... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
فریڈرک نطشے(Friedrich Nietzsche)کی کتاب Thus Spoke Zarathustra محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ انسانی شعور کی گہرائیوں میں اترنے والی نفسیاتی چیخ، سیاسی بغاوت اور فلسفیانہ اعلانِ آزادی ہے۔
یہ کتاب اس لمحے کی نمائندہ ہے جب انسانی تاریخ ایک عظیم خلا کے سامنے کھڑی تھی: خدا مر چکا ہے۔ مگر یہ جملہ الحاد کا نعرہ نہیں بلکہ تہذیبی بحران کی تشخیص ہے۔ ہزاروں برس تک انسان نے اپنی اخلاقیات، سیاست اور نفسیات کو مابعد الطبیعاتی سہاروں پر تعمیر کیا—مصر کی دیومالائی بادشاہتوں سے لے کر قرونِ وسطیٰ کے عیسائی یورپ تک، جہاں زمین پر اقتدار آسمان کی مرضی کا عکس سمجھا جاتا تھا۔ جب جدیدیت آئی، سائنسی شعور نے آسمان کو خاموش کر دیا، تو انسان پہلی بار اپنی تنہائی سے آشنا ہوا۔ نطشے اسی تنہائی کا فلسفی ہے۔نفسیاتی اعتبار سے زرتشت دراصل انسانی باطن کا استعارہ ہے۔ وہ پہاڑ سے اترتا ہے جیسے شعور لاشعور کی گہرائی سے ابھرتا ہے۔ اس کا پیغام”Übermensch”دراصل نفسِ امّارہ پر فتح کی دعوت ہے۔ یہ کسی نسلی یا جسمانی برتری کا تصور نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں، خوفوں اور وراثتی اخلاقیات پر قابو پانے کی داخلی جدوجہد ہے۔ انسانی تاریخ میں ہر بڑی پیش رفت—چاہے وہ یونانی المیہ ہو، نشاةِ ثانیہ ہو یا روشن خیالی—اسی خود عبوری (selfـovercoming) کا نتیجہ رہی ہے۔ مگر نطشے کہتا ہے کہ جدید انسان اس مقام پر پہنچ کر رک گیا ہے؛ وہ ”آخری انسان” بن گیا ہے، جو صرف آرام اور تحفظ چاہتا ہے، جو خطرہ مول لینے سے ڈرتا ہے، جو زندگی کو شدت کے بجائے سہولت میں گزارنا چاہتا ہے۔ یہ نفسیاتی جمود دراصل جدید تہذیب کی بیماری ہے۔ سیاسی سطح پر یہ کتاب طاقت کی نئی تعریف پیش کرتی ہے۔”ارادہ قوت” دوسروں پر غلبے کا نام نہیں بلکہ خود پر غلبے کا نام ہے۔ نطشے ریاستی ہجومیت اور اخلاقی بھیڑ چال کا سخت ناقد ہے۔ انسانی تاریخ میں اکثر سیاسی نظام—رومی سلطنت سے لے کر جدید قومی ریاست تک—اجتماعی شناخت کے نام پر فرد کو جذب کرتے رہے ہیں۔ نطشے اس جذب ہونے سے انکار کرتا ہے۔ وہ فرد کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے اندر اقدار تخلیق کرے، نہ کہ انہیں محض وراثت میں قبول کرے۔ یہی بات بعد میں غلط تعبیرات کا شکار ہوئی، حتیٰ کہ اس کی بہن Elisabeth Forsterنے اس فکر کو قوم پرستانہ رنگ دینے کی کوشش کی، حالانکہ نطشے کی اصل جنگ ہجومیت اور غلامانہ اخلاقیات کے خلاف تھی، نہ کہ کسی خاص قوم یا نسل کے حق میں۔فلسفیانہ طور پر”ابدی بازگشت” انسانی آزادی کا کڑا امتحان ہے۔ اگر تمہیں اپنی زندگی بارہا جینی ہو تو کیا تم اسے اسی طرح جیو گے یہ سوال وجودیت کی بنیاد بن جاتا ہے۔ قدیم یونانیوں کے ہاں تقدیر ایک ناگزیر قوت تھی؛ عیسائیت میں نجات ایک مابعد الطبیعی وعدہ؛ مگر نطشے کہتا ہے کہ نہ تقدیر تمہیں بچائے گی نہ نجات کا وعدہ۔ تمہیں اپنی زندگی کو اس طرح جینا ہے کہ تم اسے دہرانا چاہو۔ یہی”amor fati”ہے—تقدیر سے محبت—جو انسان کو شکایت سے تخلیق تک لے جاتی ہے۔
انسانی تاریخ کے وسیع منظرنامے میں یہ کتاب اس موڑ کی علامت ہے جہاں انسان کو پہلی بار مکمل آزادی ملی—اور اس آزادی کا بوجھ بھی۔ قرونِ وسطیٰ میں انسان خدا کے سائے میں محفوظ تھا؛ جدید دور میں وہ تنہا ہے۔ اس تنہائی سے یا تو نِہلزم جنم لیتا ہے یا تخلیق۔ نطشے کی آواز تخلیق کی آواز ہے۔ وہ کہتا ہے کہ زندگی خوبصورت بھی ہے اور سفاک بھی، اور سچا انسان وہ ہے جو دونوں کو گلے لگائے۔زرتشت کی ہنسی—”بلندیوں کی ہنسی درحقیقت اس شعور کی ہنسی ہے جو کائنات کی بے معنویت کو جان کر بھی زندگی کی تائید کرتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں کوئی تیار شدہ اخلاقی ضابطہ نہیں دیتی؛ یہ ہمیں خود اپنا ضابطہ بنانے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی اس کی نفسیاتی شدت، سیاسی بغاوت اور فلسفیانہ عظمت ہے۔ یہ انسان کو کہتی ہے: تم حیوان اور دیوتا کے درمیان بندھی رسی ہو؛ گرنے کا خطرہ ہمیشہ موجود ہے؛ مگر اسی خطرے میں تمہاری شان ہے۔ زندگی کو اس طرح جیو کہ تم اسے ابد تک دہرانے پر آمادہ رہو—اور یہی انسانی تاریخ کی سب سے جرات مند دعوت ہے۔Friedrich Nietzsche کی Thus Spoke Zarathustra اگر یورپ کی روحانی و تہذیبی بحران کی داستان ہے تو اسے پاکستان کی سیاسی و نفسیاتی تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ ایک حیران کن مماثلت دکھاتی ہے۔
نطشے نے جس ”خدا کی موت” کو تہذیبی زلزلہ کہا تھا، پاکستان کی تاریخ میں وہ لمحہ کسی مذہبی انکار کی صورت میں نہیں بلکہ معنوی انتشار کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہاں مسئلہ خدا کا انکار نہیں بلکہ اقدار کی صداقت کا بحران رہا ہے۔1947 میں وجود میں آنے والی ریاست نے خود کو ایک نظریے کے نام پر قائم کیا۔ مگر نظریہ جب عملی سیاست میں داخل ہوتا ہے تو اسے طاقت، مفاد اور خوف کے پیچیدہ کھیل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نطشے کا”ارادہ قوت” پاکستانی سیاسی نفسیات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ طاقت یہاں خود پر غلبہ نہیں بلکہ دوسروں پر کنٹرول کے طور پر سمجھی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی تاریخ بارہا عسکری مداخلتوں، نظریاتی کشمکش اور جمہوری کمزوریوں سے گزری۔ ریاستی بیانیہ اکثر اجتماعی شناخت کے نام پر فرد کو جذب کرتا رہا، اور فرد کی تخلیقی خودی دبتی رہی۔نفسیاتی سطح پر پاکستان کا سماج ایک مسلسل اضطراب میں رہا ہے۔ ایک طرف مذہبی و اخلاقی یقین کی خواہش، دوسری طرف جدیدیت اور عالمی سیاست کا دباؤ۔ یہی وہ کشمکش ہے جسے نطشے ”نِہلزم” کی طرف بڑھتا ہوا مرحلہ کہتا ہے: اقدار موجود ہیں مگر ان پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے۔ عوامی شعور میں ایک طرح کی دوہری زندگی جنم لیتی ہے—اعلانیہ اخلاقیات اور عملی سیاست کے درمیان فاصلہ۔ یہی فاصلہ مایوسی، سازشی سوچ اور اجتماعی بے یقینی کو جنم دیتا ہے۔نطشے کا”آخری انسان” وہ ہے جو صرف تحفظ اور سہولت چاہتا ہے، خطرہ مول نہیں لیتا۔ اگر پاکستانی سماج کو دیکھیں تو بارہا ایسا مرحلہ آیا جب عوام نے استحکام کو آزادی پر ترجیح دی، وقتی سکون کو طویل مدتی تبدیلی پر۔ یہ نفسیاتی رجحان تاریخ کے ہر بحران میں نمایاں رہا ہے: چاہے وہ مارشل لا کا زمانہ ہو یا معاشی بدحالی کے ادوار۔ خطرہ مول لینے والی تخلیقی قیادت اور سماجی جرات کم دکھائی دی، جبکہ وقتی نجات دہندگان کو بارہا قبول کیا گیا۔مگر اسی تاریخ میں نطشے کے”Übermensch”کا امکان بھی موجود ہے—نسلی یا سیاسی برتری نہیں بلکہ خودی کی تخلیق۔ اقبال نے جس ”خودی”کی بات کی، وہ کسی حد تک اسی خود عبوری کا عکس ہے: فرد اپنی تقدیر کا خالق بنے، بھیڑ کی نفسیات سے اوپر اٹھے، اور خوف کی سیاست کو رد کرے۔ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی فرد نے داخلی طاقت سے اجتماعی اقدار تخلیق کرنے کی کوشش کی—چاہے وہ ادبی تحریکیں ہوں، طلبہ سیاست، یا سماجی اصلاح کی کوششیں—وہی لمحے حقیقی زندگی کے لمحے تھے۔”ابدی بازگشت” کے تصور کو اگر پاکستانی تناظر میں رکھیں تو سوال یہ بنتا ہے: کیا ہم اپنی تاریخ کو اسی طرح بارہا دہرانا چاہیں گے؟ بار بار سیاسی عدم استحکام، نظریاتی تقسیم، معاشی بحران؟ اگر جواب نفی میں ہے تو نطشے کا چیلنج یہی ہے کہ تاریخ کو کوسنے کے بجائے اس کی تخلیقی تعبیر کی جائے۔”amor fati”یعنی تقدیر سے محبت، یہاں تقدیر کی مجبوری نہیں بلکہ اس کے اندر تخلیقی امکان تلاش کرنا ہے۔پاکستان کی سیاسی نفسیات میں سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ ہے کہ طاقت کو داخلی اخلاقی قوت کے بجائے بیرونی کنٹرول کے طور پر سمجھا گیا۔ نطشے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے، اقدار کی تخلیق میں ہے، نہ کہ محض اقتدار کے حصول میں۔ جب تک سماج اپنے اندر یہ خود عبوری پیدا نہیں کرے گا، وہ بھیڑ کی نفسیات اور وقتی نجات دہندگان کے چکر میں گھومتا رہے گا۔اس تناظر میں”زرتشت” پاکستان کے لیے کوئی مذہبی یا سیاسی اوتار نہیں بلکہ ایک استعارہ ہے: ایک ایسی آواز جو کہتی ہے کہ زندگی کو شکایت کی بجائے تخلیق کی آنکھ سے دیکھو۔ تاریخ کے زخموں کو محض یادگار نہ بناؤ، انہیں نئی معنویت دو۔ ریاست اور سماج دونوں کو یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم اپنی زندگی اور اپنی تاریخ کو ابدی طور پر دہرانا قبول کریں گے اگر نہیں، تو ہمیں اپنی اقدار خود تخلیق کرنی ہو گی۔ یہی نطشے کا پیغام ہے اور شاید یہی پاکستان کی نفسیاتی و سیاسی نجات کا پہلا قدم بھی۔
٭٭٭