وجود

... loading ...

وجود

منٹو کا انسانیت پر ایمان

بدھ 11 مارچ 2026 منٹو کا انسانیت پر ایمان

جہانِ دیگر
زرّیں اختر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ منٹو کی وہ پونجی تھی جسے بچا کر وہ پاکستان پہنچا۔
وہ بیج جسے اس نے ‘ٹھنڈا گوشت’ لکھ کر سینچا۔
”شنید یہ بھی ہے کہ منٹو نے ہندوستان نہ چھوڑنے کا فیصلہ کررکھاتھا لیکن ایک دن ایک محفل میں اس کے ایک عزیز ہندو دوست نے کہا کہ اگر منٹو اس کا دوست نہ ہوتا تو اسے قتل کردیتا۔”(جاوید اقبال ، اردو نیوز، ١٥ ِ فروری ٢٠٢٦ئ)
ان لفظوںکا بار منٹو کے احساس کیسے سہارتے۔سوچ کیسے لیا؟ کہہ کیسے دیا؟ کیا وہ یہ کر گزر سکتاہے؟ممکن ہے کہ منٹو نے یہاں تک سوچا ہو کہ اگر وہ عورت ہوتاتب اس کا یہ دوست کیا کرتا؟قتل کی ہی بات کرتایا؟
منٹو بچالیا اور جُت گیا کہ گومگو اور تذبذب ،انتشار و کش مکش کو انسانیت پر یقین سے بدل دے ۔
اچانک ماحول کے تیور بدل جائیں۔۔۔اس سے زیادہ ہیبت ناک ہو بھی کیا سکتاہے؟
منٹو نے ماحول کو پاکستان میں آزمانے کا فیصلہ کرلیا، اصل میںیہ فیصلہ ‘انسانیت پر ایمان’ کو بچانے کا بھی تھا۔
منٹو نے بچی ہوئی انسانیت کا نوحہ لکھا،وہ اپنی موت تک بس یہی ایک کام کرتارہا۔پتا نہیں مجھے کیوں یقین ہے کہ اس کے بچپن کے دوست کے اظہار نے اس کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑا ہوگا اور اس پر اس کا خود سے مکالمہ بھی ۔
آدمی کے کتنے ہی روّیے ،طرز ِ عمل اور کردار اس کی ازلی و ابدی اور پیدائشی دو جبلتوں سے جڑے ہیں۔ آدمیت ،انسانیت اور تہذیب کایہ سرشتیں آزمائش ہیں۔ان دونوں فطری تقاضوں کے اظہاریے کا براہِ راست تعلق سماج کے تہذیبی اظہاریے سے بھی ہے ۔کچھ کی تہذیب ان کی زبان کھولتی ہے اور نتیجہ صفر، کچھ کی ان کاانتہائی اقدام۔
شاعر کہتا ہے ‘عشق وہ بلا ہے’ ۔۔۔اصل بلا تو جنس ہے ، عشق و محبت کی باتیں اسی جذبے کی تہذیب ہیں،وہ خواہ اپنی حد میں کوئی عریاں مجسمہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ہاںاس جذبے کی تہذیب بس مذہب کے نکاح نے کی ، یہ عمرانی معاہدہ ،معاشرے میں قبولیت رکھتا ہے ۔ اس سے ہٹ کر اظہار ممنوع کی سے حد سے گزر کر قابل ِ نفرین قرار پاتے ہیں۔عزت اور غیرت کے نام پر قتل اسی کا شاخسانہ ہیں۔ اس جذبے کی ایک تہذیب یہ کہ محرمین کے سامنے ان موضوعات پر بات تقریباََناممکن ہے ۔ جہاں کچھ دوستانہ ماحول ہو وہاں بیٹی بھی ماں سے یا بیٹا باپ سے کرلے گالیکن بیٹا ماں سے یا بیٹی باپ سے اس پر بات مشکل سے ہی کرپائے گی۔عام طور پر یہی ہوتاہے یہاں تک کہ فلم و ڈرامے کے مناظر میں بھی ہم یہی دیکھتے ہیں ۔
یہ ساری تمہید تین واقعات کی ہے ،دو کا نتیجہ قتل ،ایک کا خود کشی اور تیسرے کے لیے عام سی بات۔
تیسرے سے بات شروع کرتے ہیں ۔ ٹرمپ نے اپنی بیٹی کے لیے کہا کہ وہ اگرمیری بیٹی نہ ہوتی تو میں اس کے ساتھ ڈیٹ کرتا۔ جو بات عالمی تہذیب کے خلاف ہے وہ بات اس منصب کا آدمی ایک ٹی وی پروگرام میں بیوی بیٹی کی موجودگی میں کررہا ہے، جس پر ٹرمپ کی بیوی نے بھونیں اُچکاتے ہوئے ،مسکراہٹ کے سا تھ تحسین آمیزنظروں سے بیٹی کو دیکھا ،کیا کوئی معرکہ تھا جو اس کی بیٹی نے سر کر لیا تھا؟ ہمیں نہیں معلوم کہ سفید بنگلہ(وائٹ ہا ئوس ) میں ٹرمپ کے خان دان میں اس پر کوئی تنازع ہوا یا نہیں، ایسی کوئی بازگشت سنائی تو نہیں دی۔ سچ تو یہ ہے کہ بادشاہ کی مرضی ہے وہ انڈ ا دے یا بچہ۔
غیرت عجیب نفسیاتی اور پیچیدہ جذبہ ہے۔
بی بی سی اردو ویب سائٹ پر ١١ ِ فروری ٢٠٢٦ء جونی ہمفریز کی رپورٹ ہے۔”گزشتہ برس جنوری میں جب ٹرمپ دوسرے دورِ صدارت کا حلف اٹھانے والے تھے ،والد کرس ہیریسن جو ٹرمپ کے حا می تھے، ان کی ٢٣ سالہ بیٹی لوسی نے ٹرمپ کے بارے میں بحث کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ’آپ کو کیسا محسوس ہوتا اگرمجھے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا؟’
یہ اُس انتہائی نوعیت کا اخلاقی سوال ہے کہ شاید جس کا ہر باپ ذہنی طور پر متحمل نہیں ہوسکتا،اور جو جواب اس کے باپ نے دیا وہ بیٹی کو توڑ دینے کے لیے کافی تھا کہ ‘میری دو بیٹیاں اور ہیں اور مجھے اس سے زیادہ پریشانی نہ ہوتی۔’باپ کے اس جواب پر لوسی کا ردعمل درست رہا کہ وہ اوپری منزل کی طرف بھاگ گئی۔
بعد میں کرس ہیریسن کی غیرت جاگی بھی تو خود کو ملامت کرنے کے بجائے اس نے بیٹی کو قتل کردیا۔جانے قتل سے پہلے وہ کیا کچھ سوچتا رہا ہوگا کہ اس کی بیٹی نے اس سے ایسا سوال ہی کیوں کیا ، کیسے کوئی بیٹی اپنے باپ سے اس طرح پوچھ سکتی ہے؟ یہاں تک تو شاید اس کا باپ بھی اتنا غلط نہیںلیکن اس کا اپنا جواب؟ سپر ایگو کا شکار افراد اپنے اعمال پر نظر نہیں رکھتے۔
ایک واقعہ پاکستان کے شہر لاہور کا ہے جہاں ڈی ایس پی نے اپنی بیوی اور چہیتی و لاڈلی بیٹی کو قتل کردیا۔اولاد کو اور اگر وہ کسی ایک کو زیادہ پیارا ہو ، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا یا ان کو اپنی طرف کرکے فریق بنالینا بھی رشتوں کا استحصال ہے ۔بیوی جانتی تھی کہ بیٹی کو باپ کتنا عزیز رکھتا ہے۔ان کے تعلقات میں مسائل چل رہے تھے ، لیکن وہ گھڑی جب باپ نے خود پر قابو کھو دیا؟ بیوی نے بیٹی کے سامنے کہا کہ وہ اس کو دھندے پر بٹھا دے گی۔ایسا کوئی بھی شریف مہذب عورت اپنی بیٹی کے لیے سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ باپ کے سامنے اور بیٹی کی موجودگی میں کہہ بھی کیسے سکتی ہے؟ یہ وہ لمحہ تھا جب عثمان حیدر نے پستول نکال کر بیوی کے ساتھ بیٹی کو بھی اسی وقت قتل کردیا۔
ڈاکٹر عامر لیاقت کی خود کشی کسے یاد نہیں ہوگی۔وانیا نے انتہائی نجی لمحات کی جو وڈیوبنائی اور وائرل ہوئی ، مجھے اس وی لاگر کا نام یاد نہیں رہا، لیکن اس نے بہت اچھی بات کی کہ میاں بیوی کے درمیان کئی طرح کے معاملات ہوتے ہیں۔لیکن ہمارا معاشرہ اور عامر لیاقت کا اپنے کریئر میں مذہبی حوالہ، پھر محرم رشتوں میں تہذیب کی پاس داری؛لیکن عامر لیاقت کی خودکشی کی وجہ وانیا کی بے وفائی یا سماج میں بد نامی نہیں تھی،وہ تو ملک چھوڑ کر جا رہا تھا، پھر اچانک کیا ہوا؟ عامر لیاقت کے موبائل پراس کی بیٹی کے پیغامات آئے، جن کو پڑھ کر عامر چلّانے لگا، اس صدمے سے وہ خود کو نہیں سنبھال سکا،اور پھر جوہوا ، وہ آپ سب جانتے ہیں۔
کیا عامر لیاقت کے اس انتہائی اقدام ِخود کشی کے پیچھے وہی انسانیت کی باقی رمق تھی جس پر منٹو کا ایمان تھا، کہہ سکتے ہیں کہ ہاں۔
ٹرمپ کا بیٹی کے لیے کہا گیا جملہ غیرت کا نہیں تہذیب کا مسئلہ ہے، اور یہ تہذیب کا مسئلہ اتنا گہرا ہے کہ ہم منٹو کے افسانے ٹھنڈا گوشت کو تو خوب لتاڑتے ہیں لیکن اس کے افسانے مَحرم پر بات نہیں کرتے۔
٭٭٭

دوسرا واقعہ قتل کا ،


متعلقہ خبریں


مضامین
منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ وجود بدھ 11 مارچ 2026
بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ

ایران پر حملے وجود بدھ 11 مارچ 2026
ایران پر حملے

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر