وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

جمعرات 26 مارچ 2026 مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

ریاض احمدچودھری

بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے مسلسل آٹھویں برس سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو یہاں عیدنماز کی ادائیگی سے روک دیا۔ انتظامیہ نے شہر کے علاقے نوہٹہ میں واقع جامع مسجد کے دروازے عید کی علی الصبح بند کر دیے اور مسجد کے اطراف میں بڑی تعداد میں بھارتی فورسز اہلکارتعینات کردیے گئے تھے۔انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند رکھا۔ انہیں نظر بند کر کے نماز جمعہ کیلئے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ میر واعظ عمر فاروق نے” ایکس ”پرایک بیان میں جامع مسجد کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے اس برس بھی مسجدعیدنماز کیلئے بندکردی اورمجھے بھی گھرمیںنظربندرکھا۔ خوشی کایہ دن کشمیری مسلمانوںکیلئے ذہنی اذیت اورکرب میںبدل گیا۔
یہ ستم ظریفی ہے کہ ہماری مساجد اور عیدگاہوں کو تالے لگانے والے ہی سب سے پہلے ہمیں عید مبارک دیتے ہیں۔انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے بھی مسجد سیل کیے جانے پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکام نے ایک بار پھر مسجد کے دروازے بند کر دیے اور اسکے اطراف میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کر کے یہاں عیدنماز ادا نہیںکرنے دی۔ یاد رہے کہ اگست 2019میں جموںوکشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جامع مسجد سرینگر متواترطورپرعیدنمازکیلئے بندکردی جاتی ہے۔وادی کشمیر کی مختلف عید گاہوں، مساجد اور درگاہوں میں لاکھوں مسلمانوں نے نماز عید ادا کی۔ صبح سویرے لوگ مساجد اور عیدگاہوں پر جمع ہوئے باجماعت نماز دوگانہ ادا کی۔ بعد ازاں لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ پورے خطے میں جشن کا ماحول ہے۔ اس دوران وادی کشمیر میں سب سے بڑا اجتماعی اجتماع سرینگر میں ڈل جھیل کے کنارے واقع درگاہ حضرت بل میں ہوا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے اپنے والد نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے ساتھ سرینگر میں ڈل جھیل کے کنارے واقع حضرت بل کے مزار پر نماز ادا کی۔یہ ہمارے دور کی ستم ظریفی ہے کہ ہماری مساجد اور عیدگاہوں کو تالے لگانے والے سب سے پہلے ہمیں عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ لوگوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے امن اور خوشحالی کی دعا کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ عید مبارک، عید الفطر کے پرمسرت موقعے پر سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات۔ مقدس تہوار قربانی کے عظیم جذبے اور بانٹنے کی خوشی کو مجسم کرتا ہے، عید سب کے لئے امن، خوشی اور خوشحالی لے کر آئے۔ اپنے تہنیتی پیغام میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت عید منائی جا رہی ہے۔ ادھر سرینگر میں نماز عید کے بعد شیعہ اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں نے ایران کی حمایت میں جلوس نکالا اور اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کی مذمت کی، خاص طور سے آیت اللہ امام سید علی خامنہ ای کے شہادت پر غم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ عید تو ہے مگر ہمارے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر کی مصروف گلیوں کے بیچوں بیچ واقع جامع مسجد ایک ایسا مقام ہے جہاں تاریخ، ثقافت، مذہب اور سیاست سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ اس کے ستونوں نے دعاؤں، خطبات، سیاسی تقاریر اور عوامی جذبات کو اپنے اندر سموئے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ کا زندہ باب سمجھا جاتا ہے۔تقریباً 28 کنال پر پھیلی یہ عظیم الشان مسجد کشمیر کی سب سے بڑی اور قدیم مرکزی مساجد میں شمار ہوتی ہے، جہاں بیک وقت 30 ہزار سے زائد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔یہ جامع مسجد صدیوں کے دوران سلطنتوں کے عروج و زوال، سماجی تبدیلیوں، ثقافتی ارتقا اور سیاسی تحریکوں کے دوران قائم رہی ہے۔ کشمیر کی تاریخ کے کئی اہم لمحات اسی مسجد کے صحن میں جنم لیتے رہے اور اسی لیے اسے محض ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ کی دھڑکن کہا جاتا ہے۔یہ مسجد 14 ویں صدی میں شاہ میری سلطنت کے حکمران سلطان سکندر شاہ نے تعمیر کروائی، جنہیں بعض تاریخی حوالوں میں سکندر بت شکن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں اسلامی تہذیب اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی اور خطہ وسطی ایشیا، ایران اور برصغیر کے مختلف علاقوں کے ساتھ علمی اور ثقافتی رابطوں کے ذریعے ایک نئے فکری اور تمدنی دور میں داخل ہو رہا تھا۔
جامع مسجد کی تعمیراتی ساخت برصغیر کی دوسری مشہور مساجد سے بالکل مختلف ہے۔ مثال کے طور پر دہلی کی جامع مسجد یا پاکستان کے لاہور کی بادشاہی مسجد سرخ پتھر اور سفید سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی ہیں اور ان کے بلند گنبد اور مینار مغل فن تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں، اس کے برعکس سری نگر کی جامع مسجد لکڑی اور اینٹوں کے حسین امتزاج سے بنی ہوئی ہے اور اس کا ڈیزائن کشمیری ماحول اور موسم کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 378 دیودار کی لکڑی کے ستون ہیں جو نہ صرف عمارت کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں بلکہ اس کے اندرونی منظر کو ایک دلکش ترتیب بھی دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص سری نگر کی قدیم گلیوں سے گزرتے ہوئے جامع مسجد کے دروازے تک پہنچتا ہے تو اْسے ایک ایسی فضا کا احساس ہوتا ہے جو بیک وقت روحانیت، تاریخ اور خاموش وقار سے بھرپور ہوتی ہے۔ جامع مسجد سری نگر کی تعمیراتی خصوصیات اسے برصغیر کی دیگر مساجد سے منفرد بناتی ہیں۔ یہاں نہ تو مغل طرز کے بلند گنبد ہیں اور نہ ہی سنگِ مرمر کی وسیع دیواریں، بلکہ اس کی اصل خوبصورتی لکڑی اور اینٹوں کے سادہ مگر باوقار امتزاج میں پوشیدہ ہے۔جامع مسجد کی ساخت چوکور ہے اور اس کے چاروں کونوں پر چار مینار موجود ہیں، تاہم یہ مینار دیگر مساجد کے بلند اور باریک میناروں کی طرح نہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے اور مضبوط ہیں، جو اسے ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔ یہ ڈیزائن کشمیری روایتی فنِ تعمیر کی ایک اہم خصوصیت ہے اور اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح مقامی معماروں نے ماحول اور موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمارت کو تخلیق کیا۔


متعلقہ خبریں


مضامین
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر