وجود

... loading ...

وجود
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود - جمعه 20 مارچ 2026

ب نقاب ۔۔۔۔۔ ایم آر ملک ہمارے زمانے کی نمایاں تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک اوسط درجے کی روح اور معمولی ذہن رکھنے والا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اوسط ہے، اتنی جرأت رکھتا ہے کہ اپنی اوسطیت کے حق کا دعویٰ کرتا ہے اور جہاں موقع ملے خود کو دوسروں پر مسلط کرنے لگتا ہے۔"یہ الفاظ ٹرمپ پر پورا اُترتے ہیں ۔ ٹیپو سلطان اور بنگال ...

ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود - جمعه 20 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری امریکی کمیشن کی رپورٹ میں پہلی مرتبہ بعض بھارتی تنظیموں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ آر ایس ایس اور را جیسے اداروں کے خلاف پابندیوں پر غور کیا جائے، جن میں اثاثے منجمد کرنے اور امریکا میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہو س...

''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود - جمعه 20 مارچ 2026

افتخار گیلانی ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے ، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ا...

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود - جمعرات 19 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر چاہ بہار پورٹ نہ صرف ایران بلکہ بھارت اور افغانستان کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت کے لیے ایران، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی تجارتی منڈیوں تک رسائی میں جغرافیائی اعتبار سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں تک تمام زمینی ...

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود - جمعرات 19 مارچ 2026

حمید اللہ بھٹی ایران پر حملوں کو عالمی تائید حاصل نہیں ہو سکی جوکہ بہت حیران کُن ہے ,دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل کا ذریعہ آبنائے ہُرمز کی بندش نے متاثرہ ممالک کو پریشان کردیا ہے ،یہ ٹھیک ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ایران باوجودکوشش تگڑا جواب نہیں دے سکا ،جس کی وجہ فضائیہ اور...

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری ہم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف سرحدی جھڑپوں، مہاجرین اور ٹی ٹی پی تک محدود سمجھ رہے ہیں لیکن یہ محض مسائل کی بالائی سطح ہے۔ آئی سی جی کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا، ''طالبان اعلانیہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلق سے انکار کرتے ہیں لیکن پردے کے...

پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ڈاکٹر سلیم خان وزیر اعظم نریندر مودی ایک زمانے میں اپنی فقرے بازی کے لیے مشہور تھے مثلاً''دو مئی دیدی گئی'' جیسے بے شمار نعرے خوب چلا کرتے تھے لیکن اب وہ خودفقرے بازی کا شکار ہورہے ہیں ۔ آئے دن ان پر کسے جانے والے طعنوں تشنوں کا طوفان آیا ہوا ہے ۔ اے آئی (جعلی ذہانت) کی مدد سے...

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود - منگل 17 مارچ 2026

بے لگام / ستارچوہدری تین سو پچاس ارب ڈالر کہاں گئے ۔۔۔؟ یہ شاہانہ طیارے ، بچوں کے ہنی مون، یہ بیرون ملک فلیٹ، یہ آف شور کمپنیاں، یہ سیر و سیاحت کے لمبے سرکاری قافلے ، ، یہ محلات، یہ فارم ہاؤس، یہ لندن اور دبئی کی جائیدادیں، آخر یہ سب آیا کہاں سے ۔۔۔۔؟ اور اگر یہ سب عوام کی دول...

کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود - منگل 17 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کیا، اِس کا ردِعمل سرحدی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے تھا اور پاکستان اپنی پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے گا۔ افغانستان ...

پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود - پیر 16 مارچ 2026

اونچ نیچ ۔۔۔ آفتاب احمد خانزادہ   پچھلے 77سالوں سے یہ سوال ہمیں وحشیانہ انداز میں تنگ کررہا ہے کہ پاکستان کیوں ایک خو شحال ریاست نہیں بن پا رہا ہے۔ ریاست کب خوشحال ہوتی ہے ؟ آئیں اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ریاست کی خوشحالی محض معاشی اعداد و شمار ، عمارتو...

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود - پیر 16 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری منی پور میںتازہ جھڑپوں اور احتجاج نے ریاست کو نئے بحران میں دھکیل دیاہے۔ 5 اور 6 فروری کو سیاسی تبدیلی کے بعد مظاہروں نے تشدد اور جھڑپوں کی شکل اختیار کر لی۔ کوکی قبائل نے اکثریتی ضلع میں امپھال چورا چند پور روڈ بند کرکے احتجاج کیا۔سکیورٹی فورسز نے سیدھی گولیاں...

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود - پیر 16 مارچ 2026

محمد آصف انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ عورت انسانی معاشرے کی بنیاد اور تہذیب کی روح ہے ۔ شاعرِ مشرق کا مشہور شعر ''وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ''دراصل اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ عورت کے بغیر زندگی کا تصور ادھورا ہے ۔ کائنات کی خوبص...

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود - اتوار 15 مارچ 2026

افتخار گیلانی زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کا زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساؤتھ کی لیڈرشپ...

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود - اتوار 15 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت مسلم ثقافت، مذہبی ورثے اور تاریخی شناخت کو نشانہ بنانے کی منظم مہم پر گامزن ہے۔ مودی سرکار کی یہ پالیسیاں بھارت کو ''ہندو راشٹر'' میں تبدیل کرنے کے انتہاء پسندانہ ایجنڈے کی عکاس ہیں۔مودی حکومت کے تح...

مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود - اتوار 15 مارچ 2026

منظر نامہ پروفیسر شاداب احمد صدیقی عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر غیر معمولی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت، وسیع توانائی ذخائر، مذہبی اور تہذیبی اثرات، اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی نے اسے ہمیشہ بین الاقوامی سیاست کا ایک اہم محو...

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود - اتوار 15 مارچ 2026

حمیداللہ بھٹی کسی طرف سے حملہ نہ ہونے کے باوجوداسرائیل کئی دہائیوں سے حالت ِجنگ میں ہے۔ یہ دنیاکاواحد ملک ہے جو ہمسایہ ممالک پرنہ صرف حملے کرتا ہے بلکہ دوردراز ممالک یمن اور قطر کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔ حملوں کی وجہ دفاعی طاقت ،جوہری ہتھیار اور امریکی سرپرستی حاصل ہونا ہے۔ ی...

اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود - هفته 14 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ"دی اکانومسٹ " نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھا...

بھارتی معیشت زوال پزیر

انسانیت کا سوال وجود - هفته 14 مارچ 2026

بے لگام / ستارچوہدری جنگ میں اصل شکست فوج کی نہیں ہوتی، اصل شکست انسانیت کی ہوتی ہے ۔۔۔گاندھی نے کہا تھا !! جنگیں اس دن ختم ہوجائیں گی جب جنگوں میں حکمرانوں کے بھی بچے مرنے لگیں گے ۔۔۔۔ ایسے ہی فرانسیسی فلسفی جین پاؤل کا قول ہے !! جب امیر جنگ چھیڑتے ہیں تو غریب مرتے ہیں ۔۔۔ سا...

انسانیت کا سوال

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے وجود - هفته 14 مارچ 2026

ب نقاب /ایم آر ملک ۔۔۔۔۔۔۔ ایران کی طرح ویت نام میں امریکی انسانی خون سے ہولی کھیل رہے تھے! معروف ناول نگار جون سٹائن بیک جسے 1962 میں ادب کا نوبل انعام ملا، ان دنوں جنوبی ویت نام میں تھے جبکہ بلغاریہ کی شاعرہ ''بلا گامتر و وا ''شمالی ویت نام میں تھیں دونوں کے درمیان ایک عر...

امریکی مائوں کے قاتل بیٹے

امریکا ہار جائے گا! وجود - جمعه 13 مارچ 2026

بے لگام / ستار چوہدری کیا آپ نے کبھی کسی شخص کا نام سن تزو سنا ہے ۔۔۔؟ اگر نہیں سنا تو آئیے ، میں آپ کو اس شخصیت سے متعارف کراتا ہوں ۔۔۔ یہ آج سے تقریباً پچیس سو سال پہلے ، یعنی پانچویں صدی قبل مسیح کا زمانہ تھا۔ چین کے ایک سپہ سالار اور مفکر '' سن تزو '' نے ایک ایسی کتاب تحری...

امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود - جمعه 13 مارچ 2026

منظر نامہ پروفیسر شاداب احمد صدیقی   عالمی سیاست کے منظرنامے میں ایران ایک ایسا ملک ہے جو اپنی جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی اہمیت کی وجہ سے مستقل توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ کے دل میں واقع یہ ملک نہ صرف خطے کی طاقتور ریاستوں کے لیے بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل کے...

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود - جمعه 13 مارچ 2026

محمد آصف مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نہایت حساس اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی خبریں اور تجزیے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی محض چند ممالک کے درمیان محدود جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی ایک بڑی سیاسی بساط کا حصہ بن سکتی ہے ...

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود - جمعه 13 مارچ 2026

ریاض احمدچودھری بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق بعض بھارتی مسلمانوں کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر سوگ منانے کے عمل کو ہندو انتہا پسند عناصر نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انتہا پسند ہندو حلقے موجودہ صورتحال میں تمام بھارتی مسلمانوں کو غدار اور بے حس ثابت کرنے کی کو...

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

حاصل مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ عبد الرحیم پاکستانمیںاعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ برسوں میں تمام انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں اے آئی پر تین گھنٹے کا کورس لازمی ہوگا۔ اس کے پیچھے عقلی جواز سیدھا سادہ ہے۔ اے آئی 21 ویں صدی کی کایاپلٹ قوت ہے، اور ہر طالب علم کو اس سے اچھی واقفیت...

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر