وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

جمعه 23 جنوری 2026 پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

محمد آصف

پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ دوبارہ ابھرنا اچانک نہیں بلکہ خارجہ پالیسی میں تدریجی تبدیلیوں، علاقائی روابط کے فروغ، معاشی سفارت کاری اور کثیرالجہتی عالمی فورمز میں فعال شرکت کا نتیجہ ہے ۔ ایک ایسے عالمی نظام میں جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور علاقائی صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں، پاکستان کا کردار بھی نئی صورت اختیار کر رہا ہے ، جو اس کی مجبوریوں اور دیرپا تزویراتی اہمیت دونوں کی عکاسی کرتا ہے ۔
آپریشن بنیانُ المرصوص پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر سامنے آیا ہے ، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے تاثر میں بھی نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے ۔ اس آپریشن ریاستی عزم کو ایک واضح اور منظم شکل دی، جس کے اثرات سکیورٹی، سیاست، معیشت اور سماجی نفسیات تک پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ آپریشن بنیانُ المرصوص کے بعد پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے ۔ریاست کی جانب سے یہ پیغام واضح تھا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی سطح پر بھی آپریشن بنیانُ المرصوص کے اثرات نمایاں ہیں۔ قومی سلامتی کے بیانیے نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اتفاقِ رائے کو جنم دیا۔ آپریشن بنیانُ المرصوص کے بعد پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں امکانات اور ذمہ داریاں دونوں بڑھ گئی ہیں۔ یہ آپریشن ریاستی عزم، قومی اتحاد اور قربانی کی علامت بن چکا ہے ۔ بدلتا ہوا پاکستان اب اس بات کا متقاضی ہے کہ امن، استحکام اور ترقی کو ایک جامع قومی وژن کے تحت آگے بڑھایا جائے ۔ اگر یہ وژن مستقل مزاجی اور دیانت داری کے ساتھ نافذ کیا گیا تو پاکستان نہ صرف داخلی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک باوقار، مستحکم اور پر اعتماد ریاست کے طور پر جو مقام حاصل کیا ہے اس میں مزید بہتری آئے گی۔آپریشن بنیان المرصوص کے بعد کا پاکستان اور پہلے کے پاکستان میں بہت فرق ہے ۔ اب پاکستان کے لئے عالمی طاقتیوں کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے جس کے کچھ دیگر فیکٹر بھی ہیں لیکن سب سے بڑا فیکٹر اپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی ہے اور بھارت کا گمنڈ غرور خاک میں ملانا پاکستان کو ممتاز بناتا ہے ۔
پاکستان کی عالمی اہمیت کے دوبارہ ابھرنے کی ایک بڑی وجہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے ۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث پاکستان مختلف خطوں کو آپس میں جوڑنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بحیرۂ عرب تک رسائی، خصوصاً گوادر بندرگاہ کے ذریعے ، پاکستان کو عالمی تجارتی راستوں میں نمایاں حیثیت دیتی ہے ۔ جب دنیا میں روابط، توانائی کے راستوں اور سپلائی چین کے تنوع کو بڑھتی ہوئی اہمیت دی جا رہی ہے ، تو پاکستان کا جغرافیہ ایک بار پھر اسے علاقائی اور عالمی منصوبہ بندی کے مرکز میں لے آتا ہے ۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی بھی اس کے عالمی کردار کی بحالی کی عکاس ہے ۔ حالیہ برسوں میں اسلام آباد نے خالصتاً سلامتی پر مبنی نقطۂ نظر سے ہٹ کر ایک متوازن اور متنوع سفارت کاری اپنانے کی کوشش کی ہے ۔ ”جیو اکنامکس” کو رہنما اصول بنانے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی معاشی انضمام کو ترجیح دینا ہے ۔ یہ رجحان ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوششوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ معاشی روابط کو تصادم کی سیاست پر فوقیت دے کر پاکستان خود کو علاقائی استحکام کا سہولت کار ثابت کرنا چاہتا ہے ، نہ کہ محض عالمی تنازعات میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر۔
چین پاکستان کے عالمی کردار کے دوبارہ ابھرنے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ، خاص طور پر چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک اہم منصوبے کے طور پر سی پیک نے پاکستان کی تزویراتی اہمیت میں اضافہ کیا اور عالمی توجہ حاصل کی۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے علاوہ یہ منصوبہ پاکستان کے وسیع تر یوریشیائی معاشی نیٹ ورکس میں انضمام کی علامت بھی ہے ۔ اگرچہ قرضوں، سلامتی اور عملدرآمد سے متعلق مسائل موجود ہیں، تاہم سی پیک نے پاکستان کو علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر نمایاں کیا ہے ۔ اسی دوران پاکستان نے بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال اور وسعت دینے کی کوشش کی ہے ۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات اگرچہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم تجارت، ماحولیاتی تعاون اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں یہ تعلقات اب بھی اہم ہیں۔ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں، خاص طور پر جی ایس پی پلس جیسے تجارتی انتظامات کے ذریعے ، معاشی روابط کو مضبوط بنانے اور عالمی سپلائی چین میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ روس کے ساتھ تعلقات میں بھی محتاط بہتری دیکھی جا رہی ہے ، جو بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کے مطابق پاکستان کی کثیر القطبی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے ۔
بین الاقوامی تنظیموں میں پاکستان کی فعال شرکت بھی اس کے عالمی کردار کی بحالی کو نمایاں کرتی ہے ۔ اقوامِ متحدہ، تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں پاکستان کا کردار اسے عالمی امور پر اپنی رائے پیش کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ، چاہے وہ تنازعات کے حل ہوں یا معاشی ترقی کے مسائل۔ کثیرالجہتی مکالموں کی میزبانی اور ان میں شرکت کے ذریعے پاکستان خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جو بین الاقوامی تعاون اور اجتماعی مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے ۔عالمی امن و سلامتی میں پاکستان کی شراکت بھی اس کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا ایک اہم پہلو ہے ۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے ، جس پر اسے پیشہ ورانہ مہارت اور وابستگی کے اعتراف کے طور پر سراہا گیا ہے ۔ یہ کردار پاکستان کی سافٹ پاور میں اضافہ کرتا ہے اور اسے عالمی استحکام کے لیے سرگرم ملک کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی بھی عالمی سطح پر اس کے تزویراتی کردار کو متاثر کرتی ہے ۔ معاشی استحکام اور اصلاحات پاکستان کے عالمی عزائم کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ ملک کو اب بھی قرضوں، مہنگائی اور ساختی کمزوریوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ، تاہم معاشی استحکام کے لیے حالیہ اقدامات عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی علامت ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پائیدار معاشی ترقی کے بغیر عالمی اثر و رسوخ ممکن نہیں۔
ماحولیاتی سفارت کاری بھی ایک نیا میدان بن کر ابھری ہے جس میں پاکستان عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کر رہا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کے باعث پاکستان نے ماحولیاتی ناانصافی اور موافقت کے عالمی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تباہ کن سیلابوں کے بعد بین الاقوامی ماحولیاتی فورمز پر پاکستان کی وکالت نے عالمی توجہ حاصل کی اور ماحولیاتی مذاکرات میں اس کی اخلاقی حیثیت کو مضبوط کیا۔ خود کو ایک متاثرہ ملک اور ایک فعال شراکت دار کے طور پر پیش کر کے پاکستان اپنے عالمی کردار کے دائرے کو وسعت دے رہا ہے ۔یوں پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا ایک یک رُخی یا اچانک تبدیلی نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی عمل ہے ۔ اس میں سفارتی حکمتِ عملی کی ازسرِ نو تشکیل، تزویراتی شراکت داریاں، معاشی روابط اور عالمی نظامِ حکمرانی میں فعال شرکت شامل ہے ۔ اگرچہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوری جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں، تاہم پاکستان کی جانب سے اپنے کردار کی نئی تعریف ایک سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتی ہے جو اسے عالمی سیاست کے حاشیے سے مرکز کی طرف لے جا سکتی ہے ۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی دنیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی شمولیت ضرورت اور موقع دونوں کا نتیجہ ہے ۔ عالمی غیر یقینی صورتِ حال اور علاقائی تبدیلیوں کے اس دور میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، سفارتی توازن، اور معاشی و ماحولیاتی سفارت کاری پر بڑھتا ہوا زور اسے عالمی سطح پر زیادہ نمایاں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ دوبارہ ابھرنا کس حد تک پائیدار اثر و رسوخ میں تبدیل ہوتا ہے ، اس کا انحصار داخلی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور اندرونی اصلاحات کو عالمی عزائم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر ہوگا۔ تاہم پاکستان کے عالمی منظرنامے پر دوبارہ متحرک ہونے کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، جو اس کی بین الاقوامی اہمیت میں محتاط مگر بامعنی واپسی کی علامت ہیں۔ اگر پاکستان اپریشن بنیان المرصوص میں انڈیا کو زلت آمیز شکست نہ دیتا تو شائد آج پاکستان اس انداز میں نہ ہوتا جو اب دنیا اور عالمی طاقتوں کی نظر میں ہے ۔ اللہ پاکستان کو دشمن پر ہمیشہ غالب رکھے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

مضامین
امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود جمعه 13 مارچ 2026
عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود جمعه 13 مارچ 2026
بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر