وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

جمعه 02 اکتوبر 2015 نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

nandipur-power-project

نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ اُنہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات اور حکومت کے سب سے بڑے دشمن وہ خود ہوتے ہیں۔ اچھے کام بھی کرتے ہیں مگر اتنے کم کہ اُن کے بُرے کاموں پر غالب نہیں آسکتے۔ اپنے موجودہ پانچویں اقتدار کا نصف گزارنے کے بعد اپنے آپ کو تاحال ’’مسٹر کلین ‘‘ کے طور پر منوا نہیں سکے ۔ یکے بعد دیگے ایک دو نہیں، درجنوں ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں ،جن میں ان کی عوام دوستی کے دعوؤں کے برخلاف لوٹ مار اور بدعنوانیاں واضح نظر آرہی ہیں۔ اس میں سرفہرست نندی پور تھرمل پاؤر پراجیکٹ ہے۔

نندی پور ایک ایسا بھد نامہ (اسکینڈل)ہے جو نہ صرف موجودہ حکومت کی کھلی لوٹ مارکا واضح ثبوت ہے۔ بلکہ اُن کی پیپلز پارٹی کے لیے محبت کا ایک اور عملی مظاہرہ بھی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ ماضی کی حکومتوں میں تیار ہوا۔ مگر اس بہتی گنگا میں موجودہ حکومت نے بھی اپنے ہاتھ کھل کر دھوئے ہیں۔ اور اب انکوائری،تحقیقات اور آڈٹ کے نام پر قربانی کا بکرا تلاش کرنے اور گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی بے سود کوششیں ہورہی ہیں،جو عذرِ گناہ بدتراز گناہ کے مترادف ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں نندی پور اور اس طرح کے نقد آور منصوبوں کے پس منظر میں نہ صرف کھلی بلکہ ننگی گفتگوئیں ہورہی ہیں۔ حقائق اور ثبوت خزاں کے خستہ پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔گو’’ آئی سی ایس ‘‘ کے (یہ پرانی انڈین سول سروس والی اصطلاح نہیں ، بلکہ جدید ’’اتفاق سول سروس‘‘ اس سے مراد ہے) حاضر باش افسران بھی اپنے سرتاجوں کو بچانے میں معروف ہیں۔ اور حکومت کے چار اعلیٰ ترین عہدیداران اور تین منظورِ نظر بیورو کریٹس کو بچانے کے لیے ’’پھرتیاں‘‘ دکھا رہے ہیں۔اور اس عمل میں قومی احتساب بیورو (نیب) ایف آئی اے اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی آر) جیسے قومی اداروں کو بدنیتی اور غیر آئینی طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

وجود ڈاٹ کام کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس قومی لوٹ مار کے دو حصے ہیں۔اول حصہ اُس دور سے تعلق رکھتا ہے جس میں اس منصوبے کی خلافِ ضابطہ منظوری دی گئی۔ سابق ’’مردِآہن‘‘ پرویز مشرف کے دور ِ حکومت میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ تب اس425 میگاواٹ کے منصوبے کی لاگت 329 ؍ملین ڈالر(23؍ارب ڈالر) تھی۔اس منصوبے کے معاہدے پر 2008ء کے انتخابات سے محض ایک ماہ قبل جنوری 2008ء میں دستخط کیے گئے۔ جسے اپریل 2011ء میں مکمل ہونا تھا۔ پاکستان الیکٹرک پاؤر کمپنی (PEPCO) کو اس منصوبہ کا مالک قرار دیاگیا۔ پیپلز پارٹی کے دوسرے دورِ حکومت یعنی نوے کی دہائی میں نجی تھرمل کمپنیوں کی لوٹ مار کے بعد دنیا بھر کے ماہرین یکسو تھے کہ پاکستان کی لڑکھڑاتی معیشت اب مزید کسی تھرمل جنریشن کی مار سہہ نہیں سکتی۔ تاہم جادو گر وزیراعظم شوکت عزیز کی انتہائی متنازع اور نقصان دہ تھرمل پالیسی کے تحت ہی اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دور میں جب پیٹرول کی قیمتیں آسمان پر چڑھتی جارہی تھیں اور عالمی منڈیوں میں پیٹرول کی قیمت120 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے والے اس منصوبے کی منظوری اس طرح دی گئی کہ نہ تو یہ ماپا گیا کہ اس فیصلے کا زرِ مبادلہ پر کتنا بوجھ پڑے گا، (کیونکہ اس وقت قومی ذخائر پندرہ ، سولہ ارب ڈالر سے زیادہ نہ تھے )اور نہ ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ بجلی کی پیداواری لاگت کیا ہوگی اور نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لیے اس منصوبے سے کس قیمت پر بجلی خریدی جائے گی؟ پیپلز پارٹی کے گیلانی دورِ حکومت میں آصف علی زرداری کے دستِ راست ڈاکٹر عاصم حسین، وزارتِ پیٹرولیم کے مدارالمہام ہونے کی حیثیت سے پیپلز پارٹی کے نہایت چہیتے سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کے ذریعے آنکھیں بند کرکے اس آلودہ منصوبے کے سرپرست بن گئے۔پھر چینی کنٹریکٹر ہو اور پیپلز پارٹی کی حکومت ، منصوبے میں سے لذتیں کشید کرنے کے وہ راستے ڈھونڈے گئے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ ایوانِ اقتدار کی راہداریوں میں یہ کوئی خفیہ معاملہ نہیں تھا۔ وہاں تو کھلی بولیاں لگتی تھیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سرپرستی کے باوجود منصوبے کے تعمیراتی کاموں، زمین کی خریداری، آلات کی درآمد اور تنصیب فرنس آئل کی خریداری اور سب سے بڑھ کر منصوبے کے لیے فنڈز کی ریلیز میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی اور کمیشن لیے گئے ہیں

ڈاکٹر عاصم کے ایما پر نہ صرف وزارتِ خزانہ اور وزارتِ پانی وبجلی نیپرا اور منصوبہ بندی کمیشن نے منصوبے کی حتمی منظوری دی۔ بلکہ نیپرا نے بھی ایک دباؤ کے تحت نہایت اونچی قیمت کی منظوری دی۔ یہ تمام تفصیلات گزشتہ ایک ماہ کے دوران موصوف رینجرز کی تحویل میں بتا چکے ہیں۔ بلکہ اس سے متعلق ضروری دستاویزات تک دی گئی ہیں جو مناسب مقامات پر مستقبل میں استعمال کے لیے محفوظ ہو چکی ہیں۔ اس دور کی اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک قطعی ناقابلِ عمل اور نقصان دہ منصوبہ کی فائل بغل میں لے کر ایک وزارت سے لے کر دوسری وزارت اور ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک جانے والے ایک تابعدار بیورو کریٹ کو ہی (جو آج وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منظورِ نظر ہونے کے ناطے آڈیٹر جنرل پاکستان کے آئینی عہدہ پر براجمان ہیں ) اس منصوبے کے آڈٹ کے لیے چُنا گیا۔ ان صاحب کو ذمہ داران کے تعین کی جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ آئین کی صریح خلا ف ورزی اور تحقیقات کے نام پر کھلا فراڈ ہے۔ اگر موجودہ حکومت تحقیقات میں سنجیدہ ہوتی تو اس منصوبے کے’’ پی سی ون ‘‘سمیت تمام فائلیں نکلواتی اور اس پر دستخط کرنے والوں سے تحقیقات کرتی۔ اور کچھ نہیں تو تمام متعلقہ افراد کے اثاثوں کے گوشوارے اور ملکی وغیر ملکی اور خفیہ و اعلانیہ بینک اکاؤنٹس چیک کرلیں تو ساری حقیقت کھل جائیگی۔ مگر ڈاکٹر عاصم اور زرداری کے پسندیدہ افسران نے پھر سے اقتدار میں آتے ہی ’’چھوٹے میاں‘‘ کو بتایا کہ حضور ابھی ان پھولوں میں بہت رس باقی ہے اور موجودہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہ صرف اُن چند سرکاری افسران کو قبول کیا بلکہ نندی پور منصوبے کو بھی گود لے لیا۔ اس طرح 23؍ارب کا وہ منصوبہ جسے پیپلز پارٹی نے 37؍ارب تک پہنچایاتھا، اب عوام دوست حکومت کے عہد میں 95؍ارب روپے کا ہوچکا ہے۔

خوشامد اور چاپلوسی کے ہتھیار ہمیشہ کاری وار کرتے ہیں جس طرح ماضی میں سلمان فاروقی اینڈ کمپنی، شیرشاہ سوری ثانی کہہ کر پھونک بھرتے رہے۔ موجودہ ’’آئی سی ایس‘‘ نے بھی انجینئر بادشاہ (شاہجہاں) کے لقب سے وہ پھونک بھری کہ قاعدے، قانون اور ضابطے سب دھرے رہ گئے۔ وزیراعظم توشاید اسی پھونک سے اڑتے رہے مگر عین اُن کی ناک کے نیچے وزیراعلیٰ شہباز شریف اس منصوبے کے بگ باس بن گئے۔ اور پھولوں میں وہ رس بھی چوس لیا جس کی توقع خود چمن اُگانے والوں تک کونہ تھی۔ چنانچہ داڑھی سے بھی مونچھیں لمبی ہوتی گئی اور 23 سے 37؍ارب ہونے والا منصوبہ 95؍ ارب روپے کا ہوگیا۔

وفاقی دارالحکومت کے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں نندی پور اور اس طرح کے نقد آور منصوبوں کے پس منظر میں نہ صرف کھلی بلکہ ننگی گفتگوئیں ہورہی ہیں۔

اقتدار میں آتے ہی چھ ماہ میں بجلی کی قلت ختم کرنے کا وعدہ توایک سال میں بھی پورا نہ ہوسکا مگر چھوٹے میاں نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے 31؍مئی 2014ء کو کریڈٹ لینے کے شوق میں وزیراعظم سے اس بوگس، نامکمل اور ناقابلِ عمل منصوبے کے 95 میگاوائٹ کے ٹربائن کا فیتہ کٹوادیا۔ جو دو دن چلنے کے بعد بند ہوگیا۔ یہ میاں شہباز شریف ہی تھے جن کی سرپرستی میں اسی ڈونگ فینگ (Dong Fang) نامی چینی کمپنی کو دوبارہ ٹھیکہ دے دیا گیا جسے حکومت پاکستان 21؍ مئی کو پیپرا قواعد کے مطابق قومی خزانہ کو ریلوے انجنوں کی خریداری میں 98 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے پر بلیک لسٹ قرار دے چکی ہے۔ 4 ستمبر 2015ء تک وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور ان کے بچونگڑے عابد شیر علی اور سیکریٹری پانی وبجلی یونس ڈھاگا ہر پلیٹ فارم پر اڑے رہے کہ اس منصوبے میں کوئی کرپشن یا گڑبڑ نہیں ہوئی۔ یونس ڈھاگا ان ہی خدمات کے عوض اکیسویں گریڈ میں ہو کر بائیسویں گریڈ میں مزے اڑارہے ہیں۔ بآلاخر 4؍ستمبر کو وزارت پانی وبجلی جاگ گئی۔ اور انہوں نے نندی پور پاؤر کمپنی کو خط لکھا کہ کمپنی وضاحت کرے کہ پیداوار شروع نہ ہونا کس کی غلطی اور ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی نومولود برقیاتی صحافت یعنی الیکٹرانک میڈیا کے پاس مواد اور سوالات کی شدید قلت ہے، اسی بناء پر وہ تاحال نندی پور پراجیکٹ کو کھنگال نہیں پائے اورمحض رسمی زبانی جمع خرچ کی چند جگالیاں کر رہے ہیں وگرنہ یہ سوالات بار بار اُٹھائے جاتے کہ چھوٹی کمیت کے آئل ٹربائن کیوں منگوائے گئے؟ منصوبے میں کتنا بڑا پلانٹ مانگا گیا تھا؟ موجودہ پلانٹ کی کیفیت اور پیداواری صلاحیت کو کمیشننگ سے قبل اور بعد میں پڑتال کرنا کس ادارے کی ذمہ داری تھی ؟ وزیراعظم نے کس کے کہنے پر اور کیوں ایک نامکمل اور ناقص پلانٹ کا افتتاح کیا؟ سابق صدر آصف زرداری کے مفادات کے نگہبان سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کیوں کر میٹرو بس پراجیکٹ کے بہانے نندی پور تھرمل پاؤر کے فرنس آئل کی درآمد کے لئے فنڈز ریلیز کرنے سے معذوری ظاہر کی؟ 23؍ارب کا منصوبہ 95؍ارب تک کیوں کر پہنچا؟ وفاقی وزارء اور سیکریٹری کیوں کر ہر پارلیمانی فورم پر جھوٹ بولتے رہے، آخر اُن کا کیا مفاد ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (NTDC)کے شور مچانے پر جب بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ہے تو ایک ایک کرکے سارے جھوٹ بھی کھلنے لگے ہیں وگرنہ اداروں کے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب کی سرپرستی کے باوجود اس منصوبے کے تعمیراتی کاموں، زمین کی خریداری، آلات کی درآمد اور تنصیب، فرنس آئل کی خریداری اور سب سے بڑھ کر منصوبے کے لیے فنڈز کی ریلیز میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور کمیشن لیے گئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک حکومتی ادارے سے دوسرے حکومتی ادارے کو بجلی کی فروخت میں بھی قیمتوں میں ہیر پھیر کرکے بڑے کمیشن بنائے جارہے ہیں اور کس کس کا بھانجا ، بھتیجا اور داماد فرنٹ مین بن کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ وہی رانا اسد امین جو خزانہ کے اسپیشل سیکریٹری کی حیثیت سے سچے جھوٹے سرٹیفیکٹ جمع کراکے منصوبے کی رقمیں ریلیز کرایا کرتے تھے۔ اب ان ہی خدمات کے عوض آڈیٹر جنرل کی حیثیت سے خود ہی اس منصوبہ کا آڈٹ کرنے کے ذمہ دار ٹہرے ہیں اور اُنہیں ہدف یہ دیا گیا ہے کہ قربانی کا بکرا بھی اُن کو ہی تلاش کرنا ہے۔ حالانکہ یہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا دیگر حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے آڈیٹر جنرل سے ذمہ داریوں کا تعین کرانا قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ وہ صرف آڈٹ کرنے کے مجاز ہیں۔ یہ کام دراصل آڈیٹر جنرل کے دستوری عہدے کی آڑ میں اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچا نے کی کوشش ہے۔

بعض وزراء نے قربانی کے بکرے کی تلاش میں جب نیپرا کو رگڑنے کی کوشش کی تو چونکہ گھر کی دائی ہونے کے ناطے نیپرا حکومتوں کے تمام سچے جھوٹ کا گواہ بلکہ ثبوت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے مذکورہ ادارے نے پلٹ کر حکومت کے منہ پر وہ پنجہ مارا کہ وہ ابھی تک منہ اور زخم دونوں سہلا رہے ہیں۔ نیپرا کی حالیہ رپورٹ ایک ایسی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت اور طلب میں کوئی فرق نہیں۔ اصل میں حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ بجلی کا شارٹ فال نہ ہونا ماہرین کے لیے تو کوئی نئی بات نہیں لیکن عوام یہ سن کر سکتے میں آگئے ہیں کہ شارٹ فال نہیں تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے؟

عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، اصل کرپشن کے کرداروں کو چھپا کر معصوم یا چھوٹے گناہ گاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی حکومتی کوششیں ایک جانب عروج پر ہیں تو دوسری جانب بھی تیزی سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایک کے بعد ایک وعدہ معاف گواہ، سلطانی گواہ اورنہ معلوم کیا کچھ نکل رہا ہے۔ یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ نیب ، ایف آئی اے کے ساتھ آئی بی کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ تاکہ متعلقہ لوگ اپنے منہ بند رکھیں ۔ جبکہ شنید یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں نندی پور سے بھی بہت بڑا بدعنوانی کا مقدمہ تیار ہو چکا ہے۔ جس کے تمام شواہد اور دستاویزات حاصل کر لی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ پاک بازی کے اُجلے دامن کو اور بھی’’ اُجلا ‘‘کرنے بہت جلد باہر آنے والا ہے۔

دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اُچھلتا ہے کیا

چونکہ یہ مقدمہ خاص الخاص وزیراعظم نوازشریف اور ان کے ایک چہیتے ترین وزیر اور اُن کے چہیتے سیکریٹری کا ہے، یہ سیکریرٹری موصوف بھی اپنے قد سے بڑے عہدے پر براجمان ہیں، یعنی اکیسویں گریڈ میں ہو کر بائیسویں گریڈ میں ملک وقوم کی خدمت کر رہے ہیں۔اس لیے اپنی جان چھڑانے کے لیے حکومت اوگر اکی تنظیمِ نو کا بیڑہ اٹھا رہی ہے تاکہ اس بھد نامے کے سیاہ بادل غائب کر دئے جائیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ تمام کاغذات اور شواہدمحفوظ ہاتھوں میں جاچکے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ عمران خان جیسے خطرناک مخالف کا ایک چہیتا بھی جناب وزیراعظم کی اس مار دھاڑ میں برابر کا شریک ہے۔ اپوزیشن میں بھی سیاست کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس حمام میں تو سب کے پیرہن ایک جیسے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان