وجود

... loading ...

وجود

خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

بدھ 18 فروری 2026 خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

حمیداللہ بھٹی

 

حکومتی معاشی ارسطوکہتے ہیں سفارتی کامیابیوں سے عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے، کیونکہ ہر ملک پاکستان سے تعلقات اور سرمایہ کاری کا خواہمشند ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری اور ترقی کا عمل عروج پر ہے ۔معدنیات سے مزید وسائل اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ اب قرضوں سے چھٹکارہ ملے گا۔ اِس عمل کو معاشی کامیابی قراردیاجاتا ہے لیکن حقائق ایسے دعوئوں کی تائیدنہیں کرتے ۔ حالت یہ ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔ملک نہ صرف قرضوں کی دلدل میں مزید دھنس رہا ہے بلکہ ملکی اِدارے مسلسل زوال پذیر ہیں،یوں خسارے کے شکارہیں۔ لیکن حکومتی توجہ اِداروں کو خسارے سے نکالنے کے بجائے مزید قرض لینے پر ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس سے حکمرانوں کی نیک نامی میں اضافہ ہونے کی بجائے کارکردگی سوالیہ نشان ہوئی ہے اور شہری یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ شاید حکمرانوں کو کسی محاسبے کاخوف نہیں، اسی لیے فرائض سے غفلت کے مرتکب ہیں۔
اگر اپوزیشن کہتی تو شاید لوگ یہ کہہ کر رَد کردیتے کہ وہ سچ بول ہی نہیں سکتی اور اُس کا تو کام ہی تنقید کرنا ہے مگر جب حکومت خود خسارے کی نشاندہی کرنے لگے تو اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ صورتحال اتنی دگرگوں ہے کہ اب چھپانا ممکن ہی نہیں رہا۔ یا تو حکمران فرائض کی اِدائیگی میں غفلت کا شکار ہیں اور صرف اقتدار تک محدودہوچکے ہیں یا اُن میں ایسی کوئی صلاحیت واہلیت ہی نہیں کہ امورِ مملکت میں کچھ بہتری لا سکیں۔ وزارتِ خزانہ کی حالیہ ایک رپورٹ چشم کشاہے جس میں مالی سال 2025 میں سرکاری اِداروں کے مالی معاملات کی نقاب کُشائی کی گئی ہے۔ اِس کے مطابق ایک برس میں صرف پچیس اِداروں کو مجموعی طوپر 832ارب کا نقصان ہواہے ۔حالانکہ ایک برس قبل 2024 میں منافع نکالنے کے بعدیہ نقصان محض 30.6ارب تھا، مگر حیران کُن طورپر صرف ایک برس میں یہ نقصان تین صدفیصد اضافے سے 123ارب ہوگیا ۔اگر زیادہ نقصان میں جانے والے اداروں کی بات کریں تو اِن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی 295ارب نقصان کے ساتھ سرِ فہرست ہے ۔یادرہے کہ حکومت نے اِسے نقصان سے نکالنے کے لیے ٹول ٹیکس میں کئی بار اضافہ کیا پھر بھی اگریہ نقصان میں ہے تو سوال یہ ہے کہ اِس کے وہ کون سے ایسے اخراجات ہیں جن کی وجہ سے یہ اِدارہ تباہی کے دہانے پر جاپہنچا ہے؟ اگر حکومت نے اِس سوال کادرست جواب معلوم کر لیا تو مجھے یقین ہے کہ تباہی کی رفتار اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گی۔
بجلی کی سپلائی کمپنیاں ،ریلوے اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی بھی خسارے کا شکار ہیں۔ خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے اور حکومت کو جب بھی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے تو بجلی اور تیل کے نرخ بڑھالیے جاتے ہیں۔ مہنگی بجلی سے ملک کی صنعتی حالت خراب ہوچکی مگر معاشی حالت بہتر بنانے کے بلند وبانگ دعوے کرتے ہوئے حکومت نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بند ہوتی صنعتوں کو ارزاں نرخوں پر بجلی دیکر برآمدات میں اضافہ کیا جائے ،بلکہ دوہزار ارب کپیسٹی چارجز کی مدمیں بغیر بجلی پیداکیے آئی پی پیز کودے کر خوش اور مطمئن ہے۔ اتنی بڑی واردات کا مطلب ہے کہ آئی پی پیز کو حکومتی حلقوں میں دور تک رسائی حاصل ہے اسی لیے بلاجھجک عوام کا خون نچوڑ اجاتا ہے ۔ ریلوے کی اربوں کی اراضی قبضہ گروپوں کے پاس ہے ۔نیز یہ واحد ایسا شعبہ ہے جس میں مفت سفر کرنے والوں کی تعدادہزاروں لاکھوں میں ہے جس کا کوئی تدارک نہیں کیاجارہا جس سے اِس خیال کو تقوت ملتی ہے کہ اِس اِدارے کے لوگ اِس میں ملوث ہیں۔ یہ فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی ہے۔ اگر اسٹیشنوں پر ایسے دروازے نصب کردیے جائیں جو ٹکٹ دکھانے کے بعد گزرنے کا راستہ دیں تو بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ نیز قبضہ گروپوں سے زمین واگزار کراکر بھی نئے منصوبوں سے آمدن بڑھائی جا سکتی ہے، جہاں تک پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی بات ہے تو اِس کے خسارے میں حکومتی فیصلوں اور مداخلت کا عمل دخل ہے۔ حکومت نے پی آئی اے کو نجی شعبے میں دینے کے لیے واجب الادا 650ارب ہولڈنگ کمپنی کے کھاتے میں ڈال دیے ۔اِس کامقصد اچھے دام لینابتایاگیا ،جبکہ پہلی بار بولی میں واجب الادا 650ارب کے ساتھ حکومت کو دس ارب کی پیشکش ہوئی جسے مسترد کردیا گیا، جس کے بعد باریک واردات ڈالی گئی اور راتوں رات 650ارب پی آئی اے کے کھاتے سے نکال کر ہولڈنگ کمپنی کے شمارمیں کر دیے گئے تا کہ اچھے دام ملیں سکیں اور پھر حبیب کنسورشیم نے بولی لگائی تو حکومت نے ایک اور شاہانہ نوازش یہ کی کہ پیشکش کے 125ارب یہ کہہ کروصول کرنے سے انکار کردیا کہ خریدار اِس رقم کو پی آئی اے کی بہتر ی پر لگا لے۔ ایسے فیصلے پسِ پردہ مفاہمت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں اب جبکہ اپریل میں حبیب کنسورشیم بقیہ پچیس فیصد خرید کر پی آئی اے کا مکمل مالک بن جائے گا توسوال یہ ہے کہ ملک کو اِس نجکاری کا فائدہ ہواہے؟اِس کادرست جواب نہیں کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ بظاہرحکومت نے نجکاری کے نام پرچند منظورِ نظر لوگوں میں پی آئی اے جیسا اِدارہ مفت بانٹ دیا ہے ۔
نجکاری حالات کا تقاضا ہے، مگر اِس حوالے سے ملکی مفاد کاتحفظ بھی ضروری ہے۔ اگر نجکاری کے نام پردوستوں کو نوازنا ہے تو اِسے نجکاری کا پیراہن نہ پہنائیں۔ اصلاحات سرکاری اِداروں کی کارکردگی بہتر بنانامشکل نہیں۔ اِس طرح گورننس بہتر بھی بہتر ہوگی۔ رائٹ سائزنگ سے اِداروں کو خسارے سے نکالا جا سکتا ہے لیکن حکومت دعوے تو کرتی ہے لیکن عملی طورپر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔سرکاری اِداروں میں سیاسی مداخلت سے نااہل لوگوں کی بھرمارہوچکی ہے۔ آج بھی فرسودہ طریقہ کار رائج ہے۔ یہ عوامل اِداروں کی مارکیٹ ویلیومتاثر کرتے ہیں۔ گزشتہ برس حکومت نے 2078ارب خسارے میں جانے والے اِداروں کو دیے ۔یہ کُل محاصل کا سولہ فیصد ہے۔ یہ اِتنی بڑی رقم ہے جس سے تعلیم و صحت اور انفراسٹرکچر کے کئی اچھے منصوبے مکمل ہوسکتے تھے۔ چہ جائیکہ اِدارے حکومتی آمدن بڑھانے میں حصہ دار بنتے لیکن محاصل کے ہر چھ روپے میں سے ایک روپیہ حکومت نے اپنے ماتحت اِداروں کو رواں رکھنے پر صرف کر دیا۔اِس میں اہلیت وصلاحیت اور اصلاحات کا کتنا عمل دخل ہے؟ اِس کی نشاندہی کرنے کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے وجود بدھ 18 فروری 2026
خسارے کے شکارسرکاری اِدارے

روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان وجود بدھ 18 فروری 2026
روحانی تجدید اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ۔۔مرحبا رمضان

وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار وجود بدھ 18 فروری 2026
وندے ماترم ، سرکاری اسکولوں میں لازمی قرار

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر