وجود

... loading ...

وجود

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

هفته 28 مارچ 2026 جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

بے لگام / ستار چوہدری

رات کے اس پہر سچ بولنا آسان ہو جاتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اس وقت سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔دفتر کی کھڑکی کے باہر بارش ہو رہی تھی ۔۔۔اوراندر ایک ایسا سکوت تھا جس میں انسان خود سے جھوٹ نہیں بول پاتا۔۔۔ میں نے محسوس کیا۔۔۔ ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ حالات نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی آزادی خود گروی رکھ دی ہے ، ہم دوسروں کی نظروں میں جینے کے عادی ہو چکے ہیں، اتنے عادی کہ اب اپنی نظر سے خود کو دیکھنا بھی بھول گئے ہیں۔۔۔ یہ جو تم دن بھر ہنستے ہو، باتیں کرتے ہو، لوگوں کو مطمئن کرتے ہو، کبھی رک کر سوچا ہے ۔۔۔ یہ سب تم کر رہے ہو، یا تم سے کروایا جا رہا ہے ۔۔۔؟
بارش کی بوندیں شیشے پر پھسل رہی تھیں۔۔۔ اور مجھے یوں لگا جیسے ہر بوند ایک چہرہ ہے ۔۔۔کوئی نصیحت کرتا ہوا، کوئی فیصلہ سناتا ہوا، کوئی تمہیں تم سے دور کرتا ہوا۔۔۔ ہمیں بچپن سے ایک خوبصورت سا جھوٹ دیا جاتا ہے ۔۔۔ کہ اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو سب کو خوش رکھتے ہیں۔۔۔ اور پھر ہم ساری زندگی اسی جھوٹ کی قیمت چکاتے رہتے ہیں۔۔ہر ”نہیں ” کو ”ہاں ” میں بدلتے ہوئے ، ہر سچ کو نرم کرتے ہوئے ، ہر دکھ کو چھپاتے ہوئے ۔۔۔ مگر سچ یہ ہے ، جو سب کو خوش رکھتا ہے ، وہ آخر میں خود سے خالی ہو جاتا ہے ۔۔۔وہ ہنستا ہے ۔۔۔ مگر اس کی ہنسی میں آواز نہیں ہوتی، وہ جیتا ہے ۔۔۔ مگراس کی زندگی میں رنگ نہیں ہوتے ۔۔۔یہ دنیا تمہیں کردار دیتی ہے ۔۔۔ فرمانبردار بیٹا، ذمہ دار باپ، مہذب شہری۔۔۔ اور تم ان کرداروں کو نبھاتے نبھاتے اپنی اصل ذات کہیں کھو دیتے ہو۔۔۔ پھر ایک دن۔۔۔ایسی ہی کسی بارش میں، تمہیں اچانک احساس ہوتا ہے کہ تم نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی کہانی میں ایک سائیڈ کرداربن کر گزار دی۔۔۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ تمہیں اس پر تالیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔۔۔ یہاں مسئلہ لوگ نہیں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ تم نے انہیں اپنی زندگی کا جج بنا رکھا ہے ۔۔۔ تم اپنے فیصلے خود نہیں کرتے ، تم اندازہ لگاتے ہو کہ لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔ اور پھر ویسا ہی فیصلہ کر لیتے ہو۔۔۔ یہ آزادی نہیں ہے ، یہ ایک مہذب قید ہے ۔۔۔ یہ جو نظام ہے نا۔۔۔ یہ تمہیں سیدھا نہیں رکھتا، تمہیں مصروف رکھتا ہے ۔۔۔ تمہیں اتنا الجھا دیتا ہے کہ تم سوال پوچھنا ہی بھول جاؤ۔۔۔۔ روٹی، نوکری، عزت، رشتے ، ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ۔۔۔ جس کا کوئی اختتام نہیں۔۔۔ اور اس دوڑ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ تمہیں یہ دوڑ اپنی لگنے لگتی ہے ۔۔۔ تم سمجھتے ہو تم اپنی مرضی سے بھاگ رہے ہو، حالانکہ تمہیں دوڑایا جا رہا ہوتا ہے ۔۔۔ صبح سے شام تک تم وقت بیچتے ہو۔۔۔ اور بدلے میں تھکن خریدتے ہو، پھر اسی تھکن کو زندگی کا نام دے دیتے ہو۔۔۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی معاشرے کے نام پر۔۔۔اور کبھی اس خوف کے نام پر کہ ” لوگ کیا کہیں گے ”۔۔۔حالانکہ سچ یہ ہے ، لوگوں کے پاس خود اپنی زندگی کے جواب نہیں ہوتے ، وہ تمہیں کیا راستہ دکھائیں گے ۔۔۔؟ وہ خود الجھے ہوئے ہیں، بس تمہیں بھی اپنے جیسا الجھا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنی الجھن کم محسوس ہو۔۔۔ اگر تم رک جاؤ، سوچنا شروع کر دو، اپنی راہ الگ بنا لو تو تم انہیں آئینہ لگنے لگتے ہو۔۔۔ اور لوگ آئینے سے زیادہ دیر تک نظریں نہیں ملا سکتے ، اسی لیے ۔۔۔ ” جو خود کو سمجھنے لگتا ہے ، وہ لوگوں کو کھٹکنے لگتا ہے ” ۔۔۔ اگر تم خاموش رہو گے تو تمہیں مغرور کہا جائے گا۔۔۔ اگر تم بول پڑو گے تو تمہیں بدتمیز کہا جائے گا۔۔۔ اگر تم اپنی راہ چنو گے تو تمہیں باغی کہا جائے گا، تو پھر فیصلہ تمہیں کرنا ہے ۔۔۔ تمہیں نام چاہیے ۔۔۔ یا سکون۔۔۔؟
اگر کوئی کوا سفید کہہ دے تو بحث مت کرو۔۔۔ اور اگر کوئی ہاتھی کو درخت پر بٹھا دے تو اسے اتارنے مت جاؤ۔۔۔ ہر جنگ تمہاری نہیں ہوتی۔۔۔ اور ہر سچ ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔ کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں ، جنہیں صرف جان لینا کافی ہوتا ہے ، ثابت کرنا نہیں۔۔۔ زندگی بہت مختصر ہے اور اسے دوسروں کی توقعات کے بوجھ تلے گزار دینا سب سے بڑی محرومی ہے ۔۔۔ تمہاری سب سے بڑی ذمہ داری کسی اور کو خوش کرنا نہیں، بلکہ خود کو ضائع ہونے سے بچانا ہے ۔۔۔ ”بے لگام ” ہونا بدتمیزی نہیں ہے ، یہ شعور ہے ۔۔۔ یہ جان لینا کہ کون سی بات اہم ہے اور کون سی صرف وقت کا ضیاع، یہ سمجھ لینا کہ ہر تعلق نبھانا فرض نہیں ہوتا۔۔۔ اور یہ مان لینا کہ اپنی ذات کا سکون دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔۔۔ کبھی کبھی کچھ لوگوں کو چھوڑ دینا پڑتا ہے ، کچھ خیالوں کو دفن کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ اور کچھ ڈروں کو توڑنا پڑتا ہے تب جا کر انسان خود تک پہنچتا ہے ۔۔۔ بارش اب بھی ہو رہی ہے ۔۔۔ اور میں سوچ رہا ہوں کہ شاید زندگی کو مشکل بنانے کے لیے ہم خود ہی کافی ہیں۔۔۔شاید اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ قیدیں توڑی جائیں۔۔۔ اور کچھ چیزوں کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے جیسے وہ ہیں۔۔۔ کیونکہ آخر میں ”بے لگام ” وہ نہیں جو دنیا سے لڑتا پھرے ۔۔۔۔ ”بے لگام ” وہ ہے جو خود سے سچ بولنے کی ہمت کر لے ۔۔۔ اورپھراسی سچ کے ساتھ جینے لگے ۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر