وجود

... loading ...

وجود

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

پیر 16 مارچ 2026 منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

ریاض احمدچودھری

منی پور میںتازہ جھڑپوں اور احتجاج نے ریاست کو نئے بحران میں دھکیل دیاہے۔ 5 اور 6 فروری کو سیاسی تبدیلی کے بعد مظاہروں نے تشدد اور جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی۔ کوکی قبائل نے اکثریتی ضلع میں امپھال چورا چند پور روڈ بند کرکے احتجاج کیا۔سکیورٹی فورسز نے سیدھی گولیاں چلا دیں، 2 افراد ہلاک جبکہ 10 شدید زخمی ہوئے، ہندو قوم پرستی اور ریاستی بھرتیوں میں ترجیحی پالیسیوں نے نسلی تناؤ کو مزید بڑھایا۔منی پور بھی ناگا لینڈ اور میزو رام جیسی نظرانداز کی گئی شمال مشرقی ریاستوں میں شامل ہے۔ شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں اوکھرل کے گائوں لیٹن میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں مکانات آگ لگنے سے تباہ ہو گئے۔ جھڑپوں کے بعد سے علاقے میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ ہے۔ 8فروری کوجھڑپوں کے بعد لیٹن گائوں، اوکھرل میں جس میںغیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ ہے۔ ککی ہیومن رائٹس کونسل نے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ منی پور میں 250 سے زائد ککی افرادکو قتل کیاگیا ہے۔کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات، مجرموں کے خلاف سخت کارروائی اور علیحدہ ککی ریاست کے قیام کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ 8 فروری منی پورکے کو اوکھرل کے گائوں لیٹن میں پرتشدد جھڑپوں کے دوران ککی برادری کے 50 سے زائدگھروں کو آگ لگا دی گئی جس سے 300 سے زائد شہری بے گھر ہوئے اور فائرنگ کے تبادلے میں 15افراد زخمی ہوئے۔
شورش زدہ ریاست میں مئی 2023سے جاری پر تشد د جھڑپوں کے دوران سینکڑوں افراد قتل اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ 60 ہزار بے گھر افراد کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ میتی قبلے کے بلوائیوں نے کوکی برادری کے 4,786 مکانات اور 386چرچ کو تباہ کردیا۔ ہندوتوا بی جے پی حکومت مجرموں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ککی رہنمائوں کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کیاجا رہا ہے جبکہ منی پور پولیس بھی میتی برادری کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق یہ محض “جھڑپیں” نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی میں نسلی کشی کے واقعات ہیں۔کونسل نے اقوام متحدہ سے منی پور میں میتی برداری کے قتل عام کی فوری تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے یکطرفہ طور پر منی پور کی بھارت سے آزادی اور برطانیہ میں اپنی جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔واضح رہے کہ برطانوی راج اور اس سے پہلے منی پور ایک ‘شاہی ریاست’ تھی۔ 1949 میں ریاست منی پور انڈیا کا حصہ بنی تھی لیکن یہاں کے رہائشی دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریک چلارہے ہیں۔
منی پور ریاستی کونسل کے خود ساختہ وزیر اعلی یامبین بیرن نے کہا کہ ‘ہم منی پور مہاراجہ کی جانب سے مخاطب ہیں اور انھوں نے باضابطہ ‘منی پور سٹیٹ کونسل’ کی جلاوطن حکومت کا اعلان کیا ہے۔ منی پور بھارت کی ریاست ہے جو شمال مشرقی بھارت میں واقع ہے اور اس کا صدر مقام امفال ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میں آسام، جنوب میں میزورم اور شمال میں ناگالینڈ سے ملتی ہیں، جبکہ مشرق اور جنوب مشرق میں میانمار (خصوصاً ساگاینگ علاقہ اور چن ریاست) کے ساتھ بین الاقوامی سرحد ہے۔ 8,621 مربع میل (22,330 کلومیٹر مربع) پر محیط، یہ ریاست زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جب کہ 700 مربع میل پر پھیلا ہوا وادی امفال علاقہ میئتی (منی پوری) قوم کا گہوارہ رہا ہے جو تاریخی طور پر ایک ریاستی سلطنت تھی۔ گرد و نواح کے پہاڑی علاقے ناگا اور کوکیـدو برادریوں پر مشتمل ہیں، جو تبتیـبرمی زبانیں بولتی ہیں۔ ریاست کی سرکاری زبان اور رابطہ زبان منی پوری زبان ہے، جو تبتیـبرمی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
برطانوی راج کے دوران، منی پور نوابی ریاستوں میں شامل تھی۔ برطانیہ سے آزادی سے قبل 1947ء میں منی پور نے بھارتی ڈومینین میں شمولیت اختیار کی، جیسا کہ دیگر 550 ریاستوں نے کیا۔ ستمبر 1949ء میں منی پور کے راجا نے بھارت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا، جس کے تحت انھوں نے اپنی ریاست کے اختیارات بھارت کو سونپ دیے اور بدلے میں ایک خفیہ وظیفہ (پرائوی پرس) حاصل کیا۔ کئی میئتی افراد کا ماننا ہے کہ ان کے حق خود ارادیت کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ اس وقت منتخب مقننہ سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد انضمام پر اختلافات نے ریاست میں آزادی کی تحریک کو جنم دیا، جس نے 50 سالہ بغاوت کو جنم دیا۔ 2009ء سے 2018ء کے درمیان، اس تنازع میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے ۔عوام اور بھارتی فوج آمنے سامنے آگئی، مظاہرین نے بھارتی فوجی گاڑی کو نقصان پہنچایا، زدوکوب بھی کیا، مقامی افراد بھارتی فوج کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دیتے رہے کہ فوجی چیک پوسٹیں نہ ہٹائی گئیں تو عوام خود کارروائی کریں گے، مظاہرین نے ”انڈین آرمی گو بیک” کے نعرے لگائے۔منی پور میںمسلح گروہ کی جانب سے بھارتی فوجی سمیت 20 افراد کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے نے ریاست میں پہلے سے جاری بدامنی اور داخلی تنازعات کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ریاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کْکی گروپ سے وابستہ افراد نے ایک کارروائی میں 20 افراد کو یرغمال بنا لیا جن میں ایک بھارتی فوجی بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ منی پور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دو نسلی گروہوں، کْکی اور ناگا کے درمیان جاری تصادم کا نتیجہ ہے۔ ریاست میں گزشتہ کئی مہینوں سے مختلف گروہوں کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اس سے قبل ناگا گروہ سے وابستہ مسلح افراد نے کْکی برادری کے کسانوں پر حملہ کر کے 2 افراد کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد دونوں گروہوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ منی پور میں جاری بدامنی اور نسلی تنازعات نے ریاست کی مجموعی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے مؤثر مذاکرات اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی بھارت کی ریاستوں میں مختلف نسلی اور علیحدگی پسند تحریکیں کئی دہائیوں سے موجود ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر اس خطے کی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر