وجود

... loading ...

وجود

دادا کی برسی پر پوتے کی طرف سے بات چیت کی دعوت

اتوار 06 ستمبر 2015 دادا کی برسی پر پوتے کی طرف سے بات چیت کی دعوت

akbar-bugti

کوئٹہ اور بلوچستان کے بلوچ اضلاع میں 26 ؍اگست2015ء کو نواب محمد اکبر خان بگٹی کی نوویں برسی منائی گئی۔ شہر کوئٹہ میں کہیں کہیں دُکانیں بند نظر آئیں۔ البتہ بعض بلوچ اضلاع میں کاروبار احتجاجاً بند رکھے گئے تھے۔ یہ دن تعزیتی ریفرنسوں میں گزرا۔ احتجاج کی شدت گزشتہ سالوں کی نسبت کم رہی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو نواب محمد اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے سانحہ سے مزید سرو کار یا ملال نہیں رہا ۔ بلاشبہ26؍اگست2006ء کا دن بلوچستان اور پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا اور یہ المناک سانحہ خصوصاً بلوچوں کی تاریخ میں الگ اور نمایاں باب بن چکا ہے۔

دن تمام ہوا تو پاکستان کے برقیاتی ذرائع ابلاغ نے اُسی شام برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے براہمداغ بگٹی کے انٹرویو کو نمایاں طور پر نشر کرنا شروع کردیا۔ دادا (نواب بگٹی) کی برسی کے دن پوتے (براہمداغ بگٹی) نے حکومت اور عسکری قیادت کو گویا کھلم کھلا بات چیت کی دعوت دے دی ۔ براہمداغ بگٹی کی مذاکرات کے لئے آمادگی خلاف توقع ہر گز نہیں ہے ، بلکہ اُنہیں ان پورے برسوں میں سرے سے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ کسی نے عقل و خرد سے کام نہیں لیا ۔کچھ تو ان جلا وطن رہنماؤں سے مذاکرات کی رٹ لگا کر دروغ گوئی پر گزارا کررہے تھے اورکچھ طاقت کے زعم میں مبتلا تھے۔ راقم نے متعدد مرتبہ توجہ دلائی کی براہمداغ قومی دھارے میں شامل ہونے کو تیار ہے اگر کوئی ان کی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھائے۔ آصف علی زرداری کے پانچ سالہ دور میں تقریباً پانچ کمیٹیاں بنیں۔ کوئی بھی کمیٹی کوئٹہ اور اسلام آباد سے آگے پیشرفت نہ کرسکی ۔دراصل قومی سطح پر ویژن اور احساسِ ذمہ داری کا فقدان ہے اورملک و قوم کے مفاد کو مقدم نہیں سمجھا جاتا۔ وگرنہ براہمداغ بگٹی یا دوسرے رہنماؤں سے ملاقاتیں کوئی مشکل کام نہ تھا ۔ میاں نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومتوں میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ خود ڈاکٹر عبدالمالک صاحب اقرار کرتے ہیں کہ سوائے خان آف قلات کے ان کا کسی سے رابطہ نہیں ہوا۔ اب نواب براہمداغ بگٹی نے چونکہ بات چیت کے ’’در‘‘ کھول دیئے ہیں لہٰذا اب ا س جانب قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کہ جس سے کسی فریق کا نقصان نہ ہو اور براہمداغ کی اس لچک سے فائدہ بھی اُٹھا یا جاسکے۔ اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہیے وگرنہ بلوچ سرزمین پر مزاحمت کی تاریخ سینکڑوں برسوں پر محیط ہے۔

بلوچستان کے اندر علیحدگی پسندوں کو بھارت کی ہر طرح کی کمک حاصل ہے ۔لیکن ہماری کوتاہیاں بھی اپنی جگہ بہت سنگین نتائج کی حامل ہیں

براہمداغ بگٹی نے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ بلوچستان کے معاملے پرپاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ایک لحاظ سے شکست ہوئی ہے اور انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا طریقہ غلط تھا اور پرامن بات چیت کیلئے آنا ہوگا۔ اگر ہمارے دوست ، ساتھی ، سیاسی حلیف اور عوام کی اکثریت یہ چاہتی ہے تو ہم بالکل پاکستان کے ساتھ رہنے کو تیار ہیں۔ تمام معاملات سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر حکومتی نمائندے ہم سے ملنا چاہتے ہیں تو ہم اس کیلئے تیار ہیں کیونکہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مسائل کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔ یہ تو بہت بے وقوفی کی بات ہوگی کہ کوئی کہے کہ ہم بیٹھ کر مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور ہم کہیں کہ نہیں۔ ماضی میں رابطے تو ہوئے لیکن کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں رحمان ملک وغیرہ نے بات چیت کی تھی تو اس پر جب زرداری صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے ضرور ملیں لیکن فوج اور اسٹیبلشمنٹ آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی۔ مذاکرات کیلئے ماحول سازگار ہونا ضروری ہے ۔ اگر قتل و غارت جاری ہو تو ایسے میں مذاکرات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اسی لئے ہمارا کہنا ہے کہ آپریشن بند کیا جائے۔ تمام فورسز کو واپس بلایا جائے تو اس کے بعد ہی بات چیت کیلئے ماحول سازگار ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ طاقتور کو کرنا ہے کہ وہ ہمیں کیا دینے کو تیار ہیں اگر وہ آتے ہیں تو ہم انہیں وہی ایجنڈا پیش کریں گے جو ہماری اکثریت کو منظور ہوگا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن دس پندرہ برس گزرچکے ہیں ان برسوں میں کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ بات صرف اخبارات اور حکومتی اجلاسوں تک محدود رہتی۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرے کیونکہ طاقتور وہی ہیں۔ آرمی والے ہر مسئلے کو طاقت سے حل کرنا چاہتے ہیں جو کہ غلط ہے اور بلوچستان میں حالات خراب بھی انہوں نے کئے تھے اور اسے صحیح بھی وہیں کریں گے۔ ہمارے پاس نہ طاقت ہے اور نہ اتنی بڑی فوج کہ ہم ان کا مقابلہ کرسکیں۔ اس خون خرابے اور طاقت کے استعمال سے کچھ نہیں ہوگا۔ بلوچستان میں جو بھی ترقی ہو وہاں عوامی حکومت ہے ہی نہیں۔ ترقی کے ان فیصلوں میں بلوچ عوام کی مرضی شامل نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان کے صوبے میں کیا ہورہا ہے؟ اگر بھارت ہماری مدد کرتا ہے تو ہم اس سے انکار نہیں کریں گے کیونکہ اپنے دفاع کیلئے ہر کوئی مدد مانگتا ہے اور ہم اسی طرح اقوام متحدہ اور امریکہ سے بھی مدد مانگ سکتے ہیں کیونکہ بھارت نے تو بلوچستان میں آپریشن کیلئے نہیں کہا تھا ۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کی ناکامیاں ہیں کہ وہ اپنے کرتوت چھپانے کیلئے غیر ملکی مداخلت کے الزامات لگاتی ہیں۔ ‘‘ براہمداغ کی اس گفتگو کو ان کی مات یا اپنی فکر اور طرز عمل سے دستبرداری سمجھنا نہیں چاہیے ، بلکہ براہمداغ نے اپنے اس انٹرویو میں ان تمام باتوں کا اعادہ کیا ہے جو وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ طاقتور ان کے وسائل پر قابض ہیں اور بلوچ سیاسی جماعتیں بھی یہی سمجھتی ہیں ۔ آج اگر نیشنل پارٹی حکومت میں شریک ہیں تو کل یہی نیشنل پارٹی براہمداغ کے ساتھ ملکر حقوق کا مطالبہ کرے گی۔ بہر حال بلوچستان کے اندر علیحدگی پسندوں کو بھارت کی ہر طرح کی کمک حاصل ہے ۔لیکن ہماری کوتاہیاں بھی اپنی جگہ بہت سنگین نتائج کی حامل ٹھہری ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ جب زخم ناسور بن جاتا ہے، تب علاج پر توجہ دینا شروع کرتی ہے ۔ انہیں تو بلوچستان کی تاریخ تک سے آگاہی نہیں اور نہ ہی وہ یہاں کے قبائل کے مزاج اور طبیعت سے واقفیت رکھتے ہیں۔ سوئی ملٹری کالج کی افتتاحی تقریب میں راقم نے ایک ذمہ دار سرکاری شخص کو تجویز دی کہ کیوں نہ براہمداغ بگٹی سے بات چیت کی جائے اور انہیں ڈیرہ بگٹی لایا جائے تو اس افسر کا جواب دو ٹوک تھا کہ ’’براہمداغ بگٹی کو یہاں کبھی آنے نہیں دیا جائے گا۔‘‘جبکہ بگٹی خاندان نے اس سے قبل پاکستان سے علیحدگی کی کبھی بھی بات نہیں کی ہے ۔ اور براہمداغ کو ان حالات میں پس منظر میں چلے جانے کے سوا کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیا۔

سوئی ملٹری کالج کی افتتاحی تقریب میں ایک ذمہ دار سرکاری شخص سے کہا گیا کہ کیوں نہ براہمداغ بگٹی سے بات چیت کر کے انہیں ڈیرہ بگٹی لایا جائے تو اس افسر کا جواب دو ٹوک تھا کہ ’’براہمداغ بگٹی کو یہاں کبھی آنے نہیں دیا جائے گا‘‘

نواب بگٹی ،براہمداغ کو مستقبل کا ایک قابل اور بہترین سیاستدان اور قبائلی منتظم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہی خطوط پر ان کی تربیت بھی کی گئی تھی ۔ نواب بگٹی نے 31؍ جنوری 1973ء کو ’’لندن پلان ‘‘ افشاء کیا۔یہ مبینہ منصوبہ پاکستان سے علیحدگی کا تھا۔ جس میں ’’نیپ ‘‘ کے اکابرین کے نام لئے گئے تھے اورجسے غیر ملکی اعانت سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جانا تھا۔ نواب اکبر خان بگٹی 1947ء کے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں ۔ کوئٹہ آمد پر محمد علی جناح کا استقبال کیا۔ 1950ء کی دہائی میں وزیراعظم فیروز خان نون کی کابینہ میں ڈپٹی وزیر تھے اور 1958 کے مارشل لاء کے نفاذ تک دفاع اور داخلہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے ۔ 1973 ء میں بلوچستان کے گورنر تھے۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ گورنر کی تعیناتی میں کس کس کی مرضی و منشا درکار ہوتی ہے۔اُنہیں 1978ء میں وزیراعلیٰ بلوچستان کا منصب ملا تھا۔ نواب بگٹی بہر حال ایسے وفاق کے قائل تھے جس میں صوبے خود مختار ہوں اور آئین صوبوں کے وسائل و حقوق کے تحفظ کا ضامن ہو۔ پرویزی آمریت زور آزمائی کا فیصلہ کرچکی تھی اور نواب بگٹی سے بھی چند غلطیاں سرزد ہوئیں ۔ ڈاکٹر شازیہ کے واقعہ پر نواب حد سے زیادہ مشتعل ہوئے۔ ان کا غصہ اور احتجاج بجا تھا مگر جنگ تک نوبت نہیں لانی چاہئے تھی۔ البتہ نواب بگٹی پر غداری کا لیبل چسپاں کرنے والے دراصل خود غاصب اور گمراہ لوگ تھے جنہیں آئین اور دستور کی بات تک گوارا نہیں تھی ۔

بلوچستان سے متعلق 2004 میں پارلیمانی کمیٹی بنی۔ اس مناسبت سے نواب نے ’’Bugti Dossier‘‘ کے نام سے بلوچستان کا مؤقف ایک مختصر کتابچے کی شکل میں پیش کیا۔ یہ کتابچہ پڑھنے سے کوئی ایک لفظ بھی بغاوت یا سرکشی کا تاثر نہیں ملتا البتہ صوبائی خود مختاری پر بجا طور پر زور پایا جاتا ہے۔ اس میں آئین اور قانون کے راستے سے حقوق کے حصول کا اعادہ کیا گیا ہے کہ1973ء کے آئین میں ایسی ترامیم کی جائے جس سے صوبوں کے سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات میں اس حد تک اضافہ ہو کہ ان کے عوام مطمئن ہوسکے۔ بگٹی ڈوسیئرمیں کہا گیا کہ موجودہ آئین میں سیاسی اور آئینی بحران ختم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور اس وقت فیڈریشن اور صوبوں کے مابین جو ناچاقی ، کشیدگی یا تنازع ہے اس کی بنیادی وجہ فیڈریشن کی غیر منطقی اور غیر متوازن ہیئت ہے اس لئے پاکستان کا استحکام ، تنازعات کا مستقل حل اور عوام کی خوشحالی اس میں ہے کہ 1973ء کے آئین میں دی گئی خود مختاری میں اضافہ کیا جائے۔ نواب بگٹی نے اس کتابچے میں گوادر میں مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کی بات کی ہے یعنی گوادر میں دیگر صوبوں سے کاروبار یا رہائش کیلئے آنے والوں کو 10سال تک مقامی سرٹیفکیٹ ، پی آر سرٹیفکیٹ جاری نہ کئے جائیں۔ ووٹر لسٹوں میں ان کے نام کا اندراج نہ ہو کیونکہ اس طرح غیر مقامی انتخابات میں منتخب ہوکر آجائیں گے اور مقامی لوگ نمائندگی کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔ علاوہ ازیں پنجاب کو بلوچستان کے وسیع قدرتی وسائل کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے ایسے مقامات پر نئی فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے جہاں یہ وسائل بڑے پیمانے پر موجود ہیں ( یاد رہے کہ سوئی چھاؤنی کو ملٹری کالج میں تبدیل کیا جاچکا ہے ) مثال کے طور پر مری ایریا میں تیل اور یورینئم کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور وہاں چھاؤنی تعمیر کی جارہی ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے مختلف مقامات میں سے 1953ء سے گیس نکالی جارہی ہے لیکن اس کی آمدنی سے بلوچستان محروم ہے اور پھر ڈیرہ بگٹی میں گیس کے ذخائر ختم ہونے کا پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ نئے سروے کے مطابق مزید ذخائر موجود ہیں ۔یہاں چھاؤنی کے قیام کا فیصلہ مرکز کے لوٹ مار پر عوام کو احتجاج سے روکنا ہے۔ بگٹی ڈوسیر میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ گوادر اور گوادر سے 40میل دور جیوانی کے مقام پر چھاؤنیوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی اسی مقصد کے تحت بنایا گیا ہے۔ فیڈریشن کا مطلب یہ ہے کہ اس کے تمام یونٹوں کو برابر کی حیثیت حاصل ہوگی ۔ مقامی باشندوں کے وسائل پر حقِ ملکیت کو بطور ان کی میراث تسلیم نہیں کیا جاتا تو احتجاج کو روکا نہیں جاسکتا۔ اگر اس کتابچے کو مزید بھی پڑھا جائے تو اس میں قومی شناخت اور حقِ ملکیت پر اصرار کے الفاظ ملیں گے۔ بلوچ سیاسی قائدین اور جماعتوں نے براہمداغ بگٹی کے اس انٹرویو پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے البتہ علیحدگی پسند تنظیموں نے ناپسندیدگی ظاہر کی ہے ۔بلوچ لبریشن فرنٹ نے مذاکرات پر اس مبینہ آمادگی کو مایوس کن قرار دیا ہے اور براہمداغ کی اس بات کو قومی آزادی کی تحریک سے انحراف اور تھکاوٹ سے تعبیر کیا۔ بی ایل ایف نے قومی آزادی کے حق سے دستبرداری کیلئے مشورے کی بات کو بھی مضحکہ خیز قرار دیااور براہمداغ کے سامنے سوال رکھا ہے کہ

’’کیا قومی آزادی کی جدوجہد شروع کرنے سے پہلے انہوں نے ریفرنڈم کرایا تھا یا دیگر ذرائع سے بلوچ عوام کے ساتھ مشورہ کیا تھا؟حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ رہنما جو اپنے خاندان سمیت وطن میں موجود ہیں ،جہاں ہر لمحہ ان کی جانوں کو خطرہ رہتا ہے وہ مایوس نہیں ہیں بلکہ مایوسی کا اظہار وہ رہنماکررہے ہیں جو اپنے خاندان سمیت وطن میں لگی آگ کی تپش سے بہت دور یعنی بیرونِ ملک محفوظ فضا میں بلا خوف و خطر زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘

بی ایل ایف کے ترجمان نے براہمداغ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ مایوسی کو قریب بھٹکنے نہ دیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں کہ جس سے بلوچ قومی تحریک آزادی کو نقصان پہنچے، وگرنہ بلوچ قوم اور تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘‘ مزے کی بات یہ ہے کہ علیحدگی پسند جماعتوں کے اس ردِ عمل کے باوجود قومی حلقوں کی بااثر قوتیں تاحال اس پر کوئی عملی قدم نہیں اُٹھا رہیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر