وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

منگل 17 فروری 2026 بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

ماجرا/ محمد طاہر
۔۔۔۔۔۔۔
مغربی دنیا نے تصورات کی دلدل میں جمہوریت کو جو رومانوی ورق دیا ہے ، وہ ایک چھوٹے سے بوتھ میںکاغذ پر قلم سے ایک چھوٹا کراس لگانے سے منسلک ہے۔ عوام کو اپنے نمائندے اپنی مرضی سے چننے کاحق، یعنی انتخابی نمائندگی۔کیا دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں یہ انتخابی نمائندگی عوام کی حقیقی خواہشات کی مکمل عکاس ہوتی ہے؟ اس سوال سے خود مغربی دانشور بھی تذبذب کے ساتھ نبرد آزما رہتے ہیں۔ درحقیقت متعدد ترقی پزیر ممالک میں جمہوریت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ مغربی(بالخصوص امریکی) مداخلتوں کا مکروہ چہرہ بن کر ایک بے توقیر کھیل بن چکا ہے۔اس عمومی زاویۂ فکر کے باوجود جب ہم بنگلہ دیش کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو ایک دوسرا تناظر بھی پیدا ہو تا ہے۔ ہم پاکستانیوں کے لیے بنگلہ دیش ایک ‘دوسرا ‘ملک ہونے کے باوجود اپنے جسم وجان کی طرح ہے۔ یہ احساس ہماری تاریخ کی ڈراونی یادوں سے مل کر زیادہ حساسیت پیدا کر لیتا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ایسی تاریخ میں جڑیں رکھتے ہیں جہاں بہت سی پریشان کن مشترکات ایک دوسرے کے لیے صبر آزما بنتی ہیں، 55سال اُدھر کے بنگلہ دیش نے جن ”رویوں ”کا سامنا ‘یہاں’ سے کیا تھا، اب وہ موجودہ پاکستان کے گلی کوچوں کا نظارا بھی بن گئے ہیں۔ انتخابات کا موضوع کوئی سادہ نہیں۔جمہوریت نمائندگی کے نام پر ہی دھوکا دیتی ہے، مگر خود نمائندگی کو بھی دھوکا بنا دے تو جغرافیے تک بدل جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش اس کی ایک دل دہلا دینے والی مثال ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترک تاریخ کا یہ تجربہ اندوہناک رہا ہے کہ جمہوریت اور انتخابات طاقت کی تحویل میں رہ کر بھیانک نتائج پیدا کرتے ہیں۔ وہ ذہن کیسے ہوں گے جو انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کے لیے ملک کی تقسیم تک گوارا کر لیتے ہوں، اور وہ دانشور کیسی رکاکت رکھتے ہوں گے جو اس پورے رِذالت خیزعمل کے طبلچی رہے ہوں۔
افسوس ناک طور پر پانچ دہائیوں بعد فروری 2024ء کے انتخابات میں فارم 47 کے ذریعے ایک ناجائز حکومت کے قیام میں پوری طاقت
صرف ہوئی تو پاکستانی دانشوروں کی ذہنیت طاقت کی پرستش میں 1971 کے طبلچیوں جیسی ہی ثابت ہوئی۔یہ مضحک نظارہ بھی چوبیس گھنٹے
تک دیکھنے کو ملا جب بنگلہ دیش میں بی این پی برتری لے رہی تھی تو یہاں فارم 47 سے قائم حکومت کے زیرسایہ مزے کرنے والے
دانشوروں نے بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے تیسرے فلور پر غیر معمولی حرکت کے نظارے دیکھ لیے تھے۔ اس مخلوق کو 8فروری 2024ء
کی رات چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی پراسرار غیابت کا پتہ نہ چل سکا تھا۔ بلوچ کہاوت ہے ” آنکھ اپنے عیب دیکھنے میں اندھی
ہوتی ہے”۔یہی ذہنیت بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہمیں ایک مجرم کے طور پر پیش کرتی ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کی ایک مشترک تاریخ رہی ہوگی، مگر اب دونوں کے الگ جغرافیے ہیں۔ قومی ریاستوں کا جبر یہ ہے کہ یہ نظریات اور سماج کے بہتے دھارے بھی گرفت میں لے لیتی ہیں،پاکستان میں تو یہ جبر اس قدردراز تر، تیرہ تراور محیط تر ہے کہ اس نے اسلام ایسے نظریے کی تعبیر بھی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور خالص فقہی اور اسلامی اصطلاحات کی تشریحات و تعبیرات سے بھی علمائے کرام کو دور پرے دھکیل دیا ہے ۔ یہ تباہ کن طرزِ فکربنگلا دیش کو سمجھنے میں وہی فاش غلطی کراسکتا ہے جو افغانستان کے باب میں مسلسل کی جا رہی ہے۔ افغانستان کو الگ ملک نہ سمجھنے کی غلطی نے طالبان کو” ہمارے بچوں’ ‘سے ”ہمارے دشمن” تک دھکیل دیا۔ یہاں تک کہ اب دینی ” تعبیرات” کو اس
‘دشمنی’ پر صرف کیا جا رہا ہے۔ اُدھرافغانستان میں قومی ریاست کے جبر اور تقاضوں نے طالبان کو بھارت ایسی مشرک اور اسلام دشمن ریاست کی طرف دیکھنے کی مجبوری میں مبتلا کردیا ہے۔ واضح ہے کہ بنگلہ دیش ایک قومی ریاست ہے جس کے افغانستان کی طرح اپنے مفادات ہیں۔
بنگلہ دیش کی سیاسی سطح اور سیاسی حرکت موجودہ پاکستان سے بہت مختلف ہے۔1971ء میں امریکی جریدے نیوز ویک نے اِسے ایک پارہ صفت (mercurius) قوم لکھا تھا۔اپنے تمام تعصبات اور رجحانات کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو 1947 میں آزادی کے صرف 24 برس بعد اس قوم نے پاکستانی اشرافیہ سے اپنی جان چھڑانے کے فیصلے پر عمل درآمد کر کے دکھا یا۔یہ کسی بھی نوزائیدہ ریاست میں ایک نہایت قلیل عرصہ ہے مگر بنگالی قوم کی سیاسی حرکت لمبا انتظار نہیں کرتی۔ حسینہ واجد سے نجات کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔اس سے قبل بنگلہ دیش کے قیام سے لے کر اب تک اس کی تاریخ میں جو اتار چڑھاؤ آتے رہے، اس میں سیاسی حرکت ایک اہم عامل رہی۔ فوجی انقلابات سے جان چھڑائی گئی ، جس کی بھینٹ شیخ مجیب(15 اگست 1975 ) اور جنرل ضیاء الرحمان( 30مئی 1981) بھی چڑھے۔ ان دو انقلابات نے حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی شکل میں جو چہرے دیے، وہ بھی ایک دوسرے کو زیر کرنے میں کَھپتے رہے۔ حسینہ واجد نے اپنے پندرہ سالہ اقتدار کا جو غیر متوقع زوال دیکھا ہے، وہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم سبق بن سکتا ہے۔ دو سال قبل وہ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے اپنے پندرہ سالہ اقتدار کو طول دینے کے راستے پر گامزن تھی، فوجی سربراہ اُن کا رشتہ دار تھا۔ مخالفین دار پر لٹکائے جا رہے تھے،سب سے مضبوط سیاسی حریف خالدہ ضیاء زنداں میں اپنے بیمار وجود کے ساتھ موت کا انتظار کر رہی تھیں۔ بھار ت حسینہ کی پشت پر تھا، اور دھاندلی زدہ انتخابات کوپاکستان کی طرح امریکا سے منوا لیا گیا تھا، جس میں نریندر مودی نے چین کا خوف دلا کر امریکا کو آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔یوں دیکھا جائے تو بنگلہ دیش کی قومی سیاست میں شدید عوامی حمایت سے واپسی کرنے والی بی این پی صرف دوسال قبل اپنی بقا کے مسئلے سے دوچار تھی۔ بی این پی کی موجودہ قیادت اور متوقع وزیراعظم طارق رحمان اٹھارہ ماہ قید کاٹ کر ایک خاموش معاہدے کے تحت جلاوطن تھے، جبکہ اُن کی والدہ خالدہ ضیاء 2018 سے زنداں میں تھیں۔ بی این پی ایک ماند جماعت اور خالدہ ضیاء کا خاندان بجھتے لو کی آخری لڑکھڑاہٹوں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اپنی سترہ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹنے کے صرف پانچ روز بعد طارق رحمان کو اپنی والدہ خالدہ ضیاء ( 30 دسمبر 2025ئ) کی وفات کا غم سہنا پڑا۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ حسینہ واجد کی بھارت کی پشت پناہی سے طاقت ور حکمرانی اور بی این پی کے لاغر وجود سے اچانک اتنی بڑی تبدیلی رونما ہو جائے گی۔ اگرچہ عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) باری باری اقتدار میں آنے کے دہائیوں پرانے کھیل کا حصہ رہی ہیں۔ مگر اس مرتبہ یہ سب الگ طریقے سے رونما ہوا ہے۔اور الگ طرح کے نتائج دے سکتا ہے۔ مگر یاد رہنا چاہئے کہ پاکستان سے علیحدگی کی تحریک کو بنگلہ دیش میں ”جنگ آزادی” قرار دیا جاتا ہے۔ اور طارق رحمان بھلے ہی سی ایم ایچ لاہور میں پیدا ہوئے ہوں، وہ ضیاء الرحمان کے صاحبزادے ہیں، اور ضیاء الرحمان بھلے ہی کراچی کے لائنز ایریا میں رہے ہوں،اُنہیں بی این پی اپنا بانی اور ”جنگ آزادی” کا رہنما قرار دیتی ہے۔ یاد تو یہ بھی رہنا چاہئے کہ صرف دو سال میں اقتدار کی کایا کلپ بھی ہو سکتی ہے۔ زوال ،عروج اور عروج ،زوال کی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔معلوم نہیں فارم 47 کی جعلی حکومت کے نمائندے بن کر وفاقی وزیر احسن اقبال بنگلہ دیش کی بی این پی حکومت کا سامنا کیسے کریںگے، جہاں ‘جنگ آزادی’ کی ‘اپنی ‘تاریخ کا سچ یہ تحریر ہے کہ مغربی پاکستان کی طاقت ور اشرافیہ نے ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں کیاتھا،اب 55 برس بعد مینڈیٹ کے جائز ہونے کا سوال مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی گردن کا طوق بناہوا ہے۔ دشمن ملک بھارت میں کانٹے کے بستر پر کروٹیں لیتی حسینہ واجد اس تصویر کو دیکھ کر قدرے راحت سے مسکرا بھی سکتی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ وجود منگل 17 فروری 2026
بنگلہ دیشی انتخابات اور حسینہ واجد کی مسکراہٹ

جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک وجود منگل 17 فروری 2026
جیفری ایپسٹین جرائم کا نیٹ ورک

موضوع کی تلاش وجود منگل 17 فروری 2026
موضوع کی تلاش

جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر