وجود

... loading ...

وجود
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

اونچ نیچ ۔۔۔۔ آفتاب احمد خانزادہ انسانی شعور کی ابتدا زمین پر انسانی وجود کے ساتھ ہی ہوئی۔ ابتدائی انسان، جو شکار اور جمع کرنے والے قبیلوں میں زندگی گزار رہے تھے، کا شعور بنیادی طور پر حیاتیاتی نوعیت کا تھا۔ اس شعور کی بنیاد بقا، شکار، خوراک اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی پر تھی۔ ابتدائی انسان نے قدرتی مظاہر، جیسے آگ،...

پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بھارت میں ہر برس 26 جنوری کو یوم ِ جمہوریہ منا یا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ بھارتی جمہوری نظام میں مختلف مذاہب، نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے کو کس قدر آزادی حاصل ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس روز اس بارے میں جھوٹا پرو...

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود - اتوار 25 جنوری 2026

چوپال/عظمیٰ نقوی لواحقین کیلئے دم توڑتی امیدیں ہیں اور معجزات کا انتظار ! گل پلازہ کے ملبے تلے صرف لاشیں نہیں دبی ہوئیں ، مجھے تو لگتا ہے نظام بھی دفن ہو چکا ہے۔ آخر یہ سب ہوا کیسے؟یہی سوال ہے ناں جو ہر ذہن میں طوفان بن کر اُٹھ رہا ہے ۔ یہ ایک دن کی کہانی نہیں، یہ برسوں کی غ...

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود - اتوار 25 جنوری 2026

حمیداللہ بھٹی کیاوینزویلا میں امریکی کارروائی سے براعظم امریکہ میں چین کی تجارتی پیش قدمی رُک گئی ہے؟اِس کے جواب میں ہاں نہیں کہہ سکتے بلکہ اِس واقعہ نے دنیا کوجھنجوڑ اہے اور عالمی تبدیلیوں کو تیز تر کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حامی اور مخالف دونوں کو زچ کررکھا ہے جس کی وجہ سے کئی ا...

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود - هفته 24 جنوری 2026

باسمہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ ماجرا/ محمد طاہر ۔۔۔۔۔۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے سہولت کار ٹرمپ نے بآلاخر اپنا' پراجیکٹ سن رائز' لانچ کردیا۔ یہ کسی قلوپطرہ کی چھب دیکھنے کی طرح ہے۔ کچھ دیر کے لیے عالمی ضمیر شرما بھی سکتا ہے۔ کیونکہ اس سے ٹرمپ کے عزائم کا ''حسن '' پوری طرح عریاں ہوا ہے۔...

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود - هفته 24 جنوری 2026

بے نقاب /ایم آر ملک حکمرانوں کے پاس عوام کو دینے کیلئے تکلیفیں ہیں ،دکھ اور درد ہیں ،موت ہے لیکن ان کی اپنی زندگیاں خوشیوں سے بھر پور ہیں جو عوام کے دکھوں سے نچوڑی جاتی ہیں ،شہر قائد سے چار روز سے ایک ہی خبر کا تسلسل ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگی ،کہیں پر یہ بتایا جارہا ہے کہ اس س...

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود - جمعه 23 جنوری 2026

چوپال /عظمٰی نقوی ترقی، خوشحالی اور یورپ طرز کے رنگین منصوبوں کی چکاچوند دیکھ کر بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کسی مثالی ریاست کی سمت رواں دواں ہو، جیسے یہاں نہ بھوک ہے، نہ بے روزگاری، نہ ناانصافی اور نہ ہی عوامی اضطراب۔ مگر یہ سب ایک خوش نما سراب ہے، جس کے پیچھے تلخ حق...

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

آج کل ۔۔۔۔۔۔۔ رفیق پٹیل جس طرح ترقی یافتہ ممالک نے ترقی کی ہے اچھی حکمرانی کے ذریعے عوام کو خوشحال بنایا ہے ان ممالک کواس بنیادی اصول سے مکمل آگہی ہے کہ صنعت ،تجارت اور زراعت کو فروغ دینے کے لیے عوام کو متحرک کرنا اور انہیں با اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے، اس آسان کلیہ پر...

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود - بدھ 21 جنوری 2026

ب نقاب /ایم آر ملک سیاسیات، معاشیات اور سماجیات میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ "افراد اہم نہیں بلکہ ادارے اہم ہیں"۔ یہ نظریہ مستحکم قوانین، روایات اور تنظیموں کو طویل مدتی معاشرتی کامیابی کی کلید قرار دیتا ہے۔ لیکن تاریخ ایسے استثنیٰ بھی پیش کرتی ہے جب کوئی واحد فرد اپنی لگن، دیان...

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود - بدھ 21 جنوری 2026

اونچ نیچ ۔۔۔۔۔۔ تھنکر مین ایک مشہور مجسمہ ہے جسے فرانسیسی مجسمہ ساز Auguste Rodin نے 1880ء میں تخلیق کیا۔ اس مجسمے میں ایک برہنہ مرد چٹان پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے جو گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے، اس کی ٹھوڑی اس کے ہاتھ پر ٹکی ہوئی ہے۔ یہ انداز انسانی فکر، غور و فکر اور وجودی سو...

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود - بدھ 21 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بھارت بھر میں ہجومی تشدد، جبری تبدیلی مذہب، مذہبی مقامات کی تباہی اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتوں کو نفسیاتی، جسمانی اور معاشی ظلم و ستم برداشت کرنا پڑتاہے کیونکہ ہندو قوم پرست بیانیے کا مقصد ان کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مٹانا ہے۔...

بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود - منگل 20 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری فارن افیئرز کے مطابق مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے شدید ترین تناؤ سے گزر رہے ہیں، جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا، جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا۔ جریدے کے مطابق...

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود - پیر 19 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جولائی 2024 میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی رہنما کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔ این سی پی نے ملک میں متبادل سیاست کی بات کی لیکن ناقدین انھیں جماعتِ اسلامی ...

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود - پیر 19 جنوری 2026

بے نقاب /ایم آر ملک تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں اور معاہدوں کی فہرست نہیں بلکہ طاقت اور برابری کے درمیان جاری ایک دائمی کشمکش کا نام بھی ہے۔ کبھی اقتدار کو ''الٰہی حق'' کا لبادہ اوڑھا کر عوام کو مخصوص سانچے میں ڈھالا گیا، تو کبھی عوام نے شعور کی مشعل اٹھا کر یہ تخت ہی الٹ دیے۔ ی...

تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود - پیر 19 جنوری 2026

محمد آصف ہر دور میں انسانی معاشرہ امن، استحکام اور ترقی کی تمنا رکھتا آیا ہے ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ محض معاشی خوشحالی، سائنسی ترقی یا عسکری طاقت کسی معاشرے کو پائیدار امن اور حقیقی ترقی نہیں دے سکتیں۔ ان تمام عوامل کی بنیاد اخلاقی اقدار پر استوار ہوتی ہے ۔ اخلاق وہ زنجیر ہے ج...

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود - اتوار 18 جنوری 2026

حمیداللہ بھٹی آٹھ جنگیں بند کرانے کے عوض نوبل انعام کے طلبگارصدرٹرمپ کونیک نامی توحاصل نہیں ہوئی البتہ وینزویلا کے منتخب صدرنکولس مادوروکواہلیہ سمیت اغواکرانے کا چرچا خوب ہوگیاہے ۔ ایران پر حملے اور گرین لینڈ پر بزور قبضے کی دھمکیوں پربھی دنیا حیران ہے کہ جنگیں بندکرانے کادعوی...

شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود - اتوار 18 جنوری 2026

بے لگام / ستار چوہدری تیسری عالمی جنگ بغیراعلان شروع ہو چکی ۔ نہ توپوں کی سلامی ہوئی، نہ ٹینک سرحدوں پر کھڑے نظر آئے ، مگر دنیا کے نقشے خاموشی سے بدلنے لگے ہیں، آج کی جنگ زمین کے ٹکڑوں پرنہیں بلکہ ان راستوں، ان گزرگاہوں اوران وسائل پر لڑی جا رہی ہے جن سے آنے والی صدیوں کی طاقت...

تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود - اتوار 18 جنوری 2026

منظر نامہ پروفیسر شاداب احمد صدیقی حالات کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی روزگار کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں، جبکہ سرکاری بیانات اور مختلف سروے معیشت میں بہتری اور ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف عوام کے ذہن میں سوالات پیدا کرتا ہے بلکہ ریاست...

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود - هفته 17 جنوری 2026

جاوید محمود ۔۔۔۔ امریکہ سے گزشتہ ایک صدی کے دوران تیل اورتوانائی کے ذرائع پر کنٹرول نے دنیا میں جنگوں کو جنم دیا۔ مختلف ممالک کو غیر متوقع اتحاد کرنے پر مجبور کیا اور متعدد سفارتی تنا زعات کو جنم دیا۔ مگراب دنیا کی دو بڑی معیشتیں ایک اور اہم اور قیمتی ٹیکنالوجی پر لڑ رہی ہیں...

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود - هفته 17 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری چھتیس گڑھ ،بھارت کی ریاستوں میں ایک ریاست ہے۔ یہ وسط بھارت میں واقع ہے۔ حال ہی میں ریاست مدھیہ پردیش کو تقسیم کرکے چھتیس گڑھ ریاست قائم کی گئی۔ اس کا دار الحکومت رائے پور ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں چھتیس قلعے واقع ہوں لیکن مشہور برط...

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود - جمعه 16 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا فقدان دیکھا گیا، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہوسکی۔ امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ...

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود - جمعه 16 جنوری 2026

بے لگام / ستار چوہدری سوال نہ کریں ۔۔۔!! میں تمہاری زبان اورانداز سے واقف نہیں، میں صرف سچ بولنا جانتا ہوں، اگر میری باتیں تمہیں عجیب لگیں تو اس کی وجہ یہ ہے ، کہ میں بناوٹ کے بجائے حقیقت بولتا ہوں۔ تم مجھ پرالزام لگاتے ہو کہ میں نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہوں، اور نئے دیوتا گھڑت...

اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جہان دیگر ۔۔۔۔۔۔ زریں اختر کولاژ ۔۔۔۔۔ ''اعزازی'' رکنیت بجائے خود اعزاز کا درجہ رکھتی ہے، شخصیات سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھالیں ، یہ شخصیات بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے خیال سے بلا معاوضہ یہ درخواست قبول کرتی ہیںاوراصولوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلو...

معاوضے پر استعفیٰ

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر