وجود

... loading ...

وجود

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

جمعه 13 مارچ 2026 بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ریاض احمدچودھری

بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق بعض بھارتی مسلمانوں کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر سوگ منانے کے عمل کو ہندو انتہا پسند عناصر نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انتہا پسند ہندو حلقے موجودہ صورتحال میں تمام بھارتی مسلمانوں کو غدار اور بے حس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہندوتوا نظریے پر کاربند بھارت میں غم، تنقید یا خاموشی بھی مذہبی بنیادوں پر طے ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انتہاپسند نریندر مودی کے زیر اقتدار بھارت میں مسلمانوں کی وفاداری ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ بھارت سے ہزاروں کلومیٹر دور جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ بھارتی مسلمانوں کیلئے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہود و ہنود گٹھ جوڑ اور مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کی وفاداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی تنازعات کے تناظر میں مودی حکومت مذہبی تقسیم کو ہوا دے کر داخلی انتشار کو بڑھا رہی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے محض مسلمان دشمنی کی بنیاد پر یہ پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر کے بھارتی مسلمانوں کو غدار قرار دینا مودی کے ہندو راشٹرا کے مذموم عزائم کی ایک کڑی ہے۔
بھارت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منافرت کی مہم چلانے والے ملک، سماج اور آئین کے دشمن ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,300 سے زائد نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کی جانب سے شائع کردہ 2025 کے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر سالانہ رپورٹ بھارت میں نفرت کی سیاست کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور منظم نفرت انگیز جرائم کے تشویشناک معمول بننے کی تصدیق کرتی ہے۔رپورٹ میں 21 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 1,318 براہ راست نفرت انگیز تقاریر کے واقعات درج کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جب 668 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ محققین کے مطابق یہ اعداد و شمار وقتی یا الگ تھلگ واقعات کے بجائے نفرت کے ایک مسلسل اور پھیلتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے 1,156 تقاریر براہِ راست مسلمانوں کے خلاف تھیں، جبکہ 133 میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر 162 واقعات میں سامنے آئیں، جو مجموعی واقعات کا 12 فیصد ہیں اور 2024 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے کہا،”اس کی وجہ واضح طور پر آر ایس ایس اور حکمراں جماعت بی جے پی ہے، جن کی آئیڈیالوجی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بھڑکانا ہے اور اسے فروغ دیا جا رہا ہے اور مضبوط کیا جا رہا ہے۔””بی جے پی کا کام ہی سماج میں ہندو مسلم صف بندی کرنا ہے، تاکہ فساد ہو اور ہندو متحد ہوں، چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں اس لیے ہندو ووٹ کی بنیاد پر وہ اقتدار میں ا?جائے اور اقتدار پر برقرار رہے۔”
حکومت تاہم اس طرح کے الزامات کی تردید کرتی ہے کہ سماج میں منافرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔سی ایس او ایچ کی رپورٹ میں ایک واضح سیاسی رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی۔ تقریباً 88 فیصد نفرت انگیز تقاریر کے واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں، بی جے پی کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی ریاستوں یا بی جے پی کے زیرِ انتظام مرکز کے علاقوں میں پیش آئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
سی ایس او ایچ کی ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایویان لیڈگ کا کہنا تھا کہ ”پورے سال نفرت انگیز تقاریر کی بلند سطح برقرار رہی۔ پچھلے برسوں کے برعکس، انتخابی ادوار کے باہر بھی یہ سلسلہ کم نہیں ہوا۔”یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت والی اتر پردیش میں نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کا نمبر ہے۔ یہ پانچوں ریاستیں مجموعی طور پر ملک بھر میں درج ہونے والے نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 65 فیصد واقعات کی ذمہ دار رہیں۔ اس کے برعکس، اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ حکومت ریاستوں میں 2025 میں 154 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کمی ہے۔رپورٹ میں منظم ہندوتوا گروہوں کو عوامی نفرت انگیز تقاریر کے بڑے محرکات قرار دیا گیا۔ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو 289 واقعات سے جوڑا گیا، اس کے بعد انترراشٹریہ ہندو پریشد کا نمبر آیا۔ گزشتہ سال کے دوران 160 سے زائد تنظیموں اور غیر رسمی گروہوں کو منتظم یا شریک منتظم کے طور پر شناخت کیا گیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود جمعه 13 مارچ 2026
عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود جمعه 13 مارچ 2026
بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر