... loading ...
ریاض احمدچودھری
منی پور میںتازہ جھڑپوں اور احتجاج نے ریاست کو نئے بحران میں دھکیل دیاہے۔ 5 اور 6 فروری کو سیاسی تبدیلی کے بعد مظاہروں نے تشدد اور جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی۔ کوکی قبائل نے اکثریتی ضلع میں امپھال چورا چند پور روڈ بند کرکے احتجاج کیا۔سکیورٹی فورسز نے سیدھی گولیاں چلا دیں، 2 افراد ہلاک جبکہ 10 شدید زخمی ہوئے، ہندو قوم پرستی اور ریاستی بھرتیوں میں ترجیحی پالیسیوں نے نسلی تناؤ کو مزید بڑھایا۔منی پور بھی ناگا لینڈ اور میزو رام جیسی نظرانداز کی گئی شمال مشرقی ریاستوں میں شامل ہے۔ شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں اوکھرل کے گائوں لیٹن میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں مکانات آگ لگنے سے تباہ ہو گئے۔ جھڑپوں کے بعد سے علاقے میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ ہے۔ 8فروری کوجھڑپوں کے بعد لیٹن گائوں، اوکھرل میں جس میںغیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ ہے۔ ککی ہیومن رائٹس کونسل نے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ منی پور میں 250 سے زائد ککی افرادکو قتل کیاگیا ہے۔کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات، مجرموں کے خلاف سخت کارروائی اور علیحدہ ککی ریاست کے قیام کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ 8 فروری منی پورکے کو اوکھرل کے گائوں لیٹن میں پرتشدد جھڑپوں کے دوران ککی برادری کے 50 سے زائدگھروں کو آگ لگا دی گئی جس سے 300 سے زائد شہری بے گھر ہوئے اور فائرنگ کے تبادلے میں 15افراد زخمی ہوئے۔
شورش زدہ ریاست میں مئی 2023سے جاری پر تشد د جھڑپوں کے دوران سینکڑوں افراد قتل اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ 60 ہزار بے گھر افراد کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ میتی قبلے کے بلوائیوں نے کوکی برادری کے 4,786 مکانات اور 386چرچ کو تباہ کردیا۔ ہندوتوا بی جے پی حکومت مجرموں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ککی رہنمائوں کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کیاجا رہا ہے جبکہ منی پور پولیس بھی میتی برادری کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق یہ محض “جھڑپیں” نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی میں نسلی کشی کے واقعات ہیں۔کونسل نے اقوام متحدہ سے منی پور میں میتی برداری کے قتل عام کی فوری تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے یکطرفہ طور پر منی پور کی بھارت سے آزادی اور برطانیہ میں اپنی جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔واضح رہے کہ برطانوی راج اور اس سے پہلے منی پور ایک ‘شاہی ریاست’ تھی۔ 1949 میں ریاست منی پور انڈیا کا حصہ بنی تھی لیکن یہاں کے رہائشی دہائیوں سے علیحدگی پسند تحریک چلارہے ہیں۔
منی پور ریاستی کونسل کے خود ساختہ وزیر اعلی یامبین بیرن نے کہا کہ ‘ہم منی پور مہاراجہ کی جانب سے مخاطب ہیں اور انھوں نے باضابطہ ‘منی پور سٹیٹ کونسل’ کی جلاوطن حکومت کا اعلان کیا ہے۔ منی پور بھارت کی ریاست ہے جو شمال مشرقی بھارت میں واقع ہے اور اس کا صدر مقام امفال ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میں آسام، جنوب میں میزورم اور شمال میں ناگالینڈ سے ملتی ہیں، جبکہ مشرق اور جنوب مشرق میں میانمار (خصوصاً ساگاینگ علاقہ اور چن ریاست) کے ساتھ بین الاقوامی سرحد ہے۔ 8,621 مربع میل (22,330 کلومیٹر مربع) پر محیط، یہ ریاست زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، جب کہ 700 مربع میل پر پھیلا ہوا وادی امفال علاقہ میئتی (منی پوری) قوم کا گہوارہ رہا ہے جو تاریخی طور پر ایک ریاستی سلطنت تھی۔ گرد و نواح کے پہاڑی علاقے ناگا اور کوکیـدو برادریوں پر مشتمل ہیں، جو تبتیـبرمی زبانیں بولتی ہیں۔ ریاست کی سرکاری زبان اور رابطہ زبان منی پوری زبان ہے، جو تبتیـبرمی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
برطانوی راج کے دوران، منی پور نوابی ریاستوں میں شامل تھی۔ برطانیہ سے آزادی سے قبل 1947ء میں منی پور نے بھارتی ڈومینین میں شمولیت اختیار کی، جیسا کہ دیگر 550 ریاستوں نے کیا۔ ستمبر 1949ء میں منی پور کے راجا نے بھارت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا، جس کے تحت انھوں نے اپنی ریاست کے اختیارات بھارت کو سونپ دیے اور بدلے میں ایک خفیہ وظیفہ (پرائوی پرس) حاصل کیا۔ کئی میئتی افراد کا ماننا ہے کہ ان کے حق خود ارادیت کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ اس وقت منتخب مقننہ سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد انضمام پر اختلافات نے ریاست میں آزادی کی تحریک کو جنم دیا، جس نے 50 سالہ بغاوت کو جنم دیا۔ 2009ء سے 2018ء کے درمیان، اس تنازع میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے ۔عوام اور بھارتی فوج آمنے سامنے آگئی، مظاہرین نے بھارتی فوجی گاڑی کو نقصان پہنچایا، زدوکوب بھی کیا، مقامی افراد بھارتی فوج کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دیتے رہے کہ فوجی چیک پوسٹیں نہ ہٹائی گئیں تو عوام خود کارروائی کریں گے، مظاہرین نے ”انڈین آرمی گو بیک” کے نعرے لگائے۔منی پور میںمسلح گروہ کی جانب سے بھارتی فوجی سمیت 20 افراد کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے نے ریاست میں پہلے سے جاری بدامنی اور داخلی تنازعات کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ریاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کْکی گروپ سے وابستہ افراد نے ایک کارروائی میں 20 افراد کو یرغمال بنا لیا جن میں ایک بھارتی فوجی بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ منی پور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دو نسلی گروہوں، کْکی اور ناگا کے درمیان جاری تصادم کا نتیجہ ہے۔ ریاست میں گزشتہ کئی مہینوں سے مختلف گروہوں کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اس سے قبل ناگا گروہ سے وابستہ مسلح افراد نے کْکی برادری کے کسانوں پر حملہ کر کے 2 افراد کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد دونوں گروہوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ منی پور میں جاری بدامنی اور نسلی تنازعات نے ریاست کی مجموعی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے مؤثر مذاکرات اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی بھارت کی ریاستوں میں مختلف نسلی اور علیحدگی پسند تحریکیں کئی دہائیوں سے موجود ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر اس خطے کی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
٭٭٭