وجود

... loading ...

وجود

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

جمعرات 26 فروری 2026 سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

ریاض احمدچودھری

بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کئی عر صہ پر محیط ہے۔بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر کے علاقے کنن پوش پورہ میں 100سے زائد اجتماعی زیادتیوں کے سانحہ کو35سال بیت گئے۔عالمی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھارتی حکومت سے سانحہ کی تحقیقات کا کئی بار مطالبہ کر چکی ہیںلیکن آج تک انسانی تاریخ کے بدترین سانحے کے متاثرین کو انصاف نہ ملنا نام نہاد بھارتی انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے ۔پارلیمانی کشمیر کمیٹی نے سانحہ کنن پوش پورہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے 35 سال گزرنے کے باوجود واقعہ کی تحقیقات نہ ہونے کو تشویشناک قرار دیا ۔
23 فروری 1991 کو بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے گاں کنن پوش پورہ میں 100 سے زائد بے گناہ کشمیری خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ اجتماعی زیادتیاں آزادی پسندوں کی طرف سے بھارتی فوج پر فائرنگ کے جواب میں انتقامانہ کارروائیوں کے طور پر کی گئیں تھیں۔17مارچ1991کو چیف جسٹس جموں و کشمیر کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے 53 کشمیری خواتین نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے عصمت دری کا اعتراف کیا۔ 15سے21مارچ 1991 کے دوران ہونے والے طبی معائنوں میں 32کشمیری خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی ثابت ہو ئی۔1992 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی شائع کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ کنن پوش پورہ سانحے میں بھارتی فوج کے خلاف اجتماعی زیادتی کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں۔ مقامی لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ پہلے عسکریت پسندوں نے آرمی پر گولی چلائی اسی کی وجہ سے یہ سرچ آپریشن ہوا۔ گاؤں میں رہنے والے کئی لوگوں نے یہ کہا کہ اس رات بھارتی فوج نے کئی خواتین کے ساتھ عصمت دری کی ہے۔ پہلی رپورٹ کو مجسٹریٹ کے آنے کے بعد لکھی گئی، اس میں ان خواتین کی تعداد 23 بتائی گئی لیکن نگہبان حقوق انسانی کا اصرار ہے کہ یہ تعداد 23 سے 100 تک ہوسکتی ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی۔
کشمیر میں 1991کا سال انتہائی کربناک تھا جب مرکزی حکومت نے عسکریت پسندی کے خلاف ایک سخت گیر مہم شروع کی تھی۔ اس مہم کے دوران، مشتبہ بستیوں میں رات کے دوران محاصرہ کیا جاتا تھا اور مرد و خواتین کو شناختی پریڈ اور گھروں کی تلاشی کے مراحل سے گزارا جاتا تھا۔کپوارہ ضلع کو عسکریت کا دروازہ یا ‘گیٹ وے آف انسرجسی’ کہا جاتا تھا۔کنن پوش پورہ میں رات کے دوران محاصرہ اور تلاشی کارروائی بھی اسی عسکریت مخالف مہم کا حصہ تھا۔ سرحدی ضلع کپوارہ میں 32سال قبل23 اور 24 فروری1991کی درمیانی رات ایک دور دراز گاؤں کْنن پوشہ پورہ میں فوج کی 4راجپوتانہ رائفلز اور 68مونٹین بریگیڈکے اہلکاروں نے بلالحاظ عمر درجنوں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی۔
2016 میں پانچ کشمیری خواتین کارکنان نے اس دردناک سانحہ پر ایک کتاب لکھی جو کنن اور پوش پورہ علاقوں کی خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی روداد پر مبنی ہے۔یہ کتاب ‘کیا آپ کو کنن پوشپورہ یاد ہے؟ ‘دہلی میں مقیم زبان پبلشرز نے شائع کی تھی اور کتاب کو جے پور لٹریچر فیسٹیول میں باضابطہ طور پر جاری کیا گیا تھا۔228 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں اجتماعی زیادتی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اور اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ ‘کشمیر میں کس طرح جنسی زیادتی کو جنگ اور شدت پسندی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔’اس کتاب میں پولیس تفتیش، متاثرہ افراد کے طبی ریکارڈ اور اس معاملے پر سول سوسائٹی کے نظریات کے ریکارڈ موجود ہیں۔
کنن پوش پورہ سانحہ ایک تلخ حقیقت ہے جو کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ درج رہے گی۔کنن پوشپورہ واقع انتہائی متنازع رہا ہے۔پریس کونسل آف انڈیا کے اس وقت کے سربراہ بی جی ورگھیز نے ایک متنازع رپورٹ میں فوج پر لگے الزامات کی تردید کی تھی لیکن کشمیر کے اس وقت کے ڈویڑنل کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے خواتین کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں کہا کہ یہ مبالغہ آمیز ہوسکتے ہیں لیکن بعید از حقیقت نہیں ہیں۔گزشتہ برس کپوارہ کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سید محمد یاسین نے بھی کہا تھا کہ انہوں نے واردات کے بعد جب ہر دو دیہات کا دورہ کیا تو متعدد خواتین نے انہیں بتایا کہ مسلح فوجیوں نے انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ”سانحہ کنن پوش پورہ کی غیرجانبدارانہ جانچ کی مانگ”کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیرمیں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کوحاصل استثنیٰ بلاجوازہے۔ کنن اورپوش پورہ میں دن کے اْجالے میں اجتماعی جنسی تشدد کی چیخیں اور آہ و فغان آج تک خاموش نہیں ہوئی ہے بلکہ اس سانحہ میں متاثرہ ہوئی خواتین کے لئے آج بھی 23اور24فروری 1991کی وہ دردناک رات نہیں بھول پائی ہیں جب فوجی اہلکاروں نے انکی عزت کو تارتار کر دیا تھا۔ متاثرہ خواتین کو جب آج بھی اْن لمحات کی یاد آتی ہے تو انکے رونگٹے ہی نہیں بلکہ نس نس کھڑے ہو جاتے ہیں اور خشک آنکھیں اشک بار ہوتی ہے۔35برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک درجنوں خواتین حصول انصاف کی منتظر ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی خاموش نظر آرہی ہیں۔
ایمنسٹی اینٹرنیشنل نے سانحہ کنن پوش پورہ کی35ویں برسی کے موقع پراپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ خواتین کی آبروریزی جیسے سنگین جرم میں ملوث فوجیوں کیخلاف آج تک کوئی قانونی کارروائی نہ ہونااس بات کاثبوت ہے کہ افسپاکے تحت فوج اور فورسزکوحاصل لامحدوداختیارات اورقانونی کارروائی سے دیاگیااستثنیٰ کس قدرانصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بناہواہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے!

ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش وجود جمعرات 26 فروری 2026
ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش

ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر