وجود

... loading ...

وجود

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

پیر 16 مارچ 2026 وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

محمد آصف

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عورت انسانی معاشرے کی بنیاد اور تہذیب کی روح ہے ۔ شاعرِ مشرق کا مشہور شعر ”وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ”دراصل اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ عورت کے بغیر زندگی کا تصور ادھورا ہے ۔ کائنات کی خوبصورتی، معاشرے کی تعمیر، نسلِ انسانی کی بقا اور تہذیب کی ترقی میں عورت کا کردار بنیادی اور ناقابلِ انکار ہے ۔ اگر عورت نہ ہو تو نہ خاندان کا وجود باقی رہتا ہے اور نہ ہی معاشرتی ڈھانچہ قائم رہ سکتا ہے ۔ عورت ماں بھی ہے ، بیٹی بھی، بہن بھی اور شریکِ حیات بھی۔ یہی وہ رشتے ہیں جو انسان کو محبت، قربانی، ایثار اور انسانیت کا درس دیتے ہیں۔
عورت کو قدرت نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے ۔ وہ محبت اور شفقت کا سرچشمہ ہے ۔ ایک ماں کی گود بچے کے لیے پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں وہ زندگی کے بنیادی اصول سیکھتا ہے ۔ ماں کی تربیت ہی انسان کے کردار کو تشکیل دیتی ہے اور معاشرے کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ اگر ماں کی تربیت اچھی ہو تو وہ ایک صالح اور باکردار نسل کو جنم دیتی ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک ماں پوری قوم کی معمار ہوتی ہے۔ تاریخ کے عظیم انسانوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی عظیم عورت کی تربیت اور رہنمائی موجود تھی۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ عورت پورے معاشرے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
اسلام نے بھی عورت کو نہایت بلند مقام عطا کیا ہے ۔ اسلام سے قبل عرب معاشرے میں عورت کو انتہائی پسماندہ اور محروم سمجھا جاتا تھا، حتیٰ کہ بعض لوگ بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرم سمجھتے تھے ۔ مگر حضرت محمد ۖ نے عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا اور اس کے حقوق کو واضح طور پر بیان کیا۔ اسلام نے عورت کو ماں، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے وہ مقام دیا جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے نظام میں کم ہی ملتی ہے ۔ قرآن و سنت کی تعلیمات میں عورت کی عزت، تعلیم اور معاشرتی تحفظ پر خاص زور دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں عورت کو معاشرے کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے نے عورت کو تعلیم اور آزادی دی تو وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا۔ عورت نہ صرف گھر کی منتظم ہوتی ہے بلکہ وہ تعلیم، طب، سیاست، ادب اور سماجی خدمات سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے ۔ جدید دنیا میں خواتین نے سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور معیشت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عورت کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے کی ترقی میں مردوں کے شانہ بشانہ کردار ادا کر سکتی ہے ۔ ادب اور شاعری میں بھی عورت کو حسن، محبت اور زندگی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے عورت کے مقام کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ۔ ان کے نزدیک عورت صرف گھر کی زینت نہیں بلکہ قوم کی روح اور معاشرے کی بنیاد ہے ۔ اقبال کا یہ تصور عورت کی عظمت کو اجاگر
کرتا ہے کہ اس کے وجود سے ہی زندگی میں رنگ، حرارت اور معنویت پیدا ہوتی ہے ۔ عورت ہی وہ ہستی ہے جو خاندان کو محبت اور ہم آہنگی کے رشتوں میں جوڑ کر رکھتی ہے ۔
معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ عورت کو کس حد تک تعلیم اور شعور دیا جاتا ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرتی ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لا سکتی ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے ، لیکن اگر ایک عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہو جاتا ہے ۔ تعلیم عورت کو اعتماد، خود مختاری اور شعور عطا کرتی ہے جس کے ذریعے وہ معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔بدقسمتی سے آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں عورت کو اس کا جائز مقام حاصل نہیں ہو سکا۔ بعض معاشروں میں عورت کو تعلیم، صحت اور معاشی مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ اس کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اسے صرف گھریلو دائرے تک محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ رویہ نہ صرف عورت کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی بڑی رکاوٹ ہے ۔ کیونکہ جب آدھی آبادی کو ترقی کے مواقع سے محروم کر دیا جائے تو معاشرہ مکمل ترقی نہیں کر سکتا۔
پاکستان جیسے معاشرے میں بھی عورت کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔ خواتین نے تعلیم، سیاست، کھیل اور سماجی خدمات کے میدان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے ۔ دیہی علاقوں میں خواتین کی تعلیم اور صحت کے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ اگر خواتین کو بہتر تعلیم، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ ملکی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
عورت صرف خاندان کی بنیاد نہیں بلکہ قوم کی ترقی کا بھی اہم ستون ہے ۔ ایک باشعور اور باصلاحیت عورت اپنے کردار، محنت اور صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ عورت کو عزت، تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکے ۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ واقعی ”وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ”۔ عورت محبت، قربانی اور تخلیق کا استعارہ ہے ۔ اس کے بغیر زندگی بے رنگ اور معاشرہ بے روح ہو جاتا ہے ۔ اگر ہم ایک بہتر اور مہذب معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کے مقام کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسے وہ عزت و وقار دینا ہوگا جس کی وہ حقیقی طور پر مستحق ہے ۔ کیونکہ عورت کی ترقی دراصل پورے معاشرے اور انسانیت کی ترقی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر