... loading ...
حمیداللہ بھٹی
ایران پر ہونے والے حملوں کو جنگ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ کُھلی جارحیت ہے۔ ایرانی کارروائیاں محض دفاعی ہیں ،ویسے بھی امریکہ اور اسرائیل سے ایران کا موازنہ بنتا ہی نہیں ۔البتہ جب لڑائی تھوپ دی جائے تو مزاحمت ناگزیر ہوجاتی ہے ۔جوہری تنازع حل کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے جن میںکئی امورپر اتفاق بھی ہوگیا تھا مگر سلجھتے معاملات کو الجھانے کے لیے میزائل پروگرام ختم کرنے کی شرط رکھ دی گئی، عین ممکن ہے اِس حوالے سے بھی ایران کسی حدتک لچک کا مظاہرہ کردیتا مگراچانک ہی حملہ کر دیاگیا شاید امریکہ اور اسرائیل کو گھمنڈ تھا کہ فضائیہ کے بغیر ایران چند گھنٹے مقابلہ نہیں پائے گا اور ہتھیار ڈال دے گا لیکن توقعات کے برعکس اوربھاری جانی ومالی نقصان اُٹھانے کے باوجودایران مقابلے پرڈٹ گیاہے۔ اِس میں شائبہ نہیں کہ ایرانی فضائی حدودپر امریکہ اور اسرائیل کاقبضہ ہے اور وہ بے دریغ بمباری کر رہے ہیں لیکن ایران سے امریکی اڈے اور اسرائیل بھی مکمل طورپر محفوظ نہیں۔ ایرانی ڈرونز اور میزائل کسی حد تک درست نشانوں پر لگ رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اورفضائی کمزوریوں کے باوجود ایران مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ایران نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اُن کی مرضی کے مطابق کرے مگر ایران نے شہید سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرکے امریکا کو ایک واضح پیغام دے دیا ہے، وہ والد سے زیادہ سخت گیر ثابت ہو سکتے ہیں یہ سب کچھ امریکی او راسرائیلی اندازوں کے برعکس ہے اسی لیے اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے رویے سے جھنجلاہٹ عیاں ہے۔
حملہ آورامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ حملوں سے گھبرا کر ایرانی عوام اپنی سیاسی و مذہبی قیادت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اِس خیال کی وجہ گزشتہ دسمبر اور جنوری میں ایران کا اندرونی انتشار تھا مگربیرونی حملوں نے عوام کو متحد کر دیا ہے اور نہ صرف اندرونی انتشار ختم ہو گیا ہے بلکہ مہنگائی کے ستائے لوگ بھی فی الحال خاموش ہو چکے ہیں ۔ایران میں پانی اورتیل کے ذخائر اور دفاعی تنصیبات کے ساتھ عوامی املاک ،ہسپتالوں اور سکولوں تک پر بمباری نسل کشی ہے مگر ابھی تک حملہ آور قوتوں کی رجیم تبدیلی کی خواہش پوری نہیں ہو سکی، بلکہ اب تو ایرانی قیادت نے ملکی دفاع کے لیے کمانڈرز کو حالات کے مطابق خودفیصلہ کرنے کی آازدی دے دی ہے جس سے حملہ آورقوتوںکی زمینی کارروائی مشکل ہوگئی ہے اور اب زیادہ ویسے پیمانے پر امریکی دفاعی اہداف اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے ۔ایسی صورتحال ایک طویل لڑائی کی راہ ہموارکر سکتی ہے، امریکہ اور اسرائیل متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اُن کی عجلت سے ظاہرہے کہ وہ محدود کارروائی چاہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز ایسا راستہ ہے جہاں سے دنیا کی ضرورت کے بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے جسے ایران نے بند کردیا ہے اور باوجود کوشش یہ راستہ واگزار نہیں ہوسکا۔اِس بندش سے دنیا خوفزدہ ہے کیونکہ دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی تو مہنگائی کی خوفناک لہر جنم لے سکتی ہے انھی خدشات کی وجہ سے امریکی اور اسرائیلی حملوںکے خلاف آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔ نیٹو کے اراکین یورپی ممالک تک ناقدین میں شامل ہیں یہ صورتحا ل حملہ آورقوتوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے لہٰذاوہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح حملوں کی توثیق کرائی جائے اِس کے لیے مذہبی رہنمائوں کوبھی متحرک کیا جارہا ہے تاکہ ناقدین کے منہ بند کیے جاسکیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے دنیا کو یقین دلایا تھا کہ ایران کی جوہری طاقت ختم کرنے کے لیے حملے ناگزیر ہیں لیکن ایرانی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے اور تہران میں دوست حکومت قائم کرنے جیسے بیانات نے واضح کردیا ہے کہ جوہری صلاحیت ختم کرنا محض بہانہ تھا، اصل عزائم کچھ اورہیں واقفان حلقے تو وثوق سے کہتے ہیں کہ ایران پر حملے کے جواز ہرگز درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ٹرمپ ایپسٹین فائلز کا تذکرہ بندکرناچاہتے ہیں مگر امریکیوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ٹرمپ کے کم عمر بچیوں کی زیادتی کے شواہد اسرائیلی انٹیلی جنس کے پاس ہیں اسی لیے بلیک میل ہوکر ایران پر حملہ کیاگیاہے جس سے ایسے خیالات کوتقویت ملتی ہے کہ یہ سب کچھ صیہونی قیادت کی ایما و سرپرستی میں ہواجس کے شواہد بووقت ضرورت کے لیے محفوظ کرلیے گئے ، مزید یہ کہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے سنگین مقدمات کا سامنا ہے یہ محض الزامات نہیں بلکہ صداقت پر مبنی ہیں اسی پریشانی میں ٹرمپ کوساتھ ملا کر ایران کو نشانہ بنایا گیاہے مگر اِس کارروائی سے دنیا پریشان ہے نہ صرف نیٹوجیسا دفاعی اتحاد کمزور ہوا ہے بلکہ ایرانی میزائل حملوں کو روکنے والے دفاعی نظام کو عرب ریاستوں سے اسرائیل منتقل کرنے سے کئی اہم اور قریبی اتحادی بھی امریکہ سے بدظن ہوئے ہیں۔ عرب ممالک کی سیاحت اور سرمایہ کاری کو الگ دھچکا لگا ہے۔ اسی بناپر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دے کراچھا فیصلہ نہیں کیا ۔اب نہ صرف امریکہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کا مسئلہ درپیش ہے بلکہ جنگ کے اہداف حاصل ہونے کی باتوں سے ٹرمپ کا ذہنی انتشارواضح ہوا ہے جس سے تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی لیکن سچ یہ ہے کہ ایران پر حملوں سے چین اور روس کوتجارتی و معاشی فوائد حاصل کرنے میں آسانی ہوگئی ہے ۔
ایران کے خلاف کارروائی پر امریکہ کودنیاسے سیاسی حمایت حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ امریکی بیانیہ متاثر نہیںکر سکا اب مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اوول آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی رہنمائوں سے کامیابی کی دعا کرانادلیل اور جوازکی کمی کی طرف اِشارہ ہے پادری گریگ لاری سمیت دیگر مذہبی رہنمائوں کا ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کامیابی کی نوید دینے کی خبریں عالمی ذرائع ابلاغ دے چکے ۔برطانیہ کے اخبار گارڈین کے علاوہ کئی یورپی اخبار ات میں آچکا کہ امریکی فوجیوں کو اُن کے کمانڈر یہ یقین دلانے کی کوشش میں ہیں کہ صدر ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایران پر حملے کا اِشارہ دیا ہے۔ ایسی شکایات کرنے والوں میں مسیحی ،مسلمان اور یہودی فوجی شامل ہیں۔ جب دلائل نہ ہوں تو مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایران پر حملوں کو مذہب کے پردے میں چھپانے کی کوشش ثابت کرتی ہے کہ حملے بلاجواز اورمحض طاقت کا اظہار ہیں۔ صدرٹرمپ کایہ مطالبہ ایرانی عوام اپنے سپریم لیڈرکا فیصلہ اُن کی مرضی کے مطابق کریں کسی آزاد وخودمختارملک کے لیے ممکن نہیں ۔اِن حالات میں اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو نہ صرف دنیا میں معاشی بحران بڑھے گا بلکہ مہنگائی کی نئی طاقتورر لہرکاامکان بڑھ جائے گا جس سے ایران کی بجائے عرب ممالک میں مزید سیاسی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور دفاعی حوالے سے بھی کچھ نیا دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
٭٭٭