... loading ...
حمیداللہ بھٹی
زرعی ملک کی شناخت رکھنے والا پیارا پاکستان آج صنعتی حوالے سے کچھ قابلِ قدرمقام کے قریب ہے، مزید اطمینان بخش پہلو یہ کہ تمام بڑی طاقتوں سے خوشگوار مراسم ہیں، ماضی میں ایسی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ اگر امریکہ سے دوستی میں سرد مہری آئی تو روس کی طرف تھوڑا جھکائو کرلیا یا پھر شہد سے میٹھی اور سمندرسے گہری چین دوستی سے خودکوتسلی دے لی ،لیکن گزشتہ برس مئی کی جھڑپوں نے پاکستان کی اہمیت،طاقت اورافادیت کی تصدیق کردی اب کمزور ی کا تاثر ختم ہوچکا ہے ۔دنیاسمجھ گئی ہے کہ یہ ملک تمام ڈھانچہ جاتی کمزریوں کے باوجود دفاعی حوالے سے کسی بھی میدان میںغیر متوقع نتائج دے سکتا ہے۔ اسی بنا پر تو وہ امریکہ جس کاخطے میں بھارت ترجیحی تزویراتی اتحادی ہے بھی پاکستان کو ساتھ لیکر چلنے لگا ہے۔ روس اور چین سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ اِن حالات میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ عالمی مہربانیوں سے فائدہ اُٹھا کرملک کی لاغر معیشت درست کی جائے تاکہ خطے کے ساتھ عالمی کردار مستحکم رہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہابلکہ پاکستان معاشی مواقع کھو رہا ہے اور دستیاب عالمی مواقع سے فائدہ نہیں اُٹھایاجا رہا بلکہ سارا زور یہی بتانے پر ہے کہ دیکھو دنیا کی تمام بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات ہیں ۔
کم امریکی محصولات ،یورپی یونین سے جی ایس پلس کی سہولت ،عرب اور وسط ایشیائی ممالک کی طرف سے تجارتی نرمی اورچین کافیاضانہ رویہ ایسے مثبت پہلو ہیں جوملکی معیشت لیے فائدہ مندثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ کہ چین اور سعودی عرب دو ایسے ممالک ہیں جو پاکستان کو دفاعی کے ساتھ معاشی طورپر مستحکم دیکھنے کے سنجیدگی سے خواہشمندہیں اور اِس وقت کئی اہم منصوبوں سے جڑے ہیں ۔یہ خواہش اُن کی اپنی بھی ضرورت ہے کیونکہ مضبوط اور خوشحال پاکستان اُن کے مفادات کی بہتر نگہبانی کرسکتاہے۔ خوش قسمتی سے اِن دونوں کا شمار امیر ممالک میں ہوتا ہے۔ لہٰذاسرمایہ کاری حاصل کرنا آسان ہے۔ اِن ممالک سے بھی پاکستان خاص فائدہ نہیںلے رہا۔اگر سعودیہ سے موخر ادائیگی پر تیل حاصل کرنے پر نظر ہے تو چین سے مزیدقرضے لینے اور ادائیگی موخرکرانے پر توجہ ہے۔ یہ وقت گزار پالیسی ملک کو مزیدمعاشی گرادب کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اگر منصوبہ بندی سے کام لیاجائے تو دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھاکر پاکستان چند برسوں میں معاشی استحکام کی طرف آ سکتا ہے ۔مگر جانے معاشی ماہرین کی نظر میں وہ کون سے پہلو ہیں جو معیشت سے بھی زیادہ اہم ہیں ؟ ایک ارب ڈالر کی ادائیگی پرمتحدہ عرب امارات کاساڑھے چھ فیصد شرح سودپر ایک ماہ کا وقت دینا جوہری پاکستان کے لیے شرمندگی ہے جس کا شایدحکمرانوں کواحساس تک نہیںاور وہ تصوراتی دنیا میں گم ہیں۔ معاشی مواقع سے تبھی فائدہ ہو سکتا ہے جب توجہ خودانحصاری پر ہو،پیداواری شعبے کی استعداد بڑھے اور قرض حاصل کرنے کوہی فن تصور نہ کیا جائے ۔
اِس وقت پاکستان اگر دفاعی حوالے سے اچھے مقام پر ہیں تو تجارت میں پستی کی طرف گامزن ہے امریکہ ،یورپ،چین ،وسط ایشیائی اور عرب ممالک کو برآمدات کم ہورہی ہیں اور دیگر ممالک کو اِن منافع بخش منڈیوں میں قدم جمانے کا موقع مل رہاہے جس سے اِس قیاس کوتقویت ملتی ہے کہ ملک کے معاشی ارسطویا تو ناکام ہو چکے ہیں یا پھروہ کام کرناہی چھوڑ بیٹھے ہیں ۔وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے مالِ تجارت بڑھانے پر توجہ ہی نہ دی جائے اورزرعی وصنعتی شعبوں کا بھٹہ بٹھا دیا جائے ۔بے زاری ، لاپرواہی ، سُستی اور کاہلی ملک کو اُ س مقام پر لے آئی ہے کہ ہمارے پاس عالمی منڈیوں کے لیے کچھ بہت زیادہ نہیں رہا۔ زرعی ملک کی شناخت رکھنے والا پاکستان خوراک میں خودکفالت کی منزل کھوچکاہے ۔گندم،چینی،خوردنی تیل جیسی مصنوعات درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ صنعتوں کا یہ حال ہے کہ بے رحم پالیسیاںصنعتی پہیہ جام کرنے لگی ہیں۔ صنعت وزراعت پر سرمایہ کاری کی بجائے مالدارلوگ جائیداد کی خرید وفروخت پرسرمایہ کاری کرنامنافع بخش تصورکرتے ہیں ،جس سے زرعی رقبہ خطرناک حد تک کم ہورہا ہے اگر اِس پالیسی پر جلد نظرثانی نہ ہوئی اور زرعی زمینوں پر رہائشی مکانات بنانے کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی تو پاکستان ہمیشہ کے لیے خوراک میں خودکفالت کی منزل سے دورہوجائے گا۔ یہ معیشت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔مزید ستم یہ کہ پانی کی خطرناک کمی سے زرعی پیداوار ویسے ہی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اِ ن حالات میں اگر زرعی ماہرین کی تجاویز پر عمل ہواور زرخیز زمینوں کی بجائے بنجر علاقوں کی طرف آبادیاں بنائی جائیں تو زرخیز زرعی رقبے کانقصان رُک سکتا ہے اور کسانوں کوبہتر بیج اور کھاددے کرملک کو خوراک میں دوبارہ خودکفیل کیاجا سکتاہے ۔
معاشی ناہمواری کے نقصانات سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن حکمران طبقہ شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہے اور اپنی حکمرانی کو ہی ملکی استحکام سمجھ بیٹھاہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.2 ہے جو گزشتہ اکیس سال کی بلند ترین سطح ہے ۔یہ ایک تشویشناک پہلو ہے کہ افرادی قوت سے معاشی فائد ہ نہیں لیاجارہا ،حالانکہ چین اور بھارت نے افرادی قوت سے خیرہ کُن معاشی ترقی کی ہے۔ مگر پاکستان سے تعلیم یافتہ افراد بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ ایسا خطرناک رجحان ہے جس کے ملک کی تکنیکی استعداد پر گہرے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ ہر برس مزید تیس لاکھ کا افرادی قوت میں شامل ہونا الگ مسئلہ ہے، کیونکہ اِس تناسب سے روزگار اور رہائش کے مواقع دینے سے ملک قاصر ہے۔ تعلیم یافتہ اور ہُنر مند نوجوانوں کو مناسب روزگار دیکر معیشت کی بنیادیں مضبوط بنائی جاسکتی ہیں ۔معیشت کا فعال حصہ نہ بنانے کے سیاسی اور معاشی نقصان کاخدشہ بڑھتاہے لیکن آج بھی چھوٹے اور متوسط کاروباروں کی حوصلہ افزائی اورآن لائن کام کے لیے مالی معاونت جیسے منصوبوں کا فقدان ہے ۔انشورنس کی سہولت بھی محدودہے ۔اگر حکومت منصوبہ بندی سے کام لے تو افرادی قوت کو کارآمد بنا کرمعیشت بہتر بنائی جا سکتی ہے اور نوجوان ملکی ترقی کا انجن ثابت ہو سکتے ہیں اور تھوڑی توجہ دے کرغیر قانونی ہجرت بھی روکی جا سکتی ہے یہ کام کچھ زیادہ مشکل نہیں ۔حکومت اگر حکومتوں سے معاہدے کرے اور افرادی قوت کو باضابطہ طریقے سے بھیجے توغیر قانونی ذرائع سے رقومات کی منتقلی پر بھی قابوپایا جا سکتا ہے ۔اِس طرح ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو گالیکن حکومتی توجہ بیرونِ ملک جانے والوں کی راہ روکنے پر ہے جس نہ صرف غیر قانونی ہجرت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کا کچھ بھلا نہیں ہوگا۔
٭٭٭