وجود

... loading ...

وجود

نون لیگ کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں کہ وہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کرے ،بلاول بھٹو

هفته 28 دسمبر 2024 نون لیگ کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں کہ وہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کرے ،بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، ان کے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ وہ یکطرفہ اور متنازع فیصلے کریں،اگر ہمیں اپنا شیئرصحیح طریقے سے نہیں مل رہا ، تو اس کا یہ مطلب نہیں اب کام نہیں ہوسکتا، ہم نے اپنے طریقے سے دوسرا بندوبست کیا ہے ،امید ہے ہماری شکایت کو سنجیدہ لیا جائے گا ،صوبے کے اعتراضات کو دور ، کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیا جائیگا،پانی ہر کسی کا بنیادی حق، عوام سیاسی قائدین کی طرف دیکھ رہے ہیں، انا کی سیاست چھوڑ کر سیاستدان مل کر کام کریں،کالاباغ ڈیم یکطرفہ فیصلہ تھا، جس پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا ۔لاڑکانہ کے علاقے رتوڈیرو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح ہے ، ہماری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مسائل جتنے بھی ہوں، کم مسائل میں بھی محنت کر کے اپنے عوام کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس کے ساتھ اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ چھوٹے صوبے ہیں، چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، وفاق کا رویہ کچھ ایسا ہی رہتا ہے ، جہاں تک پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے درمیان معاہدہ ہوا، ہم نے حکومت سازی میں اس حد تک ساتھ دیا کہ وزیراعظم کو ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور وفاق کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں پیپلزپارٹی کی ان پٹ بھی لے جائے گی اور ان کو فنڈنگ بھی دی جائے گی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ایک وعدہ کیا گیا اس پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں ہورہا، مگر جس طریقے سے وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہئے اور تمام صوبوں کو ان کا حق دینا چاہئے ، اس حوالے سے حکومت میں بہتری کی گنجائش ہے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا مجھے امید ہے ہماری شکایت کو سنجیدہ لیا جائے گا اور معنی خیز ڈائیلاگ کے نتیجے میں ہم جو صوبے کے اعتراضات ہیں، ان کو بھی دور کرسکتے ہیں اور جو سیاسی وعدے کیے گئے ہیں، اس پر بھی عملدرآمد کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک مینڈیٹ کا معاملہ ہے ، وہ تو پارلیمانی نظام میں آپ کے سامنے ہے ، حکومت کا جو طریقہ کار ہے ، چاہے وہ پالیسی بنانا ہو، یا وہ قانون سازی کا عمل ہو، ان کے خیال میں شاید ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہے ، اور ان کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پارلیمان میں ان کی پوزیشن ایسی نہیں ہے ، جو 90کی دہائی میں ان کے پاس دو تہائی اکثریت تھی، اس وقت ان کے پاس باقی سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اجتماعی فیصلے کرنے کا مینڈیٹ تو ہے ، یکطرفہ فیصلہ کرنا اور بھی ایسا یکطرفہ فیصلہ کرنا، جو متنازع ہو، جو پانی کے بنیادی حق پر ہو، جو 1991ء کے ارسا کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں کے اختلافات اس اجلاس میں بھی اٹھائے جائیں، ان کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے آپ کسی منصوبے پر آگے بڑھتے جائیں گے تو اس کے لیے تو بالکل ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے ، اسی طریقے سے منصوبے متنازع ہوتے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ مل بیٹھ کر بات چیت کرکے سب کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے بعد اگر کوئی منصوبہ بنایا جائے گا تو وہ کامیاب ہو گا ورنہ ایک زمانے میں کسی نے سوچا تھا کہ وہ کالاباغ ڈیم بنائے گا، آپ مجھے بتائیں کہ وہ ڈیم کہاں ہے ؟ وہ بھی یکطرفہ فیصلہ تھا، یہ بھی ایک یکطرفہ فیصلہ ہے ، اس زمانے کے یکطرفہ فیصلے کو ہم نے ہی ناکام کروایا، آج کی سیاسی صورتحال میں بھی یکطرفہ فیصلے ہوں گے ان پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کو کسی نہ کسی طریقے سے پینے کے صاف پانی کسی منصوبے کی صورت میں پہنچادوں، میں جانتا ہوں کہ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق جائز حق ایک بار بھی نہیں ملا ہے ، اس کا موازنہ کسی بھی بزنس یا اداے سے کریں کہ اگر ان پٹ پوری طریقے سے نہیں آتا تو پھر آئوٹ پٹ پرکسی نہ کسی صورت میں اثر ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا ریجن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو لیڈ کیا ہے ، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)کا دور، پی ڈی ایم کا دور، آج کا بھی دور، ان تمام حکومتوں میں اگر ہمیں اپنا صحیح طریقے سے شیئر نہیں مل رہا تھا، تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اب کام نہیں ہوسکتا، ہم نے اپنے طریقے سے دوسرا بندوبست کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر بہتری آرہی ہے ، مہنگائی میں کمی آئی ہے ، ہم اس کو ویلکم کرتے ہیں، اگر معاشی بہتری آرہی ہے تو ہماری جماعت کاموقف ہوگا کہ اس بہتری کو اب عوام کو محسوس ہونا چاہئے ، وہ ان پٹ ہم حکومت کو ضرور دیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہاکہ حکومت کا اپنا منصوبہ تھا کہ پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانی ہے ، اس کیلئے آپ کو آئی سیکٹر اور ٹیک سیکٹر سے 60ارب ڈالر کی برآمدات چاہئیں تھیں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج زراعت کے بعد کسی ایک شعبے میں پاکستان کی معیشت کو رسپانس دے سکتے ہیں تو یہ آئی ٹی سیکٹر، ڈیجیٹل سیکٹر، ٹیکنالوجی سیکٹر ہے ، پاکستان کا ٹیکنالوجی سیکٹر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا، انٹرنیٹ کو جو آج کل انفرااسٹرکچر ہے ، انہیں سمجھ نہیں آتی، ان کی سیاست موٹروے سے شروع ہو کر میٹرو پر ختم ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں کمی کے بجائے اسے تیز کرنا تھا، ہم نے اسے محدود کرنے کے بجائے ان علاقوں میں پہنچانا تھا جہاں ابھی تک انٹرنیٹ نہیں پہنچا تھا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کیسا حکومتی یکطرفہ فیصلہ ہے ، وہ بھی ہر روز دوسرا نیا بہانہ، کبھی مانتے ہیں کہ بند کرنے جا رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں کیا، کبھی کہتے ہیں کہ ٹار گٹ جاتا ہے ، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے ، اب مجھے بتائیں کہ پاکستان کے انٹرنیٹ کیبل میں ایسا کیا ہے کہ سمندر کی مچھلیاں صرف پاکستان کے انٹرنیٹ کیبلز کھاتے رہتے ہیں، وہ بھی جب اسلام آباد میں کوئی دھرنا ہو۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پانی بھی پیتا ہے ، سڑک بھی استعمال کرتا ہے ، تو وہ باقی چیزیں بھی بند کردیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کے عوام سیاسی استحکام چاہتے ہیں، پاکستان کے عوام سیکیورٹی چاہتے ہیں، اگر وہ پاکستان کے عوام کے سامنے ڈیجیٹل کے حوالے سے کہتے کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ڈس انفارمشین ہوتی ہے ، انتہاپسند تنظیمیں اسے استعمال کرکے نفرتیں پھیلاتی ہیں، لوگوں کو جانی نقصان پہنچاتے ہیں تو اس کے لیے میں بھی تیار ہوتا، میڈیا میں بھی لوگ تیار ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ یکطرفہ کسی سے بات کئے بغیر کسی کا انٹرنیٹ بند کردیں گے ، اور وہ بھی اس ملک میں جہاں 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے ، تو آپ نے ان 70 فیصد کو خلاف کر دیا، ہم تو نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن)کے ساتھ کمیٹی تشکیل دی تھی کہ ہماری سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے قبل حکومت کے ساتھ انگیج کیا جائے اور جو مسائل ہیں، ان کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہم سی ای سی کے سامنے جب وہ رپورٹ دیں تو وہ مثبت رپورٹ ہو اور اس کا کوئی نتیجہ نکلے ،اس سلسلے میں کل ہمارا اجلاس ہوا اس میں صدر زرداری سے یہ درخواست کی ہے کہ ہم یوم کشمیر کے فورا بعد سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے ۔


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر