... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
یہ کوئی عام شام نہیں تھی۔ کسی گلی میں بچے ہنس رہے تھے ، کسی کمرے میں ماں رو رہی تھی۔ کسی شہر میں موسیقی کی ریہرسل ہو رہی تھی ۔۔۔ اور کسی پہاڑی پر ایک اور لاش خون میں بھیگی مٹی سے اٹھائی جا رہی تھی۔ یہ سب ایک ہی دن ہو رہا تھا۔ ایک ہی ملک میں۔ ایک ہی پرچم کے سائے میں۔ خیبر پختونخوا میں کسی نے اپنے بھائی کو دفن کیا۔ بلوچستان میں کسی نے اپنے باپ کا نام پکارا مگر جواب صرف خاموشی تھی۔۔۔۔ اور اسی دن پنجاب میں فائلوں پرمہر لگی ” بسنت ہوگی،فیسٹیول ہوگا ”چار چھٹیاں ہونگیں۔ جیسے یہ ملک ”خون اوررنگوں” میں تقسیم ہو چکا ہو۔ ریاست نے اپنی گھڑی بدل لی تھی۔ ایک گھڑی لاشوں کے ساتھ چل رہی تھی، دوسری پتنگوں کے ساتھ ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دکھ ذاتی نہیں رہا، سیاسی ہو گیا۔ جب ایک ماں کی چیخ قومی شور میں دب گئی اور ایک شہر کا جشن ریاستی ترجیح بن گیا۔
ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ لوگ کیوں خوش ہیں۔۔۔؟ ہم یہ پوچھ رہے ہیں۔ ریاست کیوں بہری ہو گئی ہے ۔۔۔؟ ریاست کا کام قوم کو خوش کرنا نہیں، قوم کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے ۔ مگر یہاں محفوظ صرف وہ ہے ، جو طاقت کے مرکز کے قریب ہے ۔ باقی۔۔۔؟ وہ صرف ” بریکنگ نیوز” ہیں۔اس ملک میں ہرموت برابر نہیں ہوتی۔ کچھ لاشوں پر پرائم ٹائم شوز ہوتے ہیں، اینکر کی آواز کانپتی ہے ، حکمران تعزیت کے پیغامات دیتے ہیں ۔۔۔اور کچھ لاشیں صرف ایک سرخی بن کر اخبار کے نچلے کونے میں دفن ہو جاتی ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں۔ یہ ایک سیاسی جغرافیہ ہے ۔ بلوچستان میں اگر دس لوگ مریں تو وہ ”دور درازعلاقہ” کہلاتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں دھماکہ ہو تو وہ ”سکیورٹی مسئلہ” بن جاتا ہے ۔ لیکن پنجاب میں ایک سانحہ ہو تو وہ ” قومی المیہ ”۔۔۔ ریاست اپنے شہریوں کو نہیں، اپنے ووٹ بینک کو روتی ہے ۔ اسی لیے جہاں ووٹ زیادہ ہیں وہاں آنسو بھی زیادہ بہتے ہیں۔ جہاں ووٹ کم ہیں وہاں قبریں زیادہ بنتی ہیں، اور پھر اسی جغرافیے پر ترقی کے نقشے بنتے ہیں، فیسٹیول رکھے جاتے ہیں، چھٹیاں دی جاتی ہیں۔یہ صرف ناانصافی نہیں، یہ ایک خاموش اعلان ہے ” تمہاری زندگیاں،ہماری سیاست سے کم قیمتی ہیں ”۔۔۔
جب بلوچستان جل رہا ہوتا ہے تو اقتدار کے ایوان ٹھنڈے رہتے ہیں ،جب خیبر پختونخوا رو رہا ہوتا ہے تو دارالحکومت میوزک کنسرٹس میں مصروف ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں بڑھتی وہ بے حسی سے بھی پھیلتی ہے ۔ جب لوگوں کو یہ پیغام ملے
کہ ان کی موت ریاست کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی تو پھر وہ ریاست سے بھی وفاداری چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ اوریوں ایک اوردھماکہ۔۔۔ ایک اورلاش۔۔۔۔ ایک اورخاموشی ۔۔۔جشن گناہ نہیں، مگر بے وقت جشن جرم ہوتا ہے ، خوشی خود میں کوئی برائی نہیں۔ قومیں ہنستی ہیں تبھی زندہ رہتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے ، کب۔۔۔؟ جب آپ کے گھرمیں کسی کا جنازہ پڑا ہو اور آپ لاؤڈ اسپیکرپرگانے بجا دیں تو یہ خوشی نہیں بدتمیزی ہوتی ہے ۔ ریاست بھی ایک اجتماعی گھر ہوتی ہے ۔ اگراس گھرکے ایک کمرے میں خون بہہ رہا ہو تو دوسرے کمرے میں رقص کرنا اخلاقی دیوالیہ پن ہوتا ہے ۔ یہ نہیں کہتا کہ لاہورماتم کرے ، یہ کہتا ہوں کہ لاہور کم از کم شورتو بند کرے ۔ بلوچستان اورخیبرپختونخوا اس گھر کے دورکے کمرے نہیں، اسی چھت کے نیچے ہیں۔ جب وہاں دھماکے ہوتے ہیں تو دراصل پورے گھر کی دیواریں ہلتی ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران شیشے کے کمروں میں رہتے ہیں، جہاں، صرف ڈھول کی آواز پہنچتی ہے ، دھماکوں کی نہیں۔ اوراسی لیے انہیں لگتا ہے سب ٹھیک ہے۔
فیسٹیول۔۔۔ ریاست کی ترجیحات کا اعلان ہوتا ہے ۔ جب آپ خون کے موسم میں میلہ لگاتے ہیں تو آپ کہہ رہے ہوتے ہیں ” ہمیں تمہارے مرنے سے زیادہ اہم ہمارا تماشا ہے ”۔۔۔ اوریہ وہ جملہ ہے جسے دہشت گرد سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست اورعوام ایک دوسرے سے کٹ جائیں ۔دہشت گرد جسم مارتے ہیں۔ ریاستی بے حسی وفاداری مارتی ہے ۔ جب ایک نوجوان اپنے والد کی لاش بلوچستان کی کسی وادی میں اٹھاتا ہے اور ٹی وی پر دیکھتا ہے کہ دوسرے کسی شہر میں آتش بازی ہو رہی ہے تو اس کے اندر ریاست مرجاتی ہے ۔ پھر اسے یہ ملک اپنا نہیں لگتا صرف ایک جیل لگتا ہے ۔۔۔اوریہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں بندوق کو نیا ایندھن ملتا ہے ۔ ریاست شاید سمجھتی ہے کہ وہ جشن منا کر لوگوں کو نارمل دکھا رہی ہے لیکن اصل میں وہ لوگوں کو الگ تھلگ کر رہی ہوتی ہے ۔ آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے ” تمہارے بچے مرگئے لیکن ہمارا شو چلتا رہے گا” ۔ یہ صرف سیاسی نہیں یہ اخلاقی جرم ہے ۔ دہشت گردی صرف بارود سے نہیں پھیلتی وہ اس احساس سے بھی جنم لیتی ہے کہ ”ہم اکیلے ہیں ” اورجب کوئی ریاست اپنے ہی لوگوں کو اکیلا چھوڑ دے تو پھروہ ملک صرف نقشے میں رہ جاتا ہے دلوں میں نہیں۔افسوس !! مجھے تو یوں لگتا ملک دو حصوں میں بٹ چکا ہے ۔ ایک وہ جہاں لوگ مرتے ہیں۔ دوسرا وہ جہاں لوگ تماشا دیکھتے ہیں۔ ایک طرف ماں بیٹے کی تصویر سینے سے لگا کر سڑک پر بیٹھی ہے ، اور دوسری طرف شہر رنگین کاغذ سے سجا ہوا ہے ۔ یہ صرف ناانصافی نہیں یہ قومی بدقسمتی ہے ۔ ریاست شاید سمجھتی ہے کہ فیسٹیول امید پیدا کرتے ہیں، لیکن وہ بھول جاتی ہے کہ امید انصاف سے پیدا ہوتی ہے تماشے سے نہیں۔ جو ملک اپنے زخموں پر ڈھول بجاتا ہے وہ زخم بھرنے نہیں سڑانے لگتا ہے ۔
آج بلوچستان اور خیبر پختونخوا صرف دہشت گردی کا شکار نہیں وہ بھلا دیے جانے کا شکار ہیں۔ اور جب کوئی ریاست اپنے ہی لوگوں کو بھول جائے تو تاریخ اسے ایک جملے میں یاد رکھتی ہے ”۔۔۔ایک ایسا ملک تھا جہاں نیچے لاشیں گرتی تھی اوراوپرپتنگیں اڑتی تھیں” ۔۔۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں بڑھتی، بے حسی سے بھی پھیلتی ہے ، ریاست کا کام قوم کو خوش کرنا نہیں، قوم کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے ۔۔۔
٭٭٭