وجود

... loading ...

وجود

خون اور رنگ

منگل 03 فروری 2026 خون اور رنگ

بے لگام / ستار چوہدری

یہ کوئی عام شام نہیں تھی۔ کسی گلی میں بچے ہنس رہے تھے ، کسی کمرے میں ماں رو رہی تھی۔ کسی شہر میں موسیقی کی ریہرسل ہو رہی تھی ۔۔۔ اور کسی پہاڑی پر ایک اور لاش خون میں بھیگی مٹی سے اٹھائی جا رہی تھی۔ یہ سب ایک ہی دن ہو رہا تھا۔ ایک ہی ملک میں۔ ایک ہی پرچم کے سائے میں۔ خیبر پختونخوا میں کسی نے اپنے بھائی کو دفن کیا۔ بلوچستان میں کسی نے اپنے باپ کا نام پکارا مگر جواب صرف خاموشی تھی۔۔۔۔ اور اسی دن پنجاب میں فائلوں پرمہر لگی ” بسنت ہوگی،فیسٹیول ہوگا ”چار چھٹیاں ہونگیں۔ جیسے یہ ملک ”خون اوررنگوں” میں تقسیم ہو چکا ہو۔ ریاست نے اپنی گھڑی بدل لی تھی۔ ایک گھڑی لاشوں کے ساتھ چل رہی تھی، دوسری پتنگوں کے ساتھ ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دکھ ذاتی نہیں رہا، سیاسی ہو گیا۔ جب ایک ماں کی چیخ قومی شور میں دب گئی اور ایک شہر کا جشن ریاستی ترجیح بن گیا۔
ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ لوگ کیوں خوش ہیں۔۔۔؟ ہم یہ پوچھ رہے ہیں۔ ریاست کیوں بہری ہو گئی ہے ۔۔۔؟ ریاست کا کام قوم کو خوش کرنا نہیں، قوم کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے ۔ مگر یہاں محفوظ صرف وہ ہے ، جو طاقت کے مرکز کے قریب ہے ۔ باقی۔۔۔؟ وہ صرف ” بریکنگ نیوز” ہیں۔اس ملک میں ہرموت برابر نہیں ہوتی۔ کچھ لاشوں پر پرائم ٹائم شوز ہوتے ہیں، اینکر کی آواز کانپتی ہے ، حکمران تعزیت کے پیغامات دیتے ہیں ۔۔۔اور کچھ لاشیں صرف ایک سرخی بن کر اخبار کے نچلے کونے میں دفن ہو جاتی ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں۔ یہ ایک سیاسی جغرافیہ ہے ۔ بلوچستان میں اگر دس لوگ مریں تو وہ ”دور درازعلاقہ” کہلاتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں دھماکہ ہو تو وہ ”سکیورٹی مسئلہ” بن جاتا ہے ۔ لیکن پنجاب میں ایک سانحہ ہو تو وہ ” قومی المیہ ”۔۔۔ ریاست اپنے شہریوں کو نہیں، اپنے ووٹ بینک کو روتی ہے ۔ اسی لیے جہاں ووٹ زیادہ ہیں وہاں آنسو بھی زیادہ بہتے ہیں۔ جہاں ووٹ کم ہیں وہاں قبریں زیادہ بنتی ہیں، اور پھر اسی جغرافیے پر ترقی کے نقشے بنتے ہیں، فیسٹیول رکھے جاتے ہیں، چھٹیاں دی جاتی ہیں۔یہ صرف ناانصافی نہیں، یہ ایک خاموش اعلان ہے ” تمہاری زندگیاں،ہماری سیاست سے کم قیمتی ہیں ”۔۔۔
جب بلوچستان جل رہا ہوتا ہے تو اقتدار کے ایوان ٹھنڈے رہتے ہیں ،جب خیبر پختونخوا رو رہا ہوتا ہے تو دارالحکومت میوزک کنسرٹس میں مصروف ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں بڑھتی وہ بے حسی سے بھی پھیلتی ہے ۔ جب لوگوں کو یہ پیغام ملے
کہ ان کی موت ریاست کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی تو پھر وہ ریاست سے بھی وفاداری چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اوریوں ایک اوردھماکہ۔۔۔ ایک اورلاش۔۔۔۔ ایک اورخاموشی ۔۔۔جشن گناہ نہیں، مگر بے وقت جشن جرم ہوتا ہے ، خوشی خود میں کوئی برائی نہیں۔ قومیں ہنستی ہیں تبھی زندہ رہتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے ، کب۔۔۔؟ جب آپ کے گھرمیں کسی کا جنازہ پڑا ہو اور آپ لاؤڈ اسپیکرپرگانے بجا دیں تو یہ خوشی نہیں بدتمیزی ہوتی ہے ۔ ریاست بھی ایک اجتماعی گھر ہوتی ہے ۔ اگراس گھرکے ایک کمرے میں خون بہہ رہا ہو تو دوسرے کمرے میں رقص کرنا اخلاقی دیوالیہ پن ہوتا ہے ۔ یہ نہیں کہتا کہ لاہورماتم کرے ، یہ کہتا ہوں کہ لاہور کم از کم شورتو بند کرے ۔ بلوچستان اورخیبرپختونخوا اس گھر کے دورکے کمرے نہیں، اسی چھت کے نیچے ہیں۔ جب وہاں دھماکے ہوتے ہیں تو دراصل پورے گھر کی دیواریں ہلتی ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران شیشے کے کمروں میں رہتے ہیں، جہاں، صرف ڈھول کی آواز پہنچتی ہے ، دھماکوں کی نہیں۔ اوراسی لیے انہیں لگتا ہے سب ٹھیک ہے۔
فیسٹیول۔۔۔ ریاست کی ترجیحات کا اعلان ہوتا ہے ۔ جب آپ خون کے موسم میں میلہ لگاتے ہیں تو آپ کہہ رہے ہوتے ہیں ” ہمیں تمہارے مرنے سے زیادہ اہم ہمارا تماشا ہے ”۔۔۔ اوریہ وہ جملہ ہے جسے دہشت گرد سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست اورعوام ایک دوسرے سے کٹ جائیں ۔دہشت گرد جسم مارتے ہیں۔ ریاستی بے حسی وفاداری مارتی ہے ۔ جب ایک نوجوان اپنے والد کی لاش بلوچستان کی کسی وادی میں اٹھاتا ہے اور ٹی وی پر دیکھتا ہے کہ دوسرے کسی شہر میں آتش بازی ہو رہی ہے تو اس کے اندر ریاست مرجاتی ہے ۔ پھر اسے یہ ملک اپنا نہیں لگتا صرف ایک جیل لگتا ہے ۔۔۔اوریہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں بندوق کو نیا ایندھن ملتا ہے ۔ ریاست شاید سمجھتی ہے کہ وہ جشن منا کر لوگوں کو نارمل دکھا رہی ہے لیکن اصل میں وہ لوگوں کو الگ تھلگ کر رہی ہوتی ہے ۔ آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے ” تمہارے بچے مرگئے لیکن ہمارا شو چلتا رہے گا” ۔ یہ صرف سیاسی نہیں یہ اخلاقی جرم ہے ۔ دہشت گردی صرف بارود سے نہیں پھیلتی وہ اس احساس سے بھی جنم لیتی ہے کہ ”ہم اکیلے ہیں ” اورجب کوئی ریاست اپنے ہی لوگوں کو اکیلا چھوڑ دے تو پھروہ ملک صرف نقشے میں رہ جاتا ہے دلوں میں نہیں۔افسوس !! مجھے تو یوں لگتا ملک دو حصوں میں بٹ چکا ہے ۔ ایک وہ جہاں لوگ مرتے ہیں۔ دوسرا وہ جہاں لوگ تماشا دیکھتے ہیں۔ ایک طرف ماں بیٹے کی تصویر سینے سے لگا کر سڑک پر بیٹھی ہے ، اور دوسری طرف شہر رنگین کاغذ سے سجا ہوا ہے ۔ یہ صرف ناانصافی نہیں یہ قومی بدقسمتی ہے ۔ ریاست شاید سمجھتی ہے کہ فیسٹیول امید پیدا کرتے ہیں، لیکن وہ بھول جاتی ہے کہ امید انصاف سے پیدا ہوتی ہے تماشے سے نہیں۔ جو ملک اپنے زخموں پر ڈھول بجاتا ہے وہ زخم بھرنے نہیں سڑانے لگتا ہے ۔
آج بلوچستان اور خیبر پختونخوا صرف دہشت گردی کا شکار نہیں وہ بھلا دیے جانے کا شکار ہیں۔ اور جب کوئی ریاست اپنے ہی لوگوں کو بھول جائے تو تاریخ اسے ایک جملے میں یاد رکھتی ہے ”۔۔۔ایک ایسا ملک تھا جہاں نیچے لاشیں گرتی تھی اوراوپرپتنگیں اڑتی تھیں” ۔۔۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں بڑھتی، بے حسی سے بھی پھیلتی ہے ، ریاست کا کام قوم کو خوش کرنا نہیں، قوم کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے ۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خون اور رنگ وجود منگل 03 فروری 2026
خون اور رنگ

سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل وجود منگل 03 فروری 2026
سوشل میڈیا لت کا بچوں میں خطرناک استعمال اور نفسیاتی مسائل

گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر