وجود

... loading ...

وجود
جمعه 02 جنوری 2026

بھارت کی ریاستی دہشت گردی

جمعه 02 جنوری 2026 بھارت کی ریاستی دہشت گردی

ریاض احمدچودھری

بھارت کی ریاستی دہشت گردی پاکستان، کینیڈا امریکہ، آسٹریلیا ، بنگلہ دیش سمیت دنیا بھرکو لپیٹ میں لینے لگی ہے۔بھارت اپنی خفیہ ایجنسی ” را” کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پرعمل درآمد کروا رہا ہے۔بھارت کی ہمسایہ ممالک میں مداخلت اور دہشت گردی کی پشت پناہی نے خطے کو تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان بارہا عالمی سطح پرشواہد کے ساتھ بھارت کی ریاستی دہشت گردی بے نقاب کر چکا ہے۔حال ہی میںبنگلہ دیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک اور سیاسی رہنما بھارتی دہشتگردوں کے نشانے پر آگیا۔بھارتی فوج کے سابق میجر نے بنگالی نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو “اگلی باری تمہاری” کی دھمکی دی۔ایک اور ٹویٹ میں سابق بھارتی کرنل نے حسنات عبداللہ کی گردن میں گولی مارنے کی دھمکی دی ہے۔بنگلہ دیش میں نوجوان رہنما کا قتل بھارتی ڈیپ سٹیٹ کی عالمی سطح پر منظم دہشت گردی کی مثال ہے۔
بھارت کی ہندتوا سوچ کے زیر اثر، پر تشدد توسیع پسندانہ عزائم نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔حالیہ سڈنی حملے میں بھی بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔دو ہزار بیس میں بھی آسٹریلیا نے بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک اہلکاروں کو جاسوسی سرگرمیوں پر ملک بدر کیا تھا۔اس سے پہلے کینیڈا اورامریکا میں سکھ رہنماؤں پر ہونے والے حملوں میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث رہے ہیں۔سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی سفارتی کاروں کے شرپسند عناصر سے رابطوں کو بے نقاب کیا تھا۔کینیڈین سرزمین پر خالصتان رہنما ہردیب سنگھ نجر کے قتل پرکئی ماہ تک کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات معطل رہے۔امریکہ میں سکھ فارجسٹس کیسربراہ کے قتل کی سازش پر بھارتی شہری گرفتار ہوچکا ہے۔ سری لنکا میں بھارت تامل دہشت گردوں کو دہائیوں تک سپورٹ کرتا رہا جو بدترین خانہ جنگی کا باعث بنے رہے۔خود بھارتی شہری بلخصوص اقلیت بھی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔منی پورمیں مسیحی اقلیت، کشمیر میں مسلمان یا پہلگام فالس فلیگ آپریشن بھارت کے ہاتھ سب کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
بھارت کے تین پڑوسی ممالک نیپال، میانمار اور بنگلہ دیش جو سیاسی عدم استحکام یا اندرونی چیلنجز کا شکار ہیں، یہاں 2026 کے ابتدائی مہینوں میں اہم انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھارت ان انتخابات پر گہری نظر رکھ رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں ہونے والی ہلچل کا براہ راست اثر بھارت پر پڑتا رہا ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ ان پڑوسیوں میں بھارت نوازحکومت قائم ہو، تاکہ یہاں بھارتی عملداری چلتی رہے۔گودی میڈیا کی نیپال کے اندرونی معاملات میں بھارتی بالادستی کے لیے مذموم پروپیگنڈا مہم بے نقاب ہوگئی۔نیپال میں داخلی خلفشار کو بڑھانے کے لیے گودی میڈیا نوجوانوں کی تحریک کو پروپیگنڈا رنگ دے رہا ہے لیکن نیپالی عوام نے بھارتی مداخلت اور توسیع پسندانہ مذموم عزائم کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا۔اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی حمایت میں گودی میڈیا کی جھوٹی کہانیاں نیپالی عوام نے مسترد کرتے ہوئے بھارت کے پروپیگنڈے اور جھوٹ پر مبنی گودی میڈیا کا مکمل طور پر بائیکاٹ کر دیا۔نیپالی مظاہرین نے بھارتی صحافی کو کہا کہ ”ہمیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ آپ مودی حکومت کے لیے گودی میڈیا کے ایجنٹ ہیں، پہلے اپنے ملک کے لوگوں کا ساتھ دو پھر ہمارا ساتھ دینا۔”پروپیگنڈا، جھوٹ اور مودی کی چاپلوسی گودی میڈیا کا طرز صحافت بن چکا ہے جبکہ معرکہ حق کے دوران بھی گودی میڈیا جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف رہا۔گودی میڈیا کی مودی نواز بیانیے کی وجہ سے عالمی سطح پر ساکھ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
نیپال میں 5 مارچ 2026 کو پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ وہاں کاٹھمنڈو کے میئر بالیندرا شاہ (بالیں شاہ)، سابق صحافی راوی لامیشانے اور مقبول ایڈمنسٹریٹر کلمان گھسنگ جیسے چہرے روایتی پارٹیوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ بے روزگاری اور کرپشن سے تنگ نوجوان نئے آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔ اس سال جین زی موومنٹ کے بعد کے پی شرما اولی کو وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس وقت وہاں سشیلا کارکی کی قیادت میں عبوری حکومت ہے جو کہ بھارت نواز سمجھی جاتی ہیں۔ نیپال ہمیشہ سے بھارت کے لیے حساس مسئلہ رہا ہے۔ ماضی میں مضبوط تعلقات اب تلخ ہو رہے ہیں۔ چین کا نیپال میں مداخلت بڑھ رہی ہے۔ کالا پانی، لمپیا دھورا اور لپولیکھ درے پر تنازع سنگین ہے۔ بھارت کے 5 ریاستوں سے ملحق نیپال کی سرحد زیادہ تر کھلی ہے۔بھارت سمجھتا ہے کہ نوجوانوں کی نئی قوتیں اگر اقتدار میں آئیں تو چین کی طرف جھکاؤ بڑھ سکتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ بھارت کی تاریخ پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے بھری پڑی ہے، اور اس کا کردار اکثر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو تحفظ دینے کے لیے متنازع رہا ہے۔بھارتی میڈیا نے جس حد تک نیپال کی بے چینی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھارت کی مداخلت کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ چاہے وہ بنگلہ دیش ہو، سری لنکا یا مالدیپ، بھارت نے ہمیشہ جمہوریت اور استحکام کے نام پر اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے اور مخالف قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق نیپال کے معاملے میں بھی بھارت کے ہاتھ دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات ایک عرصے سے چل رہے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف وجود جمعه 02 جنوری 2026
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

بھارت کی ریاستی دہشت گردی وجود جمعه 02 جنوری 2026
بھارت کی ریاستی دہشت گردی

شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے ! وجود جمعه 02 جنوری 2026
شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے !

مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر