وجود

... loading ...

وجود

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

منگل 07 اپریل 2026 ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چوپال /عظمیٰ نقوی

شہر چیخ رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں، دیواریں خاموش ہیں، گلیاں آباد ہو کر بھی ویران ہیں، اور انسان ہجوم میں کھڑے ہو کر بھی تنہائی کے قیدی ۔ یہ کیسادور ہے جس میں سچ کی صدا دب رہی ہے، اور جھوٹ کی گونج بازاروں میں بکتی ہے۔احساس کی قیمت نہیں اور مفاد کا سکہ چلتا ہے۔جہاں ہر شخص کا سچ آمریت کے خول میں قید ہے۔ ہر چہرہ ایک نقاب اوڑھے ہوئے ہے، ہر دل اپنے ہی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اقبال اور قائد کے پاکستان میںیہ چیخیں محض آوازیں نہیں، یہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں ہیں، یہ ادھوری خواہشوں کی راکھ ہیں، یہ اُن دلوں کا نوحہ ہیں جو جیتے جی مر چکے ہیں۔
ایک ماں کے ضبط میں چھپی ہوئیں ، جو اپنے بچوں کی خاطر ہر درد سہہ رہی ہے۔ ایک باپ کی خاموشی میں دفن ہوتی ، جو اپنی بے بسی کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپارہا ہے۔ اورتعلیم یافتہ ایک نوجوان کے بجھتے ہوئے حوصلوں میں سسکتی ہوئی ، جو خواب تو دیکھتا ہے مگر تعبیر سے محروم رہ جاتا ہے۔یہ وہ چیخیں ہیں جو زبان پر نہیں آتیں مگر دلوں کو زخمی کر دیتی ہیں، روح کو چیر دیتی ہیں۔جب بھوک دروازہ کھٹکھٹائے اور غیرت جواب دینے سے قاصر ہو جائے، جب تعلیم خواب بن جائے اور روزگار ایک حسرت، جب انصاف صرف کتابوں میں رہ جائے اور ظلم گلیوں میں دندنائے، تو سمجھ لو کہ چیخیں اپنے عروج پر ہیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ سننے والے زندہ ہو کر بھی مردہ ہو چکے ہیں، آنکھیں کھلی ہیں مگر نظر سو چکی ہے، کان موجود ہیں مگر سماعت مفقود ہو چکی ہے۔ وطن عزیز کے باسیوں نے اپنے اپنے دلوں پر مفاد کے تالے لگا رکھے ہیں، اپنے ضمیر کو خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے، اورہر فرد یہ بھول چکا ہے کہ قائد اعظم کا پاکستان کس بھنور میں ہے کہ کبھی دوسروں کا درد محسوس کرنا ہی انسانیت کی پہلی شرط ہوا کرتی تھی، آج کسی فردِ وطن کی آہ ہمیں نہیں رلاتی، کسی کی فریاد ہمیں نہیں جھنجھوڑتی،چادر چاردیواری کا تقدس پامال ہورہا ہے ،لاقانونیت دندناتی پھر رہی ہے ، ہتھکڑیوں میں جکڑے بے گناہ مڑ مڑ کر ہمیں حسرت سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی اس ناانصافی پر آواز اٹھائے ،ہم صرف گزرتے ہیں، جیسے یہ سب ہمارا مسئلہ ہی نہ ہو، ہم نے خود کو اس قدر مصروف کر لیا ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد بکھرتی ہوئی انسانیت دکھائی ہی نہیں دیتی۔یہی بے حسی اصل زوال ہے، یہی وہ زہر ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔جب معاشرہ درد کو نظر انداز کرنے لگے، تو وہاں ظلم پروان
چڑھتا ہے، ناانصافی جڑ پکڑتی ہے، اور حق ہمیشہ کے لیے دب جاتا ہے، ایسے معاشرے میں انصاف ایک خواب بن جاتا ہے اور سچ ایک جرم، تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان احساس کھو دے تو وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے، اور جب قومیں اپنی پہچان کھو دیں تو ان کا وجود محض ایک سایہ رہ جاتا ہے۔ مگر ان چیخوں میں ایک سبق بھی پوشیدہ ہے، ایک پیغام بھی ہے، ایک تنبیہ بھی ہے، یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہیں، ہمیں آئینہ دکھاتی ہیں، اور ہمیں یہ باور کرواتی ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی کے آنسو نہ پونچھے، تو کل ہمارے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ اگر آج ہم نے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارا اپنا حق بھی کوئی چھین لے گا اور ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔یہ چیخیں ہمیں جگانے آئی ہیں، ہمیں یہ احساس دلانے کے لیے کہ ظلم کے خلاف اُٹھنا ہوگا ، دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنا ہوگا، جو قومیں ظلم پر خاموش رہتی ہیں ، ان کا حشر حضرت صالح علیہ السلام کی قوم جیسا ہوتا ، ہمیشہ ظلم کے خلاف مزاحمت زندہ رہتی ہے، تاریخ میں سرخرو ہوتی ہے، اور جوقومیں ظلم پر صرف تماشائی بن کر رہ جاتی ہیں، وہ تاریخ کے اندھیروں میں کھو جاتی ہیں، ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ آج حسینیت کی ضرورت ہے جس نے ظلم کے خلاف مزاحمت کو جنم دیا۔حضرت علی کا فرمان ہے معاشرے ظلم کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں ناانصافی کے ساتھ نہیں آج ہر فرد کی اپنے ضمیر کو آواز دینے کی ضرورت ہے،اپنے اردگرد ہونے والے ظلم پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ،ہر شخص کاایک چھوٹا سا عمل، ایک چھوٹا سا احساس، در احساس پہ دستک دے سکتا ہے، حق کے لیے کھڑا ہو جانا، یہی وہ عمل ہے جو معاشروں کو زندہ رکھتاہے، یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو چیر دیتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ حل نہیں ہوتی۔ اکثراوقات خاموشی خود ایک جرم بن جاتی ہے۔جب ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے، اسے مزید بے لگام کر دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آواز کو پہچانیں، اسے استعمال کریں، اور حق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ یاد رکھو، چیخیں ہمیشہ نہیں رہتیں، یا تو وہ سنی جاتی ہیں، یا پھر وہ طوفان بن کر سب کچھ بہا لے جاتی ہیں۔ اگر ہم نے آج ان چیخوں کو نظر انداز کیا، تو کل یہی چیخیں ہمارے دروازوں پر دستک دیں گی۔ اور اس وقت شاید سننے والا کوئی نہ ہوگا، پھر نہ وقت ہوگا، نہ موقع، نہ پچھتاوے کا کوئی فائدہ۔یہ وقت ہے جاگنے کا، یہ وقت ہے سننے کا، یہ وقت ہے بولنے کا، کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل ہماری اپنی چیخ بھی اسی خاموشی میں گم ہو جائے گی جہاں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے اور کچھ نہیں۔ چیخیں دراصل انسانیت کی آخری پکار ہوتی ہیں، اور جو قومیں اپنی اس پکار کو نظر انداز کر دیتی ہیں، وہ اپنے انجام کو خود دعوت دیتی ہیں۔ابھی بھی وقت ہے، ابھی بھی موقع ہے اپنے دلوں کو زندہ کرنے کا، اپنے ضمیر کو جگانے کا، اور ان چیخوں کو سننے کا، اس سے پہلے کہ سب کچھ خاموش ہو جائے، ہمیشہ کے لیے۔
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب ِ اولاد ہونا چاہئے


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر