وجود

... loading ...

وجود

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

جمعه 27 فروری 2026 بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

ریاض احمدچودھری

بھارت غیر قانونی منشیات کی عالمی اسمگلنگ میں ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کے ذریعے افیون، ہیروئن، اور نشہ آور ادویات افریقی اور امریکی ممالک تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی (UNODC) اور برطانوی نشریاتی ادارے کی حالیہ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت سے اسمگل ہونے والی افیون اور دیگر نشہ آور کیمیکل صحت عامہ کے لیے شدید خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
یو این او ڈی سی کے مطابق، بھارت میانمار سے لے کر وسطی امریکہ اور افریقی ممالک تک غیر قانونی منشیات کی فراہمی کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ حال ہی میں نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (NDLEA) نے بھارت سے سپلائی ہونے والی 100 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی افیون اور دیگر منشیات ضبط کیں۔نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد بھارت سے اسمگل شدہ افیونی ادویات کے عادی ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت نے 2018 میں ان پر پابندی بھی عائد کی تھی، مگر اس کے باوجود اسمگلنگ جاری ہے۔ گھانا اور نائیجیریا بھارت سے افیون اور نشہ آور ٹراماڈول کے سب سے بڑے متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔ بھارت میں تیار کی جانے والی افیون کی قسم “ٹفرادول”، “ٹائما کنگ” اور “ٹراماڈول” جیسی نشہ آور ادویات نائیجیریا اور دیگر افریقی ممالک میں پہنچ رہی ہیں۔ بھارتی دواساز کمپنی ایویو (Aveo) کے ڈائریکٹر ونود شرما نے تصدیق کی کہ بھارتی حکام بھی اس غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں اور افریقی ممالک کو بیچی جانے والی غیر قانونی ادویات پر کم توجہ دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق، بھارت سے اسمگل کی جانے والی یہ منشیات سانس کے مسائل، دورے، اور حتیٰ کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ صحافی یحییٰ مسعود کے مطابق، یہ خطرناک منشیات نوجوانوں، خاندانوں اور ملک کے باصلاحیت افراد کو تباہ کر رہی ہیں، جبکہ ٹفرادول کا پہلا انجکشن بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت نے عالمی منشیات کی تجارت میں بین الاقوامی اسمگلنگ کے راستوں کا استعمال کرتے ہوئے ٹرانزٹ پوائنٹ سے ایک اہم سپلائر کے طور پر تبدیلی کی ہے۔ 2014ء میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد، پالیسی کی خامیوں اور ڈی ریگولیشن کے نتیجے میں منشیات کی تجارت کو فروغ ملا، اسمگلنگ کے راستوں اور گھریلو منشیات کے لیبارٹریز میں اضافے کے ساتھ ضبط کی گئی منشیات میں نمایاں اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024ء میں گجرات میں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی سے 518 کلو کوکین برآمد ہوئی، جس سے بھارت کا بین الاقوامی منشیات کے کارٹیلز کے ساتھ تعلق ظاہر ہوا۔ اقوام متحدہ کے یو این او ڈی سی کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت غیرقانونی شپمنٹس کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے اور بھارتی صنعتوں سے پریکرسر کیمیکلز میتھ لیبارٹریز تک پہنچ رہے ہیں۔
بھارتی ریاست پنجاب کے شہر فریدکوٹ میں منشیات اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں حاضر سروس فوجی اہلکار، سابق پولیس اہلکار اور خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ کارروائی بھارتی پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار حاضر سروس فوجی کی شناخت جرنیل سنگھ جبکہ برطرف پولیس اہلکار کی شناخت امر دیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان سے 4.8 کلوگرام ہیروئن، اسلحہ، دو گاڑیاں اور ایک ایکس یو وی برآمد کی گئی۔ ملزمان مبینہ طور پر ناکوں اور ٹول پلازوں سے گزرنے کے لیے سرکاری شناختی کارڈز کا غلط استعمال کرتے تھے۔بھارتی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس گاوریو یادیوکے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ گرفتار افراد متعدد منشیات اسمگلنگ مقدمات میں مطلوب تھے اور ایک منظم نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے تھے۔
بھارت میں منشیات کے پھیلاؤ اور سرحدی ریاست پنجاب میں اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پہلے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سیکیورٹی اداروں کے اندر احتساب اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھاتے ہیں۔واقعے کے بعد سوشل اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے اور نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔سیاسی و سماجی حلقوں میں اس واقعے نے تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ حاضر سروس فوجی کا منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونا داخلی سیکورٹی کے بیانیے پر سوال اٹھا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار خود جرائم میں ملوث ہوں تو احتسابی نظام کی مؤثریت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
بھارتی شہر حیدرآباد کی پولیس نے منشیات کا ایک نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئے 21 سالہ خاتون، اس کے بوائے فرینڈ اور دو دیگر افراد کو گرفتار کرلیا۔ حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ ونگ اور مقامی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گرفتار افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات، نقد رقم اور موبائل فونز برآمد کیے ہیں۔گرفتار خاتون کی شناخت سشمیتھا دیوی کے نام سیہوئی ہے جو ایک سافٹ ویئر پروفیشنل ہے جبکہ دیگر گرفتار ملزمان میں امیدی ایمانوئیل، جی سائی کمار اور تارکا لکشمی کانتھ شامل ہے۔امیدی خاتون کا بوائے فرینڈ اور اس کیس کا مرکزی ملزم ہے، دونوں مل کر منشیات کا کاروبار چلا رہے تھے۔ چھاپے کے دوران پولیس نے ملزمان سے متعدد اقسام کی لاکھوں مالیت کی منشیات برآمد کی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ امیدی ایمانوئیل ڈارک ویب کے ذریعے منشیات منگواتا تھا اور اس کے لیے ٹور براؤزر کا استعمال کرتا تھا۔ ادائیگیاں کرپٹو کرنسی والٹس جیسے بائنانس اور ٹرسٹ والٹ کے ذریعے کی جاتی تھیں تاکہ مالی لین دین کو چھپایا جا سکے۔ خاتون منشیات کے کاروبار اور مالی لین دین کی نگرانی کرتی تھی۔ وہ آن لائن ٹرانزیکشنز سنبھالتی اور امیدی کی غیر موجودگی میں منشیات کی تقسیم کا انتظام بھی کرتی تھی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر