... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
انسانی شعور کی ابتدا زمین پر انسانی وجود کے ساتھ ہی ہوئی۔ ابتدائی انسان، جو شکار اور جمع کرنے والے قبیلوں میں زندگی گزار رہے تھے، کا شعور بنیادی طور پر حیاتیاتی نوعیت کا تھا۔ اس شعور کی بنیاد بقا، شکار، خوراک اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی پر تھی۔ ابتدائی انسان نے قدرتی مظاہر، جیسے آگ، پانی، موسم، اور جانوروں کے رویے، کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے پیچھے چھپے اصولوں کو سمجھنے کی ابتدائی کوشش بھی کی۔ اس دور میں خواب اور خرافات انسانی ذہن کی علامتی تفہیم اور خوف و محبت کے ابتدائی اظہار کے طور پر موجود تھے۔ انسانی شعور کی یہ ابتدائی شکل محدود تھی، مگر اسی میں معاشرتی تنظیم، ابتدائی اخلاقیات اور رسم و رواج کی بنیاد چھپی تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ، انسانی شعور نے تہذیبوں کی
شکل اختیار کی۔ مصر، بین النہرین، ہند، اور چین میں شعور نے صرف بقا کے لیے سوچنے کی حد سے آگے بڑھ کر اخلاق،
روحانیت، اور کائنات کے اصولوں پر غور کیا۔ مصر میں شعور نے زندگی اور موت کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی، اور اس کا
اظہار پیرامڈز، مذہبی رسومات اور سماجی ڈھانچے میں ہوا۔ بین النہرین میں لکھائی اور تحریر کی ایجاد نے انسانی شعور کو محفوظ
کرنے اور منتقل کرنے کا وسیلہ دیا، جس سے تجربات اور علم نسل در نسل منتقل ہوئے۔ ہند و سنسکرتی فلسفہ نے اندرونی شعور،
مراقبہ، اور آتما کے تصور کو اجاگر کیا، جبکہ چین میں کنفیوشس اور لاو زے نے اخلاقی شعور اور معاشرتی تعلقات پر زور دیا،
تاکہ انسان نہ صرف خود بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی ذمہ دار ہو۔
یونان کے کلاسیکی دور میں شعور نے فلسفیانہ انقلاب دیکھا۔ سقراط نے انسان کو خود شناسی کی دعوت دی اور سوال کیا”انسان کیا ہے” افلاطون نے شعور کو روح اور جسم کے تعلق کے طور پر بیان کیا، جبکہ ارسطو نے شعور کی منطقی، اخلاقی اور علمی جہتوں کو واضح کیا۔ اس دور میں شعور صرف ذاتی تجربے کا نہیں رہا بلکہ معقولیت، دلیل، اور انسانی فطرت کی تحقیق کا حصہ بن گیا۔ انسانی شعور کے ارتقا نے فرد اور معاشرت دونوں کے لیے بنیاد رکھی، اور انسان نے اپنے اعمال، اخلاق اور معاشرتی کردار پر غور کرنا شروع کیا۔ رومی دور اور مشرقی فلسفے میں شعور نے اخلاقی قوانین، ریاستی ذمہ داریوں، اور مذہبی تعلیمات کے ساتھ ارتقا پایا۔ یہودیت، عیسائیت، اور اسلام میں انسانی شعور کو اخلاقی اور روحانی فیصلے کرنے کی صلاحیت کے طور پر سمجھا گیا۔ یہ دور انسان کیاندرونی شعور اور اجتماعی شعور کو یکجا کرنے والا تھا، اور شعور اخلاقی بنیادوں پر سماجی نظم کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوا۔
انسانی شعور اب ذاتی اور اجتماعی دونوں جہتوں میں ترقی کرنے لگا، اور اس نے معاشرتی انصاف، قانون، اور روحانی
فضائل کی بنیاد رکھی۔قرون وسطیٰ میں شعور اکثر مذہبی تعلیمات اور کلیسا کی حدود میں محدود رہا، مگر صوفیانہ اور mystic
رجحانات نے انسان کے اندرونی شعور، دل، اور روح کی گہرائیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ابن سینا، الغزالی، اور
دیگر مشرقی فلسفیوں نے عقل اور روح کے ملاپ کو انسانی شعور کی بنیادی شاخ قرار دیا۔ اس دور میں شعور نے عقلی،
اخلاقی اور روحانی جہتوں کو یکجا کیا، اور انسان نے اپنی ذات، مقاصد، اور معاشرتی ذمہ داریوں کے بارے میں غور کرنا
شروع کیا۔رینائسنس کے دور میں شعور نے اپنی ذاتی آزادی، تخلیقی صلاحیت، اور تجزیاتی سوچ کے ذریعے نئی جہت
اختیار کی۔ ڈیکارٹ کے الفاظ ”میں سوچتا ہوں، پس میں ہوں” نے شعور کی بنیاد کو منطقی اور فلسفیانہ بنیاد پر مستحکم کیا۔ اس
کے بعد اسپینوزا، کانٹ، اور ہیگل نے شعور کی اخلاقی، جمالیاتی، اور سماجی جہتوں کو واضح کیا۔ انسان نے اب شعور کو
صرف ذاتی ذہنی عمل کے طور پر نہیں بلکہ علمی، جمالیاتی اور سماجی عمل کے طور پر سمجھنا شروع کیا۔انیسویں صدی میں شعور کی
تحقیق میں نفسیات نے انقلاب برپا کیا۔ فرائیڈ نے شعور اور لاشعور کے درمیان فرق واضح کیا، اور انسانی ذہن کے
پیچیدہ تضادات، خواہشات، اور خوف کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یونگ نے اجتماعی شعور اور آرکی ٹائپ کے نظریات پیش کیے،
جو انسانی تجربے کے مشترکہ پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی دوران فلسفیوں نے تجرباتی اور منطقی شعور کی بنیادوں کو مزید
مضبوط کیا، اور انسان نے شعور کو نہ صرف ذہنی بلکہ سماجی اور اخلاقی نظام کے طور پر بھی سمجھنا شروع کیا۔بیسویں صدی کے وسط اور آخر میں نیوروسائنس، ادراکاتی سائنس، اور مصنوعی ذہانت نے شعور کو سائنسی اور تجرباتی بنیاد دی۔ انسانی دماغ،
یادداشت، احساسات، اور فیصلہ سازی کے عمل کا گہرائی سے مطالعہ ہوا۔ ڈیپ لرننگ اور AI نے انسان کے شعور اور
مشین کے ممکنہ شعور کے درمیان فرق اور تعلق پر بحث کو تحریک دی۔ شعور اب صرف ذہنی حالت یا فکر کا مجموعہ نہیں رہا بلکہ
یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جو تجربات، ماحول، جسم، اور دماغ کی مسلسل تعامل سے ارتقا پاتا ہے۔اکیسویں صدی میں انسانی
شعور نے خود آگاہی، عالمی مسائل، معاشرتی تعلقات، اور ٹیکنالوجی کے اثرات کے ساتھ ایک نئی جہت اختیار کی۔
انسانی شعور اب ذاتی، سماجی، علمی اور تکنیکی تمام شعبوں میں یکساں طور پر اہم ہے۔ آج شعور انسان کی تخلیقی صلاحیتوں، اخلاقی فیصلوں، عالمی ذمہ داریوں اور سماجی روابط کا مرکز ہے۔ انسانی شعور کی یہ مسلسل تاریخ ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ شعور کا ارتقا ایک مسلسل، پیچیدہ، اور ہمہ جہتی عمل ہے، جو ابتدائی حیاتیاتی شعور سے لے کر آج کے عالمی، علمی، اور ٹیکنالوجیکل شعور تک پہنچ چکا ہے۔پاکستان میں شعور یا اجتماعی فکری ارتقا کی رفتار دیگر ترقی یافتہ معاشروں کی نسبت سست رہی ہے، اور اس کی وجوہات کئی تاریخی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی عوامل کا مجموعہ ہیں۔ سب سے پہلے اس کی بنیاد نوآبادیاتی نظام تعلیم سے پڑی۔ برصغیر میں انگریزوں نے تعلیمی نصاب کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ وہ مقامی لوگوں کو تنقیدی سوچ یا خود سے سوال کرنے کی بجائے صرف سرکاری ملازمتوں کے لیے تیار کرے۔ اس نصاب میں فلسفہ، تنقیدی ادب اور خود شناسی کی تربیت محدود تھی، جس سے شعور کی ارتقا کی بنیادی راہیں بند ہو گئیں۔ آزادی کے بعد بھی پاکستان نے اس نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی بجائے جزوی اصلاحات پر اکتفا کیا، جس کا اثر آج تک ہمارے تعلیمی اور فکری ڈھانچے پر برقرار ہے۔اسی دوران سیاسی جبر اور آمریت نے شعور کی ترقی میں مزید رکاوٹیں ڈالیں۔ پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکومتیں اور غیر مستحکم جمہوری دور آئے، جنہوں نے آزادی اظہار، صحافت اور سیاسی تنقید کو محدود کیا۔ لوگ حکومت یا ریاست کے خلاف آزادانہ سوچ رکھنے سے خوفزدہ رہے، اور اس خوف نے شعور کو دبایا۔ شعور کی ارتقا ہمیشہ آزادی اظہار اور تجربے سے جڑی ہوتی ہے، اور جب خوف موجود ہو تو لوگ نظام کو چیلنج کرنے یا نئی سوچ پیدا کرنے سے کتراتے ہیں۔مزید یہ کہ مذہب اور نظریاتی تعصب نے بھی فکری ترقی کی راہیں محدود کیں۔ پاکستان ایک مذہبی اور نظریاتی بنیاد پر قائم ملک ہے،اور بعض اوقات مذہب کو سیاسی یا سماجی دباؤ کے لیے استعمال کیا گیا، بجائے اس کے کہ وہ شعور کی ترقی کو فروغ دے۔
نظریاتی سختی اور اختلاف رائے کی عدم برداشت نے آزادانہ سوچ کو دبایا، اور لوگ اپنی رائے ظاہر کرنے میں محتاط
رہنے لگے۔سماجی اور ثقافتی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرتی طبقات میں شدید فرق، قبائلی اور روایتی سوچ،
اور عورتوں کی کم شمولیت نے اجتماعی شعور کی ارتقا میں رکاوٹ پیدا کی۔ جب معاشرہ تعلیم اور شعور کی یکسان رسائی نہیں
دیتا، تو شعور کا ارتقا ایک محدود طبقے تک رہ جاتا ہے، اور پورے معاشرے میں وہ اثر پیدا نہیں ہو پاتا۔ غربت اور معاشی
مسائل بھی شعور کی ترقی کے لیے رکاوٹ ہیں، کیونکہ جب لوگ اپنی بقا اور بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے
ہوں تو فلسفیانہ یا تنقیدی سوچ کے لیے وقت اور ماحول کم ملتا ہے۔میڈیا اور معلوماتی نظام کی محدودیت بھی اہم وجہ ہے۔
صحافت اور سوشل میڈیا اکثر سنسرشپ یا پروپیگنڈا کے زیر اثر رہتے ہیں، جس سے تنقیدی سوچ اور آزادانہ شعور کی تحریک
کمزور ہوتی ہے۔ عوام کو محدود اور یکطرفہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں، اور وہ سطحی یا جذباتی مواد میں مشغول رہ جاتے ہیں،
جس سے فکری ارتقا رک جاتی ہے۔تعلیمی نصاب کی یکطرفہ سمت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ تاریخ، فلسفہ، ادب اور سائنس کو
غیر متوازن انداز میں پڑھایا جاتا ہے، اور طلبہ کو سوال کرنے، بحث کرنے اور دلیل کے ساتھ سوچنے کی تربیت نہیں دی
جاتی۔ اس سے نوجوان نسل میں شعور کی ارتقا کی رفتار سست رہتی ہے، اور وہ نظام کے رواج یا روایت کے تابع رہتے
ہیں۔تاریخی اور سیاسی عدم استحکام نے اس سست رفتاری کو مزید تقویت دی۔ بار بار ہونے والے فوجی انقلاب، سیاسی
کرپشن، اور غیر مستحکم حکومتوں نے لوگوں میں مایوسی اور بے بسی پیدا کی، اور شعور کی ارتقا کے لیے مستقل، محفوظ اور
آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا۔ شعور ہمیشہ ایسے ماحول میں پروان چڑھتا ہے جہاں لوگوں کو تجربہ کرنے، سوال کرنے،
اور نظام کی غلطیوں پر تنقید کرنے کی آزادی ہو۔مختصر یہ کہ پاکستان میں شعور کی ارتقا نہ ہونے کی وجوہات واحد نہیں بلکہ
تعلیمی، سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل کا ایک مسلسل سلسلہ ہے۔ نوآبادیاتی تعلیمی نظام نے بنیاد رکھی، آمریت اور
سیاسی دباؤ نے اسے روکا، نظریاتی سختی نے آزادانہ سوچ کو محدود کیا، سماجی و معاشرتی ساخت نے مواقع کم کیے، غربت
نے توجہ بقا پر مرکوز کی، اور میڈیا و نصاب نے تنقیدی سوچ کو کمزور بنایا۔ ان سب عوامل کا مجموعہ ایک ایسا ماحول پیدا کرتا
ہے جہاں شعور کی آزادانہ اور مسلسل ترقی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم میں اصلاحات، آزادی
اظہار، معاشرتی انصاف، اقتصادی مساوات، اور تنقیدی فکر کو فروغ دیا جائے تاکہ پاکستان میں شعور کا ارتقا ممکن ہو
سکے۔
٭٭٭