... loading ...
حمیدااللہ بھٹی
لہولہو بلوچستان سے ہر شہری متفکر ،پریشان اورر نجیدہ ہے۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر نے نہ صرف معصوم اور امن پسند بلوچوں کواچانک حملوں سے خوفزدہ کیا بلکہ دہشت گردی سے ترقی اور سرمایہ کاری کا عمل روکنے کی بھی کوشش کی۔ اطمنان بخش پہلو یہ ہے کہ حملہ آوروں کی اکثریت کو چند گھنٹوں میں ہی پاک فوج نے اپنے تیزترین ردِ عمل سے تلف کردیا جس پر محب الوطن حلقوں نے اطمنان کا سانس لیا ہے کہ ملکی سلامتی کے محافظ اِدارے نہ صرف جاگ رہے ہیں بلکہ وطن کی حُرمت اور شہریوں کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دے رہے۔ ویسے تو عرصہ دراز سے بیرونی راتب خوری کے رسیا اِس پُرامن علاقے کو بدامنی کا مرکز بنانے کی کوشش میں ہیں، لیکن محافظ اِداروں کی چوکسی نے کسی کو مذموم مقاصد حاصل نہ کرنے دیے لیکن جب بلوچستان میں اچانک بارہ سے زائدمختلف مقامات پر حملوں اور جانی ومالی نقصان کی خبریں آنے لگیں توپاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور استحکام کے خواہشمند حلقوں کا پریشان ہونا فطری تھا کہ پاکستان شناخت ہونے کے ساتھ عزت کا باعث ہے۔ پاک فوج کے بہادرجوانوں نے کمال سُرعت سے جواب دیاتوکئی خدشے اور وسوسے کم ہوئے کچھ حلقوں کا قیاس ہے کہ عسکری اِداروں نے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے نکالنے کے لیے خود سازگار حالات دیے تاکہ شرپسندپہاڑوں سے میدانی علاقوں کا رُخ کریں اور بچھائے جال میں پھنسیں اورپھر معصوم اور پُرامن بلوچ شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والوں کوکیفرِ کردار تک پہنچایاجائے ۔یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی اور دہشت گردوں کی بڑی تعداد رزقِ خاک بن گئی مگر مجھے ایسے قیاسات سے اتفاق نہیں جس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔
بھارت ایک کینہ پرورہمسایہ ہے یہ کسی ہمسائے کی ترقی ، خوشحالی اوراستحکام برداشت ہی نہیں کر سکتا اِس لیے جب گزشتہ برس چھ سے دس مئی تک کی زمینی اور فضائی جھڑپوں میں اُسے شکست فاش ہوئی اوروہ جان گیا کہ میدانِ جنگ میں پاک فوج کو شکست دینا تو درکنار مقابلہ کرنا بھی مشکل ہے توعالمی ثالثوں کے کہنے پر جنگ بندی کرلی اور مزید ردِ عمل دینے کی بجائے پُراسرار خاموشی اختیار کرلی تو واقفانِ حال نے اُسی وقت کہنا شروع کردیا تھاکہ بھارت کی خاموشی خالی ازعلت نہیں اِس خاموشی کے پیچھے طوفان ہے جو کسی وقت بھی پاکستانی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے آج بلوچستان کے حالات شاہد ہیں کہ بھارت اپنی سازشوں اور مکروفریب کی چالیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری ختم ہواور ترقی کا جاری عمل رُک جائے اب یہ پاکستان نے فیصلہ کرناہے کہ بلوچستان کے مٹھی بھر راہ گم
کردہ عناصر کو بھارتی راتب خوری سے روکناہے یا پھر نرمی اور رحمدلی کا سلوک جاری رکھناہے یادرہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔
میدانِ جنگ میں شکست فاش نے بھارتی قیادت کو بوکھلا دیا ہے اور اُسے سمجھ آگیا ہے کہ اگرخطے میں بالادستی حاصل کرنی ہے تو پاکستان
کی دفاعی صلاحیت کوکمزور کرناہوگا طالبان کی صورت میں اُسے ایسا رفیق دستیاب ہے جو مناسب معاوضے پر ہر حد تک جانے کو آمادہ و تیار ہے چاہے کے پی کے میں دہشت گردی ہو یا بلوچستان میں قومیت کے نام پر لگائی آگ کی بات ، سب کے روابط براہ راست افغانستان سے جُڑے ہیں دہشت گردوں کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ہیں اُن کے پاس دنیا کاجدیداور مہنگاترین اسلحہ ہے طالبان کے زریعے انھیں تربیت ، اسلحہ اور معاوضہ ملتاہے اگر دہشت گردوں کو بیرونی تربیت،اسلحہ اور مالی تعاون نہ ملے تو فوری خاتمہ کیاجا سکتا ہے مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ ناراض سیاسی عناصر بھی دہشت گردی کا جواز احساسِ محرومی بتاتے ہیں حالانکہ احساس ِ محرومی کا رونا رونے والے ریاستی وسائل سے ڈاکٹر انجینئر بنتے ہیں حکومتی اِداروں میں عہدے حاصل کرتے ہیں لہذا سیاست میںقومیت اور لسانی تعصب نہیں ملکی سالمیت سب سے مقدم ہونی چاہیے لیکن یہ عناصر اپنی سیاست چمکانے کے لیے حکومت اور عسکری اِداروں کے خلاف مُہمات کا حصہ بنتے ہیں جنھیں لگام دینا ناگزیر ہے مزیدنرمی اور رحمدلی کی گنجائش نہیں ۔
سفارتی نزاکتیں اپنی جگہ ، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایسے دوست ممالک سے دوٹوک بات کرے جنھیں بلوچستان اور گوادر کی خوشحالی ناپسند ہے یادرہے بھارت ، اسرائیل اور دبئی کابلوچستان کے حوالے سے ایجنڈایکساں ہے۔ دبئی جانتا ہے کہ اگر گوادرصیح معنوں میں کام کرنے لگی تودبئی کی مرکزیت کو نقصان پہنچے گا۔ اِس ریگستانی ریاست کی تیل کے بغیر تجارت ایک ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ حالانکہ یہاں زرعی اجناس یا ایسی مصنوعات کی کوئی پیدوار نہیں اسی لیے ایک تواپنی اہمیت اور مرکزیت قائم رکھنے کے لیے بھارت اور اسرائیل کی کٹھ پتلی ہے ۔دوسراپاک سعودیہ دفاعی معاہدے پر ناراض ہے۔ مذکورہ عوامل کی بناپرپاکستان میں مصروف علیحدگی پسند دہشت گردوں اور مزہبی شدت پسند وںکی لڑنے کی استعدادبڑھانے میں پیش پیش ہے ۔اگر پاکستان سفارتی ذرائع سے شواہد کی روشنی میں بات کرے تو عین ممکن ہے ایسی سازشوں سے دستکش ہوجائے کیونکہ دولت اپنی جگہ، یہ ریاست اپنے دفاع کی اہلیت و صلاحیت نہیں رکھتی۔
اسلامی ملک ہو جوہری طاقت ہو اور خود سے کئی گُنا بڑے ملک کو لڑائی میں پچھاڑ کر عالمی طاقتوں کا ایجنڈادرہم برہم کردے۔ ایسی صورتحال عالمی طاقتیں پسند نہیں کر سکتیں لیکن پاکستان اسلامی ملک ہوکربھی جوہری طاقت ہے اور سب بڑی بات یہ کہ خود سے آٹھ گُنا بڑے ملک بھارت کو چند گھنٹوں میں پچھاڑ چکا ہے جس سے جنوبی ایشیا میں بھارتی بالادستی کاخواب ٹوٹنے کے ساتھ عالمی طاقتوں کا ایجنڈا بھی متاثر ہواہے اور اب مایوسی کا شکار عالمی طاقتیں خطے میں جغرافیائی تبدیلیاں لاناچاہتی ہیں ۔وہ چاہتی ہیں کہ پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کو ملا کر ایک ایسی ریاست بنائی جائے جہاں اڈے بنا کرخطے کوکنٹرول کر سکیں ایرانی قیادت کے حالیہ اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ عالمی ریشہ دوانیوں کوجان چکا ہے۔ اسی لیے کچھ عرصے سے اُس کی حکمت ِعملی میں تبدیلی آئی ہے نہ صرف ایران میں مصروف بھارتی کمپنیوں کا عمل دخل محدود کیابلکہ بلوچ شورش پر قابوپانے میں معلومات کا تبادلہ بھی کرنے لگا ہے یہ ایک مثبت تبدیلی ہے پاک فوج نے توتیز ترین ردِ عمل دیکر ثابت کردیا کہ وہ ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتی ہے اب حکومت کابھی کام ہے کہ بظاہر دوستی کے دعویدار افغانستان اور دبئی سے دوٹوک بات کرے اور ایران کو خطرے کا احساس دلا کرمزید تعاون لے۔
٭٭٭