وجود

... loading ...

وجود

آخری گواہی

جمعرات 26 مارچ 2026 آخری گواہی

بے لگام / ستار چوہدری

یوں لگتا ہے پاکستان ایک ملک نہیں، ایک تجربہ گاہ ہے ، جہاں ہربحران کا تجربہ بچوں کے مستقبل پر کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ تعلیمی اداروں میں
یہ چھٹیاں نہیں، یہ نسلوں کی قبریں کھودی جا رہی ہیں ۔۔۔یہ مجبوری نہیں،نااہلی ہے ۔۔۔ فیصلہ کرنے والوں نے شاید کبھی یہ سوچنے کی زحمت
نہیں کی کہ ہر بند ہونے والا اسکول دراصل ایک بند ہوتا ہوا مستقبل ہے ۔۔۔تاریخ جب فیصلہ سنائے گی، تو وہ موسموں اور بحرانوں کا ذکر نہیں کرے گی، وہ سیدھا یہ لکھے گی۔۔۔۔ ” یہ وہ حکمران تھے جنہوں نے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے قوم کے بچوں کو جہالت کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا اور پھر اسے پالیسی کا نام دے دیا ” ۔۔۔۔
پاکستان میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے ، سب سے پہلے جس چیز کا گلا گھونٹا جاتا ہے ، وہ ہے تعلیم۔۔۔۔ یہ اب اتفاق نہیں رہا، یہ پالیسی بن چکی ہے ۔۔۔سموگ آئے ،اسکول بند۔۔۔ گرمی بڑھے ، اسکول بند۔۔۔ سردی بڑھے ،اسکول بند۔۔۔ دہشت گردی ہو،اسکول بند ۔۔۔۔ سیاسی کشیدگی ہو،اسکول بند۔۔۔۔ اوراب تو ممکنہ بحران بھی کافی ہے ،اسکول بند۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے یہ ملک نہیں، ایک تجربہ گاہ ہے جہاں ہر بحران کا تجربہ بچوں کے مستقبل پر کیا جاتا ہے ۔۔۔ یہ اب پالیسی نہیں رہی،یہ ایک خاموش جرم ہے ۔ریاست جب بار بار تعلیمی ادارے بند کرتی ہے ، تو وہ صرف دروازے نہیں بند کرتی،وہ ذہنوں پر تالے لگا دیتی ہے ۔۔۔اور سب سے خطرناک بات۔۔۔؟یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ کسی عدالت میں کیس بھی نہیں بنتا،کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی،مگر ہر دن ہزاروں خواب قتل ہو جاتے ہیں۔۔۔آپ اسے چھٹی کہتے ہیں۔۔۔؟یہ چھٹی نہیں، یہ چوری ہے ،مستقبل کی چوری ۔۔۔ہربندا سکول ایک ایسے بچے کو پیچھے دھکیل دیتا ہے جو پہلے ہی کمزور نظام کا قیدی ہے ۔۔۔وہ بچہ جو کتاب سے جڑنے ہی لگا تھا، وہ پھر سے ٹوٹ جاتا ہے ۔کورونا کے ڈیڑھ سال نے جو نقصان کیا، وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔۔۔اور آپ پھر وہی کھیل باربار کھیلا جا رہا ہے ۔۔۔کسی ایوان میں بیٹھ کر کبھی یہ حساب لگایا گیا کہ کتنے بچے ہمیشہ کے لیے تعلیم چھوڑ گئے ۔۔۔؟کتنے چائلڈ لیبر میں چلے گئے ۔۔۔؟کتنی بچیوں کی شادیاں ہوگئیں کیونکہ ”اب تو اسکول بند ہیں”۔۔۔؟یہ چھٹیاں نہیں، یہ نسلوں کی قبریں کھودی جا رہی ہیں۔۔۔ہمارا تو دین ”اقرا” سے شروع ہوتا ہے ، پڑھو۔ مگر یہاں حکم بدل چکا ہے ”بند کرو”۔۔۔۔ یہ صرف تضاد نہیں، یہ ایک اجتماعی منافقت ہے ۔ ہم تقریروں میں تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہیں، اور فیصلوں میں اسے دفن کر دیتے ہیں۔ سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ ،وہ ممالک جنہیں ہم کبھی سنجیدہ نہیں لیتے ، تعلیم میں ہم سے آگے کھڑے ہیں۔۔۔ اور ہم ۔۔۔؟ ہم ابھی تک چھٹیوں کی گنتی کررہے ہیں۔۔۔اب یہ کہنا کہ مجبوری تھی ایک مذاق لگتا ہے ،یہ کہنا کہ صورتحال مشکل تھی ،اب ایک گھسا پٹا بہانہ بن چکا، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران مشکل فیصلے کرنے سے ڈرتے ہیں، اس لیے وہ آسان ترین راستہ چنتے
ہیں ۔۔۔ بچوں کو گھر بٹھا دو۔۔۔ نہ کوئی پلان، نہ کوئی متبادل، نہ کوئی فکر۔ یہ حکمرانی نہیں،یہ سہولت پسندی کی انتہا ہے ۔۔۔ اور اس سہولت کی قیمت قوم کی اگلی نسل ادا کرے گی۔۔۔دنیا جنگوں میں بھی تعلیم جاری رکھتی ہے ،بمباری کے سائے میں کلاسز ہوتی ہیں ،ایران میں جنگ کے باوجود تعلیمی ادارے کھلے ہیں،پورے مشرق وسطیٰ میں بچے سکول جارہے ہیں،یوکرین میں تعلیمی ادارے بند نہیں ہوئے ۔۔۔ اور ہمارے ہاں ”ممکنہ تیل بحران ” نے بچوں کی کتابیں بند کی ہوئی ہیں۔۔۔مزید بیس دن چھٹیاں ہونے کا امکان ہے ، یہ نااہلی نہیں رہی ،یہ ترجیح ہے ۔۔۔ اور ترجیح صاف ہے ،تعلیم اہم نہیں۔۔۔
اب اصل بات سنیں، جو شاید ایک طبقے کو بری لگے ، ایک باشعور، تعلیم یافتہ قوم حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے ۔۔۔ کیونکہ تعلیم سوال پیدا کرتی ہے ۔۔۔ اور سوال اقتدار کے لیے زہر ہوتے ہیں ،ایک پڑھی لکھی قوم کبھی ایک پلیٹ بریانی یا قیمے والے نان پرنہیں بکتی۔۔۔ وہ کارکردگی مانگتی ہے ، وہ حساب مانگتی ہے ، وہ پوچھتی ہے کہ آپ نے کیا کیا ۔۔۔۔؟ اور شاید اسی سوال سے بچنے کیلئے کتابوں کو بند رکھا جاتا ہے ۔ اب سچ یہ ہے کہ فیصلہ ہو چکا ہے ،بس اس کا اعلان باقی ہے ، یہ فیصلہ کہ اس قوم کو کتنا پڑھنا ہے ، کتنا سوچنا ہے ۔۔۔ اور کتنا سمجھنا ہے ، ہر بند سکول اس فیصلے پر مہر ثبت کررہا۔ آپ سڑکیں بنا سکتے ہیں، عمارتیں کھڑی کر سکتے ہیں، مگر ایک جاہل قوم کے ساتھ آپ صرف ہجوم کھڑا کرتے ہیں،قوم نہیں۔۔۔ اور جب ہجوم فیصلے کرتا ہے ، تو تاریخ نہیں بنتی، سانحات بنتے ہیں۔۔۔کسی دن، جب یہ بچے بڑے ہوں گے ۔۔۔ اور ان کے ہاتھ میں ڈگری نہیں، محرومی ہوگی، تو وہ ہم سے سوال کریں گے ۔۔۔ مگر افسوس، تب ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ صرف ایک خاموشی ہوگی، اور اس خاموشی میں ایک جملہ گونجے گا۔۔۔ہم نے اپنے ہی بچوں سے ان کا حق چھین لیا تھا ۔۔۔ اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوا۔۔۔تاریخ جب فیصلہ سنائے گی، تو اس میں یہ نہیں لکھا جائے گا کہ ا سموگ تھی، گرمی تھی، یا کوئی بحران تھا ۔۔۔تاریخ صرف یہ لکھے گی ” یہ وہ حکمران تھے جنہوں نے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے قوم کے بچوں کو جہالت کے اندھے کنویں میں دھکیل دیا اور پھر اسے پالیسی کا نام دے دیا ” ۔۔۔ اور یہ سطر کسی ایک حکومت کی نہیں ہوگی،یہ پوری حکمران نسل کے ماتھے پر ایسا داغ ہوگی،جسے کوئی
وقت، کوئی دلیل، کوئی صفائی مٹا نہیں سکے گی،یہ جملہ بے حسی کے خلاف آخری گواہی ہوگا۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آخری گواہی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
آخری گواہی

جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر