وجود

... loading ...

وجود

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

پیر 30 مارچ 2026 میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

حکومت پاکستان نے بیرون ملک اپنا امیج بہتر بنانے کیلئے ایک بڑا قدم اٹھا یاہے۔ یہ کوشش اس میں نظرآتی ہے کہ وہ کس طرح افغانستان سے اپنے تنازع سے نمٹ رہا ہے۔یہ میڈیا اقدام پاکستان کی اس کوشش کا حصہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو صدر ٹرمپ سمیت مغرب کے کلیدی پارٹنر اور خطے میںسفارتی قوت کے طور پر پیش کرے۔گزشتہ برس سے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے صحافیوں کو راغب کیا ہے کہ وہ ملک دوست انگریزی زبان کا نیوز آئوٹ لیٹس شروع کریں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان نے اپنا پبلک براڈکاسٹ چینل پاکستان ٹی وی کا دوبارہ اجراء کیا۔ان نیوز آئوٹ لیٹس کے سامنے دو بڑے اہداف ہیں،بھارت اور افغانستان میں طالبان حکومت۔ان کے صحافیوں نے بھارت پر تنقید کی ہے اور طالبان کے خلاف فوجی مہم تشکیل کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام حملے افغان فوجی اہداف پر کئے گئے ہیں۔ایک پاکستانی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کوشش کی وجہ گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ فوجی تصادم ہے جب پاکستان سوشل میڈیا پر بھارت کی حمایت میں موادسے مغلوب ہوگیا۔اس تصادم کے دوران بھارتی اور پاکستانی میڈیا دونوںنے جھوٹی باتوں کو پروان چڑھایا۔
پاکستان ٹی وی کو بہتر بنانے کے علاوہ بھارت سے تصادم کے فوراًبعد انگریزی زبان کے دو نئے چینلز شروع کیے گئے۔کم از کم دونئے شروع ہونے والے ہیں۔ اپنی ڈپلومیسی کو بڑھاوا دینے کیلئے پاکستان حکومت کی حمایت سے کامیاب چینلز کی نقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اپنے ملک کے پیغامات کو اجاگر کرتے ہیں اور ترکی کےTRT یا قطر کے الجزیرہ کی طرح بیرون ملک اپنے امیجز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔گزشتہ خزاں میں پاکستان ٹی وی کے سربراہ عادل شا ہ زیب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر آپ سفارتی طور پر کامیاب جارہے ہیں،اگر آپ کی معیشت صحیح راہ پر گامزن ہے تو آپ کو مضبو ط سرکاری براڈ کاسٹر کی ضرورت ہے جو پاکستان کے ویژن کو دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔
پاکستان بھارت کے ساتھ تنازع کے نتیجہ میں ٹی وی چینلز شروع تو کرتا ہے،2000 کے عشرے کے وسط میں انگریزی زبان کے تین نئے نیوز چینلز شروع کئے گئے لیکن غیر منافع بخش ہونے کی بناء پرجلد ہی بند ہو گئے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وہ فنڈنگ اور ویژن نہیں ہے جو قطر اور ترکی نے فراہم کیے۔ڈان ٹی وی کی ہوسٹ عارفہ نور کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ جب بحران جنم لیتا ہے تو یہ کوششیں تیز ہوجاتی ہیں لیکن کوئی شخص یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ آئندہ کیا ہوگا۔
کراچی میں قائم سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم کے سربراہ شاہ زیب جیلانی کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے نئے چینلز چلنا شروع ہوتے ہیں،وہ مرعوب کن ہے لیکن وہ اتنی تیزی سے ناکامی سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے طلبہ کو ان نئے چینلز کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہاں جائو،سیکھو اور پیسہ بنائو لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ آپ کس کیلئے کام کرتے ہیں۔
چینی صدر کا عالمی ذہنی خیال:ہارڈ پاور ہی اصل طاقت ہے !
امریکی اور اسرائیلی فوجوں کا ایران پر اچانک اور خوفناک حملہ اور اس ملک کے سپریم لیڈر کے قتل نے شی جن پنگ کے اس عالمی منظر کی تصدیق کی ہے کہ ہارڈ پاور ہی اصل طاقت ہے۔برسوں سے چین کے اعلیٰ رہنما اپنے ملک کو امریکی فوجی دشمنی کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں اور اپنے جر نیلوں کو ہدایات دیتے رہے ہیں کہ وہ عالمی سطح کی فوج تیار کریں جو اتنی طاقتور ہو کہ امریکہ کی پیش قدمی روک سکے اور چین کی شرائط پر امن کو یقینی بنا سکے۔شی جن پنگ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ حملہ آوروں سے اس زبان میں بات کرنا جو وہ سمجھتے ہوں،ضروری ہے۔ امن اور احترام حاصل کرنے کیلئے فتح حاصل کرنا ضروری ہے۔
چینی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکہ کے بارے میں پیشگوئی ممکن نہیں ہے اور وہ زیاد خطرناک ہے جس نے چین کو زیادہ چوکس رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ایک سابق چینی آفیسر سونگ ژونگ پنگ کا کہنا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ آپ کے دشمن قواعد و ضوابط کے تحت کام کریں گے۔وہ بغیر انتباہ کے حملہ کر سکتے ہیں۔
یورپ امریکہ کی جیب میں؟
امریکہ میںسابق فرانسیسی سفیر ارود کا کہنا ہے کہ یورپ تنازع کو روکنے میں مدد دینے میں سفارتی طور پر زیادہ بامعنی کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ یورپ کی راہ میںتین عوامل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اول جنگ میں مدد کیلئے یورپ کے انکار کے بعد ٹرمپ کی بے اعتمادی۔یورپ کو خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی دشمنی مول لینے سے وہ یوکرین سے بْری طرح پیش آسکتے ہیں۔ایران یورپ پر شک کرتا ہے کہ وہ ٹرمپ کی کھلم کھلا مخالفت کرنے سے پس و پیش کررہاہے۔ارود کا کہنا ہے کہ ہم ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کام کرسکتے ہیں لیکن ٹرمپ پاکستان کو یہ کردار ادا کرنے کیلئے کہیں گے۔ارود نے مزید کہا کہ ایرانی بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ہم امریکیوں کی جیب میں ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر