وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

پیر 13 اپریل 2026 مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریاض احمدچودھری

بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 43 چوکیاں قائم کر لیں ہیں۔ فورسز کی ہر چوکی میں 25 اہلکار تعینات ہیں۔بھارتی فورسز کی جانب سے 26 چوکیاں کشمیر ڈویژن جبکہ 17 چوکیاں جموں ڈویژن میں قائم کی گئی ہیں۔ بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں میں پانچ اگست دو ہزار انیس سے اب تک بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں ایک ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت نے پانچ اگست دوہزار انیس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا جس نے علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارتی فوج نے سری نگر شہر سمیت مختلف علاقوں سے پانچ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ بھارتی فوج نے ان گرفتاریوں کا جواز پیش کرتے ہوئے انہیں مختلف عسکریت پسند تنظیموں کے سابق کارکن قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ گزشتہ 16 سالوں سے گرفتاری سے بچ رہے تھے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے اظہار رائے کی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق پرجبری پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو اپنی سیاسی خواہشات کے اظہار کی آزادی کیلئے بھارت پردبائو بڑھائے۔
مودی کی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے اور اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں تمام بنیادی حقوق بشمول احتجاج کرنے کا حق اور اظہار رائے کی آزادی کوپامال کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کو روزانہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ظلم و تشدد ، قتل عام ، تذلیل اور خوف ودہشت کا نشانہ بنایاجاتاہے۔ ہر کشمیری مقبوضہ علاقے میں موجود خو ف و دہشت کے ماحول میں گھٹن محسوس کرتا ہے، جہاں نگرانی، پابندیاں اور جبری کارروائیاں روزکا معمول بن چکی ہیں۔ سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہاکہ کشمیریوں کو اپنے ضمیر کی بات کرنے اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اظہار کرنے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔ کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی سیاسی آواز دبا کر انہیں اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روک نہیں سکتا۔بھارتی حکومت نے پیراملٹری فورسز کی مزید 200 کمپنیاں کشمیر بھیج دی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو شمالی کشمیر اور جموں خطے کے کچھ حصوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ بھارتی فورسز کی بڑی تعداد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔ 5 اگست 2019 ء کے شب خون سے قبل بھارتی سفاک سپاہ کی مقبوضہ وادی میں تعداد 7 لاکھ تھی۔ کشمیری بھارت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ظلم کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ وہ 5 اگست کے فیصلے کے خلاف گھروں سے نکل آئے۔ سروں پر کفن باندھ کر احتجاج شروع کیا مظاہرے ہونے لگے۔ جس پر بھارت نے قابو پانے کے لیے مزید بربریت سے کام لیا۔دو لاکھ مزید فوجی مقبوضہ وادی میں تعینات کر دیئے اور فوری طور پر وادی میں سخت ترین پابندیوں کا حامل کرفیو نافذ کر دیا گیا جو آج بھی مسلسل لاگو ہے۔ اس کے باوجود کشمیری موقع ملتے ہی گھروں سے نکل کر احتجاج کرتے ہیں۔ ان کی آواز کو مکمل طور پر دبانے کے لیے 5 اگست کے بعد وادی میں فوج کی تعیناتی میں بتدریج اضافہ کیا جارہا ہے جو کل تک نو لاکھ تھی جس میں اب مزید 20 ہزار کا اضافہ کیا گیا۔ اس سے مقبوضہ وادی میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔ وہاں تعینات فورسز کشمیریوں کے خلاف ظلم کا ہر حربہ اور ضابطہ روا رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کو حقِ استصواب دیا جائے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوڑی میں کشمیری مجاہدین سے ایک جھڑپ میں 4 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور کئی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔یہ کارروائی راجوڑی کے علاقے سندربنی اور دیگر مقامات پر نامعلوم افراد کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد شروع کی گئی۔ بھارتی فوج نے علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن (سی اے ایس او) کا آغاز کیا ہے۔بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پرسندربنی کے علاقے ناتھوا تِبہ میں، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہے، میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی۔حکام کے مطابق اس کے بعد زمینی آپریشن کے ساتھ فضائی نگرانی بھی شروع کر دی گئی۔دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ علاقے میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار ہلاک اور کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر