وجود

... loading ...

وجود

زرداری اور شبنم

هفته 21 فروری 2026 زرداری اور شبنم

بے لگام / ستار چوہدری

 

طاقت کردارکو نہیں بدلتی، وہ اسے بے نقاب کرتی ہے ، اقتدارانسان کو بڑا نہیں بناتا اگر اندر سے وہ چھوٹا ہو۔ زرداری صاحب کا فلسفہ ہے ، طاقت بندوق سے نہیں،ڈیل سے آتی ہے ،سیاست،خدمت نہیں واردات ہے ،وہ کرپشن کو مفاہمت کے کفن میں لپیٹنا جانتے ہیں، پاکستان ایک کمپنی۔۔۔ اور بلاول کوسی ای او بنانا ان کی آخری خواہش۔۔۔ ہائے !!
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ۔۔!!
تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں۔
یہ ایک ایسی آیت ہے جو محض مذہبی نصیحت نہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کا آئینہ ہے ،جب کوئی حکمران اپنی دولت، اختیاراوررشتوں کو ریاست سے اوپررکھنا شروع کردے ، تو وہ صرف بدعنوان نہیں ہوتا، پورے نظام کا قاتل ہوتا ہے ۔ زرداری کی زندگی کا مرکزی نکتہ اب ملک نہیں،اولاد کی تخت نشینی ہے ،ان کے اتحاد،وزارتیں،بیانات یہاں تک کہ صدارتی منصب بھی ایک ہی خواب کے لیے استعمال ہو رہا ہے ، بلاول کو کسی نہ کسی طرح وزیراعظم بنایا جائے ۔۔۔ سوال بلاول کی خواہش کا نہیں، سوال اس راستے کا ہے جو پیپلزپارٹی ہمیشہ اقتدار کیلئے کرتی ہے ،پہلا اقتدار ملک توڑ کر حاصل کیا ،آغاز ایک آمر کو ڈیڈی بنا کرہواتھا،بلاول، ہے کون ۔۔۔؟ شناخت صرف اتنی،وہ بے نظیر کا بیٹا ہے ، پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا سانحہ،دوخاندان مسلط ،یوں کہیں، ملک پرجاہلیت مسلط ۔
” گیارہ سال جیل کاٹ چکا ہوں ”۔۔۔۔ تاریخ ایک سادہ سا سوال پوچھتی ہے جیل کیوں کاٹی۔۔۔؟ کیا آپ نے آمریت کے خلاف بغاوت کی تھی۔۔۔؟کیا کوئی عوامی تحریک چلائی تھی ۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ حضور !! بدعنوانی،منی لانڈرنگ،جعلی اکاؤنٹس اورسرکاری وسائل کی لوٹ مار کے مقدمات تھے ، سب کو یاد ہے ،اسٹیٹ بینک کا نوٹوں بھرا ٹرک کس نے غائب کیا تھا،سب کو یاد ہے الطاف انڑ کا واقعہ،سب کو یاد ہے ایان علی،سب کویاد ہے اومنی گروپ،سب کو یاد ہیں شوگر ملیں،سب کو پٹارو کالج والی کہانی بھی یاد ہے ،سب کو یاد ہے نوازشریف سے مل کر”میثاق جمہوریت ” کے نام پر لوٹ مار کا معاہدہ،سب کو یاد ہے جب آپ نے کہا تھا وعدے قران وحدیث نہیں ہوتے ۔۔۔ فخر کس بات کا۔۔۔؟ ضیا شاہد کے بقول جیل کے قریب بنگلے میں رہتے تھے جہاں اداکارہ نور سمیت متعدد اداکاراؤں کی سہولت میسرتھی۔قید اگر قوم کے لیے ہو تو وہ تاریخ بن جاتی ہے ، اوراگرذاتی مفاد کے مقدمات میں ہو تو وہ صرف ایک عدالتی باب رہ جاتی ہے ۔
بہادری کے قصے سن لیں،زندگی میں ایک ہی بار للکارکرکہا تھا ” اینٹ سے اینٹ بجادوں گا ”۔۔۔اگلے ہی دن ملک سے بھاگ گئے ، ”انقلاب” چوبیس گھنٹے بھی نکال سکا،دبئی بھی چھپ گئے ،یہ تضاد زرداری سیاست کا بنیادی وصف ہے ، تقریر میں مزاحمت، عمل میں مصلحت۔ ایک طرف عوام کو آمریت کے خلاف اکساتے رہے ، دوسری طرف خود محفوظ سرزمین پرجا بیٹھے ۔ واپسی کے لیے دو سال پاؤں دباتے رہے ،ترلے ،منتیں ،یہاں سوال صرف فرارکا نہیں، سوال دوہرے معیار کا ہے ۔ جو لیڈر خود خطرہ مول نہ لے وہ قوم کو قربانی کا درس کیسے دے سکتا ہے ۔۔۔۔؟ اور پھر وہی زرداری جو خود طاقت کے سامنے جھکے ، بعد میں خود کو جمہوریت کا محافظ کہلوانے لگے ۔ یہی وہ سیاست ہے جس میں الفاظ بڑے اور کردار چھوٹا ہوتا ہے ۔دبئی کی سرزمین بھٹو،زرداری خاندان کیلئے بڑی زرخیز ہے ،بے نظیر بھی جنرل مشرف سے دبئی میں ہی این آراو حاصل کرکے پاکستان واپس لوٹی تھیں۔
اقتدار ایک آئینہ ہوتا ہے ۔ یہ انسان کو بڑا نہیں بناتا، یہ اسے ظاہر کر دیتا ہے ۔آصف علی زرداری دوسری بار ملک کے صدر بنے ہوئے ہیں، ان کے پاس ایک موقع تھا، وہ اپنے ماضی کے داغ دھو دیتے ، بردباری، وقار اورریاستی اخلاقیات کی مثال قائم کرتے ۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ عمران خان کی بیماری کا مذاق اڑا رہے ہیں، تو ایک سربراہِ مملکت کے شایان شان رویہ ہمدردی یا خاموشی ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہاں مذاق، طنز اور تحقیر دکھائی دی۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جب قوم نے دیکھ لیا کہ عہدہ بڑا ہو سکتا ہے لیکن کردارنہیں۔ یہی زرداری سیاست کا اصل مسئلہ ہے وہ طاقت کو وقار میں نہیں، برتری میں بدل دیتے ہیں۔ ان کے لہجے میں ہمیشہ ایک تاثر رہا ہے ”میں بچ نکلا،تم نہیں”۔۔۔یہی وہ سوچ ہے جو سیاست کو خدمت کے بجائے ایک کامیاب واردات بنا دیتی ہے ۔ صدر بن جانا کوئی عظمت نہیں، عظمت یہ ہے کہ آپ اختلاف رکھنے والوں کو بھی انسان سمجھیں۔ لیکن جب اقتدار انسان کو مغرور بنا دے ، تو وہ ریاست نہیں چلاتا، وہ صرف اپنا دائرہ بڑھاتا ہے۔ طاقت کا سب سے بڑا دشمن وقت ہوتا ہے ۔ لوگ بھول جائیں تو حکمران بچ جاتے ہیں، اور اگر قوم کو یاد آ جائے تو محلات لرزنے لگتے ہیں۔ پاکستان کے عوام سب کچھ جانتے ہیں، بس ان کی یادداشت کو بار بار دھندلایا جاتا ہے ۔ انہیں نئے نعروں، نئے بحرانوں، نئے تماشوں میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ پرانی لوٹ مارپرسوال نہ اٹھے ۔۔۔
حقیقت یا افسانہ یا لطیفہ۔۔۔۔؟ معروف اداکارہ شبنم کافی عرصے بعد بنگلہ دیش سے پاکستان تشریف لائیں،پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ایک عرصہ انہوں نے راج کیا تھا،واپسی پرخوشی اورغمی کے ملتے جلتے اثرات میں گفتگو کررہی تھیں،ایک صحافی نے پوچھا،آپ ایک عرصے بعد پاکستان تشریف لائیں،آپ کو پاکستان کیسے لگا۔۔۔۔؟ وہ مسکرائیں اور کہا،پاکستان نے بہت ترقی کرلی ہے ،ترقی کی سب سے بڑی مثال یہی ہے ،میری فلموں کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت کرنے والا ملک کا صدربن چکا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر