وجود

... loading ...

وجود

سیلابی ریلا سندھ کی جانب رواں دواں، پنجاب میں سیلاب سے 42 لاکھ افراد متاثر، 56اموات

پیر 08 ستمبر 2025 سیلابی ریلا سندھ کی جانب رواں دواں، پنجاب میں سیلاب سے 42 لاکھ افراد متاثر، 56اموات

 

بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، مزید سیلابی صورت حال کا خدشہ،متعلقہ اداروں کا ہنگامی الرٹ جاری،ملتان میں ریلے سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے ایک عملی منصوبہ تیار کر لیا ،وزارت آبی وسائل

صوبے بھر میں مختلف مقامات پر طوفانی بارشوں کا خطرہ ،پنجاب سے آنیوالا سیلابی ریلا آئندہ چند گھنٹوں میں سندھ میں داخل ہوجائے گا، ، گھوٹکی میں کچے کے مزید علاقے زیر آب آگئے ہیں،پی ڈی ایم اے سندھ

بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پاکستان میں مزید سیلابی صورت حال کا خدشہ پیدا ہوگیا، بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کر دیا، سیلاب سندھ کی جانب رواں دواں ہے، اور چند گھنٹوں میں صوبے میں داخل ہوجائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد ہریکے اور فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔وزارت آبی وسائل کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے لہٰذا تمام محکمے الرٹ رہیں، اور متعلقہ آبادیوں سے عوام کی منتقلی سمیت دیگر ضروری انتظامات کرلیں۔پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقامات پر صبح 8 بجے رپورٹ ہونے والی اونچی طغیانی ذیلی اضلاع کو متاثر کرے گی۔ایک الرٹ میں پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ ارلی وارننگ سسٹمز کو فعال کریں، حفاظتی اور انخلا کی معلومات بروقت پہنچانے کو یقینی بنائیں، اور پشتوں کو مضبوط کریں۔الرٹ میں زور دیا گیا کہ بھاری مشینری کو رکاوٹ والے مقامات پر پہلے سے پہنچایا جائے، ریسکیو 1122 کو الرٹ پر رکھا جائے، اور ضروری غذائی اجناس کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے 4 ہزار 100 دیہات میں سیلاب سے 41 لاکھ سے زائد افراد متاثر، اموات کی تعداد 56 تک پہنچ گئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب کے 25 اضلاع میں جاری سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 4 ہزار 100 دیہات متاثر ہوئے، جب کہ 26 اگست سے اب تک 56 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ ان دیہات میں متاثرہ آبادی کی کل تعداد 41 لاکھ 51 ہزار 118 ہے، جن کے لیے تقریباً 425 امدادی کیمپ اور عارضی شہر بسائے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 500 میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جہاں اب تک تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار افراد کا علاج کیا گیا ہے۔اب تک محفوظ مقامات پر منتقل اور ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 20 لاکھ 73 ہزار 48 ہے، جب کہ 15 لاکھ 22 ہزار 452 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ملتان کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) وسیم حمید سندھو نے کہا ہے کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے ریلے سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ایک عملی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دریائے چناب پر ہیڈ محمدوالا اور شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے، جس سے حفاظتی پشتوں پر دباؤ کم ہو رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیڈ تریموں سے 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے 36 گھنٹوں میں ملتان پہنچنے کی توقع ہے، آبی ریلے کی وجہ سے ہیڈ محمدوالا اور بوسن و شیرشاہ کے بندوں پر پانی کی سطح دوبارہ بلند ہو سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہیڈ محمد والا پر پہنچنے تک پانی کے بہاؤ کی شدت میں کمی آنے کی توقع ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے (پنجاب) عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ہیڈ پنجند اگلے 24 گھنٹوں میں اپنی مکمل گنجائش 6 لاکھ کیوسک سے زائد کی سطح پر پہنچ جائے گا، صوبے بھر میں مختلف مقامات پر طوفانی بارشوں کا بھی خطرہ ہے۔عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ملتان میں سیلابی صورتحال اگلے 72 گھنٹوں تک برقرار رہے گی کیوں کہ ہیڈتریموں سے مزید پانی سے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیرشاہ پل پر صرف 3 انچ پانی کم ہوا ہے، لیکن جب تریموں کا پانی آئے گا تو یہی سیلابی صورتحال ملتان میں برقرار رہے گی۔بہاؤ کے سندھ کی جانب بڑھنے کا ذکر کرتے ہوئے، عرفان کاٹھیا نے ہیڈ پنجند پر بڑھتے ہوئے پانی کی سطح کی نشاندہی کی، انہوں نے پیش گوئی کی کہ ہیڈ پنجند اگلے 24 گھنٹوں میں 6 لاکھ سے 6 لاکھ 50 ہزار کیوسک کی سطح پر پہنچ جائے گا، اور آخرکار یہ پانی کوٹ مٹھن پر دریائے سندھ میں شامل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تین دن کے بعد، یہ پانی راجن پور اور رحیم یار خان سے گزرتا ہوا گڈو میں سندھ میں داخل ہو گا، اور وہاں پانی کی سطح 7 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے۔پنجاب سے آنے والا سیلابی ریلا آئندہ چند گھنٹوں میں سندھ میں داخل ہوجائے گا، سندھ حکومت کی جانب سے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئیں، بڑے سیلابی ریلے سے پہلے سیلابی پانی سے درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔محکمہ آبپاشی سندھ حکام کے مطابق گڈو بیراج پر اب پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوتی رہے گی، گڈو بیراج کے کچے کے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں، 61 ہزار لوگوں اور ڈھائی لاکھ مویشیوں کو ریسکیو کرکے محفوط مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔چیٔرمین ڈسٹرکٹ کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ کی ہدایت پر روہڑی میں حفاظتی بند پر ایمرجنسی ایمبولینس ہسپتال قائم کر دیا گیا۔کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، کشمور میں بھی کیکے بند کو حساس قرار دینے کے بعد پتھر ڈال کر بند کو مضبوط کیا جارہا ہے، گھوٹکی میں کچے کے مزید علاقے زیر آب آگئے ہیں۔وزیر زراعت سندھ محمد بخش مہر کے مطابق شینک بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے، ٹھٹھہ اور سجاول میں بھی پاکستان نیوی کی جانب سے شاہ بندر میں ریسکیو اور میڈیکل کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔سندھ کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے سندھ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی سامان اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے۔مزید کہا گیا کہ ’ چار جدید ترک ساختہ نصب شدہ ڈی واٹرنگ پمپ لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر کو بھیجے گئے ہیں تاکہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران بروقت نکاسی آب ممکن بنائی جا سکے۔’پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سید سلمان شاہ کے مطابق ہر ضلع میں صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے قریبی تعاون سے امدادی سامان کی تقسیم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر