... loading ...
محمد آصف
انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی انحصار فرد کے کردار پر ہوتا ہے ۔ جب فرد کا کردار مضبوط،متوازن اور اخلاقی اقدار سے مزین
ہو تو معاشرہ امن، عدل اور باہمی احترام کا گہوارہ بن جاتا ہے ، اور جب کردار میں کمزوری، خود غرضی اور اخلاقی انحطاط در آئے تو اجتماعی
زندگی انتشار اور بدامنی کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے عقائد و عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار کو غیر معمولی اہمیت دی ہے ۔
قرآن مجید اور سنتِ نبوی ۖ میں تشکیلِ کردار کے ایسے جامع اصول بیان ہوئے ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے
ہیں۔ عصرِ حاضر کے پیچیدہ سماجی چیلنجز کے تناظر میں ان اصولوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ، کیونکہ جدید دور میں جہاں سہولیات اور
معلومات کی فراوانی ہے وہیں فکری انتشار، اخلاقی بحران اور سماجی بے راہ روی بھی نمایاں ہے ۔
قرآن مجید انسان کی کردار سازی کا آغاز ایمان اور تقویٰ سے کرتا ہے ۔ تقویٰ دراصل باطنی نگرانی کا احساس ہے کہ انسان ہر حال میں
اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے ۔ یہ احساس انسان کے اعمال کو سنوارتا اور اسے برائی سے روکتا ہے ۔ قرآن میں بارہا تقویٰ کو کامیابی کا
ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔ جب فرد کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف راسخ ہو جائے تو وہ خلوت و جلوت میں یکساں طرزِ عمل اختیار کرتا ہے ۔
اس طرح کردار کی بنیاد اخلاص، دیانت اور ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے ۔ عصرِ حاضر میں جہاں مادی مفادات کو زندگی کا مقصدبنا لیا گیا ہے، وہاں تقویٰ کا تصور انسان کو مادہ پرستی سے نکال کر اخلاقی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
سنت ِنبوی ۖ کردار سازی کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے ۔ رسول اکرم ۖ کو قرآن نے”اُسوۂ حسنہ” قرار دیا۔ آپ ۖ کی زندگی
سچائی، امانت، حلم، عفو و درگزر اور عدل و انصاف کا پیکر تھی۔ مکہ کے کافر بھی آپ ۖ کو صادق و امین کہتے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
کردار کی اصل بنیاد صداقت اور امانت ہے ۔ آج کے دور میں جھوٹ، دھوکہ دہی اور بدعنوانی معاشرتی مسائل کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اگر سیرتِ نبوی ۖ کے اصولوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنایا جائے تو اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے اور سماجی نظام مضبوط بنیادوں پر
استوار ہو سکتا ہے ۔
قرآن و سنت نے عدل و انصاف کو بھی کردار سازی کا اہم ستون قرار دیا ہے ۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ انصاف کرو، خواہ وہ اپنے خلاف ہی
کیوں نہ ہو۔ یہ تعلیم انسان کو تعصب، گروہی مفادات اور ذاتی خواہشات سے بلند ہو کر حق کا ساتھ دینے کی ترغیب دیتی ہے ۔ عصرِ حاضر
میں نسلی، لسانی اور مسلکی تعصبات نے معاشروں کو تقسیم کر رکھا ہے ۔ اگر عدل کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور رواداری
کو فروغ مل سکتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ گھریلو، معاشی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے ۔
حیا اور پاکدامنی بھی اسلامی کردار کا بنیادی جزو ہیں۔ قرآن مرد و زن دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے ۔
جدید میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں فحاشی اور بے راہ روی عام ہو چکی ہے ، جس سے خاندانی نظام متاثر ہو رہا ہے ۔ اسلام کا تصورِ حیا فرد کو
اندرونی پاکیزگی عطا کرتا ہے اور اسے غیر اخلاقی رویوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اگر نوجوان نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حیا اور عفت
کی تعلیم دی جائے تو معاشرتی بگاڑ کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے ۔
اسلامی تعلیمات میں صبر اور برداشت کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے ۔ قرآن صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیتا ہے اور سنتِ نبوی ۖ میں
مشکلات کے باوجود استقامت کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ آج کے دور میں عدم برداشت، جلد بازی اور غصہ معاشرتی تنازعات کو بڑھا
رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر معمولی اختلاف بھی شدید جھگڑوں میں بدل جاتا ہے ۔ صبر اور حلم کا رویہ اپنانا کردار سازی کے لیے ناگزیر ہے ،
کیونکہ یہی اوصاف انسان کو جذباتی ردِ عمل کے بجائے حکمت اور تدبر کی راہ دکھاتے ہیں۔
امانت و دیانت کا اصول بھی قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے ۔ قرآن اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں
کو ادا کرو۔ دیانت داری صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ ہر ذمہ داری میںشامل ہے ، خواہ وہ عہدہ ہو، علم ہو یا سماجی حیثیت۔ موجودہ
دور میں کرپشن اور بدعنوانی ریاستی اور سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر امانت و دیانت کو اجتماعی قدر کے طور پر فروغ دیا جائے تو
اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور معاشی انصاف کو تقویت مل سکتی ہے ۔
معاشرتی تعلقات میں حسنِ سلوک بھی کردار سازی کا اہم جزو ہے ۔ قرآن والدین کے ساتھ احسان، پڑوسیوں کے حقوق اور یتیموں کی
کفالت کی تاکید کرتا ہے ۔ سنتِ نبوی ۖ میں حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل قرار دیا گیا ہے ۔ آج کے دور میں خاندانی نظام کمزور پڑ رہا ہے
اور بزرگ تنہائی کا شکار ہیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں باہمی احترام، تعاون اور ہمدردی کا درس دیتی ہیں، جو سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہیں۔
عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز میں ایک بڑا مسئلہ فکری انتشار اور مذہبی انتہاپسندی بھی ہے ۔ قرآن اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے اور
امت کو”امتِ وسط” قرار دیتا ہے ۔ سنتِ نبوی ۖ میں بھی شدت پسندی سے منع کیا گیا ہے ۔ اگر قرآن و سنت کے معتدل اور متوازن
اصولوں کو صحیح طور پر سمجھ کر پیش کیا جائے تو انتہاپسندی کے رجحانات کا سدباب ممکن ہے ۔ کردار سازی کا مطلب صرف انفرادی نیکی نہیں بلکہ
اجتماعی توازن اور رواداری کا فروغ بھی ہے ۔
تعلیم کا میدان بھی کردار سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں علم کو نور قرار دیا گیا ہے ،لیکن یہ علم اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ اخلاقی تربیت شامل ہو۔ موجودہ نظامِ تعلیم میں فنی مہارتوں پر زور دیا جاتا ہے ، مگر اخلاقی اقدار کی تعلیم نسبتاً کمزور ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو علم اور اخلاق کو یکجا کرے ، تاکہ طلبہ نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر کامیاب ہوں بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہوں۔
خلاصہ یہ کہ قرآن و سنت نے تشکیلِ کردار کے جو اصول عطا کیے ہیں وہ جامع، متوازن اور ہمہ گیر ہیں۔ ایمان، تقویٰ، عدل، صداقت،
امانت، صبر، حیا اور حسنِ سلوک جیسے اوصاف فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔ عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز خواہ وہ اخلاقی
انحطاط ہوں، فکری انتشار ہو یا معاشی بدعنوانی، ان کا پائیدار حل اسلامی تعلیمات میں موجود ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصولوں کو
محض نظری مباحث تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی زندگی میں نافذ کیا جائے ۔ جب قرآن و سنت کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنایا
جائے گا تو ایک متوازن، پرامن اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، اور یہی اسلام کا حقیقی پیغام اور انسانی فلاح کا راستہ ہے ۔
٭٭٭