... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
کبھی کبھی قومیں صرف جنگ میں نہیں ہارتیں، وہ بیانیے ، دکھاوے اور جعلی کریڈٹ کے جال میں پھنس کرہارجاتی ہیں۔ آج پاکستان بھی
کچھ ایسا منظر پیش کررہا ہے ، شور ہے ، تالیاں ہیں، نعرے ہیں۔ اوردرمیان میں ایک خاموش درد ہے ، جو کسی بھوکے بچے کے آنسوؤں میں
گھرا ہے ، کسی بیمار کی تنہائی میں سسکتا ہے ، کسی بے روزگار باپ کے تھکے ہاتھوں میں خون کی طرح چھپ گیا ہے ۔ مگر یہ درد کسی کو دکھائی نہیں
دیتا، اسے دبایا گیا ہے ، کریڈٹ کے جعلی چراغ تلے ، سیاسی دھوکے میں چھپا دیا گیا ہے ۔ ٹی وی اسکرینوں پر، سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز میں،
اخباری صفحات پر۔ ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے ، جنگ کس نے بند کرائی؟ کس نے دنیا کو قائل کیا؟ کس نے ملک کا نام روشن کیا؟
اور لوگ، بے فکر، اس سوال میں کھو گئے ہیں، بیانیے ، تاثر اور دکھاوے کے دھوکے میں اتنے ڈوب گئے کہ اپنی اصلی زندگی بھول گئے ہیں۔
یہ بحث اب خبر نہیں رہی، یہ ایک سحر، دھوکہ اور وقتی عیش بن چکی ہے ، جو پورے ملک کو دو حصوں میں بانٹ رہی ہے ، ایک وہ جو تالیاں بجا رہا
ہے اورایک وہ جو جانتا ہے کہ یہ سب فریب ہے ۔ یہاں ہر خوشی ظاہر کی خوشی ہے ، ہر جشن شیخی کا جشن ہے اورتالیاں خالی کمروں میں گونج
رہی ہیں۔ اور درمیان میں ہم ہیں، خاموش، بھٹکے ہوئے ، وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ یہ شور کسی کی بھوک نہیں مٹا سکتا، یہ بیانیہ کسی بیمار کی دوا
نہیں دے سکتا، یہ کریڈٹ کسی بے روزگار کو روزگار نہیں دے سکتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دل کہتا ہے ، شور کا تماشا ختم ہو جائے ، حقیقت کی گھڑی
آ جائے ۔اور یہی اصل سوال ہے ، اس کریڈٹ سے عوام کو کیا ملا؟ کیا یہ شور کسی مزدور کے ہاتھ میں پیسے ڈال گیا؟ کیا کسی بیمار کو مفت دوا ملی؟
کیا کسی بھوکے بچے کی بھوک مٹ گئی؟ کیا کسی بے روزگار نوجوان کے لیے روزگار کے دروازے کھلے ؟ جواب۔۔ خاموشی ہے ۔ یہاں
جشن، تالیاں اور نعرے ہیں، مگر گھروں میں چولہا بجھ رہا ہے ، ہسپتالوں میں مریض موت کا انتظار کر رہے ہیں، سڑکوں پر لوگ پیسے کے لیے
دربدر ہیں۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ہر بیانیے کے پیچھے چھپی ہے ، یہ کریڈٹ ایک سیاسی کھیل کا حصہ ہے ، ایک عارضی تاثر ہے جو صرف
انتخابی مہم میں کام آ سکتا ہے ۔اور جس کا عوام کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
شاید سب سے بڑا سچ وہ ہوتا ہے ، جسے ہم سننا نہیں چاہتے ۔ اورآج کا سچ بھی کچھ ایسا ہی ہے ” ملک کریڈٹ سے نہیں حقیقتوں سے چلتے
ہیں”۔مگر ہم نے حقیقتوں سے آنکھیں چرا کر خود کو نعروں کے حوالے کر دیا ہے ۔ ہم نے اپنے سوال بیچ دیے ہیں۔ اور بدلے میں تالیاں خرید لی ہیں۔ ہم نے کارکردگی کو نظر انداز کیا۔ اور بیانیے کو سچ مان لیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر دور میں، ایک نیا کارنامہ سامنے آتا ہے ، ایک نیا کریڈٹ پیدا ہوتا ہے ۔ اور ایک نیا ہجوم اسے سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ مگر ہجوم کبھی تاریخ نہیں لکھتا، ہجوم صرف شور مچاتا ہے ۔ تاریخ ہمیشہ وہ لکھتی
ہے جو تبدیلی لاتا ہے ، جو انسان کی زندگی میں آسانی لاتا ہے ، جو ایک عام آدمی کے چہرے پر سکون لاتا ہے ۔ ذرا خود سے ایک آخری سوال
پوچھیں، اگر کل یہ سارا کریڈٹ ختم ہو جائے ، یہ ساری تعریفیں خاموش ہو جائیں، یہ سارے ٹویٹس مٹ جائیں، تو کیا بچے گا؟ کیا ہمارے
اسکول بہتر ہو جائیں گے ؟ کیا ہمارے ہسپتال ٹھیک ہو جائیں گے ؟ کیا انصاف کا بول بالا ہوجائے گا؟ کیا مہنگائی ختم ہو جائے گی؟
اگرجواب نہیں ہے ، تو پھر مان لیجیے ، یہ سب ایک فریب ہے ، ایک خوبصورت، دلکش، مگر عارضی فریب۔ اور فریب کی سب سے خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے ۔ پاکستانی قوم کئی دہائیوں سے ایسے ہی فریبوں میں زندہ ہے ، کبھی کسی ایک کامیابی کا شور، کبھی کسی ایک تقریر کا جادو، کبھی کسی ایک تصویر کا اثر، مگر ان سب کے بیچ ایک چیز ہمیشہ غائب رہی، عوام کی اصل زندگی،وہ زندگی جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ، وہ زندگی جو انصاف کے انتظار میں تھک چکی ہے ، وہ زندگی جو روزگار کی تلاش میں ہار چکی ہے اور شاید سب سے زیادہ تکلیف
دہ بات یہ ہے کہ اب اس زندگی کو بھی کریڈٹ کے شور میں چھپایا جا رہا ہے ۔ مگر سچ چھپتا نہیں صرف دیر سے سامنے آتا ہے ۔ اور جب سچ سامنے آتا ہے تو نہ بیانیہ بچتا ہے ، نہ کریڈٹ، نہ تالیاں۔ صرف سوال بچتے ہیں۔ اور وہ سوال بہت بے رحم ہوتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں۔ تم نے اپنے لوگوں کے لیے کیا، کیا؟ اگراس سوال کا جواب خاموشی ہو تو پھر چاہے آپ نے دنیا کی سب سے بڑی جنگ بھی رکوا دی ہو، تاریخ آپ کو معاف نہیں کرتی۔ کیونکہ تاریخ کے نزدیک سب سے بڑی جنگ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے ، بھوک کے خلاف جنگ، ناانصافی کے خلاف جنگ۔۔ اور محرومی کے خلاف جنگ،جو حکمران یہ جنگ جیت جاتا ہے ، وہی ”اصل فاتح” ہوتا ہے ۔ باقی سب صرف کہانیاں ہوتی ہیں۔ اور کہانیاں۔ کبھی قوموں کا مقدر نہیں بدلتیں۔
٭٭٭