وجود

... loading ...

وجود

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

بدھ 04 فروری 2026 صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

آواز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امداد سومرو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ میں صحافت کو ہمیشہ جدوجہد، سچائی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے ، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں صحافت کے نام پر ایسے کردار سامنے آئے ہیں جو نہ صرف اس مقدس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ سماج، ریاست اور اداروں کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکے ہیں۔میرپورخاص میں حالیہ پیش آنے والا واقعہ جس میں دو نام نہاد صحافی رضا رند اور فلک شیر، جو مبینہ طور پر اردو کے بڑے میڈیا اداروں سے وابستہ تھے ، حساس اداروں کے افسران کے نام پر بلیک میلنگ، فراڈ اور ٹھیکے حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران گرفتار ہوئے،اسے کسی ایک یا دو افراد تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک ملزم فرار ہو گیا جبکہ ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ دراصل ایک منظم، محفوظ اور طاقتور نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے جو صحافت کو ڈھال بنا کر ریاستی اداروں کے نام پر نفسیاتی دہشت پھیلا رہا ہے ۔نوّے کی دہائی میں ایک ایسا دور بھی تھا جب سندھ کی صحافت کی سینئر نسل نے انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے عوامی حقوق کے دشمنوں کو بے نقاب کیا، جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر افسران کو للکارا، اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے والوں اور قومی خزانے کو لوٹنے والوں کا احتساب کیا۔ انہی صحافیوں نے سیاسی کارکنوں اور مظلوموں کی آواز بن کر امان جندو کو انصاف دلوایا، ایک بڑے ادارے کے سینئر افسر کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا، اور جرگائی وڈیروں، خونخوار سرداروں، منشیات فروشوں اور پولیس کے گٹھ جوڑ کو عوامی اور عدالتی سطح پر بے نقاب کیا۔اس کے برعکس آج کی صحافتی نسل چند باکردار افراد کو چھوڑ کراکثریت میں یا تو براہِ راست منشیات فروشوں سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے یا ان کی سہولت کار بنی ہوئی ہے ۔ جاگیرداروں، رشوت خور افسران کی ٹاؤٹ گیری، مخبری اور دربارداری نے صحافت کو اس حد تک آلودہ کر دیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ جو لوگ آج بھی صحافت کو حق حلال کی روزی اور ایک مشن سمجھ کر کرتے ہیں، وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، جبکہ بلیک میلنگ اور ناجائز کمائی کو ذریعہ بنانے والے نوّے فیصد سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے باعزت صحافی خود کو صحافی کہلوانے سے بھی گریز کرنے لگے ہیں۔
صحافت کے نام پر نفسیاتی مریضوں اور دولت کی ہوس میں مبتلا عناصر نے عوام کو اس قدر تنگ کر دیا ہے کہ اب رشوت خور پولیس اور ریونیو افسران بھی فرشتے دکھائی دینے لگے ہیں۔حساس اداروں کے نام کا غلط استعمال محض فراڈ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے ساتھ کھلا کھیل ہے ۔ جب کسی شہری، افسر یا ٹھیکیدار کو یہ کہا جائے کہ ادارے آپ کے پیچھے ہیں، تو یہ خوف، دباؤ اور ذہنی اذیت کا ایسا طریقہ ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے ۔سندھ کے ہر شہر میں تین سے پانچ مختلف پریس کلب، ایوانِ صحافت اور نیشنل پریس کلب کے نام پر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ میرپورخاص کیس میں ملزمان کے اعترافات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض صحافتی اداروں سے وابستہ افراد نہ صرف اس نیٹ ورک سے واقف تھے بلکہ اس کی سرپرستی بھی کرتے رہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ادارے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہیں تو پھر یہ بلیک میلنگ، جعلی شناختوں، سی ڈی آرز اور حساس ڈیٹا کے مراکز کیسے بن گئے ؟یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے ۔صحافی یا بلیک میلر؟صحافت کا کام سوال اٹھانا، احتساب کرنا اور سچ لکھنا ہے ، نہ کہ پیسوں کے عوض نوکریوں کے وعدے کرنا، میڈیکل ٹیسٹوں کے نتائج بدلوانا، تعلیمی بورڈز کے نمبرز فکس کرانا یا سرکاری ٹھیکے دلوانا۔ ایسی سرگرمیاں صحافت نہیں بلکہ کھلی دلالی اور عوام دشمنی ہیں۔اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا نقصان ان ایماندار صحافیوں کو پہنچ رہا ہے جو محدود وسائل، دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود سچ لکھتے ہیں۔ جب عوام کی نظر میں صحافی کا لفظ بلیک میلر، ٹاؤٹ اور دلال کے مترادف بن جائے تو اصل صحافت اور اصل صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ صحافت کو بھی دیگر پیشوں کی طرح ضابطوں کے تحت لایا جائے ۔ جیسے ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل تعلیمی اہلیت، ریگولیٹری کونسل، لائسنسنگ نظام اور ضابطے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کے پابند ہیں، اسی طرح صحافت کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے ۔ہر وہ شخص جو موبائل فون لے کر گھروں، دفاتر اور دکانوں میں خود کو صحافی کہلواتا پھرتا ہے ، اسے روکنے کے لیے واضح قانونی معیار مقرر کیے جائیں۔ صحافی بننے کے لیے کم از کم تعلیمی اہلیت، پیشہ ورانہ تربیت اور باقاعدہ رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے ۔اس سے بھی بڑھ کر صحافتی قیادت کی ذمہ داری ہے ۔ صحافتی رہنماؤں کو ان کالی بھیڑوں کی سرپرستی کرنے کے بجائے ان سے لاتعلقی اختیار کرنی ہوگی۔ صفوں کی صفائی کے بغیر صحافت کی بحالی ممکن نہیں۔ میرٹ، معیار اور اخلاقیات ہی صحافت کو دوبارہ عزت دلا سکتی ہیں۔اگر اس مرحلے پر بھی صحافتی برادری خاموش رہی تو کل صحافی اور بلیک میلر میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر یہی روش جاری رہی تو صحافت جیسے آفاقی اور مقدس پیشے کی موت دور نہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ وجود بدھ 04 فروری 2026
صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

ناقابل شکست وجود بدھ 04 فروری 2026
ناقابل شکست

خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر