وجود

... loading ...

وجود

صبر یا جبر

پیر 26 جنوری 2026 صبر یا جبر

جہان دیگر
۔۔۔۔۔
زریں اختر

خدانخواستہ میرا مقصد صبر جیسے وصف کی اہمیت و قد ر میں کمی نہیں ، یہ میرا خود سے سوال ہے۔ وہ دہشت گردی کے واقعات ہوں یا حادثات، بیماری ہو یا قدرتی آفات۔۔۔کوئی آرمی اسکول پشاور کے شہداء کے لواحقین سے کہے کہ صبر کرو، (پاکستان کی تاریخ چاروں صوبوں میں دہشت گردی کے واقعات لیکن بچوں کے اسکول میں دہشت گردوں کا داخل ہوجانا ،اسے سب سے بڑی دہشت گردانہ کارروائی بنا تاہے جس سے ہر درد مند دل کو گہراصدمہ پہنچا،لواحقین کے ساتھ یہ ہماری قومی تاریخ اور حافظے کی بھی ایک اذیت ناک یاد ہے) ، کوئی ہیوی ٹریفک کی زد میں آگیا تو صبر ،بیماری میں غلط انجکشن یا استعمال شدہ سرنج یا انتقال خون کے ضرر رساں علاج یا ڈاکٹر کی غفلت توصبر۔جہاں عام آدمی کا بس نہیں چلتا وہاں دوسرے کے لیے تو صبر کی تلقین آسان ہے لیکن جس پر گزری ہے اس پر تو حالات جبر کی صورت آن پڑے ہیں ،اس کو سہنے کے سوا چارہ ہی کیاہے ؟تو یہ صبر ہے یا جبر؟کہیں اوصاف کے پردے میں کوئی ہمارا استحصال تو نہیں کر رہا؟ سانحۂ گل پلازہ کے لواحقین کو صبر کرنا ہی ہے یا یہ جبر سہنا ہی ہے لیکن کوئی وزیر ان سے صبر کرنے کو نہ کہے ،ظلم ہوچکا ہے اور صبر کی ہدایت بے حسی و ہٹ دھرمی ہے ، وہ صبر کا سبق پڑھانے کے بجائے اگر سر جھکا کر اپنی ذمہ داری تسلیم کرلیں تو ان کے لیے زیادہ مستحسن رویہ ہوگا ، باقی یہاں ابھی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کی روایت کہاں پڑی ہے جو آپ دیں گے۔
میں واقعی صبر اور جبر میں فرق نہیں کر پارہی ۔٢٣ ِ جنوری جرات کی بینر لائن ہے :سانحہ ء گل پلازہ ،لا پتا افراد کے اہل خانہ کا صبر کا پیمانہ لبریز، انتظامیہ کے خلاف احتجاج۔ مجھے آرمی پبلک اسکول پشاور کے واقعے کی اسی دن کی ایک لمحے بھر کی فوٹیج ،جب اطلاع باہر آگئی تھی ، لوگ جمع ہوگئے تھے تب کی(بس وہ ایک ہی تھی ) یاد آئی جس میں ایک شخص (باپ ہی ہوگا) ،چالیس کی عمر کا، پینٹ شرٹ کوٹ میں ملبوس ، انداز سے پڑھا لکھا،خاموش ،اس نے نظر کا چشمہ اوپر کرکے آنکھیں پونچھیں اور بس؛ یہ واقعی ا ن حالات میں صبر کا عملی اظہار تھا،ورنہ کیا مائیں کیا باپ سب چیخ رہے تھے ،اتنے بڑے ظلم کے خلاف یہ چیخیں تو بنتی تھیں ،اور وہ شخص جس نے ان چیخوں کا گلا گھونٹ کراندر اتار لیں، یہ اس کی تہذیب کا تقاضا تھا یا ۔۔۔ یہ جو کچھ بھی تھا بے شک بہت اعلیٰ تھا، ایسے عمل کی تقلید بھی ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
ایک بڑا سماجی واقعہ کئی پرتیں رکھتا ہے ،کون شہری یہ کہے گا کہ وہ شہری انتظامیہ سے کوئی امید رکھتاہے؟ ہم نے خود یا تو اپنے مسائل پر آنکھیں بند کررکھی ہیں یا ہم انہیں اپنی مدد آپ کے تحت حل کرتے ہیں۔ کوئی حکومت ہے یا ہم ریاست کے شہری ہیں اس کا احسا س تو بس
شناختی کارڈ ، پاس پورٹ ، ٹیکس کی ادائیگی یا جرمانے کے وقت ہوتاہے ، جہاں ہم حکومتوںکو یاد ہیں ،اس کے علاوہ بھی کہیں یاد ہیں ؟اس کی عملی مثال نہیں ملتی۔ اس عدم اعتمادی کی فضا میں بد اعتمادی پھل پھول رہی ہے،پتا نہیں دکان داروں کو اپنی انجمن پر بھی بھروسہ تھا یا نہیں، ماہانہ فی کس پندرہ سو ،ہر دکان دار شاید صدقہ خیرات کی نیت سے دے رہاتھا،بارہ سو یا گیارہ سو اکہتر یا چلیں ایک ہزاردکانوں پرہی ضرب دیں توماہانہ بارہ لاکھ بنتے ہیں،کسی نے کبھی مانگ ہوگا حساب گل پلازہ انجمن کے لحیم شحیم صدر تنویر پاسا سے؟کسی دکان دار نے کبھی بیٹھ کر سوچا بھی ہوگا ،یا چلیں سوچا بھی ہوگا اور شاید آس پاس کے اپنے دوست دکان داروں سے اس کا تذکر ہ بھی کیا ہو لیکن بس یہیں تک ؟اس سے زیادہ کچھ نہیں؟ یہ کسی نمائندہ انجمن کا کردار ہے یا کسی ماہانہ بھتہ خور مافیا کا؟ یہ بھی ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے کہ ہم حادثات یا اس نوعیت کے سانحات سے سبق سیکھ کر نہیں دیتے۔کیا دکان داروں نے کاروباری مراکز میں آگ کے واقعات ہونے کے بعد اپنی انجمن سے کوئی مطالبہ کیا؟ ناگہانی کیاکسی دوسرے کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے ؟ یہ مجرمانہ غفلت ہے ، ذاتی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک ۔
جب ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو میڈیا گزرے واقعات کی تاریخ دہراتا ہے ۔ جب ٹرینوں کے حادثات میں اضافہ ہوا تھا تب ، جب خیبر پختون خواہ میں زلزلہ آیا تب ؛ تاریخ جو بتائی گئی اس کے مطابق انگریزوں نے ریلوے لائنیں بچھائیں اور سب ٹھیک چلتی رہیں ،کوئٹہ زلزلہ آیا تو کمشنر نے فوری اقدامات اٹھائے اور بحالی کا کام شروع؛ ہمارے پاس مثالیں بھی اُن غاصب و غیر ملکی حکمرانوں کی ہیں ، ان مقامی منتخب ( بقول وسعت اللہ خان چنتخب )حکمرانوںنے ایسی مثالیں قائم کیں؟
مصطفی کمال کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کی بات کررہے ہیں لیکن اٹھارویں ترمیم کو ہدف بنانا مقتدرہ کی پکار اور ایجنڈا معلوم ہوتا ہے، آپ کنچے نہ بنیں ،عوام ،کارکن ،مریدین ؛ یہ جو بنتے ہیں اپنی لاعلمی و معصومیت میں بنتے ہیں لیکن اگر سیاست دان ایسی بات کرے تو وہ عوام کے مفاد پر اڑنے والا نہیں بلکہ ذاتی مفادپر بکنے والا ہے، جو مقتدرہ کا چمچہ بننے گا وہ بعد میں انہیں کے ہاتھوں کنچا بھی بننے گا۔
ہماری سیاسی تاریخ کا ایک وصف ِ خاص الزام تراشیوں کی سیاست ہے۔سیاسی بیانیہ یاکلامیہ علم ِ لسانیات کا موضوع بن چکاہے اور ان کے بیانات کا تجزیہ لسانی بنیادوں پر بھی کیا جاتاہے۔ اب یہ کہہ کر چھوٹ جانا کہ میڈیا نے میرے بیان کو توڑ مروڑ کرپیش کیا ہے یا میری بات کا مطلب یہ نہیں تھا، اتنا آسان پہلے کبھی تھا اور اب تو بالکل نہیں ہے ۔بیانیہ کا تنقیدی تجزیہ ( کریٹیکل ڈسکورس انلاسز) میں تجزیے کا ایک طریقہ ”ہم اور وہ” کے تحت کیا جاتا ہے ،جس میں ‘ہم ‘ دودھ کا دھلااور ‘وہ’تمام برائیوں کی جڑ ثابت کرنے کی دو طرفہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ اسمبلی میں ہم نے بلدیہ ٹائون فیکٹری کا حوالہ سنا کیوں کہ متحدہ قومی موومنٹ گل پلازہ سانحہ پر حکومت پر تنقید کررہی تھی ، مشترکہ تفتیشی کمیٹی بنائیں ،حقائق سامنے لائیں، جرم ثابت ہو، مجرمین کو سزا دیں ،عوام تو یہیں چاہیں گے نا ،یا یہ کہ آپ عوام کی سوختہ لاشوں پر بھی سیاست کریں؟
ایسی ”ہم اور وہ” لسانی بیانیہ کی ایک اور تاریخی مثال یاد آئی ،متحدہ اور جماعت اسلامی کے نمائندے ٹی وی کے کسی مذاکراتی پروگرام میں موجود تھے ،اس میں سے ایک نے دوسرے پر خود کش دھماکوں کا الزام لگایا تو دوسرے نے بجائے اس کا جواب دینے کے بوری بند لاشوں کا ذکر کیا ، عوام کی نظر میں دونوں ہی معتوب ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر