وجود

... loading ...

وجود

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

منگل 10 مارچ 2026 امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

چوپال /عظمیٰ نقوی

بحر ہند کی لہریں جو کبھی تجارت اور امن کی ضامن سمجھی جاتی تھیں، آج ایک ایسے خونی کھیل کی گواہ بن چکی ہیں جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ چار روز قبل سری لنکا کے ساحل سے کچھ ہی دور، ایرانی بحریہ کا جدید ترین فریگیٹ دینا (IRIS Dena )ایک امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو کا نشانہ بن کر سمندر برد ہو گیا، جس میں 182 کے قریب انسانی جانیں لقمہ اجل بنیں۔ لیکن یہ واقعہ صرف ایک جہاز کا ڈوبنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس میزبانی کے منہ پر تمانچہ ہے جس کا ڈھنڈورا بھارت ایک عرصے سے پیٹتا آ رہا ہے۔
ایرانی جہاز دینا کوئی جنگی مشن پر نہیں نکلا تھا، بلکہ وہ بھارت کی میزبانی میں ہونے والی کثیر القومی بحری مشقوں میلان 2026 میں شرکت کر کے واپس لوٹ رہا تھا۔ سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کا تقاضا تو یہ تھا کہ جو ملک (بھارت) ان مشقوں کا میزبان تھا، وہ اپنے مہمانوں کی بحفاظت واپسی کا ضامن ہوتا۔ لیکن افسوس! بھارت کی پوری دنیا ایک خاندان ہے کی پالیسی صرف ایک کھوکھلا نعرہ ثابت ہوئی۔بھارت نے ایک طرف ایران کو بحری مشقوں میں بلایا تاکہ دنیا کو اپنی غیر جانبداری دکھا سکے، اور دوسری طرف اسی کی حدود کے قریب امریکی آبدوز نے اس مہمان پر حملہ کر دیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ بھارت کی جدید ترین ریڈار ٹیکنالوجی اور بحری نگرانی کے نظام کو اس حملے کی بھنک تک نہ پڑی ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی دراصل اس مجرمانہ ملی بھگت کا حصہ ہے جو مودی سرکار اور واشنگٹن کے درمیان پروان چڑھ رہی ہے۔
موجودہ بھارتی قیادت کا شدت پسندانہ رویہ اب صرف اس کی داخلی پالیسیوں کشمیر اور اقلیتوں کے خلاف تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ خطے کے امن کو بھی نگلنے لگا ہے۔ بھارت ایک طرف ایران کے ساتھ چا بہار بندرگاہ کے معاہدے کر کے اسے اپنا دوست کہتا ہے، تو دوسری طرف کواڈ (QUAD) جیسے اتحادوں کے ذریعے امریکی مفادات کی چوکیداری کرتا ہے۔یہ دُہرا معیار ہی ہے جس نے انڈین اوشن کو امن کی جھیل سے جنگی اکھاڑے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک مہمان ملک کے جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے راستہ فراہم کرنا یا اس حملے سے آنکھیں موند لینا، سفارتی تاریخ کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ بھارت کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خطے میں کسی آزادانہ پالیسی کا حامل نہیں، بلکہ وہ صرف ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔جہاز پر سوار 182 ایرانی فوجی صرف سپاہی نہیں تھے، وہ کسی کے بیٹے، کسی کے باپ اور کسی کے بھائی تھے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی میزبانی پر اعتبار کیا جس کی بنیادیں ہی فریب پر کھڑی تھیں۔ سری لنکا کے ساحل پر بہنے والا یہ خون بھارت کے اس دعوے کو دفن کر چکا ہے کہ وہ گلوبل ساؤتھ کا لیڈر ہے۔
دینا نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ انڈین اوشن اب محفوظ نہیں رہا۔ اگر بین الاقوامی برادری نے بھارت کے اس شدت پسندانہ اور دوغلے رویے پر خاموشی اختیار کی، تو مستقبل میں کسی بھی ملک کا جہاز ان پانیوں میں محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران کا یہ زخمی جہاز اور اس کے شہداء کی داستان مدتوں بھارت کی اس نام نہاد میزبانی کو کوستی رہے گی جس نے اپنے گھر بلائے گئے مہمان کو دشمن کے ٹارپیڈو کے حوالے کر دیا۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران نے کئی دہائیاں بھارت کے ساتھ اسٹرٹیجک پارٹنر شپ چلائی مگر عین جنگ کے دوران بھارت نے LEMOA لاجسٹک سپورٹ معاہدے کے تحت امریکی نیوی کے ساتھ مل کر ایرانی بحری جنگی جہاز IRIS دینا کو ہٹ کرو ادیا۔ ویانا کنونشن کے بر خلاف ایرانی جنگی بحری جہاز کو ریسکیو کرنا امریکیوں کی ذمہ داری تھی مگر انہوں نے مرنے دیا، ریسکیو کیلئے انڈیا نیوی بھی نہیں آئی سری لنکن نیوی 180 میں سے چند لوگوں کو بچا سکی۔ انڈیا کے اسٹرٹیجک رائٹرز انڈیا کے اس اقدام کو ایرانی جنگ میں کودنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ بہرحال مودی اس جنگ کو کھینچ کر ایشیا کے سمندر میں لے آیا ہے مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی بحیرہ ہرمز میں 37 انڈین فلیگ شپ اس وقت پھنسے پڑے ہیں کمپنیاں اور مالکان دہائی دے رہے ہیں کہ ان کو نکالو، ان پرعملہ بھی انڈین ہے اگر ایران وہاں ایسا کردے تو کیسا رہے گا ؟ کیا اسے قسمت کا لکھا سمجھا جائے گا؟
لگتا ہے یہ جنگ ترکی ، برطانیہ انڈیا کی مداخلت کے بعد عالمی جنگ کا روپ دھار رہی ہے جس میں پوری دُنیا ایک طرف کھڑی ہے اور اکیلا ایران ایک طرف۔۔۔لیکن اس جنگ میں بھارت خود کودا یا اس کو امریکہ نے آج حملہ کرکے اس کو زبردستی اس جنگ میں دھکیلا اس کا فیصلہ بھارت کی خاموشی اور بھیانک کردار نے کردیا ہے، شاید بھارت کو اندازہ نہیں کہ امریکہ اسرائیل اس کی رینج میں یہ کارنامہ انجام دے کر مشرق وسطیٰ کی آگ کو مزید بھڑکا دے گا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

خاموش چیخیں وجود منگل 10 مارچ 2026
خاموش چیخیں

بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر