... loading ...
بے نقاب /ایم آر ملک
حکمرانوں کے پاس عوام کو دینے کیلئے تکلیفیں ہیں ،دکھ اور درد ہیں ،موت ہے لیکن ان کی اپنی زندگیاں خوشیوں سے بھر پور ہیں جو عوام کے دکھوں سے نچوڑی جاتی ہیں ،شہر قائد سے چار روز سے ایک ہی خبر کا تسلسل ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگی ،کہیں پر یہ بتایا جارہا ہے کہ اس سے کتنی اموات ہوئیں ،کہیں پر یہ بتایا جارہا ہے کہ اس میں کتنے افراد زخمی ہوئے ،کسی خبر میں یہ بتایا جارہا ہے کہ کتنے افراد ابھی تک لاپتہ ہیں ،اور یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کتنے افراد ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہیں یہ رونگٹے کھڑے کردینے والی خبر ہے جس نے وطن عزیز کے ہر فرد پر ایک سوگواری کی کیفیت طاری کردی ہے ،کراچی انسانی خون کا ایک ایسا جوہڑ بن گیا ہے جس کے کنارے پر مافیاز شطرنج کی بساط بچھائے خون آلود گردنیں چباتے ہوئے بازی کھیلنے میں مصروف ہیں، عام شہریوں کی موت کی بازی ۔۔۔ایک ایسے شہر میں جہاں موت لوگوں کے پائنچے سونگھنے میں مصروف ہو ،جہاں زرد تتلیاںہم وقت انسانوں کے تعاقب میں ہوں ،جہاں جنگل کا قانون انسانی آبادی کو مسلسل نگل رہا ہو ،جہاں آئے روز ایک شناخت جلی ہوئی انسانی لاشوں کی ایسی کثرت ہو جن کو ان کے پیارے شناخت کرنے سے قاصر ہوں ،جہاں انسانی راکھ پر گڈ گورننس بیٹھ کر جعلی کارکردگی کے گیت گنگنارہی ہو ،وہاں معصوم لہو کی پکار اور ابھرتے ہاتھوں کی للکار کوئی نہیں سنتا ،گل پلازہ کے سانحہ کے تناظر میں ناکام ریاست کی بد مست وحشت پر کیا شہر قائد پر ملکیت کا دعویٰ کرنے والی جماعتوں نے کوئی آواز بلند کی ؟اس کا جواب نہیں میں آتا ہے۔
جماعت اسلامی جس کے بغیر چند سال پہلے تک کراچی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا، جسے بلدیہ سے لے کر قومی اسمبلی اور سینیٹ تک اہل کراچی کی نمائندگی کا اعزاز حاصل تھا، پی آئی اے، اسٹیل مل کے ڈی اے اور شہر کے بیشتر دو سرے بڑے اداروں کی مزدور یونینیں جس کی حامی تھیں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء اور اساتذہ کی بھاری اکثریت جس کے ساتھ تھی، جس کی سرگرمیاں اور عوام سے رابطہ کا کام اس شہر کی ایک ایک بستی میں سال کے تین سو پینسٹھ دن بلا ناغہ جاری رہتا تھا، جس کے خدمت خلق کے منصوبوں کے لئے شہر کے عوام و خواص دل کھول کر اعانت کیا کرتے تھے، آخر وہ جماعت اسلامی آج ہر لمحہ راکھ اور ملبے کے ڈھیر میں بدلتے اس بدنصیب شہر کے معاملات سے یکسر غیر متعلق کیوں نظر آتی ہے؟جن لوگوں نے اس ملک کے ابتدائی چالیس برسوں میں اس پر اس پر ہمیشہ والہانہ اعتماد کا اظہار کیا۔ آج جب موت کا بھیانک رقص ان کی بستیوں میں جاری ہے تو کیا وہ اس کی جانب سے ہمدردی کے دو بول کے بھی حق دار نہیں ؟ کیا انہیں ہلاکت سے بچانے کی کوئی ذمہ داری چار دہائیوں تک ان کی نمائندگی رکھنے والی اس جماعت پر عائد نہیں ہوتی ؟ہو سکتا ہے کسی کی جانب سے جو اباً یہ کہا جائے کہ کراچی کے لوگوں نے خود ہی اسلام کی نظریاتی قومیت کے مقابلے میں مہاجریت کی لسانی و علاقائی قومیت کے علم برداروں کو اپنا نمائندہ قرار دیا لہٰذا اب اس فیصلے کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں اس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہیں، جماعت اسلامی ان لوگوں کو ان کے کئے دھرے کے انجام سے بچانے کے لئے کیوں فکر مند ہو۔ لیکن یہ اتناہی غیر دانشمندانہ موقف ہے جتنا حدیث نبوی میں بطور مثال بیان کردہ اس کشتی کی بالائی منزل والوں کا تھا جس کی نچلی منزل کے لوگوں کو جب ان اوپر والوں نے کشتی کے فرش میں سوراخ کر کے پانی حاصل کرنے سے نہ روکا اور یہ سمجھتے رہے کہ یہ تو ان کا اپنا عمل ہے تو بالاآخر پوری کشتی ڈوب گئی اور سمندر کی لہروں نے اس بارے میں کوئی فرق روا نہ رکھا کہ کون نچلی منزل کا مسافر تھا اور کون بالائی منزل کا اس لئے سمجھنا مشکل ہے کہ جماعت کے ہوشمند اور سنجیدہ وابستگان اس نقطہ نظر کے حامی ہو سکتے ہیں،ماضی پر نگاہ ڈالیں تو صاف عیاں نظر آتا ہے کہ جس قدر گہرا رشتہ کراچی کا جماعت اسلامی سے رہا کسی اور جماعت سے نہیں ،قیام پاکستان کے فوراً بعد سے جماعت اسلامی کی ہر مہم میں خواہ وہ قرار داد مقاصد کی منظوری کی جدوجہد ہو ،مطالبہ نظام اسلامی کی مہم ،دستور کی تیاری کیلئے آواز بلند کرنے کا مرحلہ ہو یا ختم نبوت کی تحریک اور اس دوران مولانا مودودی کو سنائے جانیوالے سزائے موت کے فیصلے پر احتجاج ،اہل کراچی نے ہمیشہ جوش اور ولولے کے ساتھ جماعت کی ہر پکار پر لبیک کہا ،1970کے انتخابات میں اگرچہ دینی قوتوں کے ووٹ بٹ جانے کے سبب انہیں بالعموم ناکامی ہوئی ،پھر بھی کراچی ہی وہ شہر تھا جس نے اپنی نمائندگی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کو سونپی ۔
اب آتے ہیں ایم کیو ایم کی طرف ایک سوچی سمجھی اور پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ رائے یہ ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کا قیام مہاجروں کے حق میں مہاجر قاتل موومنٹ ثابت ہوا اور اس کی منفی اور تخریبی سرگرمیوں کا نشانہ سب سے زیادہ کراچی کے باسی مہاجر ہی بنے۔ الطاف حسین اس تحریک کے قائد نہیں بلکہ مہرے تھے جس کا پس منظر یہ تھا کہ جن قوتوں نے انہیں آسمان سیاست پر اٹھایا تھا وہی ایم کیو ایم کی خالق اور اس کے قائد کی سرپرست تھیں۔ اسی طرح مہاجر نوجوان جو مسائل کی آگ میں جلتے چلے آرہے تھے الطاف حسین کے تندو تیز نعروں سے مسحور ہو کر ان کے شیدائی بنے۔ ، نعروں ، پرچموں ، تصویروں اور ڈرامائی مناظر کی ہٹلری پرو پیگنڈہ مہم نے عقل و شعور کو مفلوج اور دل و دماغ کو مبہوت بنا ئے رکھا ۔ عقل کی درماندگی اور جذبات کی فراوانی نے مہاجروں کی نوجوان نسل اور اس کے مستقبل سے مایوس سرپرستوں کو ایک بہت بڑی سازش کا شکار بنا کر سلامتی فکر سے محروم کر دیا اور صراط مستقیم سے اسے بھٹکا دیا۔
ایم کیو ایم کی صورت میں سب سے بڑا عذاب یہ نازل ہوا کہ مہاجر نوجوان دہشت گردی کی راہ پر لگ گیا ، حصول علم ، فن کاری و دست کاری رزق حلال اور امن و آشتی کی روایات ہوا میں تحلیل ہو گئیں ۔ درسگاہیں نقل کرنے ، روپیہ بٹورنے اور اساتذہ کی تذلیل تحقیر کرنے کا مرکز بن گئیں ، جعلی ڈگریوں اور دھمکیوں کے ذریعہ زیادہ نمبر حاصل کرنے کا رحجان عام ہوا ، کار اور اسکوٹر چوری اغواء قتل و غارت گری اور آبروریزی کا ایک سیلاب سا اٹھ آیا ، ٹارچر سیلوں میں سفاکی اور درندگی کے لرزہ خیز واقعات آئے دن کا معمول بن گئے ۔ فیکٹریوں ، دکانوں ، فلیٹوں ، مکانوں اور چھابڑی والوں سے جبری چندہ کی وصولی عام ہوئی ۔ تھانے مظلوم شہریوں کے لئے عقوبت خانے بن گئے اور ان سے دادرسی نا ممکن بنادی گئی ۔ گلی کوچوں میں آہنی دروازوں کی تنصیب سے خوفزدگی کا ماحول پیدا کر دیا گیا،مہاجر بستیاں ، جہاں بھٹو دور میں بھی خوف کے سائے کبھی نہ دیکھے گئے ۔ ایم کیو ایم کے دور میں آسیب زدہ نظر آنے لگیں اور پڑوسی پڑوسی سے خوفزدہ رہنے لگا ۔ زیورات کی دکانوں ، پٹرول پمپوں اور بینکوں میں ڈکیتیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم ہوا۔ 1947ء کے بعد کسی بھی دور میں مہاجر بستیوں کے اندر قتل و غارت گری اغواء ، تشدد اور مہاجروں کے ہاتھوں مہاجروں کے قتل اور آبروریزی کے ایسے واقعات کبھی رونما نہ ہوئے جیسے ایم کیو ایم کے دور میں ہوئے ۔ پریس اور اخبار فروشوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے فسطائیت کا ایک نیا باب رقم کیا ۔ اگر یتیموں ، بیواؤں آتشزدہ گھروں، لٹی اور جلی ہوئی دکانوں ، قتل اورمعذور ہونے والے افراد اور گاڑیوں اور دوسری املاک سے محروم ہونے والے لوگوں کی فہرستیں مرتب کی جائیں تو مہاجروں کے لئے تباہی اور بربادی کا بد ترین دور یہی تھا۔مہاجروں کو جو نقصانات پہنچے ان میں سرفہرست تو ان کے اصل تشخص کا خاتمہ اور دہشت گردی کے تشخص کا ابھرناتھا ۔ یہ واحد طبقہ تھا، جس کی شناخت علاقائی نہ تھی، ملک گیر تھی اور اعلیٰ علم ، اعلیٰ اخلاق اور محنت کی مزدوری اس کی پہچان تھی ۔ اسے دیر چترال سوات ، پشاور ، مردان ایبٹ آباد کوئٹہ اور پنجاب کے تمام شہروں میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ،ایم کیو ایم کی سرگرمیوں کا ایک اور تباہ کن نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے معاشی حب کراچی میں سرمایہ کاری مفقود ہوئی ، یہاں کی صنعتیں پنجاب اور سرحد منتقل ہونے لگیں ۔ سرمایہ ملک سے باہر جانے لگا اور صنعتی ترقی رک جانے سے روزگار کے مواقع مزید محدود ہوتے چلے گئے کراچی پر سکون رہتا تو بیرونی سرمایہ کاری سب سے زیادہ اسی شہر میں ہوتی اور روزگار کا دائرہ وسیع ہوتا ۔ کراچی اور حیدر آباد آج ملک کے سب سے زیادہ ویران اور ڈوبتے ہوئے شہر نظر آتے ہیں۔ میر پور خاص ، سکھر اور نواب شاہ میں بھی مہاجر پہلے سے زیادہ پریشان حال اور بے یارو مدد گار نظر آتے ہیں۔
صوبہ سندھ میں بلاشبہ ایم کیو ایم ایک طاقتور تنظیم بنی اور پہلے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سو فیصد نشستوں پر قابض ہوئی مگر کار کردگی کی کیا صورت رہی؟ کیا کوٹہ سسٹم رخصت ہو سکا، محصورین کی واپسی ممکن ہوئی ملازمتوں اور داخلوں کی صورتحال میں کوئی فرق پڑا؟آج مخالف سیاسی دھڑے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کا سرا بھی اسی دور سے جوڑرہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں سب سے مظلوم طبقہ مہاجروں کا ہے ،
قومیں اس دن مرنا شروع ہو جاتی ہیں جس دن ان کی سیاست فکر سے خالی اور تماشے سے آباد ہو جائے۔ جب ریاست کے فیصلے دانش گاہوں کے بجائے اسٹیجوں پر ہوں، جب قیادت علم، کردار اور نظریے کے بجائے تماشہ والوں کے ہاتھ آ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ زوال صرف دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا، اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ پاکستان آج اسی زوال کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہاں نہ نظریہ باقی رہا، نہ سمت، نہ مقصد۔ سیاست اب خدمت نہیں رہی، ضد بن چکی ہے؛ اختلاف نہیں رہا، دشمنی بن چکا ہے؛ مکالمہ نہیں رہا، تضحیک بن چکا ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ قوم کے اخلاقی وجود کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک سوچا سمجھا انحراف ہے۔ جب قیادت میرٹ کے بجائے مقبولیت، کردار کے بجائے شہرت اور اہلیت کے بجائے شور کو معیار بنا لے تو پھر پارلیمان قانون سازی نہیں کرتی، تماشہ پیش کرتی ہے۔ ایسی سیاست میں سچ مجرم اور شور ہیرو بن جاتا ہے ،قرآن اعلان کرتا ہے:
”بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو”۔
رسولِ اکرم ۖ نے قیادت کو جواب دہی اور قربانی سے جوڑا، مگر ہم نے اسے ضد، ہٹ دھرمی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا ہنر بنا دیا۔
آج عوام کے پاس ووٹ تو ہے، اختیار نہیں؛ زبان تو ہے، سنا نہیں جاتا؛ قربانی تو ہے، بدلے میں صرف دھوکا ملتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مزاحمت جنم لیتی ہے۔۔۔نعرے سے نہیں، شعور سے؛ ہجوم سے نہیں، فکر سے۔ یہ انتباہ ہے۔ یہ للکار ہے اُن سب کے لیے جو سیاست کولاشوں کی رقص گاہ اور قوم کو تماش بین سمجھ بیٹھے ہیں۔ تاریخ بے رحم ہوتی ہے۔۔۔وہ تماشائیوں کو نہیں، قوموں کے لیے جلنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔اگر پاکستان کو بچانا ہے تو سیاست کوجھوٹ اور انتقام کے اسٹیج سے اتار کر نظریے کی زمین پر لانا ہوگا۔ ورنہ اس تماشہ پر ایک دن اسٹیج بھی گرے گا، پردہ بھی۔۔۔اور نیچے صرف گل پلازہ کی طرح ملبہ بچے گا۔
٭٭٭