وجود

... loading ...

وجود

کیا ایگزیکٹوکے ماتحت فورسز عدالتی اختیار کا استعمال کرسکتی ہیں؟جج آئینی بینچ

جمعه 21 فروری 2025 کیا ایگزیکٹوکے ماتحت فورسز عدالتی اختیار کا استعمال کرسکتی ہیں؟جج آئینی بینچ

آئین سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے ،پارلیمنٹ ہر چیز بھی نہیں کرتی، جو نہ کرے وہ عدلیہ کرسکتی ہے
آرمی ایکٹ کا تعلق صرف ڈسپلن سے ہے ،کورٹ مارشل سسٹم میں عام سویلین کو نہیں ڈالا جاسکتا، بحث

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا ہے آئین کے تحت ایگزیکٹو کے ماتحت آرمڈ فورسز عدالتی اختیار کا استعمال کرسکتی ہیں یا نہیں؟جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بینچ کا حصہ ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری دلائل دے رہے ہیں، انہوں نے مؤقف اپنایا کہ دیکھنا یہ ہے کہ آئین کس چیز کی اجازت دیتا ہے ، عام ترامیم بنیادی حقوق متاثر نہیں کر سکتی، سلمان اکرم راجہ صاحب نے جو مثال دی تھی وہ سویلینز میں ہی آئیں گے ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ 83اے کے تحت آرمڈ فورسز کے اسٹیٹس کو دیکھنا ہوتا ہے ، آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کی پروویشن کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے ۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 243 کے مطابق اسکا اطلاق پہلے سے ہوتا ہے ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس پر آپکی ججمنٹس موجود ہیں، ملزم کے اعتراف کے لیے سبجیکٹ کا ہونا ضروری ہے ، کورٹ مارشل کے علاوہ کوئی پروویشن نہیں ہے جو اس میں لگے ۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ وہ نا لگے اس کا لگنا ضروری تو نہیں ہے ، وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ یہ اتنا سادہ نہیں ہے ،ایف بی علی نے اسٹیٹس واضح کر دیا تھا، کوئی بھی ممبر جس کا تعلق ہو قانون کے مطابق اطلاق ہو گا، ٹو ون ڈی والے 83 اے میں نہیں آتے یہ ایف بی علی نے واضح کیا، اگر یہ اس میں آ گئے تو بنیادی حقوق دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، آرمی ایکٹ کا تعلق صرف ڈسپلن سے ہے ۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ شق سی کے مطابق جو ملازمین آتے ہیں وہ حلف نہیں لیتے ہوں گے ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ شق سی والے کبھی بھی کورٹ مارشل نہیں کر سکتے ، کورٹ مارشل ہمیشہ آفیسرز کرتے ہیں۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ جرم کی نوعیت آرمڈ فورسز ممبرز بتائیں گے ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جرم کی نوعیت سے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے ۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بھارت کے آئین میں بھی ہمارے آئین کی 175 کی شق 3 جیسی شق موجود ہے ، پارلیمنٹ بہت سی چیزوں کو خود کرتی ہے ، لیکن پارلیمنٹ ہر چیز بھی نہیں کرتی، جو پارلیمنٹ نہ کرے وہ عدلیہ کرسکتی ہے ، برطانیہ میں بھی ایسا ہے ، برطانوی پارلیمنٹ کو عدلیہ کہ جانب سے کیاجاتا رہا کہ اس معاملے کو دیکھیں، 10 سال تک پارلیمنٹ نے نہیں کیا تو انہوں نے خود کردیا۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میں عدالتی دائرہ اختیار کی کمی کا قائل نہیں، میں چاہتا ہوں عدالتی دائرہ اختیار میں وسعت ہو، میرے ہاتھ عدالتی نظیروں نے باندھ رکھے ہیں۔جسٹس محمد مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ڈیکلریشن عدالتیں دیتی ہیں، وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ ضیا دور کی ترامیم بے نظیر بھٹو کیس میں عدالت نے کالعدم قرار دیں، پارلیمنٹ کو آئین سازی، ترمیم اور ترمیم واپس لینے کے اختیارات ہیں، اگر قانون غلط ہو تو لوگ عدالتوں میں اسکے خلاف آتے ہیں، اقبال ظفرا جھگڑا کیس میں عدالت نے کولیکشن آف ٹیکس 1937 ختم کیا، کورٹ مارشل کا جو سسٹم موجود ہے وہ 175 اے میں نہیں آتا۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر کوئی شخص 2 ون ڈی ون میں آتا ہے تو پھر کیا ہوگا۔عزیر بھنڈاری نے استدلال کیا کہ اس بنیاد پر آپ کورٹ مارشل سسٹم کو اسٹرائیک ڈاؤن نہیں کرسکتے ، ہمارا مدعا یہ ہے کہ کورٹ مارشل سسٹم میں عام سویلین کو نہیں ڈالا جاسکتا، جن کوکورٹ مارشل سسٹم میں ڈالا گیا انکو نہیں ڈالا جاسکتا۔جسٹس جمال خان مندوخیل استفسار کیا کہ 2 ون ڈی ون کو نکال دیں تو پھر، عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ کورٹ مارشل کا سسٹم پھر بھی چلے گا، ٹرین چل رہی ہے اسکو نہیں روکا جاسکتا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یعنی ٹرین کو چلنے دیا جائے اور ایک بوگی نکال دیں، عزیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے کورٹ مارشل کا تاریخی تناظر پیش کیا، جسٹس منیب اختر نے بھی فیصلے میں لکھا کہ کورٹ مارشل کو ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن انہوں نے فیصلہ دیا کہ سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا۔جسٹس امین الدین خان نے کہ اکہ آپ کے سلمان اکرم راجہ نے تو جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے اختلاف کیا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اور میرا موکل جسٹس منیب کے فیصلے سے قطعاً متفق نہیں، اگر سویلین کا گٹھ جوڑ ہو تو پھر کیا آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل ہوگا۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آئین بننے سے پہلے کے جاری قوانین کا بھی عدالت جائزہ لی سکتی ہے ، جسٹس جمال مندوخیل سوال کیا کہ ڈی کو نکالنے کے باوجود بھی کیا ملٹری جسٹس سسٹم چلتا رہے گا ؟عزیز بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ ٹرین چلے گی سوال ہے کہ کس کو بٹھایا جا سکتا ہے کس کو نہیں، جسٹس منیب فیصلے سے بھی کورٹ مارشل جاری رہنے کا تاثر ہے ، اگر چہ مارشل لاء میں بھی پارلیمان کے زریعے بہتری کی آپشنز موجود ہیں، فوجی عدالتیں 175 سے باہر ہیں، سویلینز کا ٹرائل صرف 175 کے تحت ہی ہو سکتے ہیں، فوج 245 کے دائرہ سے باہر نہیں جاسکتی۔جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا (3)8 کے مقصد کیلئے بنائی گئی عدالتیں دوسروں کا ٹرائل کرسکتی ہیں ؟ آئین کے تحت آرمڈ فورسز ایگزیکٹو کے ماتحت ہیں، کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار کا استعمال کرسکتی ہیں یا نہیں؟عزیر بھنڈاری نے کہا کہ وقفہ کے بعد عدالتی سوالات کے جواب دوں گا، اس موقع پر سماعت میں وقفہ کردیا گیا، وفقے کے بعد عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ 1973 کے آئین میں آرمڈ فورسز کو آرٹیکل 245 کے تحت اختیار دیے گیے ، آرمڈ فورسز آئین کے آرٹیکل 245 سے باہر کام نہیں کرسکتیں، فوج کو سویلین کی معاونت کے لیے طلب کیا جا سکتا ہے ، لیکن فوجی عدالتیں سویلین عدالتوں کی جگہ نہیں لے سکتیں۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 9 مئی اور 10 مئی کو جو ہوا اس وقت آرٹیکل 245 کا اطلاق ہوا، فوج سویلین کی کسٹڈی مانگی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 245 کے اطلاق کا نوٹیفکیشن کہاں ہے ، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اعتراز احسن کی درخواست میں موجود ہے ۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ چوہدری اعتزاز احسن نے تو سوال اٹھایا کہ یہ مقدمہ میرے نام سے کیوں نہیں جواد ایس خواجہ کے نام سے کیوں ہے ، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے آرٹیکل 245 کا نوٹیفکیشن نکالا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صرف پنجاب میں ہی 245 کا اطلاق ہوا۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بھی ہوا بلوچستان سے متعلق علم نہیں، آرٹیکل 245 کے دائرے کے باہر فوج نہیں جاسکتی۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 8 کی شق 3 اور 245 میں کیا تعلق ہے ، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ سویلین کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیا کوئی کابینہ کا فیصلہ تھا، عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی کی قراردادیں بھی اور کابینہ کا فیصلہ بھی موجود ہے ، اس قرارداد میں تین قوانین کے تحت ملٹری ٹرائل کی حمایت کی گئی۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قرارداد اور کابینہ کا فیصلہ تو انتظامی ہے ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین میں آئین سازی کی پاور صرف پارلیمنٹ کو ہے ۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 26 ویں ترمیم میں انہوں نے صوبائی آئینی بنچز کی تشکیل صوبائی قراردادوں سے مشروط کی، 9 مئی سے متعلق ملٹری ٹرائل کی قرارداد سیاسی نوعیت کی ہے ۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ نے تو 5 ججز کے فیصلے کے خلاف بھی قرار داد پاس کی، عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ججز کے بارے میں تو پارلیمنٹ بہت کچھ کہتی رہتی ہے ، آئین میں سویلین کے کورٹ مارشل کی کوئی شق موجود نہیں، 245 کے علاؤہ فوج کے پاس سویلین کے لیے کوئی اختیار نہیں، 245 میں فوج کو جوڈیشل اختیار نہیں، شاید کوئی اور آئین کی شق ہو جس کے تحت ملٹری ٹرائل سویلین کا ہوسکے لیکن میرے علم میں ایسا کچھ نہیں، اگر آپ کہیں کہ ٹو ون ڈی 8 3 اے میں آتا ہے تو ایف بی علی کو اوور رول کرنا پڑے گا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 17 ممبر بینچ نے بھی یہی کہا تھا کہ ایف بی علی میں ٹھیک کہا ہے ، ایٹ 3 اے ممبر آف آرمڈ فورسز پر لاگو ہوتا ہے ، وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایف بی علی نے کہہ دیا کہ یہ پرویشن نہیں آتی، جب تک اس فائنڈنگ کو اوور رول نہیں کرتے اس کی اجازت کیسے ہو گئی، 83 اے کی بحث ساری غیر ضروری ہے ۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ انہوں نے کہا تو ہے بنیادی حقوق دستیاب ہیں، وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں یہ نہیں پتا کہ کس اصول کے تحت پک اینڈ چوس کی گئی، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ پک اینڈ چوس ایف آئی آر کی رجسٹریشن کے بعد ہوتی ہے ۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ گرفتار ہوئے ، اس میں سے 103 کو ملٹری کسٹڈی میں بھیجا گیا، کیا اے ٹی سی بھیجے گئے ملزمان پر بھی فوجی تنصیبات پر حملے کا الزام تھا، کیا ان پر بھی وہی چارجز آئے جو ملٹری کسٹڈی والوں پر آئے ۔وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ ملٹری ٹرائل والوں پر کون سے چارجز آئے کسی کو نہیں پتا نا ہی وہ ریکارڈ پر موجود ہے ، 1973 کے آئین میں دیکھیں تو 8 تھری اے نہیں آتا، میں وکالت نامے پر دستخط کروانے گیا تھا اسی کیس میں مجھے بھی پکڑ کر لے گئے ، مجھے بھی دو گھنٹے اندر رکھا گیا، ایف بی علی میں جو وجوہات دی گئی وہ ٹھیک ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ ایف بی علی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی، اتنے دن سے اسی پر بحث ہو رہی ہے چھوڑ دیں اسے ، وکیل عزیر بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ میری گزارش بس یہ ہے کہ آئندہ کے لئے راستہ بند کرنا ہے ۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔


متعلقہ خبریں


تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

مضامین
کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر