... loading ...
چوپال /عظمٰی نقوی
ترقی، خوشحالی اور یورپ طرز کے رنگین منصوبوں کی چکاچوند دیکھ کر بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کسی مثالی ریاست کی سمت رواں دواں ہو، جیسے یہاں نہ بھوک ہے، نہ بے روزگاری، نہ ناانصافی اور نہ ہی عوامی اضطراب۔ مگر یہ سب ایک خوش نما سراب ہے، جس کے پیچھے تلخ حقائق کی ایک طویل اور اذیت ناک داستان پوشیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ اور عوامی زندگی کے درمیان فاصلہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد عکس بن چکے ہیں۔ اداروں میں بیٹھے فرعون صفت افسران کے اجلاس، شاہانہ پروٹوکول، بناوٹی مسکراہٹیں اور خود ستائشی تقاریر اس تاثر کو مزید گہرا کر دیتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے یہ لوگ عوامی دکھوں سے اس طرح کٹے ہوئے ہیں جیسے یہ کسی اور ہی ملک کے باسی ہوں۔ ان کے نزدیک ترقی کا مطلب شیشے کی عمارتیں، نمائشی فیسٹیولز اور کاغذی منصوبے ہیں، جبکہ گلیوں، دیہاتوں اور شہروں میں بسنے والا عام آدمی روزگار، علاج، تعلیم اور انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ یہاں جعلی نو دولتئے اور بے لگام سرمایہ دار ایک نئی اشرافیہ کے طور پر ابھرے ہیں، جن کی دولت کا ماخذ محنت نہیں بلکہ لوٹ مار، ذخیرہ اندوزی اور ریاستی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ طبقہ گندی سوچ اور سفاک ذہنیت کے ساتھ مظلوموں اور محکوموں پر حکمرانی کے جھنڈے گاڑتا پھر رہا ہے۔
کبھی کہا جاتا تھا کہ “اندھوں میں کانا راجہ”، مگر آج یہ کہاوت پوری شدت کے ساتھ زندہ حقیقت بن چکی ہے۔ اہلیت کی جگہ تعلق، دیانت
کی جگہ دولت اور اصول کی جگہ مفاد نے لے لی ہے۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ ایک طرف
بھوک، بے بسی اور محرومی کی طویل قطار ہے، تو دوسری جانب نودولتیوں کی نسلیں ہیں جو بے ہودگی، اسراف اور اخلاقی زوال کی آخری
حدوں کو چھو رہی ہیں۔ معاشی نظام زبوں حالی کا شکار ہے، روزگار چھیننے کی منظم حکمت عملیاں جاری ہیں اور محنت کش طبقہ مسلسل عدم تحفظ
میں مبتلا ہے۔ مہنگائی ایک ایسا طوفان بن چکی ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی کمر مزید ٹوٹتی جا رہی ہے۔
سماجی سطح پر بے حیائی اور فحاشی کو ثقافت کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ کلبز کلچر، نمود و نمائش اور سطحی تفریح نے فکری اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ ادارے تباہ ہو چکے ہیں، رشوت ستانی کھلے عام ہے اور انصاف کا تصور محض کتابوں اور تقاریر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ قانون طاقتور کے لیے ڈھال اور کمزور کے لیے زنجیر بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست جبر کے ذریعے عوام پر من مانے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر یہ حقیقت فراموش کر دی گئی ہے کہ مسلسل جبر ردِعمل کو جنم دیتا ہے۔ عوام اب محض تماشائی نہیں رہے؛ وہ ایک بھرپور مزاحمتی شعور کے ساتھ جبر کے ہر اقدام کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ مزاحمت کبھی آواز بن کر ابھرتی ہے، کبھی احتجاج کی صورت اور کبھی خاموش مگر گہری نفرت کے طور پر، جو کسی بھی وقت لاوے کی طرح پھٹ سکتی ہے۔ اس سب کے ساتھ دہشت گردی کے منڈلاتے سائے، بیرونی دشمنوں کی یلغار کے خدشات اور اندرونی انتشار نے ریاست کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر اب بھی اصل مسائل سے آنکھ چرائی گئی، اگر نمائشی ترقی کو حقیقی خوشحالی سمجھنے کی غلطی جاری رہی اور اگر عوامی فلاح کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کو ترجیح دی جاتی رہی تو انجام مزید سنگین ہو گا۔ ایسے حالات میں ریاست عوامی مسائل کے حل کے بجائے جبر کو واحد راستہ سمجھنے لگی ہے۔ من مانے قوانین، طاقت کا بے دریغ استعمال اور اختلافِ رائے کو دبانے کی کوششیں اس حقیقت کو نظر انداز کر رہی ہیں کہ مسلسل جبر ردِعمل کو جنم دیتا ہے۔ عوام اب محض خاموش تماشائی نہیں رہے۔ ایک شعوری مزاحمت جنم لے چکی ہے جو کبھی آواز کی صورت میں، کبھی احتجاج کی شکل میں اور کبھی خاموش مگر گہری نفرت کی صورت میں اپنا وجود ظاہر کر رہی ہے۔ یہ وہ لاوا ہے جو اگر انصاف نہ ملا تو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ عدل کے بغیر ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ قرآن کا واضح حکم ہے کہ اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں ظلم، ناانصافی اور تکبر کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو ان کا زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اقبال نے خبردار
کیا تھا کہ جس معاشرے میں فقر کو جرم اور دولت کو معیار بنا دیا جائے وہاں روح مر جاتی ہے، اور قائداعظم نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ قانون کی بالادستی اور دیانت کے بغیر کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
یہ تحریر کسی اندھی بغاوت کی دعوت نہیں بلکہ ایک شعوری، فکری اور اخلاقی مزاحمت کا اعلان ہے۔ ہم اس خاموشی کو سب سے بڑا جرم سمجھتے ہیں جو ظلم کے سامنے اختیار کی جائے۔ ہم اس نظام کو چیلنج کرتے ہیں جو عوام کو بھوکا رکھ کر اشرافیہ کو عیش فراہم کرتا ہے، جو قانون کو چند ہاتھوں کی لونڈی بنا دیتا ہے اور جو دین کو محض نعروں تک محدود کر دیتا ہے۔یہ دستک ِبیداری ہے کہ ریاست نمود و نمائش کے خول سے باہر نکلے، ادارے طاقت کے بجائے انصاف کے علمبردار بنیں، معیشت چند ہاتھوں کی غلامی سے آزاد ہو کر عوامی فلاح کا ذریعہ بنے اور معاشرہ اخلاق، دیانت اور انسانی وقار کو اپنی بنیاد بنائے۔ حکمرانی جب خدمت سے جڑی ہوگی، اختیار جواب دہی اختیار کرے گا اور ترقی انسان دوستی کے اصول پر استوار ہوگی تو ہی اس قوم کے زخم بھر سکیں گے۔ شعور، عدل، مساوات اور اجتماعی ذمہ داری ہی وہ راستہ ہے جو اس معاشرے کو جبر، انتشار اور محرومی کے اندھیروں سے نکال سکتا ہے، اور یہی راستہ اس قوم کی بقا، خودداری اور حقیقی نجات کی واحد ضمانت ہے۔
٭٭٭