وجود

... loading ...

وجود

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

جمعرات 12 مارچ 2026 مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے خامنہ ای 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ بننے والے دوسرے شخص تھے۔ انہوں نے 1989میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا ۔بطور رہبر اعلیٰ خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل رہی۔ اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کرا سکتے تھے۔ ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے وہ ایران کے سب سے طاقتور شخصی کے طور پر جانے جاتے تھے ۔خامنہ ای 1989 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1979کے انقلاب کے ایک سال بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انہیں تہران میں جمعہ کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔ 1981میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انہیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔ 1980کی دہائی میں ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے بعد سے خامنہ ای اپنا دایاں بازو استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ واضح رہے آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے آخری پیغام میں کہا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اسلامی اسباق کو اچھی طرح جانتی ہے ۔یہ جانتی ہے کہ کیا کرنا ہے۔ ایرانی میڈیا نے ساتھ ہی نبی اکرم کے نواسے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا قول نقل کیا کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مجھ جیسا کوئی شخص یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ آیت اللہ علی خامنی ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے ملک کے اگلے سپریم لیڈر کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ امریکی اسرائیلی حملے میں ان کے والد کے ہلاکت سے پہلے بھی۔ حالانکہ وہ کبھی کسی سرکاری عہدے پر منتخب یا مقرر نہیں ہوئے۔ اسلامی جمہوریہ کے اندر ایک نہایت پرسرار شخصیت سمجھے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای 28فروری کو اسرائیلی حملے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ۔اسرائیلی حملے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا نام اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر زیر گردش رہا۔ جبکہ دوسری طرف انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ مجتبیٰ خامنائی اس عہدے کے لیے فرنٹ رنر یعنی سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس نتیجے میں مجتبیٰ کو بطور رہبر اعلیٰ ناقابل قبول سمجھتے ہیں جبکہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تہران کے دشمنوں کو امید تھی کہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک تعطل کا شکار ہو جائے گا لیکن مجلس خبرگان نے بالاخر مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔
مجتبیٰ خامنی ای 1969میں مشہد میں پیدا ہوئے جو 1979کے اسلامی انقلاب سے تقریبا 10 سال پہلے کی بات ہے ۔انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی اس وقت میں گزاری جب ان کے والد ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم تھے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری سوانح حیات کے مطابق ایک موقع پر شاہ کی خفیہ پولیس نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر علی خامنہ ای کو تشدد کا نشانہ بنایا بعد میں جب مجتبیٰ اور ان کے بہن بھائی جاگے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد چھٹی پر جا رہے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران عراق جنگ کے دوران حبیب ابن مظاہر بٹالین کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا جو پاسداران انقلاب کی ایک اہم فوجی یونٹ تھی۔ 2000کی دہائی کے آخر میں وکی لیکس کی جانب سے شائع امریکی سفارتی مراسلوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کو چوغے کے پیچھے اصل طاقت قرار دیا گیا۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط رکھے جن میں اس کی بیرونی ملک کارروائیوں کی قدس فورس اور رضاکار پسیج فورس شامل ہیں جنہوں نے مختلف مواقع پر ملک گیر احتجاج کو سختی سے کچلا ۔
امریکہ نے 2019 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے دوران ان پر پابندیاں عائد کیںاور کہا کہ وہ اپنے والد کے علاقائی عزائم اور اندرونی سخت پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایران میں سپریم لیڈر کے عہدے پر اب تک صرف ایک بار اقتدار کی منتقلی ہوئی ہے۔ 1979کے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی 86برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور انہوں نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران ملک کی قیادت کی تھی۔ اب نیا رہنما ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری ہیں جن کا مقصد ایران کی ایٹمی پروگرام اور فوجی طاقت کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے اور امید کی جاری ہے کہ ایرانی عوام مذہبی حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ایران کے شیعہ مذہبی نظام میں سپریم لیڈر مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور ریاستی امور کے تمام بڑے فیصلوں کا آخری اختیار انہی کے پاس ہوتا ہے ۔وہ ملک کی فوج اور پاسداران انقلاب کے سربراہ بھی ہوتے ہیں جسے امریکہ نے 2019 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور جسے آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے دور میں مزید طاقت دی۔ پاسداران انقلاب جو مشرقی وسطی میں امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے کے لیے بنائے گئے ۔اتحادی گروپوں کے نیٹ ورک محور مزاحمت کی قیادت کرتی ہے ۔ایران کے اندر وسیع معاشی مفادات بھی رکھتی ہے اور ملک کے بیلسٹک میزائل ذخیرے پر بھی اسی کا کنٹرول ہے ۔آٹھ ستمبر 1969کو شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں ۔ انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم تہران کے مذہبی علوی ا سکول میں حاصل کی۔ 17سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران عراق جنگ کے دوران کئی بار مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دی ۔اس آٹھ سالہ خونریز تنازع نے ایرانی حکومت کو امریکہ اور مغرب کے بارے میں مزید مشکوک بنا دیا جو عراق کی حامی تھے۔ 1999میں مجتبیٰ قم جو ایک مقدس شہر ہے اور شیعہ الحیات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے گئے، تاکہ اپنی مذہبی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اس وقت تک مذہبی لباس نہیں پہنا تھا اور انہوں نے 30 سال کی عمر میں داخلہ لیا۔ اپنے والد کے برعکس مجتبیٰ زیادہ عوامی نہیں رہے۔ انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا ،نہ ہی انہوں نے عوامی تقاریر یا انٹرویوز دیے اور ان کی صرف محدود تعداد میں تصاویر اور ویڈیو شائع کی گئی ہیں۔ ان کے اثر ورسوخ کے بارے میں طویل عرصے سے افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ ان کے والد تک رسائی کے لیے مجتبیٰ سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ امریکی سفارتی کیبلز میں جو وکی لیکس نے 2000 کی دہائی کے آخر میں شائع کی، انہیں ابا کے پیچھے ایسی طاقت کے طور پر بیان کیا جیسے حکومت میں وسیع پیمانے پر قابل اور طاقتور رہنما سمجھا جاتا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک ایسے ایرانی فوجی نظام کا کنٹرول ملے گا جو جنگ میں مصروف ہے اور اس کے پاس انتہائی افزودہ یورونیم کا ذخیرہ بھی ہے جسے اگر وہ حکم دے تو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مجتبی خامنہ ای کا کردار کسی حد تک ایران کے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے بیٹے احمد خمینی جیسا سمجھا جاتا ہے جنہیں امریکی جوہری ہتھیاروں کے خلاف امریکی پریشر گروپ یونائٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے مطابق معتمد خاص دریان اور طاقت کے سوداگر کا مجموعہ کہا گیا تھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے آنکھ کھولتے ہی ایران میں ایرانی انقلاب کے بعد جن بحرانوں کا سامنا کیا اور اپنے والد کو جن بحرانوں کا سامنا کرتے دیکھا ،اس نے ان کے اعصاب انتہائی مضبوط کر دیے ہیں اور ان میں استحکام پایا جاتا ہے۔ اب وہ بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر