... loading ...
ب نقاب /ایم آر ملک
طاقت، جب تک آزمائی نہ جائے، مقدس سمجھی جاتی ہے۔ مگر جب اسے بلا ضرورت دکھایا جائے، تو یہ اس کی حدود کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ یہی اندھی طاقت کا بنیادی اصول ہے: ایک مضبوط قیادت کا زعم خود طاقت کا زوال ہوتا ہے ، رانا ثنا اللہ کا ڈیرہ بھی اب ”جناح ہائوس ” جتنا مقدس ٹھہرا ۔
پنجاب پولیس نے قانون پر عمل درآمد کرنے کے بجائے ہمیشہ برسراقتدار طبقہ کیلئے اپنی چھڑی مخالفین پر بطور انتقام استعمال کی ۔ ابہام کا فائدہ شاید یہ ہوتا ہے کہ زبردست طاقت کا خوف، اور ابھرتی ہوئی شبیہ مد نظر رہتی ہے مگر اس کا استعمال کیاگیا بے محابا اور بے دریغ — درست ضرب لگانے کے لیے نہیں ، محض بہادری کا مظاہرہ کرنے کے لیے۔ اور اسی میں طاقت کا کھوکھلاپن ظاہر ہوا ۔اب عوام کو اس اندھی طاقت کے زعم سے خوف نہیں۔
اب عوام نے دیکھ لیا ہے کہ خوف سے وفا اور جذباتی لگائو کو روکا نہیں جا سکتا ۔اور پاکستان تحریک انصاف جسے طاقت کی حکمت عملی مٹانے کے درپے تھی ، وہ کمزور ہو کر نہیں، بلکہ بیدار ہو کر اُبھری ہے۔حکومت اور مقتدرہ کی یہ صرف ایک تزویراتی ناکامی نہیں، بلکہ تاریخ میں یاد رکھا جانے والا لمحہ ہے: جب طاقت کے ذریعے نہیں، بلکہ حد سے تجاوزنے برتری کو مات دی ۔
9مئی کے بعد یہ محض طاقت کا اظہار نہ تھا یہ طاقت اور تاثر کا نقشہ کھینچنے کی کوشش تھی۔ مگر طاقت کی حکمت عملی جس کا مقصد غلبہ حاصل کرنا تھا ۔۔ اپنی حدود ظاہر کرنے پر ختم ہوئی۔طاقت کا زعم جسے طویل عرصے سے برتر سمجھا جاتا تھا، آزمائی گئی ۔۔ اور روک دی گئی۔ چھڑی پاکستان کو توڑنے کے لیے گھمائی گئی۔ لیکن وہ ہوا میں ہی ٹوٹ گئی۔
مہروں کی گہری چال واضح تھی،9مئی ایک خودساختہ واقعے کے ذریعے اشتعال دلا کر جوابی کارروائی پر مجبور کرنے کا عمل ،عوامی رد عمل کی توقع کی راکھ پر کھڑے ہو کر ایک بڑی پارٹی کو تنہائی میں ڈالنا،ایک بڑی سیاسی جماعت کی ساکھ کو تباہ کرنے کا پیش منظر ۔مگرکپتان نے پلک نہ جھپکی۔اس نے تحمل، درستگی، اور حکمتِ عملی کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر مستقل مزاجی دکھائی ۔ جو ممکنہ شکست ہو سکتی تھی، اسے عوامی طاقت کے توازن میں بدل دیا۔
افسانہ مٹ گیا۔ نفسیاتی برتری ۔۔۔ جومقتدرہ کا سب سے بڑا ہتھیار تھا ۔۔۔ کھو دی گئی۔9مئی کی خاک پہ طاقت کو آزمانے کا عمل۔ اور اس میں مقتدرہ نے اپنا ہاتھ ظاہر کر دیا اور برتری کا طلسم توڑ دیا۔
روایتی برتری کا پورا فریم ورک ۔۔۔۔ جسے ایسے ہی دن کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔۔۔۔ عوام کے سامنے بکھر گیا۔اب افسانہ چکنا چور ہو چکا ہے۔ نفسیاتی برتری ختم ہو چکی ہے۔
کپتان کی تاریخ سے ملاقات: حکمت کی طرف گامزن ،
: ایک وجودی لمحہ، جسے وقار اور درستگی سے نبھایا گیا۔
سیالکوٹ کی ماں جس کا خواجہ صفدر کا بیٹا مذاق اڑاتا تھا، اس نے باز رکھنے کی نئی تعریف پیش کی۔پاکستان تحریک انصاف نے تاریخ کی سب سے مربوط دفاعی حکمت عملی اور حقیقی وقت میں ہم آہنگی کا مظاہرہ پیش کیا۔
تزویراتی نقشہ بدل چکا ہے ۔۔۔ماضی کی روایت دم توڑ چکی اور عوام کی نظر کا زاویہ بھی۔
تزویراتی پیش گوئی: نئے طاقت کے توازن کا آغاز
جو طاقت کے مظاہرے کے طور پر شروع ہوا، وہ اب تزویراتی غلطی کی کتابی مثال بن چکا ہے۔
یہ ایک نئی بازدار حقیقت کا اشارہ تھا:یہ صرف ایک حکمت ِعملی کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی دھچکا ہے۔
اقتدار پہ قابض وہ اقلیت ، جو پہلے تذبذب میں تھی،اب نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے ۔۔
پردہ ہٹ گیا ہے۔
توازن بدل گیا ہے۔
افسانہ دم توڑ چکا ہے۔
خواب ختم ہو گیا ہے۔
اب وقت ہے کہ مقتدر حلقے وہ سچ تسلیم کریں،جومیڈیا نہیں بولتا:کپتان اب وہ کپتان نہیں رہا،جسے ماضی میں نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔
آج کپتان کا وقار، درستگی، اور اعتماد ۔۔۔شہرت کی نہج پہ کھڑا ہے
یہ اس قوم کی تصویر ہے جس نے مورچہ سنبھالا ۔۔۔۔اور اس کی لکیر دوبارہ کھینچ دی۔
آئیے امن کو فروغ دیں ۔۔ایک سچ اور وقار کو تسلیم کر کے۔
یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے سے عزت، نرمی، اور فہم کے ساتھ پیش آئیں ۔۔۔غرور یا لاعلمی کے ساتھ نہیں۔
٭٭٭