وجود

... loading ...

وجود

پاکستانی پنک سالٹ

اتوار 29 مارچ 2026 پاکستانی پنک سالٹ

ریاض احمدچودھری

بھارت کا دوسروں کی اشیاء کو اپنی بنا کر پیش کرنے کا ایک مسلسل رجحان نمایاں ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے کھیوڑہ پنک سالٹ (ہمالین پنک سالٹ) کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہوئے اسے تیسرے ممالک کے ذریعے خام مال درآمد کر کے ”انڈین ہمالین سالٹ” کے نام سے پیش کیا۔ یہ طرزِ عمل باسمتی چاول کی غلط نمائندگی جیسے معاملات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ روش صرف چاول یا نمک تک محدود نہیں بلکہ گانوں، فلموں اور ثقافتی عناصر کی نقل تک پھیل چکی ہے۔
بھارتی درآمد کنندگان پاکستان سے خام نمک کو متحدہ عرب امارات کے راستے کم قیمت (60–80 ڈالر فی ٹن) پر حاصل کرتے ہیں، پھر اسے دوبارہ برانڈ کر کے قائم شدہ تجارتی نیٹ ورکس کے ذریعے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان زیادہ تر خام نمک برآمد کرتا ہے اور عالمی منڈی سے سالانہ تقریباً 120 ملین ڈالر کماتا ہے، جبکہ اس مارکیٹ کی مالیت 2024 میں 238 ملین ڈالر ہے اور 2033 تک 327 ملین ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔گزشتہ تین دہائیوں سے وپن کمارپاکستان سے ہمالیائی گلابی نمک درآمدکرکے بھارت میں فروخت کر رہے ہیں۔تاہم، نئی دہلی نے اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد تمام پاکستانی سامان بشمول تیسرے ممالک کے ذریعے جانے والے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کردی۔ ہندو بھی اس نمک کو اپنے مذہبی روزوں کے دوران استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک غیر سمندری نمک ہے۔
بھارت میں سکھوں کے روحانی مرکز پنجاب کے امرتسر میں مقیم 50 سالہ تاجر وپن کمار نے بتایا کہ پابندی سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ عام طور پر ہر سہ ماہی میں2ہزار سے ڈھائی ہزار ٹن گلابی نمک فروخت کرتے ہیں،منافع کا مارجن بہت کم ہے، لیکن پھر بھی بڑے پیمانے پر فروخت کی وجہ سے کاروبار ممکن ہے، لیکن پابندی نے گلابی نمک کے کاروبار کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ حالات کب معمول پر آئیں گے۔ہمالیائی گلابی نمک میں لوہے سمیت معدنیات کی وجہ سے اس کی رنگت گلابی ہے اور اسے کھانا پکانے، آرائشی لیمپ اور اسپا ٹریٹمنٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ہمالیائی گلابی نمک کی کان کنی کھیوڑہ سالٹ مائن میں کی جاتی ہے، جو کینیڈا کے اونٹاریو میں سیفٹو سالٹ مائن کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔نمک کی کان میں تقریباً 82 ملین میٹرک ٹن نمک ہوتا ہے اور ہر سال3 لاکھ 60 ہزارمیٹرک ٹن نکالا جاتا ہے، تقریباً 70 فیصد نمک صنعتی مقاصد اور باقی کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔نمک خام شکل میں بھارت کو برآمد کیا جاتا ہے، جہاں درآمد کنندگان اسے پروسیس، پیس کر پیک کرکے فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔بھارت اس گلابی نمک کے لیے زیادہ تر پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ نمک کے تاجروں نے بتایا کہ درآمدات میں موجودہ تعطل نے ان کے کاروبار کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، قیمتوں میں اضافہ شروع ہوچکا ہے۔امرتسر کے تاجر گوروین سنگھ نے کہا کہ پابندی سے پہلے جو نمک خوردہ بازار میں45 روپے سے 50 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہوتا تھا، اب کم از کم 60 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہا ہے۔کچھ جگہوں پر قیمت اس سے بھی زیادہ ہے، رواں ہفتے کولکتہ میں گلابی نمک بازاروں میں 70 سے 80 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہا تھا۔ جب اسٹاک ختم ہو جائے گا تو مکمل بحران ہو جائے گا۔
گلابی نمک کا کاروبار کرنے والی ایک نجی فرم کے منیجر سنجے اگروال نے کہا کہ ہمالیائی پتھری نمک کی سال بھر میں بہت زیادہ مانگ رہتی ہے، خاص طور پر تہواروں کے دوران جب لوگ روزہ رکھتے ہیں اور بھارت میں پیدا ہونے والے سمندری نمک پر گلابی نمک کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم پاکستانی برآمد کنندگان نے کہا کہ بھارتی پابندی سے ان کی تجارت پر مثبت اثر پڑے گا۔پاکستان میں پیدا ہونے والا پنک سالٹ یعنی گلابی نمک ایک ایسی پراڈکٹ ہے کہ جسے جیوگرافیکل انڈیکیشنز (جی آئی) قانون کے تحت تحفظ دینے کے لیے پاکستان کی وزارت تجارت نے ایک اعلان کیا ہے۔اس اعلان کے مطابق پاکستان گلابی نمک کو جی آئی قوانین کے تحت رجسٹر کرے گا کہ یہ خالص پاکستان میں پیدا ہونے والی پراڈکٹ ہے اور اسے دنیا میں برآمد اور فروخت کرنے کا حق صرف پاکستان کو حاصل ہے۔
عام نمک اور گلابی نمک کے درمیان فرق یہ ہے کہ گلابی نمک کی سب سے خاص بات اس کا رنگ ہے جو اسے عام نمک سے منفرد کرتا ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقبول ہے۔ رنگ کے ساتھ اس میں آئرن یعنی فولاد کی مقدار عام نمک کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں لوگ آئرن کی کمی کا شکار ہیں، اس لیے ایسے لوگ بھی اسے زیادہ استعمال کرتے ہیں جو آئرن کی کمی کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہیں۔کھانے میں استعمال ہونے والا گلابی نمک جہاں بہت مقبول ہوا تو اس کے ساتھ اس سے تیار ہونے والی مصنوعات بھی بہت مشہور ہوئی ہیں۔ گلابی نمک سے سجاوٹ کے لیے استعمال ہونے والی مختلف چیزیں بنتی ہیں اور اس سے تیار ہونے والے لیمپ اور ٹائلیں اور دوسری مصنوعات بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ ایک تو اس کی خوشبو سوندھی ہوتی ہے تو اس کے انسانی نفسیات پر بہت اچھے اثرات ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی بہت مفید ہوتے ہیں۔ تاہم ان میں سے تمام فوائد تحقیق سے ثابت شدہ نہیں ہیں۔ جب گلابی نمک کو تحفظ مل جائے گا تو اس کی اونر شپ کسی حکومتی ادارے کو دے دی جائے گی جیسے باسمتی چاول کی اونر شپ ٹریڈ ڈویلمپنٹ اتھارٹی آف پاکستان کو دی گئی۔جس ادارے کو یہ اونر شپ ملے گی اسے اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اس کی تجارت اور برآمد کی اجازت دے۔ جسے بھی اس کی بین الاقوامی سطح پر تجارت کرنا ہو گی وہ اس ادارے کو درخواست دے گا۔اسی طرح ادارہ کسی بھی ملک کو بتائے گا کہ یہ پراڈکٹ خالص پاکستان میں پیدا ہوتی ہے اور اس کے حقوق پاکستان کے نام پر محفوظ ہونے چاہییں۔ پاکستان یہ درخواست گلابی نمک کی پیداوار کے محل وقوع، اس کے رنگ و دوسری خصوصیات کی بنیاد پر دے گا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر