وجود

... loading ...

وجود

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

هفته 21 فروری 2026 سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

ریاض احمدچودھری

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین 18سال گزرجانے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں اورلواحقین کے غم آج بھی تازہ ہیں۔ 18 فروری 2007ء کو بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کی ٹرین کو نشانہ بناکر 68 بے گناہ افراد کو قتل کردیا تھا جن میں سے اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔بھارت نے اس دلخراش سانحے کی ذمہ داری پاکستانی تنظیموں پر ڈال دی تھی ، تاہم واقعے کے بعد راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے کارکن کمل چوہان کی گرفتاری نے بھارتی سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا۔تحقیقات کے دوران آر ایس ایس کے غنڈوں کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے سانحہ کا ذمہ دار ثابت کیا گیا۔فروری 2007ء کو لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پرہندو انتہاپسندوں نے بم سے حملہ کر کے آگ لگائی جس کے نتیجے میں 68 افراد جان کی بازی ہار گئے ،جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔پانی پت کے مقام پر ٹرین میں لگائی گئی آگ میں 43 پاکستانی، 10 بھارتی جبکہ 15 نامعلوم افراد ہلاک ہوئے۔ دہشت گرد حملے میں 10 پاکستانی اور 2 بھارتی زخمی بھی ہوئے۔
بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل پروہت کو بھی گرفتار کیا گیا،کرنل پروہت نے بھی اعتراف کیا کہ اس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح تصادم کرانے کے لئے ہندو دہشت گردوں کو تربیت دی۔بھارت نے کئی بار پاکستان مخالف میڈیا مہم اورفالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا لیکن سمجھوتہ ایکسپریس کی طرح بھارتی حکومت کا ہر ایک حربہ خود ہی بے نقاب ہو گیا۔ہندوستان کا عدالتی نظام بھی مذاق بن چکا ہے۔ بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کیس میں سوامی اسیم آنند سمیت تمام (4) ملزمان کو بری کر چکی ہے۔تحقیقات سے یہ بات منظر عام پر آئی کہ انتہا پسند ہندوئوں نے ٹرین کو آگ لگانے کیلئے مٹی کا تیل ،سلفر اور پوٹاشیم نائٹریٹ کے آمیزہ استعمال کیا اور انہوں نے آگ لگانے والے یہ بم ٹرین کے اندر چھپا کر رکھے تھے بدقسمتی سے یا منصوبے کے تحت ٹرین کے دروازے اندر سے بند تھے۔ ٹرین میںکل 757افراد سوار تھے جن میں 553 پاکستانی تھے۔ بھارتی حکومت اس ٹرین کی حفاظت کی ذمہ دار تھی جس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس دہشتگرد واقعے کی ماسٹر مائنڈ ابھیناو بھارت نامی انتہا پسند تنظیم تھی۔ابھیناو بھارت کی بنیاد 2006 میں بھارتی فوج کے (ر) میجر رمیش اپادھیائے اور لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت پروہت نے رکھی تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت اس و قت انٹیلی جنس کور سے تعلق رکھنیوالا حاضر سروس فوجی افسر تھا۔
بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم ‘بجرنگ دل’ نے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں اور آتشزدگی کی ذمہ داری قبول کی اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت انتہا پسند ہندو تنظیموں کے چہرے سے نقاب ہٹانے سے انکار کر تی رہی۔ پاکستان نے سانحہ کی مشترکہ تحقیقات کی دعوت دی مگر بھارت مشترکہ ٹیم کی جانب سے تحقیقات سے گریزاں کر رہا ۔ کیونکہ بھارتی حکومت ہرگز یہ پسند نہیں کرتی کہ اس آتشزدگی میں جو خفیہ ہاتھ کارفرما تھے وہ بے نقاب ہوں اور ساری دنیا سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی میں ملوث انتہاپسند ہندو تنظیموں بشمول بجرنگ دل کا بھیانک چہرہ دیکھے۔ بھارت نے پاکستان مخالف میڈیا مہم اور فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا لیکن سمجھوتہ ایکسپریس کی طرح مودی سرکار کا ہر ایک حربہ خود ہی بے نقاب ہو چکا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر ہندو توا کے پرچار نے بھارت کے ایک نام نہاد سیکولر ریاست ہونے کا ڈھونگ بھی دنیا پر آشکار کر دیا۔
سانحے کے گیارہ سال بعد دہشت گردوں کی رہائی نے بھارتی عدالتوں کی ساکھ کو بے نقاب کر دیا ۔اس طویل مقدمہ میں تقریباً 300 گواہ تھے جبکہ سماعت کے دوران گزشتہ تین برس میں درجنوں سرکاری گواہ منحرف ہوئے۔سوامی اسیم آنند سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اور اجمیر درگاہ سمیت بعض دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملزم رہا لیکن وہ ان میں سے بھی کئی واقعات میں بری ہوچکا ہے۔بھارت نے اس دھماکے کی ذمہ داری پاکستانی تنظیموں پر ڈالی تھی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ حملہ آور بھارتی تھے اور ان کو بھارتی فوج کے حاضر سروس کرنل پرساد نے اسلحہ فراہم کیا تھا۔ب تک تو بھارتی حکام ان سانحات کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے چلے آرہے تھے مگر اب معلوم ہو چکا ہے کہ ان میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نہایت ڈھٹائی سے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت کا سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ ایک اور عجیب منطق یہ پیش کی گئی ہے کہ بھارتی ادارے لیفٹیننٹ کرنل پروہت کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں کردار کی ابھی تحقیقات کر رہے ہیں۔سمجھوتہ ایکسپریس شہدا ء کے لواحقین کو ان کا حق دلانے کی خاطر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دھماکہ کر کے معصوم پاکستانیوں کو زندہ جلانے کے جرم کا اعتراف کرنے والوں کو بری کرنے کی بنیاد پر عالمی عدالت انصاف میں بھارت کے خلاف رجوع کیا جائے۔پاکستان کی طرف سے قانونی فورم استعمال کرنے سے پہلے سفارتی محاذ پر سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث انتہا پسند ہندوئوں کے کردار کو زیادہ اجاگر کرنے سے داد رسی کا زیادہ امکان ہے۔پاکستانیوں کے لواحقین کو بھارتی عدالت نے اپنا قانونی موقف بھی پیش کرنے کی اجازت نہیں دی اور ملزمان کو رہا کر دیا۔
سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو لگ بھگ 17 سال گزر چکے ہیں۔ عدالتی کمیشن اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ملزم بھی نامزد ہو چکے ہیں ۔ ممبئی حملوں کے بعد تو بھارت نے پاکستان پر دبائو ڈالے رکھا اور نام نہاد اجمل قصاب کو پھانسی تک دے دی مگر سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کا کیا کیا؟


متعلقہ خبریں


مضامین
زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

کوشش کرکے تو دیکھیں! وجود جمعه 20 فروری 2026
کوشش کرکے تو دیکھیں!

بھارت بند ہڑتال وجود جمعه 20 فروری 2026
بھارت بند ہڑتال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر