وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
چوہے مارگولیاں وجود - پیر 12 اپریل 2021

آدھی رات کا وقت تھا لوگ گھروںمیں آرام کررہے تھے ،ماحول پرایک ہو کا عالم طاری تھا، اندھیرااتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہاتھا بیشتر گھروں میں تاریکی تھی ،غالباً زیادہ تر لوگ سو گئے تھے، اکا دکا گھروںمیں زردی مائل روشنی بکھری ہوئی تھی ۔اس عالم میں ایک باوقار شخص ،نورانی صورت ،چہرے پر سختی نمایاں، شکل و صورت ایسی کہ انہیں دیکھ کر ایمان تازہ ہو جائے ،وہ مختلف گلیوں اور بازاروںسے ہوتے ہی ایک مکان کے آگے رک گئے۔ روشندان سے باہر جھانکتی روشنی سے محسوس ہورہاتھا کہ دیا ٹمٹما ر...

چوہے مارگولیاں

امریکا اور پاکستان کے تعلقات کا مستقبل وجود - پیر 12 اپریل 2021

کیا امریکا کا پاکستان کے ساتھ برسوں پرانا ’’سفارتی معاشقہ ‘‘ اپنے اختتام کو پہنچا؟ اور امریکا نے پاکستان کے ساتھ مکمل ’’سفارتی قطع تعلقی‘‘ اختیار کرتے ہوئے بھارت کو اپنا نیا ’’سفارتی محبوب ‘‘ بنانے کا حتمی فیصلہ کرلیاہے؟ہوسکتاہے اِن سوالات کے جوابات امریکا کے لیے اہم نہ ہوں لیکن ہم پاکستانیوں کے نزدیک امریکا اور پاکستان کے مابین قدیمی معاشقہ کی تازہ ترین حقیقت جاننا اِس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم نے کئی دہائیاں امریکا کے ساتھ محبت اور عشق کی پینگیں بڑھاتے ہوئے گزار دی ہیں ۔ برسوں...

امریکا اور پاکستان کے تعلقات کا مستقبل

آخری سن ڈے۔۔ وجود - اتوار 11 اپریل 2021

دوستو،رمضان المبارک کی آمد سے قبل یہ آخری سنڈے ہے، اس کے بعد شیطان اگلا سنڈے نہیں دیکھ پائے گا اور پورے ایک ماہ قید رہے گا، لیکن الحمد للہ، وہ ہمیں گیارہ ماہ کے دوران اتنا کچھ سکھا جاتا ہے کہ رمضان میں بھی ہم نہیں سدھر پاتے، پھر چاندرات سے شیطان کھل جاتا ہے تو پہلے سے زیادہ انرجی ،حوصلے اور ولولے کے ساتھ اپنے ’’شاگردوں‘‘ کی تربیت شروع کردیتا ہے، کیوں کہ اسے علم ہوتا ہے کہ انہیں گیارہ ماہ تک اس طرح کی ٹریننگ دینی ہے کہ اگلے رمضان المبارک میں پھر توبہ نہ کرسکیں۔۔یہ سلسلہ برس ...

آخری سن ڈے۔۔

میں بھی توانسان ہوں وجود - اتوار 11 اپریل 2021

شیخ سعدیؒ ایک شہرسے دوسرے شہر چلے جارہے تھے غربت کے عالم میں کوئی زاد ِ راہ بھی نہ تھا شدت کی گرمی اوپرسے پائوںمیں جوتا تک نہ تھا، جانابھی ضروری دور دورتک کوئی سایہ تھا نہ جائے پناہ۔ ریت کے ٹیلے عبور کرتے کرتے پائوں میں چھالے پڑگئے انہوںنے اللہ تعالیٰ سے گلہ شکوہ شروع کردیا وہ جتنی دیرمسافت میں تھے انہوںنے اللہ کے حضورشکایات کے دفتر لگادئیے ایک آبادی کے آثارنظر آئے توانہوںنے مسجدکا رخ گیا نمازپڑھتے ہوئے ان کے پائوںکے چھالو ںسے پانی رسنے لگا تودردسے براحال ہوگیا دعا کے دورا...

میں بھی توانسان ہوں

فرانس میں مذہبی پابندی وجود - اتوار 11 اپریل 2021

(مہمان کالم) نوری مٹسی اونیشی اس دن درجہ حرارت نقطہ انجماد تک پہنچا ہوا تھا اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے سینکڑوں مسلمان ایک سابق سلاٹر ہائوس میں جمع تھے۔ وہاں پہلے ہی عوام کا ہجوم تھا اور لائوڈ ا سپیکر پر امام صاحب کی آواز سنتے ہی سینکڑوں افراد نے اپنے اپنے جائے نماز کھولے اور اسفالٹ کے بنے ہوئے فرش پر بچھا دیے۔ مغربی فرانس کے شہر اینگرز میں واقع یہ سابق سلاٹر ہائوس فرانس کے مسلمانوں کے لیے پچھلے اکیس سال سے ایک مسجد کا کام دے رہا ہے۔ گزشتہ موسم خزاں میں ایک مستقل ...

فرانس میں مذہبی پابندی

کربلاکے مسافر وجود - هفته 10 اپریل 2021

سوچتاتواکثرتھامگراب کی بار یہ احساس شدت اختیارکرگیاتو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے دل مضطرب اور روح بے چین ہوگئی آنکھیں جیسے ساون بھادوں بن گئیں سینے سے ایک ہوک سی اٹھنے لگی کہ کاش میں بھی اس زمانے میں ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا اے کاش میں بھی دیارکربلا کا مسافرہوتا اس دشت کی آبلہ پائی مقدرہوتی تو میرا مقدرجاگ اٹھتا اگر ایسا ہوتا کہ میں قافلہ ٔ حسینؓ کے تقش ِ پاپر چلتا چلتا کربل کے تپتے صحرا میں پہنچتا دیوانہ وار نعرہ ٔ حق بلندکرتے ہوئے یزیدی لشکرسے ٹکراجاتا جسم کی تکہ بوٹی بھی ہو...

کربلاکے مسافر

پاک روس خوشگوارتعلقات وجود - هفته 10 اپریل 2021

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف کے دورہ پاکستان کے حوالے سے اسلام آباد اور ماسکو دونوں پُرجوش ہیں روسی وزارتِ خارجہ نے پریس بریفنگ پاکستان کو خارجہ پالیسی میں ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور اِس کے اِداروں میں دونوں ممالک کے مفید اور ثمر آور روابط ہیں شاہ محمود قریشی نے بھی اِس دورے کو دوطرفہ تعلقات کا نیا رُخ کہتے ہوئے واضح کیا ہے بتدریج وسعت اختیار کرتی قرابت داری ہمارے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے مگر دونوں طر ف کے اچھے خیالات زمینی حقائق سے میل نہیں...

پاک روس خوشگوارتعلقات

تبدیلی آئی رے۔۔ وجود - هفته 10 اپریل 2021

دوستو، کالم کے عنوان سے آپ کو لگا ہوگا کہ یہ تحریک انصاف سے متعلق ہوگا کیوں کہ برسراقتدار آنے سے پہلے پی ٹی آئی کا نعرہ مستانہ۔۔ تبدیلی آئی رے ۔۔ رہا، اب بھی موقع بے موقع تبدیلی،تبدیلی کا راگ الاپا جاتا ہے لیکن عوام سب جانتے اور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ۔۔کیسی تبدیلی آئی ہے؟؟ جہاں گھبرانے تک کی اجازت نہیں ہے۔ہمارے کالم کی ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ یہ مکمل غیرسیاسی ہوتا ہے، اس لیے تمام یوتھیئے خوشیاں منائیں ، یہ کالم ان پر نہیں ہے، بلکہ ہم عالمی اور ملکی تبدیلیوں کا ہلکاپ...

تبدیلی آئی رے۔۔

اور سبھی جیت گئے وجود - هفته 10 اپریل 2021

رنگ صحرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راناخالد قمر حکومت اوراس کو لانے والی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کی جماعتوں کے درمیان جاری میچ شروع میں تو یک طرفہ دکھائی دیتاتھا۔ نوازشریف کی مجھے کیوں نکالا سے ووٹ کوعزت دو تک کی مہم بھی خاطرخواہ نتائج دکھانے میں کامیاب نہ ہوئی توشہبازشریف کوآگے لایاگیا۔نوازشریف اپنی بیٹی مریم نواز سمیت جیل چلے گئے اس دوران پارٹی کی کمان میاں شہبازشریف کے ہاتھ میں رہی وہ اپنی ''طرز''کی سیاست کرتے رہے ان کے کسی فیصلے کو پارٹی یاخاندانی سطح پرکسی جگہ چیلنج نہ کیاگیا۔وہ قومی...

اور سبھی جیت گئے

خواہشات کی غلامی وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

درویش کے گرد حسب ِ معمول لوگوںکا ہجوم تھا ہر عمر کے افراد ہمہ تن گوش حکمت ودانش بھری باتیں سن کر سرہلارہے تھے ۔ ایک شخص نے دوسرے کے کان میں سرگوشی کی ۔یہ درویش بھی کیا خوب ہوتے ہیں باتوں باتوںمیں معرفت کی ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتاہے۔۔دوسرے نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا ہونٹوںپر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کی تنبیہ کی اور اشارے سے ادھر متوجہ ہونے کو کہا۔ درویش اپنی دھن میں کہہ رہا تھا ۔خواہشیںپالتے رہنا کوئی برائی نہیں لیکن اپنے آپ کو خواہشات کا غلام بنا لینا...

خواہشات کی غلامی

کورونا وائرس کی واپسی وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

  کورونا وائرس کی پاکستان میں تیسری لہر کی ہلاکت خیزی آخری حدوں کو چھورہی ہے لیکن ہم پاکستانی ابھی تک بدستور اپنی اُسی پرانی لہر میں ہیں کہ ’’کورونا وائرس سے ڈرنا نہیں لڑناہے‘‘۔لطیفہ ملاحظہ ہوکہ جب کورونا وائرس کی پہلی لہر آئی تھی تو ہم اس موذی وائرس سے ڈر،ڈر کر اور چھپ چھپ کر لڑ رہے تھے ،دوسری لہر میں ہماری جھجھک کچھ کم ہوئی تو ہم نے کورونا کے بالکل عین سامنے آکر لڑنا شروع کردیا تھا لیکن اَب ماشاء اللہ سے ہم کورونا وائرس کی تیسری لہر سے خم ٹھونک کر دوبدو ، پنجہ سے...

کورونا وائرس کی واپسی

ملازمین کا دھرنا ،حکومت نظر انداز نہ کرے وجود - بدھ 07 اپریل 2021

بلوچستان حکومت کو 29مارچ سے جاری سرکاری ملازمین کے دھرنے کی وجہ سے گمبھیر صورتحال کا سامنا ہے۔ چالیس سے زائد سرکاری محکموں کی ملازم تنظیموں پر مشتمل گرینڈ الائنس کے تحت مرد و خواتین ملازمین نے وزیراعلیٰ ہائوس کے قریب ہاکی چوک پر یعنی ریڈ زون پر دھرنا دے رکھا ہے۔ احتجاج میں اسکول و کالج اساتذہ، لیکچرار،پروفیسرز، کلرک، پیرامیڈیکس، ڈاکٹرز،سول سیکریٹریٹ کے اہلکار و افسران سمیت تعلیم، صحت، زراعت سمیت تقریباً سبھی صوبائی محکموں کے درجہ چہارم سے گریڈ 19تک کے ملازم افسران شریک ہیں ۔ ...

ملازمین کا دھرنا ،حکومت نظر انداز نہ کرے

کوروناکی موت وجود - بدھ 07 اپریل 2021

دوستو، کورونا وائرس کی تیسری لہر نے ماحول کو ’’لیروں لیر‘‘ کرنا شروع کردیا ہے۔۔ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹرینیں، بازار، تعلیمی اداروں سمیت سب کچھ متاثر ہورہا ہے اور نت نئی پابندیاں سامنے آرہی ہیں۔۔غریب اور مڈل کلاس طبقہ کو جھولیاں اٹھااٹھاکر کوروناکوبددعائیں دے رہا ہے۔۔ ماہرین کی ایک عالمی تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ دھوپ سے کورونا وائرس کا خاتمہ ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 8 گنا زیادہ تیزی سے ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ گزشتہ سال دو الگ الگ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ دھوپ میں شا...

کوروناکی موت

علاقائی طاقت کے حالات وجود - بدھ 07 اپریل 2021

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں مائونواز باغیوںنے فورسزپر پہلی بار حملہ نہیں کیابلکہ یہاں فورسز پر حملے اورجانی نقصان معمول ہے لیکن تین اپریل جیسا بڑا حملہ آٹھ برس کے وقفے کے بعد ہوا ہے 2010 میں موجودہ حملہ آور گروپ نے 76سیکورٹی اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اُتاراجبکہ 2013کے دوران کانگرس کے محو سفر قافلے پر حملہ کیا اور پوری ریاستی قیادت مارڈالی مغربی بنگال کی تحصیل نکسل کی مناسبت سے مائوزنوازمسلح تحریک کو نکسل باٖغی بھی کہا جاتا ہے یہ لوگ خود کو ہندوقوم سے الگ سمجھتے ہیں لیکن...

علاقائی طاقت کے حالات

فیصلہ اٹل ہے وجود - منگل 06 اپریل 2021

فیصلہ ہوچکا کوئی تسلیم کرے نہ کرے اس کی مرضی ۔خدا اس وقت تک اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک خود اس کو اپنی حالت بدلنے کا احساس نہ ہو ،اب دنیا بھرکے ا سکالر، دانشور،مذہبی سیاسی رہنما ڈھنڈورا پیٹتے پھریں لاکھ دلیلیں دیں کوئی فرق نہیں پڑتا فیصلہ اٹل ہے۔درویش نے عقیدت مندوںکی طرف محبت سے دیکھا ،ان کے چہرے پر تبسم تھا انہوںنے کہا تبدیلی انسان کے اندر سے آتی ہے ،اب تو یہ چلن عام ہے کہ ہم خود کو درست قراردیتے ہیں اپنے ہر فعل کو درست سمجھنے لگے ہیں یعنی خود تبدیل نہیں ہونا چاہتے ،خو...

فیصلہ اٹل ہے

کیا طالبان جیت چکے ہیں ؟ وجود - منگل 06 اپریل 2021

(مہمان کالم) ایڈم نوسیٹر طالبان میں پایاجانے والا احساسِ تفاخر بے جا نہیں ہے۔ان کے ڈپٹی کمانڈر کی جارحانہ تقریر جس میں اس نے اپنی فتح کا دعویٰ کرنے کے ساتھ غیر ملکی ا?قائوںپر طنز بھی کیا ہے‘ سے لے کر طالبان کی ویب سائٹ پر افغان حکومت کو ناجائز قرار دیا جا رہا ہے۔’’ہم یہ جنگ پہلے ہی جیت چکے ہیں ‘‘اور ان کا یقین جس کی جڑیں عسکری اور سیاسی حقائق میں پیوست ہیں افغانستان کے نازک حال کی عکاسی کر رہا ہے۔افغانستان کے مستقبل پر اسی مہینے ترکی میں ہونے والے مذاکرات میں ہاتھی کمرے...

کیا طالبان جیت چکے ہیں ؟

سچ سے خوف وجود - پیر 05 اپریل 2021

کوئی مانے، نہ مانے،بہانے تلاش کرے،لاکھ عذر تراشے، الفاظ کے گورکھ دھندے میں الجھاکررکھ دے یا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے کا ہنر جانتاہویا پھر واقعات کے سیاق وسباق بدلنے پر قادرہو اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ سچ ایک بہت بڑی قوت ہے سچائی کو وقتی طورپر دبایا جا سکتاہے لیکن دوام اسی کو حاصل ہے یہ الگ بات کہ دنیا دار کاغذکے پھولوں سے خوشبو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ سقراط نے اپنے ہاتھوں زہرکا پیالہ پی لیا، عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا نبی ٔ اکرم ﷺکے دندان مبارک شہید کردئیے گئے،کہ...

سچ سے خوف

شاہد حمید ، کبھی ہر کتاب کا سرِ ورق تھا ،اَب پسِ ورق ہوا وجود - پیر 05 اپریل 2021

عام طور پر قارئین ہر اچھی تحریر کو پسند کرتے ہیں ،خوب صورت کتاب کو محبت سے اپنے پاس رکھتے ہیں اور اپنے پسندیدہ مصنف کی عقیدت میں مبتلا ہونے پر اعلانیہ فخرو مباہت کا دل کی اتہاہ گہرائیوں سے اظہار کرتے ہیں ۔جبکہ کتاب چھاپنے والے پبلشر سے قارئین کی اکثریت ،تمام زندگی اجنبی ہی رہتی ہے۔ دراصل کتاب کے رسیا و شائق ہمیشہ سے اِس مشہور ِ زمانہ مقولہ پر عمل پیرا رہے ہیں کہ ’’ہمیں آم کھانے سے مطلب ہے ،پیٹر گننے سے نہیں ‘‘۔بلکہ بعض اوقات تو قارئین کتاب کی اشاعت ، قیمت اور معیار کو لے کر ...

شاہد حمید ، کبھی ہر کتاب کا سرِ ورق تھا ،اَب پسِ ورق ہوا

آزادیٗء ہند میں آر ایس ایس کا کردار اور اصل حقیقت وجود - پیر 05 اپریل 2021

(مہمان کالم) رام پنیانی برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے بارے میں اکثر و بیشتر عوام میں باتیں ہوتی رہتی ہیں، اس کے مختلف اقدامات سے متعلق بحث و مباحث بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس کی قبیل کی مختلف تنظیمیں اس بات کی کوشش کررہی ہیں کہ عوام کے سامنے یہ ثابت کیا جائے کہ جدوجہدِ آزادی ہند میں آر ایس ایس نے اہم کردار ادا کیا ہے، حالانکہ تحریک آزادی میں آر ایس ایس کا کوئی رول نہیں رہا۔ یہ سارا ہندوستان جانتا ہے۔ آر ایس ایس کے ایک نظریہ ساز راکیش...

آزادیٗء ہند میں آر ایس ایس کا کردار اور اصل حقیقت

ٹیلنٹ کاقتل وجود - اتوار 04 اپریل 2021

کئی دن تمام ہوئے طبیعت لکھنے لکھانے کی طرف مائل ہی نہیں ہورہی ایک جمود سا طاری ہے عجیب سی وحشت۔۔سکون نام کو نہیں اضطراب ہی اضطراب ۔۔حالانکہ انشاء جی نے تو یہ کہا تھا وحشی کو سکون سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا لیکن ہم جوگی ہیں نہ وحشی۔۔۔پھردل میں اس حد تک اضطراب کیسا؟ ۔۔۔سکون کیوں نہیں؟ شایدمزاج میں حساسیت بڑھ گئی ہے یا کچھ اور عوامل۔۔۔ عرصہ ہوا ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا کئی خبروں کی سنسنی اور ظلم کی داستانیں سن اور دیکھ کر نروس بریک ڈائون ہو جا تاہے تو اہلیہ کہتی ہیں ...

ٹیلنٹ کاقتل

جھٹ منگنی، پٹ طلاق وجود - اتوار 04 اپریل 2021

دوستو،جھٹ منگنی پٹ بیاہ،یہ کہاوت تو بہت سنی ہوگی لیکن کویت میں شادی کے فوری بعد طلاق کے واقعے نے اس کہاوت کو کچھ اس طرح تبدیل کردیا ہے کہ جھٹ شادی پٹ طلاق۔کویت میں نئے نویلے شادی شدہ جوڑے کی تین منٹ بعد ہی شادی ختم ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق کویتی جوڑے نے جج کے سامنے شادی کے کاغذات پر دستخط کیے، کورٹ سے واپس نکلتے ہوئے دلہن لڑکھڑائی تو دلہا نے اسے بے وقوف کہہ دیا۔بس پھر کیا تھا دلہن واپس مْڑی اور جج صاحب سے کہہ کر فوراً شادی ختم کرادی۔تین منٹ کی اس شادی کو کویتی تاریخ کی سب سے کم م...

جھٹ منگنی، پٹ طلاق

اورضمانت ضبط ہوگئی۔۔۔ وجود - اتوار 04 اپریل 2021

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کوتشکیل دیئے ابھی کچھ ہی وقت گزارتھاکہ ن لیگ کی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں یہ خدشہ ظاہر کیاگیا کہ پیپلزپارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی اس اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ماہ نومبر2020 کوان خدشات بارے ن لیگ کے قائدمیاں نوازشریف کوآگاہ کر دیا گیا تھا جس پر انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے بات کی اورانہیں ن لیگ کی تشویش بارے بتایا لیکن مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آصف علی زرداری جس قسم کے حالات سے دوچارہیں وہ ایسا کچھ کرہی نہیں سکتے اس لئے آپ بے فکرہوجائیں مولان...

اورضمانت ضبط ہوگئی۔۔۔

وطن دشمنی کا جھوٹا الزام اور بیس سالہ اذیت وجود - اتوار 04 اپریل 2021

(مہمان کالم) معصوم مرادآبادی گجرات کی ایک عدالت نے حال ہی میں ان 122 مسلمانوں کو باعزت بری کردیا ہے، جنھیں اب سے بیس سال پہلے وطن دشمنی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون(یو اے پی اے)کے تحت گرفتار کیے گئے ان لوگوں کو دس مہینے جیل میں بھی گزارنے پڑے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد انھیں ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تھی، لیکن بیس سال کا یہ عرصہ ان لوگوں نے سخت ذہنی اذیت، کرب اور پریشانی میں گزارا۔ سہارنپور کے 85 سالہ باشندے مولانا عطاء الرح...

وطن دشمنی کا جھوٹا الزام اور بیس سالہ اذیت

کوروناکاعلاج کیسے ممکن ہے وجود - هفته 03 اپریل 2021

دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد دنیا کو جس خوفناک وباء کا سامناکرناپڑرہاہے اس سے کرہ ٔ ارض کا شاید ہی کوئی ملک محفو ظ رہا ہوں کورونا وائرس کے نتیجے میں دنیابھرمیں لاک ڈائون کا سلسلہ درازہے ،ایک طرف جہاں ہیوی ویٹ معیشت کا حجم رکھنے والے ترقی یافتہ ممالک ایک نظر نہ آنے والے وائرس کے سامنے ڈھیرہوگئے ہیں وہاں دنیا کے غریب ممالک انتہائی متاثرہوئے ہیں یہاں کے حکمران کہاجاسکتاہے کہ بہت زیادہ مشکل میں ہیں ایک طرف وہ اپنے شہریوںکو اس چھوت کے مرض سے بچانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور دوسری طرف...

کوروناکاعلاج کیسے ممکن ہے