وجود

... loading ...

وجود

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

جمعه 10 اپریل 2026 اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

بے لگام / ستار چوہدری

کبھی کبھی قومیں صرف جنگ میں نہیں ہارتیں، وہ بیانیے ، دکھاوے اور جعلی کریڈٹ کے جال میں پھنس کرہارجاتی ہیں۔ آج پاکستان بھی
کچھ ایسا منظر پیش کررہا ہے ، شور ہے ، تالیاں ہیں، نعرے ہیں۔ اوردرمیان میں ایک خاموش درد ہے ، جو کسی بھوکے بچے کے آنسوؤں میں
گھرا ہے ، کسی بیمار کی تنہائی میں سسکتا ہے ، کسی بے روزگار باپ کے تھکے ہاتھوں میں خون کی طرح چھپ گیا ہے ۔ مگر یہ درد کسی کو دکھائی نہیں
دیتا، اسے دبایا گیا ہے ، کریڈٹ کے جعلی چراغ تلے ، سیاسی دھوکے میں چھپا دیا گیا ہے ۔ ٹی وی اسکرینوں پر، سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز میں،
اخباری صفحات پر۔ ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے ، جنگ کس نے بند کرائی؟ کس نے دنیا کو قائل کیا؟ کس نے ملک کا نام روشن کیا؟
اور لوگ، بے فکر، اس سوال میں کھو گئے ہیں، بیانیے ، تاثر اور دکھاوے کے دھوکے میں اتنے ڈوب گئے کہ اپنی اصلی زندگی بھول گئے ہیں۔
یہ بحث اب خبر نہیں رہی، یہ ایک سحر، دھوکہ اور وقتی عیش بن چکی ہے ، جو پورے ملک کو دو حصوں میں بانٹ رہی ہے ، ایک وہ جو تالیاں بجا رہا
ہے اورایک وہ جو جانتا ہے کہ یہ سب فریب ہے ۔ یہاں ہر خوشی ظاہر کی خوشی ہے ، ہر جشن شیخی کا جشن ہے اورتالیاں خالی کمروں میں گونج
رہی ہیں۔ اور درمیان میں ہم ہیں، خاموش، بھٹکے ہوئے ، وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ یہ شور کسی کی بھوک نہیں مٹا سکتا، یہ بیانیہ کسی بیمار کی دوا
نہیں دے سکتا، یہ کریڈٹ کسی بے روزگار کو روزگار نہیں دے سکتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دل کہتا ہے ، شور کا تماشا ختم ہو جائے ، حقیقت کی گھڑی
آ جائے ۔اور یہی اصل سوال ہے ، اس کریڈٹ سے عوام کو کیا ملا؟ کیا یہ شور کسی مزدور کے ہاتھ میں پیسے ڈال گیا؟ کیا کسی بیمار کو مفت دوا ملی؟
کیا کسی بھوکے بچے کی بھوک مٹ گئی؟ کیا کسی بے روزگار نوجوان کے لیے روزگار کے دروازے کھلے ؟ جواب۔۔ خاموشی ہے ۔ یہاں
جشن، تالیاں اور نعرے ہیں، مگر گھروں میں چولہا بجھ رہا ہے ، ہسپتالوں میں مریض موت کا انتظار کر رہے ہیں، سڑکوں پر لوگ پیسے کے لیے
دربدر ہیں۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ہر بیانیے کے پیچھے چھپی ہے ، یہ کریڈٹ ایک سیاسی کھیل کا حصہ ہے ، ایک عارضی تاثر ہے جو صرف
انتخابی مہم میں کام آ سکتا ہے ۔اور جس کا عوام کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
شاید سب سے بڑا سچ وہ ہوتا ہے ، جسے ہم سننا نہیں چاہتے ۔ اورآج کا سچ بھی کچھ ایسا ہی ہے ” ملک کریڈٹ سے نہیں حقیقتوں سے چلتے
ہیں”۔مگر ہم نے حقیقتوں سے آنکھیں چرا کر خود کو نعروں کے حوالے کر دیا ہے ۔ ہم نے اپنے سوال بیچ دیے ہیں۔ اور بدلے میں تالیاں خرید لی ہیں۔ ہم نے کارکردگی کو نظر انداز کیا۔ اور بیانیے کو سچ مان لیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر دور میں، ایک نیا کارنامہ سامنے آتا ہے ، ایک نیا کریڈٹ پیدا ہوتا ہے ۔ اور ایک نیا ہجوم اسے سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ مگر ہجوم کبھی تاریخ نہیں لکھتا، ہجوم صرف شور مچاتا ہے ۔ تاریخ ہمیشہ وہ لکھتی
ہے جو تبدیلی لاتا ہے ، جو انسان کی زندگی میں آسانی لاتا ہے ، جو ایک عام آدمی کے چہرے پر سکون لاتا ہے ۔ ذرا خود سے ایک آخری سوال
پوچھیں، اگر کل یہ سارا کریڈٹ ختم ہو جائے ، یہ ساری تعریفیں خاموش ہو جائیں، یہ سارے ٹویٹس مٹ جائیں، تو کیا بچے گا؟ کیا ہمارے
اسکول بہتر ہو جائیں گے ؟ کیا ہمارے ہسپتال ٹھیک ہو جائیں گے ؟ کیا انصاف کا بول بالا ہوجائے گا؟ کیا مہنگائی ختم ہو جائے گی؟
اگرجواب نہیں ہے ، تو پھر مان لیجیے ، یہ سب ایک فریب ہے ، ایک خوبصورت، دلکش، مگر عارضی فریب۔ اور فریب کی سب سے خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے ۔ پاکستانی قوم کئی دہائیوں سے ایسے ہی فریبوں میں زندہ ہے ، کبھی کسی ایک کامیابی کا شور، کبھی کسی ایک تقریر کا جادو، کبھی کسی ایک تصویر کا اثر، مگر ان سب کے بیچ ایک چیز ہمیشہ غائب رہی، عوام کی اصل زندگی،وہ زندگی جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ، وہ زندگی جو انصاف کے انتظار میں تھک چکی ہے ، وہ زندگی جو روزگار کی تلاش میں ہار چکی ہے اور شاید سب سے زیادہ تکلیف
دہ بات یہ ہے کہ اب اس زندگی کو بھی کریڈٹ کے شور میں چھپایا جا رہا ہے ۔ مگر سچ چھپتا نہیں صرف دیر سے سامنے آتا ہے ۔ اور جب سچ سامنے آتا ہے تو نہ بیانیہ بچتا ہے ، نہ کریڈٹ، نہ تالیاں۔ صرف سوال بچتے ہیں۔ اور وہ سوال بہت بے رحم ہوتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں۔ تم نے اپنے لوگوں کے لیے کیا، کیا؟ اگراس سوال کا جواب خاموشی ہو تو پھر چاہے آپ نے دنیا کی سب سے بڑی جنگ بھی رکوا دی ہو، تاریخ آپ کو معاف نہیں کرتی۔ کیونکہ تاریخ کے نزدیک سب سے بڑی جنگ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے ، بھوک کے خلاف جنگ، ناانصافی کے خلاف جنگ۔۔ اور محرومی کے خلاف جنگ،جو حکمران یہ جنگ جیت جاتا ہے ، وہی ”اصل فاتح” ہوتا ہے ۔ باقی سب صرف کہانیاں ہوتی ہیں۔ اور کہانیاں۔ کبھی قوموں کا مقدر نہیں بدلتیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست وجود جمعه 10 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ وجود جمعه 10 اپریل 2026
کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر