹری پانی وبجلی یونس ڈھاگا ہر پلیٹ فارم پر اڑے رہے کہ اس منصوبے میں کوئی کرپشن یا گڑبڑ نہیں ہوئی۔ یونس ڈھاگا ان ہی خدمات کے عوض اکیسویں گریڈ میں ہو کر بائیسویں گریڈ میں مزے اڑارہے ہیں۔ بآلاخر 4؍ستمبر کو وزارت پانی وبجلی جاگ گئی۔ اور انہوں نے نندی پور پاؤر کمپنی کو خط لکھا کہ کمپنی وضاحت کرے کہ پیداوار شروع نہ ہونا کس کی غلطی اور ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی نومولود برقیاتی صحافت یعنی الیکٹرانک میڈیا کے پاس مواد اور سوالات کی شدید قلت ہے، اسی بناء پر وہ تاحال نندی پور پراجیکٹ کو کھنگال نہیں پائے اورمحض رسمی زبانی جمع خرچ کی چند جگالیاں کر رہے ہیں وگرنہ یہ سوالات بار بار اُٹھائے جاتے کہ چھوٹی کمیت کے آئل ٹربائن کیوں منگوائے گئے؟ منصوبے میں کتنا بڑا پلانٹ مانگا گیا تھا؟ موجودہ پلانٹ کی کیفیت اور پیداواری صلاحیت کو کمیشننگ سے قبل اور بعد میں پڑتال کرنا کس ادارے کی ذمہ داری تھی ؟ وزیراعظم نے کس کے کہنے پر اور کیوں ایک نامکمل اور ناقص پلانٹ کا افتتاح کیا؟ سابق صدر آصف زرداری کے مفادات کے نگہبان سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کیوں کر میٹرو بس پراجیکٹ کے بہانے نندی پور تھرمل پاؤر کے فرنس آئل کی درآمد کے لئے فنڈز ریلیز کرنے سے معذوری ظاہر کی؟ 23؍ارب کا منصوبہ 95؍ارب تک کیوں کر پہنچا؟ وفاقی وزارء اور سیکریٹری کیوں کر ہر پارلیمانی فورم پر جھوٹ بولتے رہے، آخر اُن کا کیا مفاد ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (NTDC)کے شور مچانے پر جب بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ہے تو ایک ایک کرکے سارے جھوٹ بھی کھلنے لگے ہیں وگرنہ اداروں کے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب کی سرپرستی کے باوجود اس منصوبے کے تعمیراتی کاموں، زمین کی خریداری، آلات کی درآمد اور تنصیب، فرنس آئل کی خریداری اور سب سے بڑھ کر منصوبے کے لیے فنڈز کی ریلیز میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور کمیشن لیے گئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک حکومتی ادارے سے دوسرے حکومتی ادارے کو بجلی کی فروخت میں بھی قیمتوں میں ہیر پھیر کرکے بڑے کمیشن بنائے جارہے ہیں اور کس کس کا بھانجا ، بھتیجا اور داماد فرنٹ مین بن کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ وہی رانا اسد امین جو خزانہ کے اسپیشل سیکریٹری کی حیثیت سے سچے جھوٹے سرٹیفیکٹ جمع کراکے منصوبے کی رقمیں ریلیز کرایا کرتے تھے۔ اب ان ہی خدمات کے عوض آڈیٹر جنرل کی حیثیت سے خود ہی اس منصوبہ کا آڈٹ کرنے کے ذمہ دار ٹہرے ہیں اور اُنہیں ہدف یہ دیا گیا ہے کہ قربانی کا بکرا بھی اُن کو ہی تلاش کرنا ہے۔ حالانکہ یہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا دیگر حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے آڈیٹر جنرل سے ذمہ داریوں کا تعین کرانا قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ وہ صرف آڈٹ کرنے کے مجاز ہیں۔ یہ کام دراصل آڈیٹر جنرل کے دستوری عہدے کی آڑ میں اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچا نے کی کوشش ہے۔

بعض وزراء نے قربانی کے بکرے کی تلاش میں جب نیپرا کو رگڑنے کی کوشش کی تو چونکہ گھر کی دائی ہونے کے ناطے نیپرا حکومتوں کے تمام سچے جھوٹ کا گواہ بلکہ ثبوت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے مذکورہ ادارے نے پلٹ کر حکومت کے منہ پر وہ پنجہ مارا کہ وہ ابھی تک منہ اور زخم دونوں سہلا رہے ہیں۔ نیپرا کی حالیہ رپورٹ ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت اور طلب میں کوئی فرق نہیں۔ اصل میں حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ بجلی کا شارٹ فال نہ ہونا ماہرین کے لیے تو کوئی نئی بات نہیں لیکن عوام یہ سن کر سکتے میں آگئے ہیں کہ شارٹ فال نہیں تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے؟

عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، اصل کرپشن کے کرداروں کو چھپا کر معصوم یا چھوٹے گناہ گاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی حکومتی کوششیں ایک جانب عروج پر ہیں تو دوسری جانب بھی تیزی سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایک کے بعد ایک وعدہ معاف گواہ، سلطانی گواہ اورنہ معلوم کیا کچھ نکل رہا ہے۔ یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ نیب ، ایف آئی اے کے ساتھ آئی بی کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ تاکہ متعلقہ لوگ اپنے منہ بند رکھیں ۔ جبکہ شنید یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں نندی پور سے بھی بہت بڑا بدعنوانی کا مقدمہ تیار ہو چکا ہے۔ جس کے تمام شواہد اور دستاویزات حاصل کر لی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ پاک بازی کے اُجلے دامن کو اور بھی’’ اُجلا ‘‘کرنے بہت جلد باہر آنے والا ہے۔

دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اُچھلتا ہے کیا

چونکہ یہ مقدمہ خاص الخاص وزیراعظم نوازشریف اور ان کے ایک چہیتے ترین وزیر اور اُن کے چہیتے سیکریٹری کا ہے، یہ سیکریرٹری موصوف بھی اپنے قد سے بڑے عہدے پر براجمان ہیں، یعنی اکیسویں گریڈ میں ہو کر بائیسویں گریڈ میں ملک وقوم کی خدمت کر رہے ہیں۔اس لیے اپنی جان چھڑانے کے لیے حکومت اوگر اکی تنظیمِ نو کا بیڑہ اٹھا رہی ہے تاکہ اس بھد نامے کے سیاہ بادل غائب کر دئے جائیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ تمام کاغذات اور شواہدمحفوظ ہاتھوں میں جاچکے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ عمران خان جیسے خطرناک مخالف کا ایک چہیتا بھی جناب وزیراعظم کی اس مار دھاڑ میں برابر کا شریک ہے۔ اپوزیشن میں بھی سیاست کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس حمام میں تو سب کے پیرہن ایک جیسے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا وجود - هفته 22 جون 2019

سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا باقاعدہ رکن بن گیا۔ ایف اے ٹی ایف انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی فنڈنگ کابین الاقوامی گروپ ہے جس میں عرب ممالک میں سے سعودی عرب کو پہلی مرتبہ رکنیت ملی ہے۔ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب کی شمولیت کا اعلان اورلانڈو میں ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس میں کیا گیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب 2015ء سے ایف اے ٹی ایف کا مبصر رکن چلا آ رہا تھا اور اب یہ باقاعدہ ایف اے ٹی ایف گروپ کا رکن بن گیا ہے۔

عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے دی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے۔ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس لینے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 150 ایرانی ہلاک ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں تھا اور میں نہیں سمجھتا تھا یہ مناسب ت...

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار وجود - هفته 22 جون 2019

شمالی انگلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے 1995 سے 2002 کے درمیان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 44 افراد کو گرفتار کرلیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مغربی یارک شائر کی پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کرکلیز، بریڈ فورڈ اور لیڈز سمیت دیگر علاقوں سے 3 خواتین سمیت 39 افراد گرفتار کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ دیگر 5 افراد کو اس ہی کیس کی تحقیقات کے لیے گزشتہ سال کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ کرکلیز کے ڈیوز بری اور بیٹلے کے علاقوں میں 4 خواتین...

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز وجود - هفته 22 جون 2019

بٹ کوائنز جیسی ڈیجیٹل کوائنز (کرپٹو کرنسی) کو منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی عمل کیلئے استعمال کیے جانے سے روکنے کیلئے منی لانڈرنگ کے عالمی نگراں ادارے نے اقدامات کا آغاز کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سال قبل منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے قائم ہونے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے رکن ممالک کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر نظر رکھی جائے تاکہ ڈیجیٹل کوائنز کو کیش کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اقدام عالمی قانو...

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں سعودی عرب اور کیوبا کو تیسرا درجہ دیا گیا، اس کے علاوہ چین، شمالی کوریا، روس اور ونزویلا بھی اِسی نچلی ترین سطح میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کو دوسری سطح پر رکھا گیا۔یہ درجہ ان ملکوں کے لیے مخصوص ہے جو کم سے کم معیار پر پورے نہیں اُترتے تاہم، وہ معیاری سطح کی جانب قدم بڑھانے کے حوالے سے قابل قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر افغانستان، بنگلہ دیش، برما، ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ...

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت وجود - هفته 22 جون 2019

چین نے کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تمام اراکین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کیلئے رکنیت کیلئے یکساں اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔چینی عہدیدار کے دیے گئے بیان کے مطابق چین نیاب تک کازغستان میں اختتام پذیر ہونے والے منصوبہ بندی اجلاس میں بھارت کی درخواست پر غور کیا گیا۔چینی ترجمان کے حوالے سے بھارتی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت کی نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کا معاملہ کازغستان کے دارلحکومت نور سلطان میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔رپورٹ میں...

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ وجود - بدھ 19 جون 2019

ماورائے عدالت قتل پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو قانوناً ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد پر عالمی سطح پر آزادانہ تفتیش ضروری ہے، قتل کی سعودی عرب میں ہونیوالی تحقیقات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے انفرادی طور پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی ا...

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی وجود - منگل 18 جون 2019

مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی قاہرہ کے مشرقی علاقے مدین النصر میں سپرد خاک کردیا گیا، تدفین کے وقت سابق صدر کا خاندان موجود تھا۔اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی موت کو مکمل طور پر قتل قرار دیا ہے۔ مصر میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرہ عدالت میں اچانک حرکت ِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے، ان کی عمر 67 سال تھی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج ...

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ وجود - منگل 18 جون 2019

ایک عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں ایٹم بموں کی تعداد کی تفصیلات بیان کیں، اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ہیں جس کے بعد صہیونی ریاست کے ایٹم بموں کی تعداد 80 سے 90 تک جا پہنچی۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کے پاس جوہری اور ہائیڈروجن بموں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ان ایٹم بموں کو جنگی طیاروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے ...

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ وجود - منگل 18 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، اس طرح ہر تیسرا شخص اس سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں یونیسیف اورعالمی ادارہ صحت کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام کی رپورٹ2000-2017 کے مطابق عالمی ادارہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں عدم مساوات کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر اقدامات کررہا ہے تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں 4.2 ارب افراد نکاسی آب کی سہولی...

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت