وجود

... loading ...

وجود

ریت کا محل

پیر 13 اپریل 2026 ریت کا محل

بے لگام / ستار چوہدری

ہرفرعون، اپنے عروج کے دنوں میں، مقدرکا سکندر۔اوراپنے انجام سے پہلے ،قسمت کا دھنی ہوتا ہے ، جیسے آسمان اس کی مٹھی میں ہو۔
اورزمین، اس کے قدموں کی زنجیر۔اس کے دربار میں، سورج بھی اجازت لے کر نکلتا ہے ۔ چاند، اس کی تعریف میں قصیدے پڑھتا ہے ۔
اور وقت۔ ہاں وقت بھی، اس کے اشاروں پر چلتا ہے ۔ سچ، دروازے پر کھڑا رہتا ہے ، ننگے پاؤں، لرزتے ہاتھوں کے ساتھ ۔ اوراندر،
جھوٹ کے قالین بچھے ہوتے ہیں۔ وہ جب مسکراتا ہے ، تو شہر آباد ۔ اور جب تیور بدلتا ہے ، تو بستیاں راکھ ۔ اس کے ایک اشارے پر ضمیر
فروخت ہو جاتے ہیں، لفظ بک جاتے ہیں، قلم جھک جاتے ہیں۔اورانسان، اپنی ہی آنکھوں میں چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے ، یہ تخت
ہمیشہ کا ہے ، یہ تاج لازوال ہے ، یہ لشکر ناقابلِ شکست ہیں۔ اوردریا۔ دریا تو صرف اس کے حکم کے غلام ہیں۔ اس کے دربار میں، آئینے بھی
سچ نہیں دکھاتے ۔ ہرعکس، اس کی خواہش کے مطابق ڈھل جاتا ہے ۔ مشیر، سچ نہیں بولتے ، وہ الفاظ کو، چمکدار جھوٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔
ہر زبان، تعریف کی عادی ہو جاتی ہے ۔ ہر آنکھ ، حقیقت سے نظریں چرا لیتی ہے ۔ وہ سنتا ہے ، مگر صرف وہی، جو اسے اچھا لگے ۔ اور یوں،
آہستہ آہستہ، وہ اپنے ہی بنائے ہوئے فریب میں قید ہو جاتا ہے ۔ اسے لگتا ہے ، دنیا اسی کے گرد گھومتی ہے ۔ اور جو اس سے اختلاف
کرے، وہ دشمن ہے ، غدار ہے ۔
اس دور فرعونی میں، لوگ سانس تو لیتے ہیں، مگر جیتے نہیں، ان کی آنکھوں میں خوف کے سائے ہوتے ہیں، لبوں پر، خاموشی کے تالے ۔
وہ جیتے ہیں، مگر اپنے لیے نہیں، وہ بولتے ہیں، مگر سچ نہیں بولتے ۔ ہر گلی میں، ایک دبی ہوئی چیخ ہے ۔ ہر گھر میں، ایک ان کہی کہانی۔مائیں،
اپنے بچوں کو سکھاتی ہیں۔”بیٹا،سچ مت بولنا ”۔باپ، نگاہیں جھکا کر جیتے ہیں۔ اور نوجوان، خواب دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ پھر کہیں دور،
ایک سرگوشی جنم لیتی ہے ، کوئی ایک شخص، ڈر کے باوجود بولتا ہے ، کوئی ایک قلم، جھکنے سے انکار کرتا ہے ۔ اور یہی ایک چنگاری، آہستہ آہستہ،
آگ بن جاتی ہے ۔ لوگ، جو کل تک ڈرتے تھے ، آج سوال کرنے لگتے ہیں، جو جھکے ہوئے تھے ، آہستہ آہستہ سیدھے کھڑے ہونے لگتے
ہیں۔ یہ بغاوت، ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی، کبھی ایک لفظ، سلطنتیں ہلا دیتا ہے ۔ کبھی ایک سچ، ہزاروں جھوٹوں پر بھاری پڑتا ہے اور فرعون۔
وہ حیران ہوتا ہے ، کہ یہ سب کب ہوا؟کیسے ہوا؟ مگریہ سب بہت پہلے شروع ہو چکا ہوتا ہے ۔
مگر اسے کون بتائے !! کہ خاموشی کے بھی اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ اور صبر بھی ایک دن چیخ بن جاتا ہے ۔ وقت۔ کبھی رک کر نہیں دیکھتا،
مگر سب کچھ دیکھتا رہتا ہے ۔ ہر ظلم، ہرغرور، ہر تکبر، چپ چاپ لکھتا رہتا ہے ۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ اور زمین، قدموں کے
نشان یاد رکھتی ہے ۔ ہرآہ، فضا میں کہیں گم نہیں ہوتی۔ ہر آنسو، اپنا حساب مانگتا ہے ۔ اور پھر، ایک لمحہ آتا ہے ، جب زمین، پاؤں کے نیچے
سے کھسک جاتی ہے ۔ جب آسمان، اپنی وسعت سمیٹ لیتا ہے ۔ اور وہی دریا، جنہیں وہ غلام سمجھتا تھا، اس کے خلاف گواہ بن جاتے ہیں۔
نہ لشکر کام آتا ہے ، نہ دربار، نہ نعرے ، نہ چاپلوس، نہ وہ تالیاں، جو کل تک اس کے نام پر بجتی تھیں۔ بس ایک سناٹا ہوتا ہے ، ایک چیخ، جو تاریخ
کے سینے میں دفن ہو جاتی ہے ۔پھر وہ لمحہ آتا ہے ، جس کا اسے کبھی یقین نہیں تھا۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی، وہ خالی ہو جاتا ہے ، سب کے
درمیان ہوتے ہوئے بھی، اکیلا رہ جاتا ہے ۔ نہ وہ دربار رہتا ہے ، نہ وہ رعب، نہ وہ خوف، جو کبھی اس کا ہتھیار تھا۔ وہ بھاگتا ہے ، مگر اپنے
انجام سے نہیں بچ پاتا۔ وہ پکارتا ہے ، مگر کوئی سنتا نہیں۔ وہ مانتا ہے ، مگر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ اورپھر۔ ایک خاموش انجام، جو چیخ چیخ کر
، تاریخ کو سنائی دیتا ہے اور پھر، کہانی بدل جاتی ہے ، کل تک جو خدا بنا بیٹھا تھا، آج ایک مثال بن جاتا ہے ، کل تک جس کے نام سے لرزتے
تھے لوگ، آج بچے اس پر سوال کرتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے ، ہر فرعون، اپنے انجام سے پہلے ” قسمت کا دھنی ہوتا ہے ”۔اس کے پاس
سب کچھ ہوتا ہے ۔ طاقت، دولت، وقت، اختیار۔ مگر ایک چیز نہیں ہوتی۔ انجام کا شعور۔ اور جب شعور آتا ہے ۔ تو بہت دیر ہو چکی ہوتی
ہے۔ پھر نہ توبہ سنائی دیتی ہے ، نہ فریاد، نہ کوئی دروازہ کھلتا ہے ، نہ کوئی ہاتھ بڑھتا ہے ۔ صرف تاریخ ہوتی ہے ، جو فیصلہ سنا دیتی ہے ۔ کہ غرور کا
ہرمحل، ریت پر بنتا ہے ، اور ہر فرعون، آخرکار، ایک عبرت کی داستان بن جاتا ہے ۔سچائی یہی ہے ۔ ہرفرعون،اپنے عروج کے دنوں میں،
مقدرکا سکندر۔ اور اپنے انجام سے پہلے ،قسمت کا دھنی ہوتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر