وجود

... loading ...

وجود

نیشنل بینک میں مالیاتی دہشت گردی کی بڑی وارداتیں

هفته 05 ستمبر 2015 نیشنل بینک میں مالیاتی دہشت گردی کی بڑی وارداتیں

nbp-headquarter

نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اِسے ایک ایسی چراہ گاہ بنادیاگیا جہاں گزشتہ بیس برسوں سے مشیر وں کے نام پر وہ لنگڑے گھوڑے اسے چرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں، جنہیں ادارے کو تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ یہاں وہ دسترخوان ہے جس پرموجود انواع و اقسام کی لو ٹ مار کی مغلیائی ڈشیں سجی ہیں جنہیں حکومتی بادشاہ اور انکے درباری مسلسل ڈکار رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ لوٹ مار کے حیرت انگیز انکشافات کرتے رہے مگر ان میں بھی کچھ ڈٹے رہے اور کچھ بکتے رہے۔ تحقیقاتی ادارے ـ ’’پکڑو پھوڑو اور چھوڑو‘‘کے مکروہ فارمولے پر عمل پیرا رہتے ہوئے لوٹنے والوں کو لوٹتے اور چھوڑتے رہے۔ جس سے ہر قسم کے احتسابی عمل سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا گیا۔

نیشنل بینک وہ قومی مالیاتی ادارہ ہے جہاں بینکاری کی صنعت کا 35؍کروڑ ڈالر کا سب سے بڑا فراڈ ہانگ کانگ یورو ڈالر بھدنامہ( اسکینڈل) ہوا۔ کارپوریٹ ڈویژن میں 85؍ ارب روپے کا این پی ایل (Nonperforming Loan) کا بدترین چھل ہوا۔نادہندگان کو اکیس ارب روپے کے لگ بھگ قرضے معاف کئے جانے کے بعد دوبارہ اُنہیں ہی قرضے جاری کر دیئے گئے۔اِسی بینک سے ایک نادہندہ کو دوبارہ اس لئے قرضہ جاری ہوا کہ وہ چیف جسٹس پاکستان تھے۔ یہاں انجینئرنگ ڈویژن میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کے نام پر ہیرا پھیری اور بٹوارے کے وقت چھینا جھپٹی بھی ہوئی۔یہیں پر بینک کا اربوں روپے کا اثاثہ ذاتی حیثیت سے اسٹاک ایکسچینج میں لگایا گیا ۔ اس سیاہ کاری میں ملوث اعلیٰ افسران دبئی میں عالی شان ہوٹل کے مالک بن گئے۔پھر بینک چھوڑ کر جانے کے بعداحتساب کو حرکت میں نہ دیکھتے ہوئے بینک لُوٹنے کے لئے دوبارہ آگئے۔ آواری ٹاور برانچ کراچی میں 89؍کروڑ ڈالر کور بینکنگ کے نام پر پیشگی وصول کرکے کچھ بھی کئے بغیر کمپنی فرار ہوگئی۔یہ عناصر لوٹ مار کے مال کے بٹوارے کے بعد کسی قانونی ردِعمل کو حرکت میں آتا نہیں دیکھتے تو اس سے حوصلہ پاکر نئے سرے سے لوٹ مار کی دوسری واردات میں مصروف ہوجاتے ہیں۔چنانچہ اسی نیشنل بینک کے بنگلہ دیش کے علاقائی دفتر میں 12 ؍ارب روپے کا ہوشربا فراڈ کیا گیا۔اس میں ملوث لٹیروں کو ملازمتوں میں توسیع اور ترقیاں ملیں۔اس پر طرہ یہ کہ 70سے زائد سینئر نائب صدور اورسینئر ایگزیکٹوز قواعد وضوابط کے بر خلاف اور بلا ضرورت بھرتی کرلئے گئے۔جس کے نتیجے میں تجربہ کار افسران کو کونوں کھدروں میں بٹھادیا گیا۔اوراُن نااہل و ناتجربہ کار بھرتی شدہ افراد کو بینک چلانے کی ذمہ داری دے دی گئی جو ایسی حرکتوں کے مرتکب پائے گئے جو بندر کے ہاتھ ادرک لگنے کے بعد دیکھنے کو ملتی ہیں۔[عام کنٹریکچول افسران کو نظرانداز کرکے انہیں کنفرم کرنے کی واردات کی سازش بھی کی جاتی ہو، ]بینک کے ہی اعلیٰ افسران ایک تیسرے فریق(تھرڈ پارٹی) کے طور پر اپنی کمپنی قائم کرکے بھرتیوں کے ذریعے کروڑوں روپے ماہانہ بینک کے خزانہ سے ہڑپ کر رہے ہیں۔ یہ چندعمومی انکشافات کی نہایت معمولی جھلکیاں ہیں جو کرپشن کی دیوی کا پورا گھونگھٹ بھی نہیں اٹھا پارہیں۔

طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ اس کے بعد خانہ پُری کے مرحلے شروع ہوجاتے ہیں، محکمہ جاتی کاروائیوں کیلئے دکھاوے کی تفتیش بھی ہوتی ہیں ۔ دور دراز سے تفتیشی افسران پنج ستارہ ہوٹلوں میں قیام فرماتے ہیں اورمستی و کیف کی کیفیت میں تفتیش کے نام پر معاملات ٹھکانے لگانے اور بچاؤ کی راہیں نکالنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ جس کے بعد منصفیں و ملزمان میں ایک منفعت بخش ’’تبادلہ ٔخیال‘‘ ہوتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے جو آج تک ہوتا آیا ہے۔یعنی بینک کی تاریخ میں آج تک ایک بھی اعلیٰ افسر گرفتار ہوا نہ نوکری سے برطرف کیاگیا۔ محکمہ جاتی سزا تو دور کی بات ہے آج بھی درجن بھر اعلیٰ افسران نیب کی چوکھٹ پر ہر ماہ سجد ہ ریز ہوتے ہیں مگر یہ سب “پکڑو ، پھوڑو اور چھوڑو” کے مراحل سے گزررہے ہوتے ہیں۔ ان افسران کے برعکس عام ملازمین کو معمولی غلطیوں اور چند ہزار کے ہندسوں کی اندارجی غلطیوں پر عبرت کا نمونہ بنادیا جاتا ہے۔ نیشنل بینک میں سینکڑوں ملازمین کوچند ہزار کی غلطیوں پر برطرف کردیا گیا یا انہیں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب کروڑوں کے فراڈ کرنے والے ترقی پاتے گئے۔ نامعلوم کتنے ریٹائرڈ ملازمین اپنی پنشن کے جائز حصول کے لئے برسوں سے عدالتوں میں ایڑیاں رگڑرہے ہیں ۔یہاں تک کہ جو عدالتی فیصلے ان ملازمین کے حق میں ہوچکے ہیں، انتظامیہ اس پر عمل درآمد کی راہ میں بھی چمک اور قانونی داؤ پیچ کے رکاؤٹ بنی رہتی ہے ۔

پاکستان کے سیاسی افق پر ان دنوں بدعنوانی سے جمع کی گئی دولت کے حساب واحتساب کے بڑے چرچے ہیں۔ عسکری ادارے سیاسی جماعتوں اور بلدیاتی اداروں کے اندر گھس کر چھان پھٹک کرتے ہوئے یہ جائز اور واجب دلیل دیتے ہیں کہ یہاں سے لوٹی گئی رقم کا ایک بڑا حصہ دہشت گرد جتھوں کو پالنے پوسنے پر بھی صرف ہوتا ہے۔ مگر اس امر پر کبھی دھیان نہیں دیا گیا کہ نیشنل بینک سے لوٹے گئے اربوں روپے کون کون اور کہاں کہاں خرچ کررہا ہے؟ پاکستان کا یہ قومی ادارہ بہت سے قومی اور فوجی رازوں کاامین ہے۔ اس لئے اِسے چند لٹیروں کے رحم وکرم اور سیاسی اقرباپروری کے لئے استعمال کرنے میں آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا۔ لہذا عسکری اداروں کو اولین ترجیح کے طور پر لوٹ مار کی اس رقم پر دھیان دیتے ہوئے اس کے خرچ ہونے کے راستوں پر کڑے پہرے بٹھانے ہوں گے۔ وگرنہ احتساب کا معاملہ ایک یکطرفہ عمل کے طور پر مفادات کاایک کھیل محسوس ہوگا۔


متعلقہ خبریں


صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

مضامین
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال! وجود منگل 31 مارچ 2026
ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر