وجود

... loading ...

وجود
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود - اتوار 01 فروری 2026

حمیداللہ بھٹی   امریکی محصولات اور مطالبات پرریاستیں جس تیزی سے خارجی سمت بدل رہی ہیں، یہ بدلائو دنیاکوایک بار پھر سرد جنگ کی طرف دھکیل رہاہے ۔حالانکہ جولائی 2024میں جب ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربن نے رومانیہ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام تبدیلی کی طرف جارہا ہے اور مستقبل میں عالمی طاق...

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود - اتوار 01 فروری 2026

بے لگام / ستار چوہدری کیا تم نے کبھی،اپنی ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خود سے کہا ہے ، تم ناکام ہو۔۔۔؟ کیا کبھی تم نے اپنے اندر کے جھوٹے دلاسے نوچ کر پھینکے ۔۔۔؟ کیا کبھی اپنی ہی روح کے گریبان پرہاتھ ڈالا۔۔۔؟ اگر نہیں۔۔۔ تو افسوس کرو۔۔۔۔ اس لیے نہیں کہ تم برے ہو، بلکہ اس لیے کہ...

انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود - اتوار 01 فروری 2026

اونچ نیچ آفتاب احمد خانزادہ جب پہلا انسان غار کی نم دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور اس نے پہلی بار رات کے آسمان کو حیرت، خوف اور بے نام اداسی کے ساتھ دیکھا تو وہ لمحہ صرف کسی ستارے کو دیکھنے کا نہیں تھا بلکہ وہ لمحہ انسان کے اندر''میں''کے پیدا ہونے کا لمحہ تھا۔ کیونکہ اس لمحے ا...

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود - هفته 31 جنوری 2026

بے لگام/ ستارچوہدری ریاست جب خود کو ''ماں'' کہنے لگے اورشہری کو بچہ، تو پھرلاڈ اورسزا میں فرق مٹ جاتا ہے ، ہرسختی خیرخواہی بن جاتی ہے ، ہرسوال نافرمانی ۔ ۔ ۔ ایسے میں ''ظلم'' کا لفظ غیرضروری ہوجاتا ہے ، کیونکہ سب کچھ ''بہتری '' کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ،کچھ عہد ایسے ہوتے ہ...

نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود - هفته 31 جنوری 2026

افتخار گیلانی اگرچہ غزہ سٹی کے مکین 28 سالہ احمد الجو جو کا گھر کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے ، اس نے دو سال سے اپنی شادی کا سوٹ سنبھال کر رکھا ہوا ہے ۔ گزشتہ کئی روز سے وہ اس کو پلاسٹک کے تھیلے سے نکال کر جھاڑ پونچھ رہا ہے ۔ اس کی آستینیں اب کچھ چھوٹی پڑ چکی ہیں اور کالر وقت کے س...

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود - جمعه 30 جنوری 2026

محمد آصف بسنت کا تہوار برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں ایک قدیم اور رنگا رنگ روایت کے طور پر جانا جاتا ہے جو عموماً موسمِ بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن آسمان پر اڑتی ہوئی پتنگیں، زرد لباس، موسیقی اور میلے ٹھیلے ایک خوشگوار منظر پیش کرتے ہیں۔ تاہم جدید دور میں یہ سوا...

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود - جمعه 30 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری امریکا کے مشہور اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات پر تنقید کی گئی ہے، موقر روزنامے نے کہا کہ مودی حکومت آزاد منڈی کا واضح وژن پیش کرنے میں ناکام رہی، اگست 2025 میں امریکا نے 50 فیصد ٹیرف عائد کیا، یہ ٹیرف کسی بھی بڑی معیشت کے لیے سب ...

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود - جمعه 30 جنوری 2026

ب نقاب /ایم آر ملک کیا اسے ہم ذی جنریشن کی بیداری کہہ کر حقائق سے جان چھڑا سکتے ہیں ؟ شاید ایسا نہیں اگر ہم اس منطق کو لیکر حقائق سے جان چھڑانا بھی چاہیں تو نہیں چھڑا پائیں گے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو خطہ ایسے حالات سے نبرد آزما ہوتا ہے ،اس کے باسی ایسے حالات کی زد میں آ...

بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود - جمعرات 29 جنوری 2026

جہان دیگر ۔۔۔۔۔۔ زریں اختر روزنامہ جرات صفحہء اوّل ١٨ ِ جنوری ٢٠٢٦ء کی چھ کالمی شہ سرخی ہے :''قومی اسمبلی ،فوج اور عدلیہ کے خلاف تقاریر روکنے کا اعلان''، اخبار نے اپنی خبر لگائی ۔ روزنامہ جنگ کی اسی روز کی اشاعت میں صفحہء اوّل کے نصف آخر میں صابن کی نیلی پٹی کے اشتہاراور جنی...

افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود - جمعرات 29 جنوری 2026

عبدالماجدقریشی بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق دلائل سننے سے انکار کر دیا اور اسکی قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی تشکیل نو کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 29نومبر کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ ن...

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود - جمعرات 29 جنوری 2026

اونچ نیچ آفتاب احمد خانزادہ سیموئیل بیکٹ کا Waiting for Godot وہ ڈرامہ ہے جو بظاہر کچھ بھی نہ ہونے کی کہانی ہے مگر درحقیقت یہ انسانی وجود کے سب سے گہرے سوالات کو چھیڑتا ہے۔ یہ ڈرامہ دو کرداروں، ولادیمیر اور ایسٹراگون، کے گرد گھومتا ہے جو ایک ویران سڑک پر ایک درخت کے نیچے کسی...

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود - جمعرات 29 جنوری 2026

حمیداللہ بھٹی بالادستی کے لیے مداخلت کا آغاز ہونے سے کرکٹ جیسے مقبولِ عام کھیل میں صحت مندانہ مقابلے کے رجحان میں کمی آرہی ہے، اِس کی وجہ کھیل میں بھارتی سازشیں ،تنگ نظری اور تعصب ہے جو کہ کرکٹ شائقین سے سراسرزیادتی اور دشمنی کے مترادف ہے۔ ورلڈ کپ جیسے ایونٹ کا شائقین کوشدت سے...

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود - بدھ 28 جنوری 2026

ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ریاستی جِنوں کے منہ سے ایک مرتبہ پھر ''آدم بو آدم بو'' کی صدائیں سنتے ہیں۔ افسانوی رنگ میں ڈھلے بین السطور پیغام میں ایک نہ ختم ہونے والی بھوک کا طرزِ احساس ملتا ہے تودوسری طرف کسی 'شہزادی' کی قید کا بھی بار دگر خوف جاگتا ہے۔شہزادہ رہائی کے لیے...

آدم بو آدم بو!!

قیدی نمبر 650 ایک گمشدہ ماں کی کہانی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

صحن چمن ۔۔۔۔۔۔ عطا محمد تبسم   قیدی نمبر 650 ایک گمشدہ ماں کی کہانی ہے ، 2003 کی ایک سہ پہر کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال سے ایک ماں کو اس کے تین معصوم بچوں سمیت اس وقت اٹھا لیا گیاجب وہ خریداری کے لیے جا رہی تھی۔ نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی، نہ وارنٹ دکھایا گیا اور ن...

قیدی نمبر 650 ایک گمشدہ ماں کی کہانی

گل پلازہ کا سانحہ، حکمرانی کی ناکامی اور وفاقی فریب وجود - بدھ 28 جنوری 2026

آواز ۔۔۔۔۔ امداد سومرو کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ محض ایک عمارت کے جلنے کا واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ اس شہر پر مسلط دہائیوں کی بدانتظامی، کرپشن، بے حسی اور سیاسی مفادات پر مبنی حکمرانی کا جیتا جاگتا ثبوت تھی۔ اس سانحے نے کئی قیمتی انسانی جانیں نگل لیں، متعدد خاندان اجڑ...

گل پلازہ کا سانحہ، حکمرانی کی ناکامی اور وفاقی فریب

تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود - منگل 27 جنوری 2026

ڈاکٹر سلیم خان وطن عزیز کو لاحق سب سے بڑا خطرہ شنکر اچاریہ کی توہین نہیں بلکہ مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان ٹکراو کاہے ۔ کیرالہ کے بعد تمل ناڈو اور اب کرناٹک تینوں ریاستوں پر یکے بعد دیگرے گورنروں کے رویہ نے ایک بڑا آئینی بحران کھڑا کردیا ہے ۔ یہ اس لیے نہیں ہوا کیونکہ وہاں ...

تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود - منگل 27 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری شدت پسند مودی حکومت کے دور میں ایک بار پھر مسلمانوں کے قتل و غارت کا بازار گرم ہوگیا، حالیہ ہندو مسلم فسادات نے بھارت میں مذہبی رواداری اور جمہوریت کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا۔ کانپور سے شروع ہونے والے مذہبی تنازع نے 4 ستمبر کو بڑے فسادات کی شکل اختیار کر لی جسے...

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود - پیر 26 جنوری 2026

معصوم مرادآبادی سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کی آڑ میں ووٹروں کے نام حذف کرنے کے معاملے میں الیکشن کمیشن کو خبردار کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ ووٹروں لسٹوں پر نظر ثانی کے دوران کسی شخص کا نام نکالنے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی کوئی طاقت ...

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود - پیر 26 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد پر اکسانے، معاشی بائیکاٹ اور منظم ہراسانی کے واقعات پر مبنی ایک چشم کشا اور تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بدھ کے روز دہلی میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جاری کی گئی۔ واشنگٹن ڈ...

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود - پیر 26 جنوری 2026

جہان دیگر ۔۔۔۔۔ زریں اختر خدانخواستہ میرا مقصد صبر جیسے وصف کی اہمیت و قد ر میں کمی نہیں ، یہ میرا خود سے سوال ہے۔ وہ دہشت گردی کے واقعات ہوں یا حادثات، بیماری ہو یا قدرتی آفات۔۔۔کوئی آرمی اسکول پشاور کے شہداء کے لواحقین سے کہے کہ صبر کرو، (پاکستان کی تاریخ چاروں صوبوں میں د...

صبر یا جبر

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

اونچ نیچ ۔۔۔۔ آفتاب احمد خانزادہ انسانی شعور کی ابتدا زمین پر انسانی وجود کے ساتھ ہی ہوئی۔ ابتدائی انسان، جو شکار اور جمع کرنے والے قبیلوں میں زندگی گزار رہے تھے، کا شعور بنیادی طور پر حیاتیاتی نوعیت کا تھا۔ اس شعور کی بنیاد بقا، شکار، خوراک اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی پر تھی...

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بھارت میں ہر برس 26 جنوری کو یوم ِ جمہوریہ منا یا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ بھارتی جمہوری نظام میں مختلف مذاہب، نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے کو کس قدر آزادی حاصل ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس روز اس بارے میں جھوٹا پرو...

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود - اتوار 25 جنوری 2026

چوپال/عظمیٰ نقوی لواحقین کیلئے دم توڑتی امیدیں ہیں اور معجزات کا انتظار ! گل پلازہ کے ملبے تلے صرف لاشیں نہیں دبی ہوئیں ، مجھے تو لگتا ہے نظام بھی دفن ہو چکا ہے۔ آخر یہ سب ہوا کیسے؟یہی سوال ہے ناں جو ہر ذہن میں طوفان بن کر اُٹھ رہا ہے ۔ یہ ایک دن کی کہانی نہیں، یہ برسوں کی غ...

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود - اتوار 25 جنوری 2026

حمیداللہ بھٹی کیاوینزویلا میں امریکی کارروائی سے براعظم امریکہ میں چین کی تجارتی پیش قدمی رُک گئی ہے؟اِس کے جواب میں ہاں نہیں کہہ سکتے بلکہ اِس واقعہ نے دنیا کوجھنجوڑ اہے اور عالمی تبدیلیوں کو تیز تر کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حامی اور مخالف دونوں کو زچ کررکھا ہے جس کی وجہ سے کئی ا...

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر