وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
ہائے امریکا ،بائے امریکا وجود - پیر 23 نومبر 2020

اگر دنیا میں مکافاتِ عمل کا آفاقی و آسمانی قانون ابھی تک رائج ہے پھر یقینا امریکا کے ساتھ وہی کچھ ہو رہاہے ،جو کبھی امریکا دنیا بھر کے ساتھ کیا کرتا تھا۔ امریکا نے ایک مدت تک دنیا کو سیاسی،لسانی ،نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیے رکھا اور آج وہی تقسیم امریکا میں صاف ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ امریکا نے کم ازکم پانچ دہائیوں تک ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں بنانے اور حکومتیں گرانے میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا اور آج امریکی ذرائع ابلاغ امریکی انتخابات میں چین اور روس کی مبینہ م...

ہائے امریکا ،بائے امریکا

امریکا، روس اور شامی کرد وجود - پیر 23 نومبر 2020

یاسر یاک ۔۔۔۔۔ مہمان کالم شام میں روسی مداخلت سے ممکن ہے کہ امریکا کے لیے کئی بنیادی تبدیلیا رونما ہوئی ہوں، کچھ عرصہ پہلے واشنگٹن نے کہا تھا کہ ماسکو شام تنازع میں ایک فریق بن رہا ہے۔ شام کے بحران پر واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بڑا اختلاف یہ رہا ہے کہ اسد حکومت کا تختہ الٹنا امریکی پالیسی تھی جبکہ روس کا ہدف امریکی کوششیں ناکام بنا کر اسد حکومت کو بچانا تھا۔ اس دوران داعش کے ظہور نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی۔ اوباما انتظامیہ اس غور و فکر میں پڑ گئی کہ اسد حکومت کے خا...

امریکا، روس اور شامی کرد

پاکستان سعودی تعلقات میں سرد مہری، نتائج کیا ہوں گے؟ وجود - اتوار 22 نومبر 2020

کیا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تلخیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں؟ کیا سعودی عرب پاکستان کی بجائے اسرائیل سے عسکری تعاون حاصل کرے گا؟ پاکستان کو غیر مستحکم کروانے میں بین الالقوامی دجالی صہیونی قوتیں کس طرح پاکستان کے پرانے دوست ملکوں کو استعمال کررہی ہیں؟ حکومت کی جانب سے چاہئے کتنے ہی ایسے بیانات آئیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہتر ہیں مگر اب اس میں کوئی حقیقت نہیں رہی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کو 3.2 فیصد سود پر تین ارب ڈالر قرضہ دیا تھا جبکہ اتنی ہی مال...

پاکستان سعودی تعلقات میں سرد مہری، نتائج کیا ہوں گے؟

’’زن درستی‘‘ وجود - اتوار 22 نومبر 2020

دوستو، بچپن سے سنتے آرہے ہیں، تندرستی ہزار نعمت ہے۔۔ یعنی ’’تن درستی‘‘ کو ہزار نعمت قرار دیاگیا ہے۔۔ یہ جس نے قرار دیا وہ یقینی طور پر ’’زن درستی‘‘ سے لاعلم ہوگا۔۔ ہمارے محترم دوست عبدالحکیم ناصف جو کہ معروف مزاحیہ شاعر بھی ہیں انہوں نے تندرستی کی ٹکر پر ’’زن درستی‘‘ کو متعارف کرایا ہے۔۔ بقول عبدالحکیم ناصف صاحب کہ۔۔انتخاب اس کا سوچ کر کیجو، ورنہ ہستی مری قیامت ہے۔۔تن درستی کی فکر چھوڑ ابا، ’’زن درستی‘‘ ہزار نعمت ہے۔۔ہم چونکہ حکیم صاحب کے متاثرین میں شامل ہے اس لیے آج ’’زن ...

’’زن درستی‘‘

وزیر اعظم کا دورہ تربت اور ترقیاتی منصوبے وجود - هفته 21 نومبر 2020

وزیراعظم پاکستان عمران خان 13نومبر2020ء کو ایک روزہ دورے پر بلوچستان کے جنوبی اضلاع تربت گئے جہاں ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کیے ۔ پیش ازیں وزیراعظم 11ستمبر2020ء کو صوبے کے دار الحکومت کوئٹہ کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ اس وقت بھی انہوں نے علی الخصوص بلوچستان کے جنوبی حصے کے اضلاع کی ترقی کے لیے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ مکران ڈویژن کے ساتھ آواران اور لسبیلہ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔ یہ دو اضلاع البتہ انتظامی طور پر قلات ڈویژن کا حصہ ہیں۔ ان منطقوں کی ترقی کے لیے منصوبوں کا فیصلہ قومی ...

وزیر اعظم کا دورہ تربت اور ترقیاتی منصوبے

سیاسی لطیفے وجود - هفته 21 نومبر 2020

(ہن دسو) ایک آدمی سڑک پہ جا رہا تھا ، پیچھے سے آواز آئی، رْک جا ورنہ مارا جائیگا وہ آدمی رْک گیا دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں کے سامنے ہی ایک آئل ٹینکر اچانک الٹا اور اس میں آگ بھڑک اْٹھی- وہ آدمی بال بال بچ گیا- ا گلے ہی وہی آدمی اگلے روز باغ کی سیر کر رہا تھا کہ آواز آئی رْک جا ، ورنہ مارا جائیگا- وہ آدمی اً فور جہاں تھا وہیں رْک گیا-عین سامنے ایک درخت کڑکڑاتا ہوا اس کے چند قدموں کے فاصلے پرگرا اور وہ آدمی صاف بچ گیا اس کے جسم سے پسینہ پانی بن کر بہنے لگا ا...

سیاسی لطیفے

جی بی انتخاب اوردھاندلی کاشور وجود - هفته 21 نومبر 2020

جی بی عام انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہیں نتائج کے خلاف پی پی نے گلگت ڈی سی چوک میں دھرنا دے رکھا ہے بدقسمتی سے انتخاب ہارنے والی جماعت دھاندلی کا شور مچانے لگتی ہے حالانکہ نتائج کو تسلیم کرنا ہی ووٹ کی عزت ہے حالیہ انتخابات 2009 اور2015کی طرح شفاف اور منصفانہ ہیں پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں پندرہ جبکہ مسلم لیگ ن نے اُنیس نشستیں جیتی تھیں لیکن تحریک انصاف کوبمشکل نو نشستوں پر کامیابی ملی ہے بمشکل اِس لیے کہ ایک نشست دوبارہ گنتی میں ملی ہے۔ گلگت بلتستان کے ووٹر وفاق میں ح...

جی بی انتخاب اوردھاندلی کاشور

عقیدہ ختم نبوتﷺ کاتحفظ وجود - جمعه 20 نومبر 2020

پچھلے ایک ماہ سے دل کو عجیب سی پریشانی لاحق ہے سمجھ نہیں آرہی اس کا کیا چارہ ہے ؟ سوشل میڈیا پر فیس بک ،انسٹا گزام،میسنجر،ٹویٹر یا ورسپ پرکچھ بھی کھولیں قادیانیوںکی تصاویرپر مبنی پوسٹوںکی بھرمارہے جن آنکھوںکو خانہ کعبہ اور گنبد ِ خضراء دیکھنے کا اشتیاق ہے انہیں مجبوراً ان منحوس ،لعنتی اور جہنمیوں کی شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور طبیعت مکدرہوجاتی ہے، ہم مسلمان کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر محض بھیڑ چال میں ایسی چیزیںپوسٹ پر پوسٹ کیے جارہے ہیں جیسے یہ کوئی یہ مذہبی فریضہ ہو حالانکہ ...

عقیدہ ختم نبوتﷺ کاتحفظ

چھوٹا منہ ،بڑا ماسک وجود - جمعه 20 نومبر 2020

دوستو،کورونا نے ہمیںیعنی پوری قوم کو ماسک سے روشناس کرایا، اس سے پہلے ہم صرف فلموں میں ڈاکٹرز کو آپریشن تھیٹر میں ماسک لگاکر کام کرتے دیکھا کرتے تھے۔۔ ہمارے ایک دوست کو پرابلم یہ ہے کہ ان کا منہ چھوٹا ہے اور ماسک بڑا ۔۔ وہ کان میں جب ڈوریاں لگاتے ہیں تو اسے دو سے تین ’’بل‘‘ بھی دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ماسک ان کی آنکھیں تک ڈھانپ دیتا ہے۔۔ جس قسم کے ماسک مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ صرف ایک ہی سائز کے ہوتے ہیں۔۔ اس لیے چھوٹے یا بڑے منہ والے لوگوںکے لیے ماسک ایک عذاب ہی بناہواہ...

چھوٹا منہ ،بڑا ماسک

امریکا میں تقسیم کا خاتمہ،جوبائیڈن کا پہلا امتحان وجود - جمعه 20 نومبر 2020

اینڈریوہیمنڈ ۔۔۔۔۔۔ مہمان کالم امریکا کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع اور تفرقہ انگیز صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد جوبائیڈن رواں ہفتے کابینہ کی تقرریوں پر غور کر رہے ہیں، وہ اس سے پہلے اپنی تقریر میں ’’تمام امریکیوں‘‘ کے صدر ہونے اور سیاسی اختلاف کے خاتمہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ اگرچہ بائیڈن کو عالمی اور مقامی سطح پر متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے مگر اس کی ترجیح ایک ایسے ملک میں سیاسی مفاہمت لانا ہے جو کم از کم ایک نسل سے منقسم ہے اور شاید موجودہ نسل کی زندگی تک ایسا ہی رہے۔...

امریکا میں تقسیم کا خاتمہ،جوبائیڈن کا پہلا امتحان

بخشش کابہانہ وجود - جمعرات 19 نومبر 2020

اس نے اپنی تنی گردن بمشکل ہلاتے ہوئے سرکو جنبش دی ،میں کچھ نہیں کرسکتا اور میزپر فائلوںمیں مگن ہوگیا۔۔۔وہ ایک بڑے ادارے کا با اختیار افسر تھا چھوٹے موٹے مسئلے مسائل چٹکی بجاتے ہی حل کرنے پر قادر تھا ہم اس کے پاس ایک واقف کار کے کام آئے تھے مسئلہ اتنا بڑا تو نہ تھا کام بھی جائز ۔۔اس کے دفترکے ایک غریب ملازم کو تھوڑی سی ’’فیور‘‘ دلانا مقصود تھا بے چارے کی ماں کی بیماری تھی بغیراطلاع چند دن دفتر نہ آنے اور کبھی کبھار لیٹ آنے پر شوکاز نوٹس ۔پھر جواب سے مطمئن نہ ہونے پر تادیبی ...

بخشش کابہانہ

بلاول کی جیت ،پیپلزپارٹی کی ہار۔۔۔آخر کب تک؟ وجود - جمعرات 19 نومبر 2020

گزشتہ چند ہفتوں سے بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی کارکردگی انتہائی شاندار رہی ،خاص طور پر گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں جس طرح سے بلاول نے اپنی سیاست کا رنگ جمایا ،وہ قابلِ تعریف ہی نہیں ،قابلِ تقلید بھی ہے ۔گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کو عوامی دلچسپی کے لحاظ سے بلاشک و شبہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اَب تک کے سب سے شاندار اور منصفانہ انتخابات قرار دیئے جاسکتے ہیں۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول میں عوامی جوش و جذبہ کے جتنے رنگ ہم پاکستانیوں کو دکھائی دیئے ،اُن م...

بلاول کی جیت ،پیپلزپارٹی کی ہار۔۔۔آخر کب تک؟

اقتدار کی منتقلی تشویشناک مرحلہ ہے ؟ وجود - جمعرات 19 نومبر 2020

نکولس کرسٹوف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہمان کالم صدارتی الیکشن کے بعد اقتدار کی منتقلی دنیا بھر میں ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ بات اس وقت اور بھی صادق آتی ہے جب رخصت ہونے والا صدر جانے سے انکار کر دے اور الٹا جاتے جاتے امریکا کے محکمہ دفاع کے اعلی ترین حکام کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دے۔ صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع مارک ایسپر اور قومی سلامتی کے کئی اعلیٰ حکام کو برطرف کر دیا ہے۔ پینٹاگون میں انہوں نے چار نئے اعلیٰ حکام کا تقرر بھی کر دیا ہے جن میں ایک ایسا شدت پسند بھی شامل ہے جس نے سر عام سا...

اقتدار کی منتقلی تشویشناک مرحلہ ہے ؟

کشمیرکامقدمہ وجود - منگل 17 نومبر 2020

کہاجاتا ہے اگر کسی نے دنیا میں جنت دیکھنی ہو وہ کشمیر کی وادی کا نظارہ کرے اُسے اس بات کی صدقت پر یقین آ جائے گا ۔کشمیر ایک طویل عرصہ سے بھارتی سامراج کے ظالم و ستم کی جیتی جاگتی تصویربن کر رہ گیا ہے اور کشمیری دنیا کے منصفوں کی بے بسی کا ماتم کر ہے ہیں او اقوام متحدہ کو خود اپنی قراردادوں کا پاس نہیں جس میں واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کشمیریوں کو حق خود ارادیت کے ذریعے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دے۔تاریخی اعتبار سے شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر کے تقرر کردہ گورنر عماد الدین...

کشمیرکامقدمہ

بی جے پی آزاد صحافت کا گلا گھونٹ چکی وجود - منگل 17 نومبر 2020

ظفر آغا ۔۔۔۔۔۔۔ مہمان کالم صاحب ایک مثال ہے ‘چھاج تو بولے سو بولے چھلنی بھی بولے جس میں چھید بہتر ‘یہ مثال اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی پر صادق آتی ہے جو ریپبلک ٹی وی کے مشہور اینکر ارنب گوسوامی کی گرفتاری پر غم منا رہی ہے۔ اور تو اور خود وزیر داخلہ امیت شاہ کو اس گرفتاری سے اس قدر صدمہ پہنچا ہے کہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ارنب کی گرفتاری ’’آزادی صحافت ‘‘پر ایک حملہ ہے۔صرف اتنا ہی نہیں‘ شاہ اور پوری مودی کابینہ کو اس واقعہ کے بعد ایمرجنسی کی یاد آنے لگی اور ارنب کی گرف...

بی جے پی آزاد صحافت کا گلا گھونٹ چکی

بھارت میں کورونا کی نئی لہر کا خوف وجود - منگل 17 نومبر 2020

جیفری جینٹل مین ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہمان کالم دو ماہ قبل‘ پورا بھارت کورونا وائرس سے تباہ شدہ ایک علاقے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ایک دن میں ایک لاکھ کے قریب نئے کیسز رپورٹ ہو رہے تھے‘ اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی اور بھارت ریکارڈ شدہ کیسوں میں امریکا کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار دکھائی دیتا تھا لیکن آج صورتِ حال قدرے مختلف نظر آ رہی ہے۔ ریکارڈ شدہ کیس، اموات اور جانچے جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس‘ یورپ اور امریکا میں وبا اب دوبارہ تیزی سے بڑھ ر...

بھارت میں کورونا کی نئی لہر کا خوف

نواز لیگ سے استعفا اور دُشنام طرازی وجود - پیر 16 نومبر 2020

پاکستان مسلم لیگ نواز بلوچستان کے صدر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے بالآخر 07نومبر 2020ء کو اپنی جماعت سے راہیں جدا کر لیں۔ باضابطہ اعلان اِس دن کوئٹہ کے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر ورکرز کنونشن نام کے ایک اجتماع میں کیا۔ بقول ان کے کہ کوئٹہ اور صسوبے کے دیگر اضلاع سے کارکن اور مختلف سطح کے رہنماء شریک ہوئے تھے۔جہاں بیس اضلاع کے صدور اور دوسرے عہدیداروں نے بھی ہمراہ مسلم لیگ نواز کو خیر باد کہا۔ مریم نواز کی کوئٹہ آمد ا...

نواز لیگ سے استعفا اور دُشنام طرازی

پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق’’ دروزبہ 5 ‘‘ وجود - پیر 16 نومبر 2020

یادش بخیر ! کہ جہاں پاکستانی اور روسی افواج کے درمیان پانچویں بار مشترکہ فوجی مشق ’’دروزبہ 5 ‘‘کا انعقاد دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سفارتی و عسکری تعلقات میں بہتری کا شاندار مظہر ہے ،وہیں خطے میں پاکستانی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے کیے گئے اس خصوصی دفاعی ’’حسن انتظام ‘‘ پر پاک فوج کی اعلیٰ قیادت زبردست داد اور تحسین کی بھی مستحق ہے ۔کیونکہ قیام پاکستان سے لے کر اَب تک روس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔ کبھی یہ دونوں ملک اتنے قریب آگئے ...

پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشق’’ دروزبہ 5 ‘‘

بارود کا ڈ ھیر وجود - پیر 16 نومبر 2020

وہ حا فظ ِ قرآن تھا لیکن ایک کمپوڈر ٹائپ اتائی ڈاکٹر گوجرانوالہ کے کسی نواحی قصبہ میں لوگوںکا علاج معالجہ کرتا تھا انتہائی شریف النفس ،بے ضرر ،اپنے اڑوس پڑوس کا خیال رکھنے والا ایک روز اس کا کسی سے جھگڑا ہوگیا موقع پر موجود لوگوںنے معاملہ رفع دفع کروادیا لیکن مخالف انتہائی مکار تھا اس نے دل ہی دل میں اتائی ڈاکٹر کو مزا چکھانے کا فیصلہ کرلیا چند روز بعد مخالف نے سرگوشیوں کے انداز میں کانا پوسی شروع کردی کہ اتائی ڈاکٹر گستاخ ہے ،حالات سے بے خبر اتائی ڈاکٹر کے خلاف ماحول بنتا گ...

بارود کا ڈ ھیر

وائٹ ہائوس کامکین صرف ترجمان ہوتا ہے وجود - اتوار 15 نومبر 2020

امریکی انتخابات سے پہلے اور اس کے بعدہی دنیا بھر میں ری پبلکن ٹرمپ اور جو ڈیموکریٹک جو بائیڈن کے حوالے سے متضاد آراء سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے تجزیہ نگاروں اور صحافیوں نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان تجزیوں پر یقین کر لیا جائے تو ایسا محسوس ہوگا جیسے امریکی صدر کے بدلنے سے پالیسیاں بھی بدلیں گی اور اس کے ساتھ ہی دنیا کے حالات بھی بدل جائیں گے۔ جو امریکا اور اس پر حکمران اصل خفیہ قوتیں اور ڈیپ اسٹیٹ واسٹیبلشمنٹ کو جانتے ہیں ان ...

وائٹ ہائوس کامکین صرف ترجمان ہوتا ہے

جی بی کے انتخابی معرکے کا جائزہ وجود - اتوار 15 نومبر 2020

گلگت بلتستان میں پندرہ نومبر کو ہونے والے انتخابی معرکے کی بہار عروج پر ہے تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن سمیت مزہبی جماعتیںجلسوں میں مصروف ہیں مقامی سیاسی جماعتوں کا رنگ پھیکا ہی سہی لیکن نظر آرہا ہے اپوزیشن میں ہونے کے باجود بلاول بھٹو اور مریم نواز کے جلسوں میں حاضری کسی طرح مایوس کن نہیں وجہ دونوں جماعتوں کا ایک ایک بارگلگت بلتستان کا حکمران رہناہے اسی لیے تمام جماعتوں سے زیادہ انھی جماعتوں کی تنظیمیں فعال ہیں جبکہ حکمران جماعت کو وسائل کی فراوانی کی بنا پر بڑے جلس...

جی بی کے انتخابی معرکے کا جائزہ

عبرت اورعذاب وجود - اتوار 15 نومبر 2020

انسان بڑا پھنے خان بنا پھرتا تھا کہ اس نے چاندکو تسخیرکرلیاہے دنیا کی حیثیت ایک گلوبل ویلج کی سی ہوگئی کائنات کے اسرار ورموز اس پر آشکار ہوتے چلے جارہے ہیں اس کے ایک اشارے پر دنیا کیا سے کیا ہوجاتی ہے ،یہی وجہ تھی کہ عالمی طاقتوںکا سر غرور سے تنا رہتا تھا کہ پوری دنیا کے غریب ممالک ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں وہ جسے چاہیں تباہ کردیں جسے مرضی بربادکردیں یا جس کی معیشت سنوارنا چاہیں سنواردیں اقوام ٍ عالم کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوںکو ایک نظرنہ آنے والے وائرس نے ڈھیر...

عبرت اورعذاب

ذہین قوم۔۔ وجود - اتوار 15 نومبر 2020

دوستو، آج ہم آپ سے ذہین قوم کے حوالے سے کچھ اوٹ پٹانگ باتیں کریں گے۔۔ اس قوم کی تعریف کے لیے ہمارے پاس الفاظ کی شدید قلت پڑگئی ہے۔۔ اور اس قلت کے آگے پٹرول کی وہ قلت کوئی حیثیت نہیں رکھتی جوپچیس روپے فی لیٹر سستا ہونے کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔۔ یہ ایسی ذہین قوم ہے جو جنگل کے ہر پودے کا عرق پی لیں گے، اسے ابال کر استعمال کرلیں گے لیکن کورونا سے بچنے کے لیے ماسک نہیں لگائیں گے۔۔آج چونکہ اتوار ہے، اس لیے چلیں آج تفریح سے بھرپور کچھ بے فضول سی باتیں کرتے ہیں۔۔ اور آپ کی ذ...

ذہین قوم۔۔

خود ساختہ جمہوریت اور اختیارات کی ہوس وجود - هفته 14 نومبر 2020

پی چدمبرم ۔۔۔۔ مہمان کالم دنیا میں ایسے کتنے ممالک اور ان کے عوام ہیں‘ جو انتخابات کے بعد یہ کہہ سکتے ہیں تبدیلی بہت جلد آنے والی ہے یا جو اْن لوگوں نے سوچ رکھا تھا‘ جن امیدوں اور خدشات کا اظہار کیا تھا‘ ان کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے۔ آج امریکا میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے‘ اس کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ ذمہ دار ہیں۔ ہم اس ضمن میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ 3 نومبر کو ہوئے آزادانہ و شفاف انتخابات میں امریکی عوام نے جوبائیڈن کو ریاست ہائے متحدہ امریکاکا اگلا صدر (اب ان کے صدر منتخب ہونے کے...

خود ساختہ جمہوریت اور اختیارات کی ہوس

بوڑھاپا وجود - جمعه 13 نومبر 2020

دوستو،بوڑھاپا ویسے تو ایک زحمت ہی ہے، بندہ کسی کام کا نہیں رہتا، لیکن لگتا ہے امریکا میں بوڑھا ہونے کا مطلب ’’لکی‘‘ ہونا ہے۔۔اگر آپ بوڑھے ہیں اور امریکی ہیں تو پھر سمجھ جائیں کہ۔۔بوڑھے تو کام کے ہوتے ہیں۔۔امریکا میں گزشتہ دنوں دو عدد بوڑھوں کے درمیان اعصاب شکن الیکشن دیکھنے میں آیا، اس میں کامیاب وہ ہوا جو زیادہ بوڑھا تھا۔۔جی ہاں نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن امریکاکی تاریخ میں سب سے زیادہ بوڑھے صدر کہلائیں گے۔۔اور دلچسپ بات ووٹوں کے معاملے میں بھی انہوں نے سابقہ سارے ریکارڈ ...

بوڑھاپا

بے رحم احتساب وجود - جمعه 13 نومبر 2020

محلے میں بچوںکی لڑائی میں جب بڑے بھی کود پڑے توبندوقیں نکل آئیں متحارب فریقین نے ایک دوسرے پر اندھا دھندفائرنگ کردی کئی زخمی ہوئے ایک شخص چہرے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ،لوگ لواحقین سے اظہار ِ تعزیت کرنے لگے ایک ستم ظریف بھی وہاں موجود تھا اس نے کہا شکرکرو گولی چہرے پر لگی ہے آنکھ میں نہیں لگی ورنہ مرحوم کانا ہوجاتا۔یہ لطیفہ ہمیں بے ساختہ اس وقت یاد آگیا جب میاں نوازشریف نے یہ کہا شکرہے پانامہ لیکس کے حقائق نامے میں میرا نام نہیں ہے، میاں صاحب کی اس سادگی پر نہ جانے کتنے...

بے رحم احتساب

نااُمید کراچی کی آخری ’’سیاسی اُمید ‘‘ وجود - جمعرات 12 نومبر 2020

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کی جانب سے گزشتہ دنوں تن تنہا ،کسی سیاسی اتحاداور حکومتی امداد کے بغیر کراچی میں ایک بڑا مجمع عام اکھٹا کرلینا، کراچی کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ہرگز ایسا معمولی واقعہ نہیں ہے ،جسے آسانی سے نظر انداز کردیاجائے ۔ اس جلسے کی اہمیت اُس وقت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ جب چند ہفتے قبل ہی اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا کراچی میں ہونے والا جلسہ اہلیانِ کراچی کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں بُری طرح سے ناکام رہا ہو۔ یعنی اپوزیشن کی گیارہ سیاسی جماعتوں نے...

نااُمید کراچی کی آخری ’’سیاسی اُمید ‘‘

جوبائیڈن کی کامیابی اور مسائل وجود - بدھ 11 نومبر 2020

ٹرمپ کے کردار اور گفتار کی بنا پرذرائع ابلاغ میں ان کاتاثر منفی رہا کیونکہ انھوں نے بطور صدر نفرت کو ہوا دی لوگوں میں ہیجان پیدا کیا اورتنقیدی کلچر کوپروان چڑھایا مگر نومنتخب صدر جوبائیڈن ایسے نہیںاُن کے میلان کو دیکھتے ہوئے انتخابی تبدیلی کوخوش آئندلیا جا رہا ہے، دنیاکے ٹرمپ جتنے نا پسندیدہ رہے78 سالہ جو بائیڈن یکسر اُلٹ ہیں امریکی میڈیا کے ساتھ عالمی میڈیا کے بھی پسندیدہ ہیں ٹرمپ کے دور میںامریکا اوریورپی یونین میں فاصلے بڑھے نیٹوکے رکن ممالک سے تنظیم کے لیے رقوم میں اضافے...

جوبائیڈن کی کامیابی اور مسائل

خواہشات کی غلامی وجود - بدھ 11 نومبر 2020

درویش کے گرد حسب ِ معمول لوگوںکا ہجوم تھا ہر عمر کے افراد ہمہ تن گوش حکمت ودانش بھری باتیں سن کر سرہلارہے تھے ۔ ایک شخص نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کی ۔یہ درویش بھی کیا خوب ہوتے ہیں باتوں باتوںمیں معرفت کی ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتاہے،دوسرے نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا ہونٹوںپر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کی تنبیہ کی اور اشارے سے ادھر متوجہ ہونے کو کہا۔ درویش اپنی دھن میں کہہ رہا تھا ۔خواہشیںپالتے رہنا کوئی برائی نہیں لیکن اپنے آپ کو خواہشات کا غلام بنا لینا ...

خواہشات کی غلامی

طلاقیں اور تیسری عالمی جنگ۔۔ وجود - بدھ 11 نومبر 2020

دوستو،ملک میں کورونا پھر سراٹھا رہا ہے۔۔ کیسز کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔۔ سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔ لاک ڈائون کی وجہ سے کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے میں تو مدد ملی ہی تھی، مگر اس کا ایک اور ایسا فائدہ سامنے آ گیا ہے جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی تنظیم ’میرج فائونڈیشن‘ کے ماہرین نے ایک تحقیقاتی سروے کے نتائج میں بتایا ہے کہ لاک ڈائون سے شادی شدہ جوڑوں کے ازدواجی تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے اور طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرنے والے جوڑوں کی تعدا...

طلاقیں اور تیسری عالمی جنگ۔۔

الوداع ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 11 نومبر 2020

(مہما ن کالم) ۔۔۔۔۔۔۔۔ میشل گولڈبرگ اس سے پہلے کہ ڈیمو کریٹس سینیٹ میں اپنی ناکامی اور ایوان میں اپنے کم امیدواروں کی کامیابی کا تجزیہ شروع کریں، اس سے پہلے کہ پارٹی کے اندر مرکز پسند اور ترقی پسند گروپوں میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو جائے‘ فی الحال جو کچھ ہمارے سامنے موجود ہے‘ ہمیں اس کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے۔ وہ یہ کہ چار مشکل ترین برسوں کے بعد انجام کار ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سچ ہے کہ ڈانواں ڈول ریاستوں میں الیکشن کا فیصلہ آخری ...

الوداع ڈونلڈ ٹرمپ

اس وقت سے ڈرناچاہیے وجود - منگل 10 نومبر 2020

میری نظریں آج بھی ان تین خبروںپرجمی ہوئی ہیں جنہیں پڑھ کر دل اداس اور آنکھوںمیں نمی تیر تیرجاتی ہے ،یہ خبریں حالات کے جبرکا شکار ہونے والوںکا نوحہ کناں ہیں، غم کے ماروںکا ماتم بھی۔ اورحالات کی سنگینی کااعلان بھی۔یہ موجودہ سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی یہ خبریں بتاتی ہیں کہ آج عام آدمی پرکیا بیت رہی ہے، ان کی عکاس بھی ہیں اور ہماری اجتماعی بے حسی پر ماتم کرتی یہ خبریں کسی مہذب معاشرے میں رونماہوتیں تو شرم کے مارے حکمران اپنے ضمیر کی آوازپر مستعفی ہونے پر مجبورہوجاتے لیکن ...

اس وقت سے ڈرناچاہیے

کیا امریکا ناکام ریاست بن رہا ہے؟ وجود - منگل 10 نومبر 2020

مہمان کالم ۔۔۔۔۔ پاک کرگ مین جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا ہوں جو بائیڈن صدارتی الیکشن جیت چکے ہوں گے۔ انہوں نے واضح طور پر اپنے حریف سے لاکھوں ووٹ زیادہ لیے ہیں۔ وہ یہ کہہ سکتے ہیں اور انہیں کہنا چاہیے کہ مجھے اپنی قوم پرحکومت کرنے کا بھاری مینڈیٹ مل چکا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی اس قوم پر حکومت کر سکیں گے؟ ان کے حریف ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدارتی انتخاب میں سات کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جو کہ امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ کاسٹ شدہ ووٹوں...

کیا امریکا ناکام ریاست بن رہا ہے؟

امیتابھ بچن پر مقدمہ اور برہمن نفسیات وجود - پیر 09 نومبر 2020

تاریخ پلٹ کر وار کرتی ہے، اور تاریخ کا وار کاری ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی خبر ہے، بھارت کے نامور اداکار اور’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کے میزبان امیتابھ بچن کے خلاف اپنے شو میں ایک سوال پوچھے جانے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مگر اس مقدمے کی ہندو نفسیات میں ہزاروں سال کی تاریخ سمٹ آئی ہے۔ پہلے سوال پڑھ لیجیے: ’’ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور ان کے پیروکاروں نے 25 ؍دسمبر 1927 ء کو ان میں سے کس دھرم گرنتھ (صحیفے)کی کاپیاں جلا ئی تھیں‘‘؟ سوال کے ساتھ جواب کے لیے چارانتخاب(آپشنز) دیے گئ...

امیتابھ بچن پر مقدمہ اور برہمن نفسیات

کلیمی چند قدم پر وجود - پیر 09 نومبر 2020

اس نے کہا عجیب شعرہے مجھ کوڈرہے چاندپر بھی آدمی منتقل ہو جائے گا طبقوں سمیت میںنے کہا ایساہونا عین ممکن ہے۔اس معاشرہ میں قدم قدم پر طبقاتی سٹیٹس موجودہے جس سے اب چھٹکارا پانا محال ہے اس نے کہا۔ نہیں یارکیسی بات کردی آپ نے؟ میں نے جواباًعرض کیا۔ کسی دفتر،پولیس اسٹیشن یا کسی شخصیت سے دو افرادکو ایک ہی نوعیت کا کام ہو ایک آدمی کا تعلق کسی عام سے علاقہ یا محلے سے ہو دوسرا ڈیفنس،بحریہ ،عسکری یاماڈل ٹائون کا رہائشی ہو دونوںسے ایک جیسا طرز ِ عمل ۔ایک جیسا سلوک کبھی نہیں ہوگا...

کلیمی چند قدم پر

افغانستان بھارتی مفادات کا قبرستان بننے والا ہے؟ وجود - پیر 09 نومبر 2020

امریکا نے جب سے افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا حتمی فیصلہ کیا ہے ،تب سے ہی بھارت کا افغانستان میںسیاسی کردار اور اثرورسوخ مکمل طور پر مخدوش ہوگیا ہے۔ بظاہر اس حقیقت کا ادراک بھارتی قیادت کو بھی بخوبی ہے لیکن اس کے باوجود بھی نہ جانے کیوں بھارت افغانستان میں رونما ہونے والی نئی سیاسی حقیقت کو کسی بے وقوف کبوتر کی طرح من و عن تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ دودہائیوں میں بھارت کی جانب سے افغانستان میں کی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اچانک س...

افغانستان بھارتی مفادات کا قبرستان بننے والا ہے؟

الیکشن کیسے چرایا جاتا ہے؟ وجود - پیر 09 نومبر 2020

جان مارک ہانسن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہمان کالم الیکشن ڈے سے پہلے ہی صدر ٹرمپ نے پنسلویینا میں میل کے ذریعے پڑنے والے ووٹوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں‘ جس میں غیر موجود ووٹوں کو الیکشن کے کئی دن بعد بھی قبول کرنے کا حکم دیا گیا تھا‘ صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے‘ اس سے الیکشن میں دھوکا دہی کا موقع مل جائے گا۔ جونہی الیکشن کا عمل ختم ہوا‘ انہوں نے میڈیا کو بتایا ’’ہم اپنے وکلاء سے مشورہ کر رہے ہیں‘‘۔ ریپبلکنز پہلے ...

الیکشن کیسے چرایا جاتا ہے؟

دیوانگی کا زمانہ وجود - اتوار 08 نومبر 2020

اناڑی اور تجربہ کارکے اطوار میں اتنا فرق ہوتا ہے جس سے لوگوں کو اعتمادیااحتیاط کرنے میں دشواری نہیں رہتی ملک کے سیاسی منظر نامے پر نگاہ دوڑائیں توتجربہ کہیں نظر نہیں آتابلکہ اناڑیوں کا راج دکھائی دیتا ہے دیوانگی اور جنون مترشح ہے لڑنے اور مر مٹنے کی باتیں تو سنائی دیتی ہیں نقارخانے میں نحیف ونزار ہی سہی افہام و تفہیم کی صدا کوئی بلند نہیں کرتا اِسے کیا نام دیں قیادت کہیں یا ایک دوسرے کو پچھاڑنے پر آمادہ ریوڑ کا لقب دیاجائے حالات دیکھ کر اچھا بھلا آدمی سٹپٹا یا ہوا ہے رفوگر...

دیوانگی کا زمانہ

بیتے دن یاد ہیں؟؟ وجود - اتوار 08 نومبر 2020

دوستو،اکثر آپ نے بھی کہا ہوگا ، آپ نے اپنے بڑوں سے بھی سنا ہوگا، آپ کے احباب میں بھی اکثر کو یہ کہتے پایا ہوگا کہ۔۔زمانہ بہت خراب ہے۔۔ ہمارا فلسفہ بالکل الٹ ہے، زمانہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔۔ ہم اور آپ خراب ہوسکتے ہیں۔۔ زمانہ بالکل ٹھیک ہے۔۔اب آپ لوگ پوچھیں گے وہ کیسے؟؟ اس کا بڑاصاف اور شفاف جواب یہ ہے کہ ۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں ۔۔زمانے کی قسم کھائی ہے۔۔ اور اللہ پاک جس کی قسم کھاتا ہے وہ کبھی خراب نہیں ہوسکتا۔۔ اللہ نے سورۃ العصر میں۔۔زمانے کی قس...

بیتے دن یاد ہیں؟؟

یاجوج ماجوج وجود - هفته 07 نومبر 2020

یاجوج و ماجوج کے متعلق بڑی عجیب و غریب کہانیاں مشہورہیں جسے سن کر بچے سہم سہم جاتے ہیں کیونکہ یہ لوگ انتہائی وحشی اور خوفناک سمجھے جاتے ہیں ان کی وحشت کی کئی کہانیاں ہرمذہب کے لوگوں میں مشہور ہیں ان کا تذکرہ آخری الہامی کتاب میں بھی موجود ہے لیکن تاریخی اعتبار سے یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے ت...

یاجوج ماجوج

فرانس میں توہین رسالتﷺ کا گھنائوناکاروبار وجود - هفته 07 نومبر 2020

اظہاررائے کی آزادی کے نام پرآج دنیا میں جو ظلم اور ناانصافی ہورہی ہے ، اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔المیہ یہ ہے کہ اس کا سب سے بڑا نشانہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے وہ مسلمان ہیں جو اپنے مذہب اور عقیدے کے پابند ہیں اور شعائر اسلام سے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے پیارے نبیﷺسے جو والہانہ محبت اور عقیدت ہے‘ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا اس حقیقت کو جانتی اور سمجھتی بھی ہے، لیکن اس کے باوجود آئے دن ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن میں حضرت محمدﷺ کی شان...

فرانس میں توہین رسالتﷺ کا گھنائوناکاروبار

صدر ٹرمپ اور امریکی معاشرے میں سیاسی دوری وجود - هفته 07 نومبر 2020

لین ویورک ۔۔۔۔۔۔ مہمان کالم اب تک امریکا میں بسنے والے سب لوگ یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ ضرور ہے۔ نہ صرف مضافاتی خواتین کے ساتھ بلکہ ہر عمر، نسل اور ہر تعلیمی معیار کی خواتین کے ساتھ انہیں کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا ہے۔ اور ہر پول میں یہی انداز دیکھنے میں آیا ہے مگر عام لوگوں کی سوچ کے برعکس شاید اس صنفی دوری کا تعلق صدر ٹرمپ سے نہ ہو۔ اس الیکشن میں تو اس دوری کی اہمیت پر مزید کھل کر بات کی جا سکتی ہے۔ سب سے معنی خیز ا سٹوری ہمیں 2016 س...

صدر ٹرمپ اور امریکی معاشرے میں سیاسی دوری

پانی رے پانی تیرارنگ کیسا؟ وجود - جمعه 06 نومبر 2020

امیرالمومنین حضرت علی ؓ سے کسی نے سوال کیا جناب پانی کا ذائقہ کیسا ہوتاہے؟ امیرالمومنینؓ نے بلا تامل فرمایا زندگی جیسا۔ جب سے دانش بھرا یہ جواب پڑھاہے حیرت میں گم ہوں امیرالمومنین حضرت علی ؓ نے صدیوں پہلے زندگی بارے کیسی تلخ حقیقت آشکار کردی تھی۔ جنوبی ایشیاء ،افریقی ممالک اور تیسری دنیا کے بیشترممالک میں عام آدمی کو جوپانی پینے کے لیے میسرہے عام شکایات ہیں وہ کڑوا، گندا،آلودہ ہوتاہے المختصروہ پینے کے قابل بھی نہیں ہوتا شاید اسی لیے زیادہ لوگوں کا لہجہ کڑوا،کپڑے گندے اور ذ...

پانی رے پانی تیرارنگ کیسا؟

سیاست سے پاک وجود - جمعه 06 نومبر 2020

دوستو،ویسے ہماری کوشش تو بہت ہوتی ہے کہ ہماری تحریریں غیرسیاسی ہوں۔۔ احباب اکثر شکایات کا ڈھیر بھی لگادیتے ہیں کہ آپ سیاست پر بھی کبھی کبھار طبع آزمائی کیا کریں۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب سے ہم نے لکھنے کی عادت ڈالی ہے ،ہم نے دو باتیں ذہن میں اچھے طریقے سے نقش کرلیں کہ کبھی بھی سیاست اور مذہب پر نہیں لکھیں گے۔۔ کیوں کہ یہ دونوں معاملات ایسے ہیں کہ جن پر کچھ بھی لکھ ڈالیں، چاہے تحریر آپ نے خون جگر سے ہی کیوں نہ لکھی ہو، لوگ آپ سے اختلاف ضرور کریں گے۔۔ آپ کی تحریر میں کیڑیں نکالی...

سیاست سے پاک

ووٹ کے لیے سیاسی جماعتوں کے ہتھکنڈے وجود - جمعه 06 نومبر 2020

میں قبول کرتا ہوں کہ میں جو کچھ بیان کرنے والا ہوں اس میں حقیقت کا رنگ بھر سکتا ہوں کہ میرے پاس کووڈ19 ہے۔ میرا دل اس پر یقین نہیں کرنا چاہتا لیکن میں ایسا کرنے پر مجبور ہوں۔ آپ میں سے ہر ایک کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو لاحق اس دیمک سے کیسے بچ پاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بہار انتخابات کے منشور میں مفت ویکسین دینے کا وعدہ کیا ہے، جو غیر اخلاقی ہے۔ منشور میں اعلان کیا گیا ہے: ’’یہ ہمارا وعدہ ہے کہ جب کووڈ کے لیے کوئی ویکسین دستیاب ہو گی۔۔۔ تو بہار کے ہر ...

ووٹ کے لیے سیاسی جماعتوں کے ہتھکنڈے

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2020

افسوس، صد افسوس! یہ معاشرہ اپنے کناروں سے چھلکنے لگا! داخلی احتساب کی روایت نہ ہو تو معاشرہ اپنے اعمال وافعال میں ”بے حد“ ہونے لگتا ہے۔ پاکستان ہوگیا۔سردار ایاز صادق کے قضیے (28/ اکتوبر)کو اب ایک ہفتہ بیت رہا ہے، مگر قومی سیاست وصحافت تاحال اس کی قیدی ہے اور کیوں نہ ہو؟حد سے زیادہ اور حد سے باہر الفاظ کے مضمرات و اثرات بھی حد سے سوا ہی ہوں گے۔ آخری کتابِ ہدایت میں بار بار یہ نکتہ تعلیم کیا گیا کہ حد سے گزرنے والے لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سورہ یونس کی آیت10 ہے، فرمایا: ہم حدسے گ...

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

منطقی انجام کیاہوگا؟ وجود - جمعرات 05 نومبر 2020

پاکستان میں بزنس مین ، سیاستدان ، تاجر اور نہ جانے کون کون سے طبقات باقاعدہ مافیاز کا روپ دھارچکے ہیں ان میں سے بیشتر کی بیوروکریسی،فوجی اسٹیبلشمنٹ، ججز،اوراشرافیہ سے رشتہ داریاں ہیں ملک میں جس کی بھی حکومت ہو یہ سب کے ساتھ اس حکومت میں شامل ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے پیش ِ نظرفقط اپنے ہی مفادات کا تحفظ ہوتاہے یقین نہیں آتا تو خود گزشتہ 40-30سال کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں آپ کو چند مخصوص خاندان ہی پاکستان کی تقدیر کے مالک نظر آئیں گے یہ لوگ ہرسال کوئی نہ کوئی بحران پیدا کرکے کھ...

منطقی انجام کیاہوگا؟

سیاست نہیں ریاست بچاؤ وجود - جمعرات 05 نومبر 2020

آج سے ٹھیک آٹھ برس قبل 23 دسمبر 2012 کو تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے جب پہلی بار ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ’’سیاسی اشرافیہ ‘‘ کے تین طاقت ور ترین طبقات یعنی جاگیرداروں ،وڈیروں اور سرمایہ داروں کے بنائے ہوئے برسوں پرانے انتخابی نظام پر نقطہ اعتراض اُٹھایا تھا تو بدقسمتی سے ہم پاکستانیوںکی ایک بڑی اکثریت نے من حیث القوم علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے لگائے گئے ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کے نعرہ کو وہ پذیرائی نہیں بخشی ،...

سیاست نہیں ریاست بچاؤ

وہ زمانے بیت گئے وجود - بدھ 04 نومبر 2020

شاید ہم اس صدی کے آخری لوگ ہیں جن کے بزرگ گرمیوںمیں اپنے اپنے گھروںکے باہر گلی میں سویا کرتے تھے اس کے لیے بڑااہتمام کیا جاتا ،مغرب کے بعد بچے شوق سے دروازوںکے آگے صفائی کرکے پانی کا چھرکائو کرتے خال خال کسی کے پاس ٹرانسسٹر(ریڈیو)ہوتاوہ بڑے مزے کے ساتھ خبریں یا گیتوںبھری کہانی یا فرمائشی پروگرام سنتا اکثروبیشترپڑوسی بھی اردگردجمع ہوکرحالات ِ حاضرہ پرسیرحاصل بحث کرتے یہ اس وقت واحدتفریح تھی ان دنوں لوگوںکے مزاج میں شدت نہ تھی، فرقہ پرستی جنون نہیں بنی تھی، ذات برادریاں ماحول...

وہ زمانے بیت گئے

دیوانگی کا زمانہ وجود - بدھ 04 نومبر 2020

اناڑی اور تجربہ کارکے اطوار میں اتنا فرق ہوتا ہے جس سے لوگوں کو اعتمادیااحتیاط کرنے میں دشواری نہیں رہتی ملک کے سیاسی منظر نامے پر نگاہ دوڑائیں توتجربہ کہیں نظر نہیں آتابلکہ اناڑیوں کا راج دکھائی دیتا ہے دیوانگی اور جنون مترشح ہے لڑنے اور مر مٹنے کی باتیں تو سنائی دیتی ہیں نقارخانے میں نحیف ونزار ہی سہی افہام و تفہیم کی صدا کوئی بلند نہیں کرتا اِسے کیا نام دیں قیادت کہیں یا ایک دوسرے کو پچھاڑنے پر آمادہ ریوڑ کا لقب دیاجائے حالات دیکھ کر اچھا بھلا آدمی سٹپٹا یا ہوا ہے رفوگر...

دیوانگی کا زمانہ

اکیلی خاتون زیادہ خطرے میں۔۔ وجود - بدھ 04 نومبر 2020

دوستو، موٹروے کیس تو آپ لوگوں کے ذہنوں سے ابھی محو نہیں ہوا ہوگا، اس کیس میں جو بنیادی نکتہ وجہ بحث بنا ، وہ یہ تھا کہ خاتون اکیلی گھر سے رات کے وقت کیوں نکلی؟؟ اس پر سی سی پی او لاہور نے بھی کچھ خامہ فرسائی کی جس کے بعد وہ سوشل میڈیا پرطنزو طعن کا نشانہ بنے،اتنا بنے کہ بعد میں معافی تک مانگنی پڑگئی۔۔ مذہبی حوالے سے دیکھا جائے تو خاتون کا محرم کے بغیر گھر سے نکلنا ممنوع ہے،لیکن جدید ریسرچ کہتی ہے کہ کہ اکیلی خاتون شدیدخطرے میں ہوتی ہے۔۔ایک خبرکے مطابق کینیڈا میں 28 ہزار سے ز...

اکیلی خاتون زیادہ خطرے میں۔۔

عمران خان خود اپنے خلاف کھڑے ہیں وجود - منگل 03 نومبر 2020

کوئی مرگلہ کی پہاڑیوں سے چیخ کر وزیراعظم عمران خان کو بتائے کہ نظام کے دوغلے پن، احتساب کے ننگے پن کے ساتھ خود اُن کا اپنا کھوکھلا پن بھی نمایاں ہوگیا۔ وہ خود اپنے خلاف کھڑے ہیں۔ اُن کے احتساب و انصاف کے دعوے اب اپنی آبرو کھو چکے۔ عمران خان کا نظمِ حکمرانی ہرروز اپنی بہیمت کے ساتھ بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ ارسطو نے کہا تھا:قانون مکڑی کا وہ جالا ہے، جس میں ہمیشہ حشرات یعنی چھوٹے ہی پھنستے ہیں، بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں۔ہمارے”پیارے“ وزیراعظم عمران خان مگر مدینہ کی ریاس...

عمران خان خود اپنے خلاف کھڑے ہیں

وہ زمانے بیت گئے وجود - منگل 03 نومبر 2020

شاید ہم اس صدی کے آخری لوگ ہیں جن کے بزرگ گرمیوںمیں اپنے اپنے گھروںکے باہر گلی میں سویا کرتے تھے اس کے لیے بڑااہتمام کیا جاتا ،مغرب کے بعد بچے شوق سے دروازوںکے آگے صفائی کرکے پانی کا چھرکائو کرتے خال خال کسی کے پاس ٹرانسسٹر(ریڈیو)ہوتاوہ بڑے مزے کے ساتھ خبریں یا گیتوںبھری کہانی یا فرمائشی پروگرام سنتا اکثروبیشترپڑوسی بھی اردگردجمع ہوکرحالات ِ حاضرہ پرسیرحاصل بحث کرتے یہ اس وقت واحدتفریح تھی ان دنوں لوگوںکے مزاج میں شدت نہ تھی، فرقہ پرستی جنون نہیں بنی تھی، ذات برادریاں ماحول...

وہ زمانے بیت گئے

’’بائیکاٹ فرانس ‘‘ کی عالمگیر احتجاجی مہم وجود - منگل 03 نومبر 2020

فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کی جانب سے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں توہین آمیز خاکے اور مواد کی اشاعت کی ریاستی حمایت جاری رکھنے کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں فرانس،فرانسیسی عوام اور فرانسیسی صد ر کے خلاف شدید ترین نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں ،جس کا اظہار دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے انداز میں کررہے ہیں ۔جبکہ چند مسلمان ریاستوں کے سربراہان کی جانب سے بھی فرانسیسی صدر عمانویل میکرون کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی ہے ۔مثلاً ترکی کے صدر طیب ار...

’’بائیکاٹ فرانس ‘‘ کی عالمگیر احتجاجی مہم

فاتح کون، نسل پرست یا لبرل۔۔؟ وجود - منگل 03 نومبر 2020

تین نومبر کا صدارتی معرکہ زیادہ دور نہیں رہا لیکن کئی دہائیوں بعد امریکا عجیب دوراہے پر ہے ایک طرف معیشت زوال کا شکارہے تو دوسری طرف معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے انتخابی مہم کے دوران پیدا ہونے والی تلخی کے تناظر میں نتائج پربھی انگلیاں اُٹھانے کا امکان ہے جس کاٹرمپ عندیہ دے چکے ہیں جس سے مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ انتخابی نتائج تنازع کا موجب ہو سکتے ہیں جس سے امریکا کا عالمی کردار محدود ہو سکتا ہے واحد عالمی سُپر پاور کو پہلے ہی چین کی صورت میں ایک بڑا چیلنج درپیش ہے ،اگر اند...

فاتح کون، نسل پرست یا لبرل۔۔؟

دامن نچوڑدیں توفرشتے وضوکریں وجود - پیر 02 نومبر 2020

کبھی غورکریںتوعقل تسلیم کرنے سے انکارکردیتی ہے کہ دنیا میں ایسے عظیم مسلمان حکمران بھی ہو گزرے ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے اس پانی سے وضوکرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر آپس میں الجھ پڑیں، اسلام کے ابتدائی دور میں فارس(ایران) کی حیثیت ایک سپرپاور کی سی تھی وہاںسے ایک حکومتی وفد امیرالمومنین سے ملاقات کے لیے دارالحکومت مدینہ شریف آیا ، انہوںنے دریافت کیا آپ کے امیر سے کہاں ملا جا سکتاہے، لوگوںنے بتایا کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں ہوںگے وفد وہاں چلا گیا لیکن اتفاق سے...

دامن نچوڑدیں توفرشتے وضوکریں

یورپ میں مذہب کے نام پر نئی صف بندی وجود - پیر 02 نومبر 2020

جیساکہ آج کل فرانس کے صدر کیمرون نے آزادی رائے کے تحفظ کے نام پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا ہے اس نے نہ صرف یورپ کے مسلمانوں بلکہ دنیا بھر میں موجود کلمہ گو مسلمانوں کے دل چھلنی کردیئے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ اس کے جواب میں دنیائے اسلام میں اس وقت فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایک بڑی مہم شروع ہوچکی ہے۔ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ مغرب میں توہین رسالت کی تاریخ خاصی پرانی ہے جب علم اور دلیل کی حد ختم ہوتی ہے تو وہاں سے جھالت اپنا راستہ ...

یورپ میں مذہب کے نام پر نئی صف بندی

فضول یات وجود - پیر 02 نومبر 2020

دوستو،لاہور میں جب ہم بسلسلہ روزگار رہائش پذیر تھے تو وہاں ایک جملہ اکثر کانوں میں ’’رس‘‘ گھولتا تھا۔۔ وہ جملہ تھا۔۔ بے فضول نہ بولا کر۔۔ حالانکہ فضول تو فضول ہی ہوتا ہے، بے لگانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، مگر یہ لاہوری بولی کا حسن تھا۔۔جسے سن کر ہم بھی محظوظ ہواکرتے تھے۔۔ آج چونکہ اتوار کا دن ہے ،اس لیے ہم نے بھی سوچا کیوں نہ آپ لوگوں کو اپنی روایتی اوٹ پٹانگ اور فضول باتوں سے مستفید فرمائیں، ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ ان باتوں کو پڑھ کر مسکرائے بنا نہیں رہ پائیں گے۔۔ تو پھ...

فضول یات

چین انٹارکٹکا کو بچا سکتا ہے وجود - پیر 02 نومبر 2020

جان کیری   اس وقت جب چین اور امریکا میں گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں‘ پھر بھی ایک ایسا عالمی چیلنج موجود ہے جس کے حل کے لیے ان اختلافات کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے ماحولیاتی تبدیلی۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکا اور چین ایک نئی سرد جنگ میں داخل ہو رہے ہیں، پھر بھی ہم باہمی مفادات کی خاطر تعاون کر سکتے ہیں۔ بیسویں صدی میں جب کشیدگی اپنے عروج پر تھی‘ امریکا اور سوویت یونین نے تخفیفِ اسلحہ پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جو دونوں ممالک کے مفاد میں تھا...

چین انٹارکٹکا کو بچا سکتا ہے

مہنگا روئے باربار وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

دوستو،گیلپ پاکستان کے سروے کے انکشاف کے مطابق 85 فیصد پاکستانی کورونا کے باعث آمدن کم ہونے پر شدید پریشان ہیں، سروے میں گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کھانا کم کھانے، سستی غذائی اشیاء استعمال کرنے اور رشتہ داروں سے مدد مانگنے والوں کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔کورونا کی وبا سے عام آدمی کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی ہے جس میں اب تک بہتری نہیں آسکی، ا س بات کا انکشاف گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں ہوا جس میں ملک بھر سے 2100 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔یہ سروے 9 ستمبر س...

مہنگا روئے باربار

بھارت ٹوٹ رہاہے وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

بھارت میں جب بھی بدترین مسلم کش فسادات ہوئے لوگ کہتے ہیں دو قومی نظریہ ایک بارپھر زندہ ہوگیا ہے ،اب تو اپنے پرائے سب تسلیم کررہے ہیں کہ برصغیرمیں تقسیم کے حوالہ سے قائداعظمؒ کی سوچ درست تھی اب تو امریکی اور پورپین اخبارات و جرائدبھی چیخ چیح کرکہہ رہے ہیں کہ مودی سرکارجان بوجھ کر مسلم کش فسادات کو ہوادیتی ہے حال ہی میں ایک امریکن نیوز ایجنسی کی خفیہ رپورٹ نے بھارتی سیکولر ازم کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑڈالاہے ایک خیال یہ بھی ہے کہ بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام بھارت میں رہنے والی ...

بھارت ٹوٹ رہاہے

اعتباراور سچائی کا جنازہ وجود - جمعه 30 اکتوبر 2020

یہ ایک بڑی کامیابی ہے مگر صرف پانچ مہینوں میں امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف کا شمار ان لوگوں میں ہونے لگا ہے جو امریکی تاریخ میں تباہ کن انٹیلی جنس عہدیدار سمجھے جاتے ہیں۔ مئی میں ان کی کنفرمیشن کے لیے ہونے والی سماعت کے دورا ن جان ریٹ کلف نے یہ حلف دیا کہ وہ بیرونی اثر و رسوخ کو اپنے فرائض منصبی پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے اور دعویٰ کیا کہ وہ اپنے عہدے پر تقرر کے بعد مکمل طور پر غیر سیاسی رہیں گے مگر اس کے برعکس وہ سیاسی تنازعات میں ملوث ہو چکے ہیں۔ پ...

اعتباراور سچائی کا جنازہ

لارنس آف عربیا, وہ وقت جب سمندری طوفان نے بحری جہازکوآگھیرا وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

فوجی وردی میں ملبوس نیلی آنکھوں والایہ نوجوان مسلمانوں کے مقدس ملک جارہاتھا،اس کے سفرکی غایت عرب سلطنت کاقیام تھا عربوں کے پاس چند ہی بندوقیں تھیں اور وہ بھی اتنی پرانی تھیں کہ پہلی ہی بار کے چھوٹنے میں ان کے پھوٹ جانے کا اندیشہ تھا (قسط نمبر: 9) یہ صورت حال تھی کہ پردہ اٹھا۔ لارنس ڈرامائی طور پر بغاوت عرب میں داخل ہو چکا تھا۔ بعض دلچسپ قصے یوں بھی مشہور ہیں کہ اس نے پندرہ روز کی رخصت چاہی اور چونکہ اس کے ہمیشہ کے ساتھی اس سے اکتا گئے تھے اس لیے رخصت فوراً منظور کر لی گئی...

لارنس آف عربیا, وہ وقت جب سمندری طوفان نے بحری جہازکوآگھیرا

لارنس آف عربیا ,شریف مکہ لارڈکچرکے اُکسانے پرترکوں کیخلاف جنگ پرآمادہ ہوگیا وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

(قسط نمبر: 8) لارنس سمجھ گیا کہ ظالم ترکوں کے خلاف ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں سے ایک بہت بڑی فوج تیار ہو سکتی ہے،ان نے بغاوت کاجذبہ ابھارا اس نے اس خاص معاملہ میں اپنی رپورٹ بھجوائی لیکن نقشوں اور تصویر کشی کے علاوہ بھی اس نے کچھ اور کیا۔ جب وہ کہہ چکا کہ ان کی تمام کارروائی غلط یا کم از کم لاعلاج حد تک بے وقت کی چیز ہے تو اس نے ان عہدیداران کے روبرو ان کے طریق جنگ کے متعلق اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت بھی کی۔ مثلاً کشتیوں کو ساحل پر لانے لے جانے کے جو طریقے فوجی عہدہداروں نے اختیا...

لارنس آف عربیا ,شریف مکہ لارڈکچرکے اُکسانے پرترکوں کیخلاف جنگ پرآمادہ ہوگیا

لارنس آف عربیا ,انگریزوں نے ہتھیار ڈالدیئے ،ترک جیت گئے وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

وہ نو عمر، بے سلیقہ اور انتہائی غیر فوجی قسم کا انسان تھا لیکن اس کا قلب دنیا کے بعض عظیم ترین جرنیلوں سے ٹکر کھاتا تھا (قسط نمبر:7) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سیکنڈ لیفٹنٹ ٹامس ایڈورڈ لارنس کا خیال کچھ اور تھا۔ بعض نقشوں کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ سرتا سر غلط ہیں اس لیے انھیں پرزے پرزے کر دیتا۔ دوسروں میں من مانی تبدیلیاں کرتا۔ نقشہ پر جن چیزوں کو مہمل سمجھتا وہاں حیران کر دینے والی یادداشتیں لکھ دیتا۔ اس سے کہا بھی گیا کہ وہ اس طریقہ عمل کا مجاز نہیں ہے لیکن وہ برابر یہی ک...

لارنس آف عربیا ,انگریزوں نے ہتھیار ڈالدیئے ،ترک جیت گئے

’’لارنس آف عربیا,کرنل بنوکاسب ‘‘ نے ترکوں سے دھوکے سے حاصل کردہ نقشہ مصرکے حوالے کردیا وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

یہ نوجوان فوجی لباس پہن کربھی فوجی نہ معلوم ہوسکا،اس کاگلاہمیشہ کھلاہی رہتا،افسران ہی کیاعام سپاہی بھی جان چکے تھے کہ یہ فوجی نہیں عام شہری ہے قسط نمبر :6 1913-14ء کے جاڑوں میں حکومت مصر، سینا کا فوجی نقشہ حاصل کرنے کے لیے بے چین تھی۔ کرنل نیو کامب اس کام پر مامور ہوئے۔ حکومت ترکیہ سے درخواست کی گئی کہ ملک کی پیمائش کی اجازت دے لیکن حکومت ترکیہ اپنے انکار پر جمی رہی۔ متعلقہ عہدہ دار سر جوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے ترکوں سے دوبارہ درخواست کی کہ کیا وہ ملک کے آثار قدیمہ کی حد ت...

’’لارنس آف عربیا,کرنل بنوکاسب ‘‘ نے ترکوں سے دھوکے سے حاصل کردہ نقشہ مصرکے حوالے کردیا

وزیراعظم صاحب بس کردیں! وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

۔ وزیراعظم نے ارشاد فرمایا: مہنگائی کنٹرول کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا“۔ کیا واقعی؟ وزیراعظم کے الفاظ کی کوئی قدرووقعت باقی ہی نہیں رہ گئی۔ وزیراعظم الفاظ کے خراچ اور عمل کے قلاش ثابت ہوئے ہیں۔ اُن کے لیے اب عافیت بولنے میں نہیں چپ رہنے میں ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے کا مطلب محض الفاظ کی جگالی سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ یہ بروئے کار آنے کانام ہے۔ یہ اختیارات کا منصب ہے، خطابت کا منبر نہیں۔ دانائی سے جگمگاتی حدیث کا مفہوم ہے:خاموش رہو، سلامت رہو گے“۔ وزیراعظم کا مسئلہ یہ ہے ...

وزیراعظم صاحب بس کردیں!

اندرکی تاریکیاں وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

اس نے کہا ان دنوں میری عجیب حالت ہے سمجھ میں نہیں آتاکیاکروں؟ چہرے مہرے سے سنجیدہ لیکن حددرجہ پریشان ،باوقار اور کھاتے پیتے گھرانے کا ایک نوجوان درویش کے روبرو بیٹھا اپنا مسئلہ بیان کررہا تھا میراکوئی کام کرنے کو جی نہیں کرتاجیسے جذبات مرگئے ہوں وہ بات کرتے کرتے رک گیا جیسے کسی خیال سے سراسیمہ ہوگیا ہو درویش نے بڑی محبت سے اس کے سرپر ہاتھ پھیرا اور نرمی سے کہا اپنی بات مکمل کرلو، نوجوان نے ادھر ادھر د یکھا شرما کرکہا کسی نازنیں، مہ جبیں کو بھی دیکھ کر کوئی حس بیدارنہیں ہوتی،...

اندرکی تاریکیاں

جھوٹ کے پاؤں بھی ہوتے ہیں وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

بدقسمتی سے ہمارے سیاست دانوں نے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے سیاسی گفتگو میں اتنا زیادہ خلط مبحث کردیا ہے کہ اَب عوام جھوٹ کو ہی سچ سمجھنے لگے ہیں۔بس یہ جان لیجئے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کو ہرضابطہ ،قانون اور حدودو قیود سے مکمل طور پر مادر پدر آزاد کردیا گیاہے ۔سوشل میڈیا اور نیوز چینلز جھوٹ کی سوار ی بن چکے ہیں ،سیاست دان اس جھوٹی سواری کے شہہ سوار ہیں اور جھوٹ کا اصل ہدف و منزل سادہ لوح عوام کے اذہان اور قلوب ہیں ۔ جھوٹ کو اتنا سازگار، مناسب اورپرکشش ماحول تاریخ انسانی میں...

جھوٹ کے پاؤں بھی ہوتے ہیں

داڑھی رکھنے کے ’جرم ‘میں داروغہ کی معطلی وجود - جمعرات 29 اکتوبر 2020

بی جے پی کے اقتداروالی ریاست اترپردیش میں ایک مسلمان داروغہ کو سنّت نبویﷺ کی پیروی کی قیمت اپنی نوکری گنواکر ادا کرنی پڑی ہے۔الزام ہے کہ انھوں نے داڑھی رکھ کر پولیس سروس کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی تھی اور بار بار کی وارننگ کے باوجود اپنی داڑھی صاف نہیں کروائی تھی، لہٰذا انھیں پولیس کی ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔ یہ واقعہ مغربی اترپردیش کے باغپت ضلع کا ہے جہاں سب انسپکٹر انتصار علی کوبلا اجازت داڑھی رکھنے کی پاداش میں لائن حاضرکر دیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق انتصار علی...

داڑھی رکھنے کے ’جرم ‘میں داروغہ کی معطلی

ابھی ہم خطرے میں ہیں وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

بڑی عید گزری،محرم صفرکا مہینہ بھی گزرگیاعیدمیلادالنبی ﷺ کا ماہ مبارک آن پہنچا ہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ کورونا وائرس کا زور ٹوٹ گیاہے مریضوںکی تعداد کم سے کم ہورہی ہے لیکن اس کے باوجود کئی ممالک میں حالات تسلی بخش نہیں ہے جس کا مطلب ہے ابھی ہم خطرے میں ہیں اس لیے ماہرین کا خیال ہے احتیاط میں ہی عافیت ہے ،ذرا تصورکی آنکھ سے دیکھئے ماضی کا خوف وہراس کیا یہ قیامت سے کچھ کم تھا؟ نہیں اب بھی یاد آجائے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ انسان اتنا بااختیارہونے کے باوجود کتنا بے ب...

ابھی ہم خطرے میں ہیں

عور ت ذات وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

دوستو،ایک خبر کے مطابق بھارت کی مقامی عدالت نے شوہرکی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کو حکم دیا ہے کہ وہ ماہانہ ایک ہزار روپے بطور جیب خرچ اپنے شوہر کو ادا کیا کرے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کی فیملی کورٹ میں 2013 میں ہندو میرج ایکٹ 1995 کے تحت اپنی بیوی کیخلاف جیب خرچ کے لیے پٹیشن دائر کی تھی۔ دونوں میاں بیوی کئی عرصے سے ایک دوسرے سے الگ رہ رہے ہیں۔شوہر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ میری بیوی سرکاری ملازم تھی اور اب اسے 12 ہزار پینشن ملتی ہے اس لیے بیوی کو ...

عور ت ذات

افغان امن اور بھارتی کردار وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن سمجھوتے کے تحت توقعات کے مطابق بہتری کے آثار پیدا نہیں ہوئے بلکہ پُرتشدد واقعات میں انسانی اموات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے امن لانے کے خواہشمندوں کو مایوسی ہو رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی مثالی امن کا خواب تشنہ تعبیرہی رہے گا ویسے تو کئی دہائیوں سے افغان سرزمین انسانی خون سے سیراب ہو رہی ہے لیکن امریکا کی آمد کے ساتھ ہی انسانی خون کو خاک کا رزق بنانے میں کچھ زیادہ ہی تیزی آئی ہے اور ایسے خدشات ک...

افغان امن اور بھارتی کردار

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟ وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

شاید ہی اس دنیا میں بسنے والے کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن سے واقفیت نہ رکھتا ہو ۔ بلکہ ہمارا تو گمان ہے کہ اگر کسی مسلمان کو جیسنڈاآرڈرن کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا تو وہ بھی یقینا جیسنڈاآرڈرن کی تصویر دیکھ کر ضرور پہچان لے گا کہ یہ ہی وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہے۔ جس نے ایک غیر مسلم ملک کی غیر مسلم وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی رویے ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کے خلاف بھرپور انداز میں نہ صرف دنیا بھر میں آوا...

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

بابری مسجد،سی بی آئی اور لبراہن کمیشن وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

سی بی آئی نے بابری مسجد انہدام کے تمام ملزمان کو بری کئے جانے کے خلاف ابھی تک اونچی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا ہے۔ گذشتہ 30 ستمبر کو خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کو سزا دینے اور اس معاملے میں سازش کی تھیوری کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہم آپ کو یاد دلادیں کہ بابری مسجد انہدام کے دس روز بعد اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہاراو نے جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کی قیادت میں جو کمیشن تشکیل دیا تھا اس نے اپنی ایک ہزار صفحات سے زیادہ کی رپورٹ میں بابری مسجد انہدام ...

بابری مسجد،سی بی آئی اور لبراہن کمیشن

بیاں،میوی؟ وجود - اتوار 25 اکتوبر 2020

دوستو، آپ کو آج ہمارے کالم کا عنوان سمجھ نہیں آیا ہوگا، یہ ہم نے ’’میاں بیوی‘‘ لکھا ہے، لیکن یہ وہ میاں بیوی ہیں جن کی شادی کو تیس سال سے زائد عرصہ گزرچکا ہوتا ہے اور دونوں میں اتنی ذہنی ہم آہنگی ہوجاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے آنکھوں کے اشارے، چہرے کے تاثرات تو ایک طرف، سوچ تک پڑھ لیتے ہیں۔۔ ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ شادی کو ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد میاں بیوی کی شکلیں ایک دوسرے سے ملنے لگتی ہیں، جیسے وہ آپس میں حقیقی بہن بھائی ہوں۔اس بارے میں 1987 کی ایک نفسیاتی تحقیق بھی...

بیاں،میوی؟

آج پھرتصویریں سونے نہیں دیتیں! وجود - اتوار 25 اکتوبر 2020

آج دل پھرسے مضطرب ہے۔ بے قراری،بے سکونی حواس پر طاری ہے میرے چاروںاطراف فضا میں خون کی بو رچی ہوئی محسوس ہورہی ہے جیسے سانس لینا بھی دوبھرہوگیاہو،۔ میرے ارد گرد آہوں،سسکیوں اور بین کرتی آوازیں حا وی ہوتی جارہی ہیںمیں خوفزدہ ہوں ذرا سی آہٹ پر بھی سہم سہم جاتاہوں کبھی بچوں کی چیخیں،۔کبھی نوجوان لڑکیوں کی آہ و بکا،۔کبھی مردوں کی بے بسی کی ان کہی کہانیاں ، کبھی عورتوںکا شور ،خوف ڈر اوردرد میں ڈوبی آوازیں اور کبھی حملہ آوروںکے قہقہے،۔۔نفرت میں ڈوبے تحقیر آمیز جملے سماعتوںپ...

آج پھرتصویریں سونے نہیں دیتیں!

زندگی کا ذائقہ وجود - هفته 24 اکتوبر 2020

کہتے ہیں جب دنیا میں کچھ نہ تھا پانی تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی پانی ہی ہوگا ۔ پانی زندگی کی علامت ہے اورقدرت کا بیش قیمت تحفہ بھی جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ کرہ ٔ ارض پر ایک حصہ خشکی اور تین حصے پانی ہے اور خشکی کے نیچے بھی پانی ،سوچنے کی بات ہے اللہ نے پانی کو کتنی فضیلت عطا کردی، آب ِ زم زم کو بھی پانی بنا دیا ،اس کے باوجود پاکستانی قوم کی قسمت کا کیا کیجئے حکومتی اقدامات، کھربوں کے منصوبے، بلند بانگ دعوے پھر بھی ملک کی بیشترآبادی کو پینے کا صاف پانی میسرہی نہیں ، ی...

زندگی کا ذائقہ

ایمنسٹی کا اخراج ،بھارتی جمہوریت پر سوال وجود - هفته 24 اکتوبر 2020

آپ کو نریندر مودی کی جانب سے بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے اس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے پر فخر کا احساس یاد ہوگا‘ انہوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے اولین برسوں میں بار بار اس کا اعادہ کیا تھا۔ کوئی بھی بھارت کی اس خصوصیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ بھارت بار بار انتخابات کروانے اور حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ کوئی بھی مودی کے دعوے پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ ان کا دعویٰ غیر متنازع طور پر درست تھا۔ ہم آزاد عدلیہ میں یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صحافت آزاد اور نڈر ...

ایمنسٹی کا اخراج ،بھارتی جمہوریت پر سوال

مودی چین کا سامنا کرنے سے گریزاں وجود - هفته 24 اکتوبر 2020

چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا، چین لداخ میں ایک ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہندوستانی علاقے پر قابض ہے ۔ پیپلز لبریشن آرمی کے جوانوں نے جون میں ایک جھڑپ کے دوران نا صرف 20 ہندوستانی فوجیوں کو ہلاک اور ایک سو کے قریب زخمی کر دیے تھے ، بلکہ وہ لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم مقامات پر بھی بیٹھے رہے ہیں۔ چین اس علاقے کے قریب اپنی 55,000 سے زیادہ فوج اکٹھی کر چکا، پاکستان نے بھی 20,000 اضافی فوجی شمالی لداخ منتقل کر دیئے ہیں۔ اگرچہ ہندوستان کے وزیر اعظم...

مودی چین کا سامنا کرنے سے گریزاں

لارنس آف عربیا ,ترکوں نے پانچ سوسال تک عربوں پرحکمرانی کی وجود - هفته 24 اکتوبر 2020

(قسط نمبر: 5)   لارنس نے کئی سال غریب عربوں کے درمیان گزارے انکا بھیس بدل کر مقدس شہر مکہ میں بھی جاپہنچا،ان میں آزادی کاجوش جگایا سینکڑوں سال قبل ایک عظیم الشان قوم اس ملک میں آبادرہ چکی ہے۔ اب اس کی یادگار صرف قصے کہانیاں رہ گئی ہیں یا چند چٹانیں۔ وحشیوں نے روم کی تھکی ہوئی حکومت کا صفایا کر دیا تھا اور چند صدیوں تک فرقے اور قبیلے شہر بشہر آوارہ گردی کرتے رہے۔ وہ ان کھنڈروں کی جو روم کی گذشتہ عظمت کی یاد گار تھے، تعمیر کر ہی رہے تھے کہ ان سے طاقتور قبیلوں نے انھ...

لارنس آف عربیا ,ترکوں نے پانچ سوسال تک عربوں پرحکمرانی کی

لارنس آف عربیا ,قصہ جرمنوں کوبے وقوف بنانے کا وجود - جمعه 23 اکتوبر 2020

لوگوں کی نقل اتارنے میں ماہریہ نوجوان ایک زبردست نشانہ باز تھا،مجمع لگاکر ایسی ایسی کہانیاں بھی سنانا کہ لوگ دنگ رہ جاتے قسط نمبر:4 لارنس کا ایک بھائی بھی اس سے ملنے کے لیے آ گیا تھا اور اس صحبت میں شریک تھا۔ گفتگو جرمنوں کے متعلق ہو رہی تھی۔ اس وقت میجر کو لارنس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ یا ہنسی کھیلتی نظر آئی۔ میجر نے پوچھا۔ ’’ہنس کیوں رہے ہو؟‘‘۔ صرف اس لیے کہ میں نے کچھ ہی دیر پہلے جرمنوں کو کافی بے وقوف بنایا ہے۔‘‘ ’’بے وقوف بنایا ہے۔‘‘ پوری طرح ہنستے ہوئے لارنس ...

لارنس آف عربیا ,قصہ جرمنوں کوبے وقوف بنانے کا

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی! وجود - جمعه 23 اکتوبر 2020

کیا کہنے ، محمود اچکزئی کے کیا کہنے!! دنیا میں ایسے’’ باکردار‘‘ لوگ ڈھونڈے نہیں ملتے۔ہم کہاں، حضرت علامہ اقبالؒ بھی یہ مصرعہ ’’شکوہ‘‘ میں ہی کہہ سکتے تھے: اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر مگر محمو اچکزئی سے ’’شکوہ‘‘کیسا، اگر وہ علامہ اقبال کو بھی کبھی ’’پنجابی‘‘ شاعر کہہ دیں۔آخر الطاف حسین بھی چیخ چیخ کر کہتے تھے۔تعصب آدمی کو پاگل بنائے رکھتا ہے، ایسا پاگل کہ وہ اس پر علم کا گمان رکھتا ہے۔ابھی الطاف حسین کی آوازیں کراچی کی فضاؤں میں موجود ہیں۔ اب یہ محمود اچکزئی بھی۔...

اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی!

سندھم۔پولیس وجود - جمعه 23 اکتوبر 2020

دوستو، س سے سندھ آتا ہے اور ’’س‘‘ ہی سے ’’سنگہم‘‘ بھی آتا ہے۔۔سندھ پولیس آج سنگہم کیوں بنی؟؟ پہلے تو آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ’’سنگہم‘‘ کس بلا کا نام ہے؟ یہ پڑوسی ملک کی مووی ہے، جس میں پولیس کے مسائل ،ان کے اختیارات اور پھر ہیپی اینڈنگ میں پولیس کی ہر جگہ فتح دکھائی ہے۔۔ اسی مووی میں ایک جگہ جب ایک وزیر سنگہم کو کسی معاملے سے دور رہنے کاحکم دیتا ہے تو سنگہم اپنی وردی اور بیلٹ اتار کر وزیرکے ہاتھ میں پکڑادیتا ہے ،پھر پینٹ اور بنیان میں روڈ پر نکل جاتا ہے، اس کے بعد پورے شہ...

سندھم۔پولیس

لارنس آف عربیا, پتھروں کی اسمگلنگ میں گرفتاری و رہائی وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

قسط نمبر:3 ہنستے ہنستے بڑے سے بڑے کام کرڈالنے والایہ نوجوان نہایت نڈروبے باک تھا،مگرسفاکی اس سے کوسوں دورتھی دن کا کام جب ختم ہو جاتا تو وہ دیہات میں جا پہنچتا۔ دیہاتیوں کی طرح زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتا۔ ان سے باتیں کرتا۔ دیہاتی زندگی کی گپ شپ اور ہنسی مذاق میں برابر کا شریک رہتا۔ ان لوگوں نے یہ معلوم کر لیا کہ وہ خوف کھانا جانتا ہی نہیں۔ انھیں حیرت تھی کہ اس کا چھوٹا سا جسم کتنا طاقتور ہے اپنے سادے سیدھے اور بے تکلف انداز میں وہ اس کو چاہنے بھی لگے تھے کیونکہ...

لارنس آف عربیا, پتھروں کی اسمگلنگ میں گرفتاری و رہائی

لارنس آف عربیاکی دوڑ بھاگ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

قسط نمبر؛2 علم کی پیاس نوجوان کوعام راستوں سے دوردوربھٹکاتی رہی ، وہ ان کھنڈروں تک بھی جاپہنچاجسے بہت کم لوگ جانتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علم کی پیاس اسے عام راستوں سے دور دور بھٹکا دیتی تھی۔ اس سال موسم بہار میں چار مہینے تک وہ اسی سر زمین پر گھومتا پھرا۔ وہ فسلطین سے نکل کر قدیم اڈیسہ تک پہنچ گیا جسے کا آج کل عرفہ بھی کہتے ہیں۔ وہ تفصیل سے اس ملک کا معائنہ کر چکا جس کو مسیحی مجاہدوں نے لازوال شہرت بخشی۔ مجاہدوں کی یہ فوج فرماں رواؤں، خانہ بدوشوں سپاہیوں اور دی...

لارنس آف عربیاکی دوڑ بھاگ

سیاست میں تاثر فیصلہ کن عامل ہے!! وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

سیاست میں فیصلہ کن عامل تاثر ہوتا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر کے قضیے سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا۔ سازشیں حشرات الارض کی طرح رینگ رہی ہیں۔ کوئی ہے جو تاک میں ہے، کوئی ضرور ہے جو تاک میں ہے۔ مزار قائد کی بے حرمتی ضرور ہوئی۔ مگر یہ معاملہ جس طرح برتا گیا، اُس میں صرف مزار نہیں قائد اعظم کا پورا ملک بے حرمت ہورہا ہے۔ کوئی آدمی،کوئی ادارہ نہیں جو سیاست سے اوپر اُٹھ کر سوچ سکے! سیاست، یہی مکروہ سیاست!جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔سیاست کے منفور چلن نے پاکستان کے معاشی وجود، س...

سیاست میں تاثر فیصلہ کن عامل ہے!!

اپوزیشن الیون کے اصل سیاسی اہداف؟ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم کے کراچی میں ہونے والی جلسے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سیاسی مشکلات بڑھ جائیں گی ؟سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے لیے سب سے زیادہ اطمینان اور خوش بختی کی با ت ہی یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ المعروف پی ڈی ایم کے بنیادی مقاصد میں تحریک انصاف کی حکومت گرانا سرے سے ہے ہی نہیں ۔یہ رائے کسی’’سیاسی دیوانے ‘‘کی سازشی تھیوری یاغلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلمہ سیاسی حقیقت ہے۔ کیونکہ ہمیں بھی یقین کا...

اپوزیشن الیون کے اصل سیاسی اہداف؟

جا نے کس ر و پ میں خد ا مل جا ئے وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

ا س کا پوراجسم پسینے میں شرابور،داڑھی آنسوئوںسے تر تھی وہ آتے جاتے لوگوںکے سامنے ہاتھ جوڑرہاتھاہونٹوںپر کبھی دعا کبھی التجا مچل رہی تھی درجنوں افراداس کی بات سنی ان سنی کرتے جارہے تھے اس کے قدموںمیں ایک نوجوان اپنے ہی خون میں ڈوبا سڑک پر پڑا تڑپ رہا تھا ،یہ نوجوان اس کا ہونہار بیٹا تھا جو اپنے والد کے ساتھ دورکے ایک گائوں سے شہرمیں کسی کام کے لیے آئے ہوئے تھے وہ بس کے انتظارمیں کھڑے تھے کہ کوئی موٹر سائیکل سوار اندھا دھند اس سے ٹکرایا نوجوان اپنی جگہ سے اچھل کر فٹ پاتھ سے ...

جا نے کس ر و پ میں خد ا مل جا ئے

مفادات کی جنگ اور عوام وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

پاکستان اس وقت ان گنت مسائل ومشکلات سے دوچار ہے۔ مہنگائی کا جن اپنے پورے جاہ وجلال کے ساتھ بازاروں میں دندناتا پھر رہا ہے، بیروزگاری کا عالم یہ ہے کہ اب تو دینے والا ہاتھ بھی بھیک مانگنے پر مجبور ہے، امن و امان کی داخلی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،کراچی سمیت ملک بھر میںاسٹریٹ کرائم جس دیدہ دلیری سے دن کی روشنی میں ہو رہا ہے اسے ہر بینا آنکھ دیکھ رہی ہے، بلوچستان میں دہشت گرد پھر سر اٹھانے لگے ہیں، آئے روز ہمارے فوجی جوان اورسویلین ان ملک دشمنوں کے بارود کا ایندھن بن ر...

مفادات کی جنگ اور عوام

سیاسی بحران اور امن کا مسئلہ وجود - جمعرات 22 اکتوبر 2020

ملک کی سیاست میں بحران ،عدم استحکام اور بھونچال کی کیفیت ہے ۔وہیں کہیں نہ کہیں قرار و امن تہہ و بالا کردیا جاتا ہے ۔سندھ ،خیبر پشتونخوا گاہے بلوچستان میں سنگین و روح فرسا واقعار رونما ہو جاتے ہیں۔پچھلے دنوں (15اکتوبر2020 ) بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 15افراد جاں بحق ہوئے ۔اسی روز شمالی وزیرستان میں رزمک کے مقام پر شرپسندوں کی جانب سے آئی ای ڈی حملے میں کیپٹن عمر فاروق، نائب صوبیدار ریاض احمد، نائب صوبیدار ...

سیاسی بحران اور امن کا مسئلہ

منزل ہے کہاں تیری اے لالہء صحرائی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2020

کوئی دن جائے گا کہ فیصلہ صادر ہوجائے گا۔کیا نوازشریف، الطاف حسین بننے کے راستے پر گامزن ہیں؟ یا پھر وہ پاکستانی سیاست کے زمین وآسمان بدل دیں گے؟وقت کی جادو نگری کے اپنے جنتر منتر ہیں اور تاریخ کی اپنی حقیقتیں!! سیاسی کھیل کبھی نظام شمسی کی طرح کسی خاص قاعدہئ طلوع و غروب کے پابند نہیں رہتے، مگر پاکستانی سیاست ہمیشہ سے طلوع وغروب کے اپنے قید قاعدوں میں رہی ہے۔اس کے متعلق واحد یقینی بات یہ ہے کہ یہ غیر یقینی ہے۔ نوازشریف جس ”گھات“ پر بیٹھے لوگوں کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،کب...

منزل ہے کہاں تیری اے لالہء صحرائی

لہوکاخراج وجود - بدھ 21 اکتوبر 2020

کوئی دل کو اچھا لگتاہے ۔کوئی ہرج نہیںیا ہماری کسی سے وابستگی ہو جائے ۔۔اس میں بھی کوئی برائی نہیں یاپھرکسی جماعت، تنظیم یا پارٹی کے آپ رکن ہویہ بھی آپ کا حق ہے جسے بلاچوں چراںتسلیم کیا جا سکتاہے لیکن ذاتی خواہشوں کے صحرا میں بھٹکتے ہوئے کوئی حقائق مسخ کرناچاہے یا سچائی کا گلا گھونٹے کی جسارت کرے یا تاریخ کی گردن پر کلہاڑا چلا کر اپنے آپ کو’’ا رسطوــ‘‘ سمجھ بیٹھے تو یہ ہم سب پر تاریخ کا قرض ہے کہ ایسی ہر کوشش کو ناکام بنادیا جائے کیونکہ مذہب،اخلاق اورضمیر اس کی جازت نہیں دی...

لہوکاخراج

شکایات سے اعلانیہ نفرت وجود - بدھ 21 اکتوبر 2020

فوج کو ہدفِ تنقید بناناسیاستدانوں کا پرانا وطیرہ ہے قبل ازیں ہدفِ تنقید بناتے وقت اِ س امر کا خیال رکھا جاتا کہ موجودہ کی بجائے سابق قیادت کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے لیکن آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دیکر نئی روایت قائم کی مگرنئی روایت قائم کرنا اُن کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا موجودہ اپوزیشن اتحاد نے بھی جلسوں میں نام لیے بغیر قومی سلامتی کے ذمے داراِدارے پر اُنگلیاں اُٹھانا شروع کیں مگر نواز شریف نے تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سپاہ سالار کو نااہل کرانے...

شکایات سے اعلانیہ نفرت

گدھا تھراپی۔۔ وجود - بدھ 21 اکتوبر 2020

دوستو،ایک خبر کے مطابق اسپین میں کورونا وائرس کی وجہ سے تناؤ، ذہنی دباؤ اور پریشانی کے شکار طبی عملے کے لیے ایک خصوصی تھراپی کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں عملے کے ارکان کو کچھ وقت گدھوں کے ساتھ گزارنا ہوتا ہے اور اسے ’ڈونکی تھراپی‘ کا نام دیا گیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمگیر وبا کورونا کے خلاف جنگ لڑنے والا ہراول دستہ یعنی طبی عملے کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہتا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم ’’ال بریتو فلیز‘‘نے انوکھی تھراپی کا آغاز کیا ہے...

گدھا تھراپی۔۔

سوویت یونین میں کمیونزم امریکی بینکروں نے برپا کروایا وجود - منگل 20 اکتوبر 2020

صحرا بہ صحرا ۔۔۔۔۔۔ محمد انیس الرحمن سوویت یونین میں کمیونزم امریکی بینکروں نے برپا کروایا ٭جیکب شیف نے ہمیشہ اپنی دولت اور اثر رسوخ کو ’’اپنے لوگوں‘‘ کے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اس نے روس کے شاہی خاندان کے دشمنوں کو امریکا کی مالیاتی مارکیٹ میں بیٹھ کر زبردست مالی امداد مہیا کی ٭لاکھوں عیسائیوں میں سے کچھ ایسے عیسائی بھی تھے جو لاعلمی کی وجہ سے کمیونسٹوں کے ہتھے چڑھے جبکہ لاکھوں معصوم عیسائیوں کو کمیونسٹ نظریات کے یہودی پرچارک ’’ٹروسٹکی ‘‘ کے حکم سے تباہ کر دیا گیا ٭رو...

سوویت یونین میں کمیونزم امریکی بینکروں نے برپا کروایا

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود - منگل 20 اکتوبر 2020

پاکستان سمیت عالم اسلام کے اکثر ممالک میں آج کل ایک تاریخی ڈراما ’’ارطغرل‘‘ نہایت مقبول ہے۔ یہ ڈراما مسلمانوں کو اُن کی تاریخ کے کچھ پہلوؤں سے آشنا کرتا ہے، مگر بعد کے مسلم ادوار کی اصل حالت کو سمجھنے کے لیے ایک اور کردار ’’لارنس آف عربیا‘‘ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی فوج کا یہ افسر مختلف بہروپ سے خلافت عثمانیہ کی حدود میں داخل ہوا اور تنہا عربوں میں قوم پرستی کے جذبات پیدا کرکے اُنہیں خلافت عثمانیہ کے خلاف کردیا۔ یہاں تک کہ اسلامی خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس ایک شخص نے ت...

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

ہر و قت کا ہنسنا تجھے بربادنہ کردے وجود - پیر 12 اکتوبر 2020

ابھی موقع ہے ،اعمال نامہ کھلا ہے ،سانسیں آرہی ہیں، زبان باتیں کرنے میں مشغول ہے ،جسم میں حرارت ہے۔بدن توانا۔۔توبہ کی جا سکتی ہے جو ہاتھ دعا کے لیے اٹھانے پر قادر ہیں ہاتھ اٹھا لیں ،جوسکت نہیں رکھتے دل ہی دل میں اپنے گناہوںکی معافی مانگ لیں۔توبہ دل سے کی جائے توقبول ہوتی ہے اللہ کے حضور اشک ِ ندامت کی بڑی قدرہے ۔ ہروقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر دوسروںکا مذاق اڑانے والے،رعونت سے تنی گردنیں،لوگوںکوبلکتے سسکتے دیکھ کر بھی رحم نہ کھانے ...

ہر و قت کا ہنسنا تجھے بربادنہ کردے

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ وجود - پیر 12 اکتوبر 2020

جنوبی قفقاز کے علاقے کے دو ملک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے کی وجہ سے جنگ چھڑے دو ہفتے ہوچکے ہیں اور آذری فوجیں ترکی کی مدد سے تیزی کے ساتھ کاراباخ کے علاقے کو آزاد کرا رہی ہیں۔ اس تنازع کی حقیقیت جاننے کے لیے ہمیں تاریخ میں جھانکنا ہوگا۔ وسط ایشیائی ممالک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے میں حالیہ فوجی کشیدگی کی تاریخ سوویت یونین سے جڑی ہوئی ہے اور اب تک اس علاقے پر دونوں ممالک میں خون ریز جنگیں بھی ہو ...

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ

معاشی ڈائیلاگ کی ضرورت وجود - پیر 12 اکتوبر 2020

آپ کو یاد ہوگا کہ گیلانی کے دور میں جب چینی کا بحران پیدا ہوا تو چینی 45 سے 55 روپے تک جاپہنچی تھی، ایسے میں ہمارے معاشرے کے ایک کردار ، یعنی میڈیا ، نے اس قدر شور مچایا کہ عدالت عظمیٰ جوش میں آگئی، یعنی ازخود نوٹس لینے پر مجبور ہوگئی۔افتخار چودھری کی عدالت نے طلب اور رسد کے فارمولے کو نظر انداز کرتے ہوئے حکم صادر کیا کہ عوام کو چینی ہر حال میں 45 روپے کلو فراہم کی جائے ۔ حکم تو آگیا،لیکن اس پر عمل کیسے ہو؟ یہ سوچنا عدالتوں کا کام کہاں ہوتا ہے ۔ پھر ہوا یوں کہ شوگر ملز مال...

معاشی ڈائیلاگ کی ضرورت

کوروناوائرس، علاج کی نئی تحقیق وجود - اتوار 11 اکتوبر 2020

کورونا وائرس کی دہشت کے باجود دنیا بھر میں اسکی ویکسین کی تیاری کا عمل جاری ہے۔ امریکی صدرٹرمپ کا کہناہے کہ اس وباء کی ویکسین چندماہ میں مارکیٹ میں آجائے گی جس سے فارما سوٹیکل کمپنیوںکو اپنی پراڈکٹس کے لیے نئی مارکیٹ میسرآجائے گی جبکہ ہر ایئرلائن نے بیرون ملک جا نے والے مسافروں کے لیے کورونا ٹیسٹ لازمی قراردیدیاہے جس سے کلینکل لیبارٹریوں کے مالکان کی چاندی ہوگئی ہے۔ اس وقت دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں لاکھوں افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں ۔پاکستان میں بھی کورونا کی نئی ...

کوروناوائرس، علاج کی نئی تحقیق

کاغذ، قلم، دوات لا۔۔ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2020

دوستو، آج کل کمپیوٹر کا دور ہے اورا سکولوں میں کاغذ اور قلم کا چلن مفقود ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بچے اب نوٹس بھی کمپیوٹر ہی پر بناتے ہیں۔تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بچوں کے لیے ’لکھنے‘ کا ایسا حیران کن فائدہ بتا دیا ہے کہ سن کر والدین اپنے بچوں کو کاغذ قلم تھمانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ناروے کے سائنسدانوں نے 12سال عمر کے 12طالب علموں پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ سیکھنے کے لیے لکھنا بچوں کے لیے پڑھنے کی نسبت کئی گنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں ثا...

کاغذ، قلم، دوات لا۔۔

وسطی ایشیاء میں عالمی طاقتوں کے ممکنہ اہداف ؟ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2020

۔ ابھی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کے شعلے بجھنے بھی نہ پائے تھے کہ وسطی ایشیا کا ایک اہم ترین ملک کرغزستان بھی داخلی طور پر شدید سیاسی بحران سے دوچار ہوگیا ہے اور کرغزستان میں انتحابات میں دھاندلی کے خلاف بھرپور مظاہروں اور سرکاری عمارتوں پر مظاہرین کے قبضے کے بعد الیکشن کالعدم قراردیدیے گئے ہیں ۔ نیز دوروز سے حکومت کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فوسز کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں، جن میں بڑی ...

وسطی ایشیاء میں عالمی طاقتوں کے ممکنہ اہداف ؟

سیاست دانوں کی خفیہ شادیا ں وجود - هفته 10 اکتوبر 2020

دنیا بھر کے بیشتر سیاستدان خفیہ شادیاں کرنے میں بڑے مشہور ہیں۔ جب وہ اقتڈار میں آتے ہیں تو ان کے دل میں نت نئی شادیاں کرنے کی دبی دبی امنگ بڑی ترنگ کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔ ایک دو پر ہی موقوف نہیں۔ درجنوں سیاستدان اس معاملہ میں چھپے رستم ہیں یعنی جس پر ہاتھ رکھو وہی سوا لال۔ ایک زمانے میں یہ علت صرف فلمی ستاروںتک ہی محدود تھی۔ برصغیرمیں اکثرشرفاء نت نئی شادیاں کرنے والوںکو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ ویسے بھی کہا جاتاہے بغیر کسی عذرکے دوسری پھر تیسری شادی عیاشی تصورکی جاتی ہے۔ فلمی ...

سیاست دانوں کی خفیہ شادیا ں

نزاکت کا ادراک وجود - هفته 10 اکتوبر 2020

موسمی حدت میں کمی کے باوجود سیاسی حالات میں گرمی اور تلخی بڑھ رہی ہے حالانکہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا تقاضا سیاسی استحکام ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے سوا کچھ کرنا ہی نہیں آتا ،پاکستان کے بعد آزادی حاصل کرنے والے کئی ممالک آج ترقی کی دوڑ میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں لیکن ہم قرضے لیکر گزارا کرنے پر مجبور ہیں ۔اِس حالت کی ذمہ دار بہرحال عوام نہیں ،مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔ لسانی ،صو...

نزاکت کا ادراک

غریب وزیراعظم وجود - جمعه 09 اکتوبر 2020

دوستو،غریب وزیراعظم صرف ہمارا نہیں، جس نے ایف بی آر کی تازہ رپورٹ کے مطابق دو لاکھ سے کچھ زائد ٹیکس دیا، بلکہ برطانوی وزیراعظم تو ہمارے وزیراعظم سے بھی زیادہ غریب نکلے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی آمدنی، تنگ دستی اور نجی دوستوں کے ساتھ ملاقات اور کھانے پر اٹھنے والے اخراجات کے متعلق ایک ایسی خبر سامنے آ گئی ہیں کہ ہمارے جیسے ملک کے شہری سن کر ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو جائیں گے۔ برطانوی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد بورس ج...

غریب وزیراعظم

عبرت اور عذاب وجود - جمعه 09 اکتوبر 2020

انسان بڑا پھنے خان بنا پھرتا تھا کہ اس نے چاندکو تسخیرکرلیاہے۔ دنیا کی حیثیت ایک گلوبل ویلج کی سی ہوگئی۔ کائنات کے اسرار ورموز اس پر آشکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اس کے ایک اشارے پر دنیا کیا سے کیا ہوجاتی ہے ۔یہی وجہ تھی کہ عالمی طاقتوںکا سر غرور سے تنا رہتا تھا کہ پوری دنیا کے غریب ممالک ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں ،وہ جسے چاہیں تباہ کردیں جسے مرضی بربادکردیں یا جس کی معیشت سنوارنا چاہیں سنواردیں۔ اقوام ٍ عالم کی قسمت کا فیصلہ کرنے والوںکو ایک نظرنہ آنے والے وائرس نے...

عبرت اور عذاب

ہر وار میں مضمر تری حکمت ہے سپاہی وجود - جمعرات 08 اکتوبر 2020

پاک فوج میں کیسے کیسے گوہر نایاب اور نازک آبگینے موجود ہیں ،اکثر کو تو ہم جان ہی نہیں پاتے کیونکہ افواج پاکستان کے ہاں تربیت کا پہلاقرینہ ہی یہ طے کیا گہاہے کہ’’ صلے اور ستائش کی تمنادل میں پالے بغیرپوری لگن اور اخلاص کے ساتھ وطن عزیز کی خدمت کیے جاؤ،یہاںتک کہ تم شہید ہوجاؤ یا پھر غازی بن جاؤ‘‘۔تربیت کے اسی سنہری اُصول کو حرز جاں بنا کر پاک فوج کے نہ جانے کتنے درخشندہ ستارے ملک و ملت کی قسمت کو جگمگا کر خاموشی کے ساتھ تہہ ا فلاک گم ہوگئے اور ہمیں خبر ہی نہ ہو سکی۔ہماری اف...

ہر وار میں مضمر تری حکمت ہے سپاہی

خلیفہ کا بیٹا وجود - جمعرات 08 اکتوبر 2020

ایک درویش اور اس کا چیلا کسی دور کے شہر میں جارہے تھے ، ایک سنسان جگہ سے گزرتے ہوئے چیلے نے درویش سے کہا ڈر لگ رہا ہے ۔درویش نے رکے بغیر کہا ڈر کو پھینک دو ۔سکون میں رہو گے ۔سچ ہے درویشی دنیا سے بے رغبتی ،لالچ، کینہ،حسد اور حرص سے بے نیازی میں پوشیدہ ہے ۔ صدیوں پہلے ایک تاجر کے گھر کی دیوار اچانک گر گئی ۔بے پردگی سے اسے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور وہ اسے دوبارہ بنوانے کے لیے کسی مزدور کی تلاش میں نکلا اور اس چوراہے پر جاپہنچا جہاں درجنوں مزدور کام کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ان م...

خلیفہ کا بیٹا

وائف آئی یا وائی فائی؟؟ وجود - بدھ 07 اکتوبر 2020

دوستو،ایک طرف اچھا وائی فائی کنکشن ہوں اور دوسری طرف آپ کے ماں باپ، تو آپ کس کو ترجیح دیں گے؟ برطانیا میں ایک تحقیقاتی سروے میں شہریوں سے یہی سوال پوچھا گیا اور اکثریت نے ایسا جواب دیا کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہانہ رہے گی۔ تحقیقاتی سروے میں کئی چیزوں کی ایک فہرست بنائی گئی تھی اور شہریوں کو انہیں اپنی پسند اور ترجیح کے لحاظ سے ترتیب دینے کو کہا گیا تھا اور حیران کن طور پر واضح اکثریت نے اچھے وائی فائی کو اپنے والدین پر فوقیت دے ڈالی۔ہاسپیٹلٹی کمپنی ’ٹریولاج یوکے‘ کے ماہری...

وائف آئی یا وائی فائی؟؟

احتسابی عمل اور سیاسی اختلاف وجود - منگل 06 اکتوبر 2020

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعدسیاسی درجہ حرارت میں غیر معمولی شدت آگئی ہے یہی وجہ ہے کہ وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف اور پارلیمان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی اختلافات محض الزام تراشیوں تک ہی محدود نہیں رہے ہیں بلکہ دونوں جانب کی قیادتیں ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لینے بھی لگی ہیں ۔حکومت اور اپوزیشن کی الزام تراشیوں میں جو ’’لب و لہجہ‘‘ اختیار کیا جارہا ہے اور جس طر ح کے’’مفہوم‘‘ بیان کیے جارہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ بد ستور یوں ہی جاری رہا...

احتسابی عمل اور سیاسی اختلاف

سعودی عرب کا اپنے شہریوں کو ’’ترک اشیاء ‘‘کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایت وجود - پیر 05 اکتوبر 2020

سعودی عرب نے ترک صدر رجب طیب اردگان کے حالیہ متنازع بیان کے بعد اپنے شہریوں کو ترک اشیا کی بائیکاٹ کی ہدایت کردی۔واضح رہے کہ ترک صدر نے کہا تھا کہ کچھ خلیجی ممالک خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں پر گامزن ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ اذلان العجلان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہماری قیادت، ہمارے ملک اور شہریوں کے خلاف ترک حکومت کی مسلسل دشمنی کے ردعمل میں ہر سعودی تاجر اور صارف ہر چیز کا بائیکاٹ کریں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ درآمد، سرمایہ ک...

سعودی عرب کا اپنے شہریوں کو ’’ترک اشیاء ‘‘کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایت

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ ،فاتح کون؟ وجود - پیر 05 اکتوبر 2020

یاد رکھیے کہ دو ملک ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی زبان میں اُسی وقت بات چیت کرتے ہیں، جب اُن کے پاس سفارتی زبان میں گفتگو کے لیے الفاظ کاذخیرہ ختم ہوجائے۔اس لیے آپ جنگ کو طاقت کی زبان بھی قرار دے سکتے ہیں۔ آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین شروع ہونے والی حالیہ جنگ بھی دونوں ملکوں کے درمیانی سفارت کاری کی موت واقع ہوجانے کے بعدہی تو شروع ہوئی ہے اور اَب یہ جنگ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک دونوں فریقین میں سے کسی ایک فریق کے پاس طاقت کی زبان کا ذخیرہ ا لفاظ مکمل طور پر ختم نہیں ہوج...

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ ،فاتح کون؟

موبائل کی اہمیت۔۔ وجود - جمعه 02 اکتوبر 2020

دوستو، کالم شروع کرنے سے پہلے ایک واقعہ سن لیں، ہمارے ایک دوست نے ایک روز ہم سے پوچھا کیا زندہ رہنے کے لیے ’’پیار‘‘ بہت ضروری ہے، جس پر ہم نے فوری جواب دیا تھا کہ، نہیں۔۔زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔۔ایک منٹ کے لیے بھی آکسیجن کی سپلائی رُک جائے تو دل،دماغ سب کچھ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور انسان مرجاتا ہے۔۔لیکن اگر موجودہ نوجوان نسل سے یہی سوال کیا جائے تو ان کا فوری جواب ہوگا۔۔ موبائل فون۔۔ جس کے بغیر ان کا ایک ایک سیکنڈ ایک ایک صدی بن جاتا ہے۔۔تو پیارے اح...

موبائل کی اہمیت۔۔

کراچی کو رہنما اور منزل دونوں چاہیے! وجود - جمعرات 01 اکتوبر 2020

کراچی میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ، شہر میں در آنے والے پانی کے ہلاکت خیز سیلابی ریلوں کے اُترجانے کے بعد ’’حقوق کراچی مارچ ‘‘ کی صورت میں اچانک سے اُمڈ آنے والا عوام کا سیلاب ،اگر کوئی سمجھنا چاہے تو کراچی کے بدلتے ہوئے سیاسی تیور کی جانب ایک واضح اشارہ فراہم کرتا ہے کہ اہلیان شہر اپنے حکمرانوں کے خلاف احتجاج کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں ۔بظاہر’’ حقوق کراچی مارچ‘‘ جماعت اسلامی کے سیاسی پلیٹ فارم کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔لیکن جس طرح سے کراچی کے عوام نے تمام سیاسی و...

کراچی کو رہنما اور منزل دونوں چاہیے!

چہرے پہ یقیں کا نور نہیں وجود - بدھ 30 ستمبر 2020

سیاست موقع کا کھیل ہے، مگر سیاست دانوں نے اسے موقع پرستی کاکھیل بنادیا ۔ موقع بہ موقع اپنے لیے راستے کشادہ کرنا کوئی بُری بات نہیں، مگر موقع بہ موقع اپنا اُلو سیدھا کرنا ہرگز درست نہیں۔ میاں نوازشریف گزشتہ چار دہائیوں سے سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ دوپہر کو سیر ہو کر کھانے کے بعد لسی گھٹکانے کے شوقین کو کچھ دانشور، سیاست دان سے زیادہ مدبر سمجھنے لگے ہیں۔ یہاں ’’دانش‘‘ کورونا وباکی طرح چُھوتی بیماری ہے۔ مگر نوازشریف کے مقامِ مدبری کو ایسے ہی فروغ نہیں ملا، اس میں دستر خوانی قبیلے...

چہرے پہ یقیں کا نور نہیں

تنظیم سازی کے رہنما اصول۔۔ وجود - بدھ 30 ستمبر 2020

دوستو،یہ تو آپ کے علم میں ہوگا ہی کہ نون لیگی رہنما طلال چودھری تشدد کا شکار بنے، جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگے، رات تین بجے تنظیم سازی کے لئے بلوایا تھا، جس کے بعد پھینٹی پڑگئی۔۔ اس حوالے سے بہت سی کہانیاں بھی مختلف اطراف سے سامنے آرہی ہیں لیکن ہمارے خیال میں یہ سب ’’چسکے بازی‘‘ ہے۔۔ ہر بندہ اپنی پسند کی کہانی لکھ کریہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ اصل کہانی صرف اسے ہی معلوم ہے۔۔باباجی نے دوران بیٹھک خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لفظ ’’تنظیم سازی‘‘ جلد تمام سیاسی جماعتوں کے لئے...

تنظیم سازی کے رہنما اصول۔۔

پبلک سروس کالم۔۔ وجود - اتوار 27 ستمبر 2020

دوستو،اکثر احباب شکایت کرتے ہیں کہ حالات حاضرہ پر نہیں لکھتے، ہم تو شروع دن سے ہی دعوے دار ہیں کہ ہم غیرسیاسی کالم لکھتے ہیں۔۔ اس کے باوجود کہیں نہ کہیں ’’تڑکا‘‘ لگادیتے ہیں ۔۔حالات حاضرہ پر لکھنا کوئی مشکل کام نہیں، لیکن ’’حالات‘‘ آپ کے سامنے ہیں، جس طرح کے حالات چل رہے ہیں اس کے لیے سنجیدگی بہت ضروری ہے اور ہم ٹھہرے مکمل غیرسنجیدہ انسان۔۔ عاطف اسلم کا مشہور گانا ہے کہ ۔۔ہم کس گلی جارہے ہیں؟؟ جب ہمارے پیارے دوست یہ گانا گنگناتے تھے تو ان کی گود میں موجود ان کا بیٹا’’عرشو‘‘ ...

پبلک سروس کالم۔۔

نسلی یا فصلی؟؟ وجود - جمعه 25 ستمبر 2020

دوستو، بات ہورہی ہے نسلی اور فصلی کی۔۔ ان دونوں کے درمیان کافی فرق ہوتا ہے۔۔ نسلی انسان یا کوئی بھی جاندار اس کی اپنی ایک ’’ویلیو‘‘ ہوتی ہے جب کہ فصلی انسان ہو یا کوئی بھی جاندار، اس کا کوئی دین ، ایمان نہیں ہوتا، وہ ہوا کی لہروں سے ڈولتا رہتا ہے۔۔شدید قسم کا مفاد پرست ہوتا ہے، کمرشل ذہنیت والے ’’ فصلی‘‘ صرف وہی کام کرتے ہیں جس میں انہیں کوئی فائدہ ہورہا ہو۔۔ نسلی اور فصلی کے درمیان اور بھی کئی تضادات ہیں،چلئے پھر آج کی اوٹ پٹانگ باتیں شروع کرتے ہیں۔۔ خواتین پر تشدد کے حوال...

نسلی یا فصلی؟؟

سیاسی بیگانگی وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

ہم سات دہائیوں سے سماجی و معاشی ترقی کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایسی کسی ترقی کے لیے خود کو کبھی تیار بھی نہیں کرسکے ہیں تو پھر ایسے میں کیا کیا جائے کہ ہم ترقی کے لیے خود کو تیار کرسکیں ۔پہلے پہل تو ایسی وجوہات کی نشاندہی ہونی چاہئے جو ہمیں ترقی کی طرف بڑھنے سے روکے ہوئے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ تو ملکی سیاست میں ’’عدم توازن‘‘ کا ہونا ہے یعنی سیاسی عمل’’ رسہ کشی‘‘ کا شکار ہے اور یہی رسہ کشی نہ ہی ہمیں آگے بڑھنے دیتی ہے اور نہ ہی غلطیاں سدھا...

سیاسی بیگانگی