وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

بدھ 08 اپریل 2026 پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

محمد آصف

دنیا آج باہمی انحصار کے ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی ایک خطے میں ہونے والی جنگ یا سیاسی کشیدگی کے اثرات پوری عالمی
معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی
معیشت بیرونی قرضوں، درآمدی اشیاء اور عالمی منڈیوں پر انحصار کرتی ہے ۔ جب عالمی سطح پر جنگی حالات پیدا ہوتے ہیں تو اشیائے
ضروریہ، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ، اور یہی اضافہ پاکستان میں مہنگائی کے طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔
حالیہ برسوں میں روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ نے پوری دنیا کی سپلائی چین کو متاثر کیا۔ گندم، خوردنی تیل، گیس اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ چونکہ پاکستان توانائی اور بعض غذائی اجناس کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے ، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوئی، اور نتیجتاً ہر چیز کی لاگت بڑھ گئی۔عالمی مالیاتی ادارے بھی ترقی پذیر ممالک کی معاشی سمت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے مالی معاونت تو فراہم کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کرتے ہیں۔ ان شرائط میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ، اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہوتا ہے ۔ جب حکومت ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو مہنگائی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ، اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی بھی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو درآمدی اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ چونکہ پاکستان خام تیل، مشینری اور مختلف صنعتی خام مال درآمد کرتا ہے ، اس لیے روپے کی کمزوری کا براہِ راست اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے ۔ بیرونی قرضوں کی واپسی بھی زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہے ، جس کے نتیجے میں کرنسی مزید کمزور ہوتی ہے اور مہنگائی کا دائرہ وسیع تر ہو جاتا ہے۔
توانائی کا بحران بھی مہنگائی کے طوفان کو ہوا دیتا ہے ۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کو زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ جب حکومت مہنگے داموں ایندھن خریدتی ہے تو وہ اس کا بوجھ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر ڈالتی ہے ۔ صنعتی شعبہ مہنگی بجلی پر پیداوار کرتا ہے ، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بھی عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے ۔ حالیہ عرصے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور براہِ راست حملوں نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ چونکہ یہ خطہ تیل کی عالمی سپلائی کا مرکز ہے ، اس لیے کسی بھی فوجی کارروائی یا جنگی ماحول سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں فوراً بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس
اضافے سے شدید متاثر ہوتے ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔
اسی تناظر میں حالیہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست اور معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنا جس کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اور ایران نے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرکے تیل کی سپلائی بند کر دی ہے ۔ اس وجہ سے عالمی منڈی میں بے چینی پیدا ہے ۔ اگر اس کشیدگی میں مزید شدت آتی ہے تو تیل کی رسد مزید متاثر ہو سکتی ہے ، جس سے نہ صرف ایندھن بلکہ اشیائے خوردونوش اور صنعتی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے ۔ تنخواہیں محدود رہتی ہیں مگر اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور خوراک سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔ غریب آدمی کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ مہنگائی نہ صرف معاشی بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے ۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمت 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ جانا ایک سنگین معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے ، جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور کمزور طبقے پر پڑتا ہے ۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ بسوں اور رکشوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے سفر کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے ، کیونکہ ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور مال بردار گاڑیاں اسی پر چلتی ہیں، نتیجتاً سبزیاں، آٹا اور دیگر اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو وہ قیمتوں میں اضافہ کر کے اس بوجھ کو صارفین پر منتقل کر دیتی ہیں۔ اس صورتحال میں قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے ، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے ، اور معاشرتی بے چینی بھی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اگر اس رجحان کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو مہنگائی کا یہ دباؤ معیشت کے لیے مزید پیچیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے ۔
ایسے مشکل حالات میں پاکستان کی عوام اور حکومت دونوں کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی، سفری سہولیات میں ریلیف، اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی روکی جا سکے ۔ ساتھ ہی توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی کے منصوبوں کو تیز کیا جائے ، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں، اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے آمدن میں اضافہ کیا جائے تاکہ بوجھ صرف عوام پر نہ پڑے ۔ دوسری جانب عوام کو بھی فضول خرچی سے گریز، ایندھن کی بچت، مقامی مصنوعات کے استعمال اور معاشی نظم و ضبط کو اپنانا ہوگا۔ قومی سطح پر اتحاد، دیانتداری اور اجتماعی شعور ہی ایسے بحرانوں سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے ۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اندرونی اصلاحات پر توجہ دے ۔ زرعی خود کفالت، متبادل توانائی کے ذرائع، برآمدات میں اضافہ اور شفاف طرزِ حکمرانی ایسے اقدامات ہیں جو عالمی جھٹکوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ جب تک معیشت مضبوط اور خود انحصار نہیں ہوگی، عالمی جنگیں اور بڑی طاقتوں کی پالیسیاں مہنگائی کی صورت میں عوام کو متاثر کرتی رہیں گی۔
یہ حقیقت واضح ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کا طوفان دراصل عالمی سیاسی کشیدگی، بڑی طاقتوں کے معاشی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کا مجموعہ ہے ۔ اس طوفان سے نکلنے کا راستہ مضبوط معیشت، قومی اتحاد اور دور اندیش قیادت میں پوشیدہ ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر