... loading ...
محمد آصف
دنیا آج باہمی انحصار کے ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی ایک خطے میں ہونے والی جنگ یا سیاسی کشیدگی کے اثرات پوری عالمی
معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی
معیشت بیرونی قرضوں، درآمدی اشیاء اور عالمی منڈیوں پر انحصار کرتی ہے ۔ جب عالمی سطح پر جنگی حالات پیدا ہوتے ہیں تو اشیائے
ضروریہ، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ، اور یہی اضافہ پاکستان میں مہنگائی کے طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔
حالیہ برسوں میں روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ نے پوری دنیا کی سپلائی چین کو متاثر کیا۔ گندم، خوردنی تیل، گیس اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ چونکہ پاکستان توانائی اور بعض غذائی اجناس کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے ، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوئی، اور نتیجتاً ہر چیز کی لاگت بڑھ گئی۔عالمی مالیاتی ادارے بھی ترقی پذیر ممالک کی معاشی سمت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے مالی معاونت تو فراہم کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کرتے ہیں۔ ان شرائط میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ، اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہوتا ہے ۔ جب حکومت ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو مہنگائی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ، اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی بھی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو درآمدی اشیاء کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ چونکہ پاکستان خام تیل، مشینری اور مختلف صنعتی خام مال درآمد کرتا ہے ، اس لیے روپے کی کمزوری کا براہِ راست اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے ۔ بیرونی قرضوں کی واپسی بھی زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالتی ہے ، جس کے نتیجے میں کرنسی مزید کمزور ہوتی ہے اور مہنگائی کا دائرہ وسیع تر ہو جاتا ہے۔
توانائی کا بحران بھی مہنگائی کے طوفان کو ہوا دیتا ہے ۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کو زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے ۔ جب حکومت مہنگے داموں ایندھن خریدتی ہے تو وہ اس کا بوجھ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام پر ڈالتی ہے ۔ صنعتی شعبہ مہنگی بجلی پر پیداوار کرتا ہے ، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بھی عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے ۔ حالیہ عرصے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور براہِ راست حملوں نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ چونکہ یہ خطہ تیل کی عالمی سپلائی کا مرکز ہے ، اس لیے کسی بھی فوجی کارروائی یا جنگی ماحول سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں فوراً بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس
اضافے سے شدید متاثر ہوتے ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔
اسی تناظر میں حالیہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست اور معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنا جس کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اور ایران نے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرکے تیل کی سپلائی بند کر دی ہے ۔ اس وجہ سے عالمی منڈی میں بے چینی پیدا ہے ۔ اگر اس کشیدگی میں مزید شدت آتی ہے تو تیل کی رسد مزید متاثر ہو سکتی ہے ، جس سے نہ صرف ایندھن بلکہ اشیائے خوردونوش اور صنعتی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے ۔ تنخواہیں محدود رہتی ہیں مگر اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور خوراک سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔ غریب آدمی کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ مہنگائی نہ صرف معاشی بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہے ۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمت 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ جانا ایک سنگین معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے ، جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور کمزور طبقے پر پڑتا ہے ۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ بسوں اور رکشوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لیے سفر کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے ، کیونکہ ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور مال بردار گاڑیاں اسی پر چلتی ہیں، نتیجتاً سبزیاں، آٹا اور دیگر اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو وہ قیمتوں میں اضافہ کر کے اس بوجھ کو صارفین پر منتقل کر دیتی ہیں۔ اس صورتحال میں قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے ، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے ، اور معاشرتی بے چینی بھی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اگر اس رجحان کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو مہنگائی کا یہ دباؤ معیشت کے لیے مزید پیچیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے ۔
ایسے مشکل حالات میں پاکستان کی عوام اور حکومت دونوں کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی، سفری سہولیات میں ریلیف، اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی روکی جا سکے ۔ ساتھ ہی توانائی کے متبادل ذرائع جیسے شمسی اور ہوا سے بجلی کے منصوبوں کو تیز کیا جائے ، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں، اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے آمدن میں اضافہ کیا جائے تاکہ بوجھ صرف عوام پر نہ پڑے ۔ دوسری جانب عوام کو بھی فضول خرچی سے گریز، ایندھن کی بچت، مقامی مصنوعات کے استعمال اور معاشی نظم و ضبط کو اپنانا ہوگا۔ قومی سطح پر اتحاد، دیانتداری اور اجتماعی شعور ہی ایسے بحرانوں سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے ۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اندرونی اصلاحات پر توجہ دے ۔ زرعی خود کفالت، متبادل توانائی کے ذرائع، برآمدات میں اضافہ اور شفاف طرزِ حکمرانی ایسے اقدامات ہیں جو عالمی جھٹکوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ جب تک معیشت مضبوط اور خود انحصار نہیں ہوگی، عالمی جنگیں اور بڑی طاقتوں کی پالیسیاں مہنگائی کی صورت میں عوام کو متاثر کرتی رہیں گی۔
یہ حقیقت واضح ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کا طوفان دراصل عالمی سیاسی کشیدگی، بڑی طاقتوں کے معاشی دباؤ اور اندرونی کمزوریوں کا مجموعہ ہے ۔ اس طوفان سے نکلنے کا راستہ مضبوط معیشت، قومی اتحاد اور دور اندیش قیادت میں پوشیدہ ہے ۔
٭٭٭