وجود

... loading ...

وجود

چین اور ایران

پیر 13 اپریل 2026 چین اور ایران

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم

برسوں سے چین ایران کی اہم ترین لائف لائنز میں سے ایک رہا ہے۔چین نے اس کی تقریباً تیل کی تمام برآمدات کو خریدا ہے، سفارتی طور پر تحفظ دیا ہے اور عالمی تنہائی سے بحفاظت نکل آنے میں مدد کی ہے۔اب تین ایرانی حکام کے مطابق چین نے ایک مختلف مقصد کیلئے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا ہے۔ ایران پر دبائو ڈالا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی قبول کرلے۔2 ہفتے کی جنگ بندی منظور کرنے کا ایران کا فیصلہ چین کے زور دینے پر ہوا۔چین نے ایران سے کہا کہ وہ لچک دکھائے اور کشیدگی ختم کرے۔
یہ مداخلت ایران پر چین کے اثر ورسوخ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ایک طویل جنگ کو روکنے میں اس کا اپنا فائدہ ہے۔ یہ جنگ توانائی کی فراہمی میں خلل ڈال سکتی ہے یا عالمی کساد بازاری شروع ہو سکتی ہے اور خلیجی ممالک کو نقصان پہنچا سکتی ہے جن سے چین کے قریبی تعلقات ہیں۔اس ڈیل میں آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایران کا چین پر بہت زیادہ انحصار ہے۔چین نے گزشتہ کئی برسوں میں ایران کی معیشت میں مدد کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے،اس وقت اس کی تیل کی تقریباً تمام بر آمدات خریدی ہیں جب بہت سے دوسرے ممالک نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی بناء پر اس سے کاروبار کرنے سے اجتناب کیا۔
خلیجی ممالک کو نئی پریشان کن حقیقت کا سامنا
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ خلیجی ممالک کو نئی پریشان کن حقیقت کا سامنا ہے۔دبئی اور دوہا میں جیسے دولتمند شہروں کے سیاستدان،سرمایہ کار اور مکین کبھی سمجھتے تھے کہ وہ خطے کی جنگوں سے محفوظ ہیں۔ایران کے ساتھ امریکی اسرائیلی جنگ نے یہ مفروضہ چکنا چور کر دیا ہے۔خلیجی ممالک کو ہزاروں ایرانی میزائلزاور ڈرونز سے سے ہونے والی تباہی کی مرمتکرنا ہوگی ۔بہت سے ممالک کو توقع ہے کہ توانائی کی برآمدات میں رخنہ پڑنے سے اس سال ان کی اقتصای پیداوارسکڑ جائے گی۔ لیکن وہ اسرائیل،ایران اور ان کا سب سے بڑا سکیورٹی ضامن امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور ہیں کیونکہ جنگ نے ان کے تیل کے کنوئوں، پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس،ہوٹلوں اور پلانٹس کی کمزوری کو بے نقاب کردیا ہے۔سعودی عرب میں گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز ساغر کا کہنا ہے کہ آج امریکہ ہمارے ساتھ ہے لیکن وہ ضمانت فراہم نہیں کرتا جس کی ہمیں اب ضرورت ہے۔ کیا وہ ہمارے خلاف حملہ روک دے گا؟ بالکل نہیں۔تاہم جو حکومتیں قابل عمل متبادل ضامن کی خواہشمند ہیں،وہ دیکھیں گی کہ ایسا کوئی نہیں ہے اور اگر جنگ بندی زیادہ پائیدار ہو جاتی ہے تو انہیں ایک کمزور ایران کا سامنا کرنا پڑے گا جو اب بھی گاہے بگاہے ان پر حملہ کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی راہ میں رکاوٹیں
ایران کا کہنا ہے کہ ٹریفک زونزمیں جہاز شکن سرنگیں ہونے کی بناء پر جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ اشتراک کرنا ہوگا اور آبی راہ عبور کرنے کیلئے مقررہ روٹس استعمال کرنا ہونگے۔بھارت،پاکستان اور تھائی لینڈ نے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کیلئے ایران کے ساتھ کام کیا ہے۔7 یورپی ممالک،کنیڈا اور یورپین کونسل کے رہنمائوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ ان کی حکومتیں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا حصہ ادا کریں گی۔
صدرٹرمپ نے تجویز پیش کی ہے کہ امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز کا مشترکہ کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک میں اضافہ کرنے میں مدد دے گا،بہت سے مثبت اقدامات ہونگے۔ بڑا پیسہ آئے گا۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کے گزرنے کی تعداد مقابلتاً کم رہتی ہے تو ایران گیٹ کیپر کے طور پرکام جاری رکھ سکتا ہے لیکن وہ جنگ سے قبل کے روزانہ100 سے زائد جہازوں کا آبنائے ہرمز میں سے گزرنے کا انتظام نہیں کر سکے گا۔پاسداران انقلاب جہازوں کے گزرنے کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اوران کے گزرنے کیلئے فیس وصول کرنا چاہتے ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں ایران اس انتظام کو مستقل کرنا چاہتا ہے اور وہ2 ملین ڈالر فی جہاز وصول کرنا چاہتا ہے اور پڑوسی اومان کو منافع میں حصہ دے کر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرے گا۔ اس کا جواب ٹرمپ نے یہ دیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کا مشترکہ کنٹرول سنبھالے گا اور اس سے وصول ہونے والی آمدنی کوآپس میں تقسیم کرے گا۔اس محصول راہداری کی وصولی کو برطانیہ جیسے حلیفوں نے مسترد کردیا ہے۔برطانیہ کے وزیر خارجہ ویٹ کوپر نے کہا کہ جہازرانی کی آزادی کا مطلب مفت جہاز رانی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر