وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
بخشش کابہانہ وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

اس نے اپنی تنی گردن بمشکل ہلاتے ہوئے سرکو جنبش دی ،میں کچھ نہیں کرسکتا اور میزپر فائلوںمیں مگن ہوگیا،وہ ایک بڑے ادارے کا با اختیار افسر تھا چھوٹے موٹے مسئلے مسائل چٹکی بجاتے ہی حل کرنے پر قادر تھا ہم اس کے پاس ایک واقف کار کے کام آئے تھے مسئلہ اتنا بڑا تو نہ تھا کام بھی جائز ۔۔اس کے دفترکے ایک غریب ملازم کو تھوڑی سی ’’فیور‘‘ دلانا مقصود تھا بے چارے کی ماں کی بیماری تھی بغیراطلاع چند دن دفتر نہ آنے اور کبھی کبھار لیٹ آنے پر شوکاز نوٹس ۔۔۔پھر جواب سے مطمئن نہ ہونے پر تادیبی ...

بخشش کابہانہ

سیاسی و انتظامی مفاہمت کا ’’کالاجادو‘‘ وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

پاکستان پیپلزپارٹی کافی عرصہ سے یہ دعوی کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ’’انہوں نے صوبہ سندھ میں لسانیات کی بنیاد پر ہونے والی سیاسی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے سندھ میں بسنے والے ہر زبان بولنے والے کے لیے اپنی جماعت کے دروازے پوری طرح سے کھول دیئے ہیں اور کوئی بھی شخص چاہے وہ کسی بھی قوم یا قبیلہ سے تعلق رکھتا ہویا اُردو ،پنجابی ،بلوچی ،سرائیکی ،پشتو غرض کوئی بھی زبان بولتا ہو وہ باآسانی پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوسکتاہے‘‘۔ بظاہر پاکستان پیپلزپارٹی کا یہ ’’سیاسی دعوی‘‘ کچھ اتنا غلط ...

سیاسی و انتظامی مفاہمت کا ’’کالاجادو‘‘

درپیش خطرات پر یکساں موقف کی ضرورت وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

جمعہ13جنوری کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پاکستان جمہوری تحریک کے تحت بڑا و بھر پورجلسہ ہوا۔عوام بڑی تعداد میں شریک ہوئی تھی۔ مولانا فضل الرحمان ایک روز پہلے کوئٹہ پہنچے بعد ازاں سڑک کے راستے لورالائی گئے ۔ جلسہ میں محمود خان اچکزئی شریک تھے۔ اسی روز افواج پاکستان کے سر براہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ میں تھے۔ سدرن کمانڈ کے اندر ان کی مصروفیت اہم نوعیت کی تھی۔ ہزارہ برادری کے سیاسی اکابرین ، علماء اور مچ واقعہ میں قتل ہونے والے ہزارہ مزدوروں کے اہل خانہ سے ملاقا ت کی۔ ان سے...

درپیش خطرات پر یکساں موقف کی ضرورت

سفاک بھارت پھر بے نقاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

گرفتار ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی اور بی اے آر سی کے سربراہ کے پیغامات منظرِ عام پر آنے سے سفاک بھارت پہلی بار بے نقاب نہیں ہوابلکہ اکثر وبیشتر بھارتی چالبازیوں کا پردہ چاک اور سفاکیت بے نقاب ہوتی رہتی ہے پاکستان کے خلاف بنائی گئیں جعلی ویب سائٹس کا ای یو ڈس انفولیب نے بھانڈاپھوڑاجس سے بھارت کے جھوٹ،مکروفریب اورسازشی کردار کی حقیقت کھلی اب پلوامہ حملے کی سچائی طشت ازبام ہونے سے بھارتی ساکھ مزید مجروح ہوئی ہے لیکن ہمارے لیے بھی کچھ کرنے کاکام ہے اگر کلبھوشن جیسے دہشت گرد کی گر...

سفاک بھارت پھر بے نقاب

خوشی کاراز وجود - بدھ 20 جنوری 2021

دوستو، فٹنس، جوانی اور خوشی کا راز روپے پیسے اور لگژری لائف ا سٹائل میں نہیں ہے بلکہ ہیلن تھامس نامی ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق انسان کے دماغ سے ہوتا ہے۔برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر آپ درست مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں تو آپ مذکورہ بالا تمام چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔ ہیلن تھامسن نے اس حوالے سے ’پلیسیبو‘ (Placebo)کی مثال دی جو ایسی بے اثر گولی ہوتی ہے جسے سائنسدان کسی دوا کے تجربے میں رضاکاروں کے ایک گروپ کو دیتے ہیں۔ یہ دوا حالانکہ بے اثر ہوتی ہے اس کے باوجود اکثر او...

خوشی کاراز

تیس سال پہلے کیا ہوا؟ بھولیں نہیں! وجود - منگل 19 جنوری 2021

تیس سال قبل سال 1991ء اور ماہ جنوری کی 17 تاریخ کو ہم کیسے فراموش کرسکتے ہیں؟ دو دریاؤں کی زمین پہ یہ ایک بھونچال کا دن تھا۔ دریائے دجلہ اور فرات کے درمیان واقع عراق کی سرزمین نئے امریکی ایجنڈے کا تختہئ مشق بنی تھی۔ آُپریشن صحرائے طوفان (Desert Storm) دراصل ”نیو ورلڈ آرڈر“ کا دیباچہ تھا۔ یہ آنجہانی سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے بعد جنوں خیز جنگوں کے نئے سلسلے کی ایک ابتدا تھی۔ آج کا مشرقِ وسطیٰ، اسرائیلی غلبہ، مسلمان ملکوں کی خود سپردگی اور مزاحمت کے لیے غیر ریاستی مزاج کی ...

تیس سال پہلے کیا ہوا؟ بھولیں نہیں!

ایمان افروز وجود - پیر 18 جنوری 2021

٭آج ہم بہت سے مسائل سے اس وجہ سے بھی دوچارہیں کہ زیادہ تر بھیڑ چال کا شکار ہیں کبھی فرصت ملے تو ذرا اپنے دل کو ٹٹول کر خودسے سوال کیجئے کہ کیا ہم اکثریت کے پیچھے چل رہے ہیں؟ اکثریت کی نقالی کرنے کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں ذرا غورکریں ایک بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ بازار میں چل رہے تھے، وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو دعاء کر رہا تھا "اے اللہ مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر، اے اللہ! مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے اْس سے پوچھا، یہ دعا تم نے کہا...

ایمان افروز

بھارت کب تک چین کے خلاف کھڑا رہے گا؟ وجود - پیر 18 جنوری 2021

جس طرح راز کی بات کسی پر افشاء ہونے کے بعد ،راز نہیں رہتی ،بعینہ اسی طرح اگر ایک خفیہ رپورٹ کی مندرجات کسی بھی ذریعے سے دنیا بھر پر افشاء ہوجائیں تو ایسی دستاویز کے خفیہ ہونے پر اصرار کرنا بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک ’’ابلاغی بے وقوفی‘‘ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی جانب سے اُس وقت دیکھنے میں آئی ،جب ویب سائٹ کی انتظامیہ نے دعوی کیا کہ ’’ان کی باریک بین نگاہوں سے وائٹ ہاؤس انتظامیہ کی ایک ایسی خفیہ رپورٹ گزری ہے ، جس میں چین سے نمٹنے کے لیے ب...

بھارت کب تک چین کے خلاف کھڑا رہے گا؟

کشمیری عوام کی دم توڑتی امیدیں وجود - پیر 18 جنوری 2021

(مہمان کالم) ایمیلی شمل حبیب ونگنو نے اپنے کشتی میں بنے ہوٹل سے جھیل کے پانی کا جائزہ لیا اور یاد کرنے لگا جب اس نے 1981ء میں کشمیر کے دورے کے دوران اپنی کشتی سے باہر نکلنے میں مک جیگر کی مدد کی تھی۔ مک جیگر نے اپنے اگلے دو ہفتے اسی کی کشتی کی اوپر والی منزل میں گزارے تھے۔Rolling Stones کے معروف سنگر نے ہمالیہ کے اس پار چاندنی رات میں ہونے والے ڈانس میں کشمیریوں کے سامنے اپنے گٹار کا جادو جگایا تھا۔ آج ناگن جھیل میں ویرانی ناچ رہی ہے اور وہ کسی قبر کی طرح خاموش ہے۔ کوئی سی...

کشمیری عوام کی دم توڑتی امیدیں

عقیدہ ختم ِ نبوت ﷺ کا تحفظ وجود - اتوار 17 جنوری 2021

پچھلے ایک ماہ سے دل کو عجیب سی پریشانی لاحق ہے سمجھ نہیں آرہی اس کا کیا چارہ ہے ؟ سوشل میڈیا پر فیس بک ،انسٹا گزامیسنجر،ٹویٹر یاکسی پرکچھ بھی کھولیں قادیانیوںکی تصاویرپر مبنی پوسٹوںکی بھرمارہے جن آنکھوںکو خانہ کعبہ اور گنبد ِ خضراء دیکھنے کا اشتیاق ہے انہیں مجبوراً ان منحوس ،لعنتی اور جہنمیوں کی شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور طبیعت مکدرہوجاتی ہے ہم مسلمان کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر محض بھیڑ چال میں ایسی چیزیںپوسٹ پر پوسٹ کیے جارہے ہیں جیسے یہ کوئی یہ مذہبی فریضہ ہو حالانکہ یہ مح...

عقیدہ ختم ِ نبوت ﷺ کا تحفظ

کتا کالم۔۔ وجود - اتوار 17 جنوری 2021

دوستو، ایک خبر کے مطابق جنوبی کوریا کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے کتے کے بھونکنے کی آواز کا مفہوم بتانے والا پٹہ تیار کرلیا ہے۔پیٹ پلس نامی کمپنی نے کتوں کے لیے ایک ایسا پٹہ بنایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت پر تیار کردہ آلہ نصب کیا گیا ہے۔ پٹے پر لگا یہ آلہ کتے کے بھونکے کی آواز کا مفہوم انسانوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پٹے میں لگی ڈیوائس یا آلہ اپنے ڈیٹا بیس میں رکھے کتے کی 50 نسلوں کے 10 ہزار بھوکنے کی آواز کے نمونوں سے موازنہ کرکے یہ ترجمانی کرتی ہے کہ اس وقت بھوکنے وال...

کتا کالم۔۔

اسرائیلی ویکسین اور فلسطینی عوام وجود - اتوار 17 جنوری 2021

(مہمان کالم) مصطفیٰ برغوثی کووڈ کے خلاف اپنے عوام کو ویکسین لگانے کے اسرائیلی منصوبے پر بڑی تیزی سے عمل ہو رہا ہے۔ اسرائیل نے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اپنے لوگوں کو ویکسین لگا دی ہے اور ایک مو?ثر ویکسین پروگرام کے طور پر دنیا بھر میں اس کی تعریف کا سلسلہ جاری ہے مگرکامیابی کی اس کہانی کا ا یک تاریک پہلو بھی ہے وہ یہ کہ اس کے زیر تسلط علاقوں میں بسنے والے پچاس لاکھ فلسطینی عوام کو ویکسین کی سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف اسرائیل کا یہ پلان ہے کہ اگلے م...

اسرائیلی ویکسین اور فلسطینی عوام

وعظ کی بدحالی وجود - هفته 16 جنوری 2021

امریکا ایسا وعظ ہے جو مذہبی آزادی ،برداشت ،رواداری اور جمہوریت کی تلقین کرتا ہے لیکن حالیہ صدارتی الیکشن کے بعد اِس کا حال بہت بُرا ہے یہ بدحالی اُس کے عالمی کردار کو محدود کر سکتی ہے بدحالی نئے منتخب صدرسے عالمی تنازعات میں الجھنے کی بجائے اندرونی حالت بہتر بنانے کی متقاضی ہے چھ جنوری کے واقعات نے وعظ کی بدحالی دنیا پر آشکار کردی ہے لیکن یہ بدحالی ایجادات اور ترقی سے دور ہونے والی نہیں بلکہ معاشرے میں سرایت کرنے والی نسلی منافرت کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ انتخابی مُہم کے دور...

وعظ کی بدحالی

مارکیٹنگ کے خدوخال وجود - هفته 16 جنوری 2021

 ماضی کے تجربات اور اصول اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں لیکن آج کاروبارکے طریقے ماضی سے کہیں مختلف ہیں جدید دورکے تقاضے اور ہیں فرسوہ اور دقیانوسی ٹوٹکے فیل ہوگئے ہیں اگر آپ کاروبارکو نئے،اچھوتے اور جدید انداز میں کریں تو دنیا متاثرہوجاتی ہے جس کا فائدہ ہی فائدہ ہے ایک ووقت تھا برسوںکی محنت و مشقت سے کاروبار جمتے جمتے جمتا تھا آج بھاری سرمایہ کاری سے نتائج پہلے ہی سال حاصل کیے جاسکتے ہیں،آج بھی چھوٹے کاروبار کو بڑے کاروبار میں ڈھالنے کے لیے فنانس کے علاوہ جو اہم کام ہوتا ہے وہ ہ...

مارکیٹنگ کے خدوخال

پراکسی جنگوں کی اہمیت اور دنیا کا مستقبل وجود - جمعه 15 جنوری 2021

آج کل دنیا میں فیفتھ جنریشن وارفیئر کا خاصا غلغلہ ہے اس پانچویں نسل کے طرز جنگ نے عالم انسانیت کی تاریخ کا بنیادی جنگی نظریہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ۔ یہ جنگ اب بین الالقوامی سرحدوں پر روایتی فوجوں کے ساتھ نہیں لڑی جاتی بلکہ اس میں میڈیا، معاشی بلیک میلنگ، پراپیگنڈا اور پراکسی وارفیئر سب اپنی اپنی جگہ اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن پراکسی تنظیمیں یا گروپ اس میں انتہائی اہم کردار کے حامل ہیں دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پراکسی وار درحقیقت ہر اس ملک کا ہراول دستہ یا عسکری ...

پراکسی جنگوں کی اہمیت اور دنیا کا مستقبل

سونے کا آدمی وجود - جمعه 15 جنوری 2021

’’نام تو سنا ہی ہوگا۔۔‘‘ اگر یہ جملہ کسی ایک شخصیت پر پوری طرح سے صادق آسکتا ہے تو بلاشبہ اُس شخص کا نام سیٹھ عابد ہی ہوسکتاہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کو ڈھونڈنے سے بھی ملک بھر میں کوئی شخص ایسانہیں مل سکے گا ،جس نے کبھی سیٹھ عابد کا نام نہ سنا ہو ،یا جسے سیٹھ عابد کی ذات سے منسوب کوئی افسانوی قصہ ازبر نہ ہو ۔ سیٹھ عابد نے ساری زندگی ایک جیتے جاگتے دیومالائی کردار کی طرح گزاری ،کسی کے نزدیک وہ ہیرو تھا توکسی کے نزدیک ایک ولن ۔کسی نے اُسے سونے کا اسمگلر جانا، تو کسی نے سونے کا ب...

سونے کا آدمی

11 سو ارب کے کراچی ترقیاتی منصوبے کب شروع ہوں گے وجود - جمعه 15 جنوری 2021

سندھ حکومت میں آئے دن کرپشن اور غبن کی خبریں آنے سے ایک طرف اداروں کی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے، تو دوسری جانب عوام میں بھی بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے عوامی مفاد کے منصوبوں میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکلرریلوے اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔قومی ادارہ امراض قلب ، میں ایک برس میں 58 ارب 68 کروڑ کے فنڈ غبن ، اور جعلی پینشنرز کے نام پر سوا دو ارب کے فراڈ کی خبریں، سندھ حکومت کی گذ گورنس پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ وزیر اعلی سید مراد علی شاہ ...

11 سو ارب کے کراچی ترقیاتی منصوبے کب شروع ہوں گے

امریکا : دنیا تمہیں دیکھ رہی ہے وجود - جمعه 15 جنوری 2021

(مہمان کالم) کرس کونز 6 جنوری امریکی جمہوریت کا سیاہ ترین دن تھا۔ ہماری جمہوری تاریخ میں یہ صرف دوسرا موقع ہے کہ امریکی دارالحکومت کو روندا گیا ہے مگر اس مرتبہ یہ سب کچھ برطانوی فوجیوں نے نہیں کیا۔ یہ ٹھگوں کا ایک فسادی ٹولہ تھا جسے ایک صدر نے اشتعال دلایا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ صدارتی الیکشن کے نتائج کا تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری ہونے سے روکا جائے۔ جب میں اپنے سینیٹ کے ایک ساتھی کے ساتھ چھپا ہوا تھا میرے ذہن میں سب سے پہلا خیال اپنے سٹاف کی حفاظت کا ا?یا۔ پھر یہ کہ میں اپنی ف...

امریکا : دنیا تمہیں دیکھ رہی ہے

کوئٹہ دھرنے کا اختتام وجود - جمعرات 14 جنوری 2021

مچھ میں دہشتگردوں کے ہاتھوں 10 مزدوروں کے سفاکانہ قتل کیخلاف 3 جنوری سے دیا جانے والا دھرنا بالآخر ہفتہ 9 جنوری کو مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ختم کردیا گیا، میتوں کے ہمراہ دھرنا ہزارہ ٹائون سے متصل کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر دیا گیا تھا۔ مجلس وحدت المسلمین کی کال پر کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی ہزارہ برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے دھرنے دیئے گئے۔ دراصل یہ احتجاج تھا ہی مجلس وحدت المسلین کا، جسے شہداء ایکشن کمیٹی کا لبادہ پہنایا گیا۔ورثاء تدفین ہی...

کوئٹہ دھرنے کا اختتام

زیر زمین دنیا کا ایک افسانوی کردار۔سیٹھ عابد، ہیرو یا اسمگلر وجود - جمعرات 14 جنوری 2021

کہا جاتا ہے کہ جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے کے خلاف مہم چلائی تو فرانس نے اس کے دباؤ پرگھٹنے ٹیک دیئے۔اور پاکستان سے اپنا معاہدہ منسوخ کردیا۔ ایسے میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے مشینری کی خفیہ درآمد اور پاکستان منتقلی میں اہم کردار جس شخصیت نے ادا کیا ، وہ سیٹھ عابد حسین مرحوم تھے۔یہ کہانی سچ ہے یا جھوٹ اس کی تصدیق آج تک نہیں ہوسکی۔تاہم بعض معتبر شخصیات اتنی تصدیق ضرور کرتی ہیں کہ سیٹھ عابد کی پاکستان کی سلامتی کے لیے خدمات ناقابل ...

زیر زمین دنیا کا ایک افسانوی کردار۔سیٹھ عابد، ہیرو یا اسمگلر

ٹرمپ کا سنگین جرم وجود - جمعرات 14 جنوری 2021

(مہمان کالم) مارین ڈاؤڈ میں اپنے بچپن سے ہی جانتی تھی کہ یہاں اس عمارت میں کوئی زبردست کام ہو رہا ہے۔ مجھے یہ علم نہیں تھاکہ گنبد کے روشن ہونے کا مطلب ہے کہ یہاں کانگرس کا اجلاس جاری ہے۔ مجھے اس بات کا بھی علم نہیں تھاکہ ہیڈ ڈریس میں ملبوس یہ مجسمہ کسی مقامی امریکی نہیں بلکہ آزادی کی دیوی کا ہے۔ میں تو صرف اتنا ہی جانتی تھی کہ ہم رات کے وقت پینسلوینیا ایونیو کی طرف اپنے والد کو لینے جا رہے ہیں جو وہاں ایک گارڈ کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ہم کیپٹل کی حفاظت کو اپنا فیملی بزنس ...

ٹرمپ کا سنگین جرم

اسیرکی توبہ وجود - بدھ 13 جنوری 2021

میدان ِ جنگ میں بڑے زورکارن پڑاہواہے متحارب ایک دوسرے پر بڑی شد ومدسے حملہ آورہیں ہرکوئی دشمن کو زیر کرنے کے لیے بڑی جواں مردی سے لڑرہاتھا اس دوران ایک مسلمان سپاہی کو پہاڑ کی کھوہ میں ایک بوتل ملی جس میں کوئی سیال شے تھی اس نے بوتل کھولی تو اس کی بو نے بتلادیا کہ وہ شراب ہے ،اس صحابی کوؓ نہ جانے کیا سوجھی کہ وہ غٹا غٹ پی گیا پھر ام الخبائث نے جب اثر اثر دکھایا تو وہ الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگا،سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سپہ سالار کو خبر ہوئی تو انہوں نے انتہائی غضب ناک ہوک...

اسیرکی توبہ

گردشی قرضے اور حماقتیں وجود - بدھ 13 جنوری 2021

معاشی مسائل کے حل کی موجودہ حکومت کی کاوشیں اپنی جگہ مگر اِس حقیقت سے نظریں چُرانا ممکن نہیں کہ بڑے مسائل نہ صرف بددستور برقرار ہیں بلکہ اُن کی گھمبیرتا میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ابھی گزشتہ دنوں ہی وزیرِ اعظم نے ماہانہ رپورٹ میں برآمدی شعبے کے اچھے نتائج اور بنگلہ دیش و بھارت کو پچھاڑنے پر اپنی لائق و فائق ٹیم کو مبارکباد دی مگرتلخ حقائق یہ ہیں کہ ملک میں عام آدمی کی زندگی مہنگائی اور بے روزگاری سے اجیرن ہوچکی ہے اخرجات میں کمی اچھی اطلاعات ہیں لیکن ادائیگیوں کے توازن میں بہت...

گردشی قرضے اور حماقتیں

ہم وائٹ ہائوس میں ٹرمپ کے ساتھ پھنس گئے ہیں! وجود - بدھ 13 جنوری 2021

(مہمان کالم) نکولس کرسٹوف کیا آپ کو مارٹن گوگینو یاد ہے؟ وہ 75 سالہ شخص جو جون میں بفیلو میں کالوں کے خلاف نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کی پْرامن طور پر حمایت کر رہا تھا جب پولیس افسران نے اسے زمین پر پھینکا، اس کی کھوپڑی کو توڑ ڈالا جس سے اس کے دماغ کو نقصان پہنچا۔ گوگینو ابھی ہسپتال میں پڑا تھا، صدر ٹرمپ نے جھوٹ بولتے ہوئے گوگینو پر یہ الزام لگایا کہ وہ اینٹیفا جنگجو ہے۔اس لیے میں نے کچھ دن پہلے گوگینو کو فون کیا۔ آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پْرامن طور پر کوشش کرنے پر ان کے س...

ہم وائٹ ہائوس میں ٹرمپ کے ساتھ پھنس گئے ہیں!

انجام بھی رسوائی ،آغازبھی رسوائی وجود - منگل 12 جنوری 2021

شکل و صورت ،لباس اور گفتگو کے اندازسے وہ ایک بڑے گھرانے کی خاتون لگتی تھی۔۔اس کے ساتھ اٹھارہ ،بیس سال کی ایک لڑکی بھی تھی،جویقینااس کی بیٹی ہوگی ،ماں بیٹی دونوں نے قیمتی چادریں اوڑھ رکھی تھیں چہروںپر خوف ،ندامت اور سراسیمگی صاف ظاہر تھی۔۔۔وہ اس وقت گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے نجی میٹرنٹی ہوم میں لیڈی ڈاکٹرکے کمرے میں موجود تھیں،خاتون کبھی سینے میں امڈتے طوفان کو روکنے کی کوشش کرتی تو آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے۔وہ اپنے پلوسے صاف کرتی اور کبھی غصہ سے بیٹی کی ط...

انجام بھی رسوائی ،آغازبھی رسوائی

بھارت میں مذہبی آزادی کچلنے کے قوانین وجود - منگل 12 جنوری 2021

(مہمان کالم) رام پنیانی بھارت کے دستور نے ہمیں اپنے مذہب پر عمل اس کی تبلیغ کرنے اور دوسروں تک اپنے مذہب کو پہنچانے کا حق دیا ہے اور جہاں تک شخصی آزادی اور فرد کے حق کا معاملہ ہے اسے یہ حق حاصل ہے کہ بھلے کوئی بھی مذہب اختیار نہ کرے لیکن اب جبکہ ہمارا ملک گرتی ہوئی قومی مجموعی پیداوار، بدترین معاشی صورتحال، بڑھتی قیمتوں، بے روزگاری میں اضافے، کسانوں کی خودکشیوں اور سردست کسانوں کے احتجاج کا سامنا کررہا ہے‘ ایسے میں ہماری بعض ریاستیں ان تمام کی فکر کرنے کے بجائے بین المذہب ...

بھارت میں مذہبی آزادی کچلنے کے قوانین

مصرکی پراسرارملکہ وجود - پیر 11 جنوری 2021

مصرکو دنیا کی سب سے پراسرارسرزمین کہاجاسکتاہے دنیا آج بھی اہرام ِ مصر کے ہرہیبت اوراسرارو تجسس میں لپٹی ہوئی عمارات کو دیکھتی ہے توان کے دل پر رعب سا پڑجاتاہے اسی پراسرار مصرمیں طویل عرصہ اقتدار میں رہنے والی تاریخ عالم کی پہلی مطلق العنان ملکہ ہط شب سوط (Hatshepsut) کی کہی ان کہی کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں اس نے صدیوں پہلے مغربی ایشیا پر 17 حملے کئے جس کے بارے متعدد مورخین کا خیال ہے کہ ہط شب سوط (Hatshepsut) کو دنیا فتح کرنے کا خبط تھا مزے کی بات یہ ہے کہ اس نے 15 برس کی عمر...

مصرکی پراسرارملکہ

مشن کیپیٹل ہِل امپاسیبل وجود - پیر 11 جنوری 2021

کچھ کچھ اندیشہ تو دنیا بھر میں سب ہی کو تھا لیکن پختہ یقین شاید ہی کسی کو ہو کہ متحدہ ہائے امریکا میں منتقلی اقتدار سے چند روز قبل پرتشدد فسادات امریکی پارلیمنٹ کیپیٹل ہل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں ۔واضح رہے کہ کیپیٹل ہل امریکی دارلحکومت کی وہ اہم ترین ریاستی عمارت ہے ،جسے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی جمہوریت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتاہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کر کے ساری دنیا کی جمہوریت کو یرغمال بنانے کی ...

مشن کیپیٹل ہِل امپاسیبل

بھارت میں دینی مدرسوں کو ختم کرنے کا قانون منظور وجود - پیر 11 جنوری 2021

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دینی مدارس ہندوستان میں اسلام کی بقاء اور تسلسل کا واحد ذریعہ ہیں۔ان مدرسوں سے دینی تعلیم کی جو شمعیںجلی ہیں، انھوں نے پورے برصغیر کو روشن کیا ہے۔ملک کے چپے چپے پر موجود ان مدرسوں سے فارغ ہونے والے علمائے کرام اور مفتیان عظام نہ صرف دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں بلکہ اسلام کے پرچم کو بلند رکھنے میں بھی مدد گارہوتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ اس ملک میں اسلام کے فروغ میں ان مدرسوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے ک...

بھارت میں دینی مدرسوں کو ختم کرنے کا قانون منظور

سجنا کے لیے ’’سجنا‘‘ وجود - اتوار 10 جنوری 2021

دوستو، ایک خبر کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے لیے سجنا کے لیے ’’سجنا‘‘ بھی آج کے دور میں مشکل ہوگیا۔۔ (نوٹ:یہاں خواتین سے مراد شادی شدہ سمجھا جائے)۔۔ایک خبر کے مطابق میک اپ کے سامان میں بے پناہ اضافے کے باعث خواتین کا بننا، سنورنا، دیدہ زیب نظر آنا بھی مہنگا ہوگیا۔غریب اور متوسط طبقے کی خواتین میک اپ کرانے میں مشکل سے دوچار ہوگئی ہیں۔ دلہن کی تیاری کی فیس بے پناہ اضافے کے ساتھ 50 ہزار روپے سے70ہزار روپے جبکہ بڑے نام کے بیوٹی پارلرز دلہن تیاری میں 80 ہزار روپے سے1لاکھ روپے تک...

سجنا کے لیے ’’سجنا‘‘

خانہ جنگی کی طرف بڑھتا افغانستان وجود - اتوار 10 جنوری 2021

(مہمان کالم) ڈیوڈ زکینو چار عشروں پر محیط شدید خونریزی کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے حالیہ امکان سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ تشدد کا یہ دور ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گا مگر یہ سنگِ میل ابھی بہت دور ہے۔ بات چیت کا تازہ ترین سلسلہ‘ جو ستمبر میں شروع ہوا تھا‘ معمولی نوعیت کے ایشوز پر افسر شاہی کی رکاوٹوں اور مہینوں سے جاری طویل بحث و تمحیص کی نذر ہو گیا ہے۔ اگرچہ ان مذاکرا ت کے نتیجے میں اصولوں اور پروسیجرز پر ایک معاہدہ ہو گیا تھا جو اگلے امن مذ...

خانہ جنگی کی طرف بڑھتا افغانستان

ٹیکنالوجی کا عفریت وجود - هفته 09 جنوری 2021

دنیا میں بیشترلوگوں نے بچپن کے دوران اپنی نانی اماں یا دادی جان سے پریوں،جنوںبھوتوںکی کہانیاں سنی ہوں گی ذرا سوچیں جو آپ نے سنا اور ایک تخیل بناکر ذہن میں بٹھالیا اب اگر وہی تخیل حقیقت کا روپ دھارکر آپ کے سامنے آن کھڑاہوتو پھر کیسا لگے گا بعینہ‘ جوباتیں پہلے تخیل تھا محض خواب وخیال تھیں آج وہ بھیانک تعبیربن کر ہمارے سامنے آنے والی ہیں یعنی اس کا آسان اور سادہ مطلب ہے دنیاکا سکون تہہ وبالا ہونے والاہے بہت سے ماہرین پریشان ہیں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی توپھرکیاہوگا اس ...

ٹیکنالوجی کا عفریت

مچھ سانحہ اِداروں کا امتحان وجود - هفته 09 جنوری 2021

مچھ سانحہ سے پورے ملک میںغم واندوہ کی کیفیت ہے کوئٹہ سے جنوب کی سمت مچھ کے مقام پر ہونے والی انسان کشی سے سبھی سوگوار ہیں بظاہر آنسو رواں نہیں دل خون کے آنسو رورہے ہیں یہ گیارہ کان کنوں کی ہی نہیں انسانیت کی موت ہے دن بھر کی محنت و مشقت سے تھکے ماندے سوئے مزدوروں کو جگا کرسفاکانہ طریقے سے زبح کرنے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے اِس ظلم و بربریت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے یہ سانحہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کاابھی مکمل خاتمہ نہیں ہوا باقیات دوبارہ منظم ہوکر سرگرم ہو چک...

مچھ سانحہ اِداروں کا امتحان

کراچی سرد ہوا، اور دھرنوں کی لپیٹ میں ہے وجود - هفته 09 جنوری 2021

کراچی سرد ہوا، اور دھرنوں کی لپیٹ میں ہے، یخ بستہ ماحول ، اور شہر کے 35 سے زائد مرکزی مقامات پر مچھ میں قتل ہونے والے کان کنوں کے لواحقین سے یک جہتی کے لیے کئی دن سے ہونے والے احتجاج نے کراچی کی سڑکوں کو سونا کر دیا ہے، گیس کی لوڈ شیڈنگ نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر رکھے ہیں تو کچی آبادیوں، ریلوے کی زمین پر برسوں سے قابض کچی پکی آبادیوں ، اور ناجائز تعمیرات کے خلاف آپریشن نے بھی بہت سے علاقوں میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔ کراچی کی سیاسی جماعتیں بھی مظاہروں، ریلی، جلسے ، جلوس میں م...

کراچی سرد ہوا، اور دھرنوں کی لپیٹ میں ہے

خانہ جنگی کی طرف بڑھتا افغانستان وجود - هفته 09 جنوری 2021

(مہمان کالم) ڈیوڈ زکینو چار عشروں پر محیط شدید خونریزی کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے حالیہ امکان سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ تشدد کا یہ دور ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گا مگر یہ سنگِ میل ابھی بہت دور ہے۔ بات چیت کا تازہ ترین سلسلہ‘ جو ستمبر میں شروع ہوا تھا‘ معمولی نوعیت کے ایشوز پر افسر شاہی کی رکاوٹوں اور مہینوں سے جاری طویل بحث و تمحیص کی نذر ہو گیا ہے۔ اگرچہ ان مذاکرا ت کے نتیجے میں اصولوں اور پروسیجرز پر ایک معاہدہ ہو گیا تھا جو اگلے امن مذ...

خانہ جنگی کی طرف بڑھتا افغانستان

تیری آخری آرام گاہ پر اللہ کی رحمت ہو! وجود - جمعه 08 جنوری 2021

وفا شعار رؤف طاہر رخصت ہوگئے! اے مرے خدا تو حافظے سے وہ سب محو کردے، جو میرے اور اس کے درمیان کہا سنا گیا۔ جس میں ہم نے اپنے قیمتی اور لذیذ ماہ وسال بِتائے۔ میرا رؤف طاہر وہ نہیں جو مستعار الفاظ میں دھڑے بندی کی تعزیت کا طالب ہو۔ وہ اس سے بے نیاز اپنے رب کے حضورسرخرو پہنچا!جہاں اُس سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ وہ جمہوریت کی طرف داری میں کہاں کھڑا تھا؟ اللہ کا دربار اس سے بے نیاز ہے۔ مگر نحوست بھری زندگی سے کنارہ کش ہونے والے برادرِ عزیر سے”متعصبانہ تعزیتیں“ کنارہ کرنے کو تیار نہیں...

تیری آخری آرام گاہ پر اللہ کی رحمت ہو!

پتہ کی بات وجود - جمعه 08 جنوری 2021

دوستو،فیس ماسک پہننے سے عینک کے دھندلا جانے کا مسئلہ بہت سوں کو درپیش آتا ہے تاہم اگر آپ فیس ماسک درست طریقے سے پہنیں تو عینک کو دھندلانے سے بچا سکتے ہیں۔ہم بھی چونکہ عینک لگاتے ہیں اس لیے ماسک پہننا ہمارے لیے بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا، عینک دھندلاجاتی ہے،اس سے بچاؤکے لیے ’’ٹوٹکا‘‘ پیش خدمت ہے۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرجیکل ماسک کی دو سائیڈز ہوتی ہیں۔ ایک سفید رنگ کی اور دوسری نیلے رنگ کی۔ ماسک پہنتے ہوئے ہمیشہ نیلے رنگ کی سائیڈ باہر کی طرف رکھیں۔ اسی طرح سرجیکل ماسک کی ...

پتہ کی بات

عوام کے آئیڈیل وجود - جمعه 08 جنوری 2021

پاکستان کی تنزلی کا سبب سوچنے بیٹھیں تو اس مملکت ِ خداداد کے ہرشعبہ میںمافیاز کاراج ہے سیاسی پارٹیاں مسلک بن چکی ہیں اورتو اور عام آدمی کسی شریف امیدوارکو ووٹ دینا پسندنہیں کرتا یہاں تو عوام کا کوئی معیارنہیں کرپٹ ،فرعون صفت اور اخلاقی طورپر دیوالیہ ہونے والے عناصر قوم کے ہیرو بن گئے ہیں اور بدقسمتی سے یہ عناصر عوام کے لیے آئیڈیل بن گئے ،ملک بھرمیں ایک پائو خالص دودھ ملنا محال ہے ،بیشتردکانوںپر الحمداللہ،ماشاء اللہ ،بسم اللہ،داتا ،ہجویری، مدنی، مکہ ،مدینہ کے نیون سائن بورڈ ...

عوام کے آئیڈیل

گزرے سال کا نوحہ وجود - جمعرات 07 جنوری 2021

سب کہہ رہے ہیں لو ایک اور سال تمام ہوا۔۔عہد ِ رفتہ کا ایک اور باب رقم ۔دل ملول ہے ،نئے سال میں بھی پرانے جھمیلوںنے آن گھیراتو پھر کیا بنے گا؟۔معلوم نہیں ہماری عمرکا ایک سال اور کم ہوگیا یا زیادہ ۔سوچ میں گم ہوں کہ نئے سال کی مبارک باد دوں یا گزری یادوںکا نوحہ لکھوں یا دنیاکوامن کا پیغام دوں یا پھرمفلسی میں ڈوبے سسکتے تڑپتے لوگوںکی کہانیاں سنائوں ،بہرحال2020ء کا سال اپنے دامن میں انتہائی تلخ یادیں لیے رخصت ہوا۔۔ جو شاید ہم بھلائے بھی نہ بھول پائیں۔ اب سال ِ نو2021ء کا دور دور...

گزرے سال کا نوحہ

کراچی میں کتنے آدمی ہیں؟ وجود - جمعرات 07 جنوری 2021

پہلی جماعت کے ایک بچے کو کئی روزسے ایک سے دس تک گنتی بھی صحیح طرح سے یاد نہیں ہو پارہی تھی ۔ بالآخر اُستانی نے تنگ آکر بچے سے پوچھا ’’ کیا آپ کے گھر میں کوئی ایسے شئے ہے ،جو تعداد میں دس ہوں؟‘‘۔بچے نے اثبات میں سرہلاتے ہوتے ہوئے فوراًہی کہا’’جی ہاں مس! ہمارے گھر میں مرغی کے دس عدد چوزے ہیں ‘‘ ۔اُستانی نے بچے کو پیار سے پچکارتے ہوئے کہا’’پھر تو مسئلہ ہی حل ہوگیا، آپ اپنے چوزوں کے نام گنتی پر رکھ لو ،اس طرح تمہیں ایک سے دس تک گنتی بہت آسانی سے یاد ہوجائے گی‘‘۔ بچے نے کہا’’...

کراچی میں کتنے آدمی ہیں؟

ہزارہ محنت کشوں کی موت،قاتل نا معلوم نہیں وجود - جمعرات 07 جنوری 2021

3جنوری2021ء کو کوئٹہ کے جنوب میںتقریباً60کلومیٹر کی دوری پر ’’مچھ‘‘ کے علاقے میں انسانیت دشمنوں نے کوئلہ کانوں میں محنت مزدوری کرنے والے کانکنوں کے خون سے ہولی کھیلی ۔مزدوروں کونیم شب گہری نیند سے اُٹھا کر ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا۔ سفاک دہشتگردوں نے اس حرام و مذموم مقصد کے لیے قومی شاہراہ پر مچھ شہر کو ملانے والے مقام سے کچھ آگے دائیں طرف ’’ گشتری‘‘ کے مقام پر پہاڑوں کے اندر کوئلہ کانوں کے پاس مقیم مزدوروں کا انتخاب کیا۔ یہ سب افراد کوئٹہ کے ہزارہ ٹائون کے باسی...

ہزارہ محنت کشوں کی موت،قاتل نا معلوم نہیں

کیا دنیا کٹھ پتلی ریاست بن جائے گی؟ وجود - بدھ 06 جنوری 2021

 ’’یہ خود وائرس بنائیں گے پھر اس کی ویکسین بناکر اربوں ڈالر کمائیں گے‘‘ یہ الفاظ لیبیا کے مرد ِ آہن کرنل معمر قدافی نے اپنے قتل سے ایک سال پہلے ایک تقریب کے دوران کہے تھے اس وقت تو دنیا کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آئی تھی پھر2019ء میں کورونا وائرس منظر ِ عام پر آیا تو بہت سے لوگوںنے اپنے شدید تحفظات کاکھل کر اظہارکیا تھا کچھ کا خیال تھا یہ دنیا کی معیشت کنٹرول کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی گھنائونی سازش ہے ، بیشتر اسے دنیا کی آبادی کنٹرول کرنے کا پیش خیمہ قراردے رہے تھے کہ ان...

کیا دنیا کٹھ پتلی ریاست بن جائے گی؟

درپیش چیلنجز کا ادراک وجود - بدھ 06 جنوری 2021

عالمی طاقتیں جسے خطے کا تھانیدار بنانے کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہیں وہ بھارت دنیا میں دہشت گردی کا مرکزبن چکا ہے اسلاموفوبیا کا شکار دنیا نے بروقت ادارک نہ کیا تو جنونی ہندو عالمی امن کے لیے خطرہ بن جائیں گے امن کو درپیش چیلنجز کا بروقت ادراک کیے بغیر دنیا کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ بھارت نے دیگر ممالک میں سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی شروع کر ارکھی ہے جب سے سی پیک جیسے معاشی منصوبے کا آغاز ہوا ہے بھارت کی بے چینی عود کرآئی ہے کوئلہ،تیل ،گیس ،سونا سمیت دیگر قیمتی معدنیا...

درپیش چیلنجز کا ادراک

وزیر اعظم کے نام ایک خط ایم اے جناح کے مزار پر ظلم اور استحصال وجود - بدھ 06 جنوری 2021

جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان بصد احترام اوربہت سی مبارک باد میں ایک ہنگامی صورت حال کی جانب آپ کی توجہ دلاناچاہتا ہوں۔ اس کا تعلق اس غیر انسانی ، غیرقانونی اور ظلم و ستم سے ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح اس سلوک سے مختلف نہیں ہے، جوتین سو سال قبل چائے کے باغات میں غلاموں کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا۔ براہ کرم مجھے اس بہیمانہ سلوک کے حقائق کی وضاحت کرنے کی اجازت دیں ،جو ایک نامور سرکاری تنظیم کی جا...

وزیر اعظم کے نام ایک خط ایم اے جناح کے مزار پر ظلم اور استحصال

نیاسال ۔۔نئی توقعات وجود - منگل 05 جنوری 2021

لو ایک اور سال تمام ہوا۔۔عہد ِ رفتہ کا ایک اور باب رقم۔معلوم نہیں ہماری عمرکا ایک سال اور کم ہوگیا یا زیادہ بہرحال2020ء کا سال اپنے دامن میں انتہائی تلخ یادیں لیے رخصت ہوا۔۔ جو شاید ہم بھلائے بھی نہ بھول پائیں۔ اب سال ِ نو2021ء کا دور دورہ ہے گزشتہ سال کئی اہم واقعات رونماہوئے عالمی منظرنامہ بھی تبدیل ہوگیا ،سب سے اہم واقعہ تو یہ ہوا کہ صدرٹرمپ تمام ترکوششوںکے باوجود جوئیڈن سے ہارگیا ،مولانا فضل الرحمن کی طرح موصوف اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیارنہیں جبکہ متحدہ عرب امارات،مراکش ...

نیاسال ۔۔نئی توقعات

پی ڈی ایم کی حقیقت وجود - منگل 05 جنوری 2021

جیسے جیسے شعور عام ہورہا ہے پاکستان میں برسوں سے رائج مطلق العنانیت، موروثیت اور فرسودہ نظام اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکومت کامیابی کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اگرچہ اس کی رفتار بظاہر سست نظر آتی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نہ صرف امریکی ڈکٹیشن کے شکنجے سے آزاد ہوتا نظر آرہا ہے بلکہ ہر قسم کے بیرونی دباؤ سے نکلتا جارہا ہے خواہ وہ عرب ریاستیں ہوں یا FATF کا شکنجہ، پاکستان کامیابی کے ساتھ آگے کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جوکہ بہت سے سیاستدانوں کے لیے ناقابل...

پی ڈی ایم کی حقیقت

پہلی ریڈانڈین امریکی وزیر داخلہ وجود - منگل 05 جنوری 2021

(مہمان کالم) کلاڈیا لارنس جب نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے ریاست نیو میکسیکو کی رہائشی مس ہالینڈکو امریکہ کی نئی وزیر داخلہ بناکر اپنی کابینہ میں شامل کرنے کااعلان کیا تو ا س کے چند منٹ بعد مقامی ریڈانڈین سوشل میڈیا پر ایک جشن برپا ہوگیا۔ہماری کمیونٹی کے لوگوں نے جو مس ہالینڈ سے مل چکے تھے‘ ملک بھر میں جاری مقامی ایونٹس میں ان کی تصاویر کی پوسٹس لگانا شروع کر دیں۔میری ایک دوست نے لکھا ’’ہماری آنٹی نے ایک کارنامہ کر دکھایا ‘‘۔ اس جشنِ طرب کا جواز بھی بنتا ہے کیونکہ مس ہا...

پہلی ریڈانڈین امریکی وزیر داخلہ

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا وجود - پیر 04 جنوری 2021

سیاسی تحریکیں محض خدع و فریب پر زندگی نہیں کرسکتیں!پی ڈی ایم کا جاتی امراء اجلاس ناکام ہوا۔ حکومت اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ مگرایسی ناکام حکومت کے لیے بھی پی ڈی ایم کا سیاسی اتحاد کوئی بڑا خطرہ پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ پی ڈی ایم کے دس جماعتی اتحاد میں محوری جماعتیں تین ہی ہیں۔نوازلیگ اپنے ارکان کی تعداد، پیپلزپارٹی اپنی سندھ حکومت اور جمعیت علمائے اسلام اپنے کارکنان کے بل بوتے پر ایک رونق میلہ لگائے ہوئے تھیں۔پی ڈی ایم کی جماعتوں نے خود ہی حکومت جانے کی مختلف تا...

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

آج پھرتصویریں سونے نہیں دیتیں وجود - پیر 04 جنوری 2021

آج دل پھرسے مضطرب ہے۔ بے قراری،بے سکونی حواس پر طاری ہے میرے چاروںاطراف فضا میں خون کی بو رچی ہوئی محسوس ہورہی ہے جیسے سانس لینا بھی دوبھرہوگیاہو،۔ میرے ارد گرد آہوں،سسکیوں اور بین کرتی آوازیں حا وی ہوتی جارہی ہیں میں خوفزدہ ہوں ذرا سی آہٹ پر بھی سہم سہم جاتاہوں کبھی بچوں کی چیخیں،۔کبھی نوجوان لڑکیوں کی آہ و بکا،۔کبھی مردوں کی بے بسی کی ان کہی کہانیاں ، کبھی عورتوںکا شور ،خوف ڈر اوردرد میں ڈوبی آوازیں اور کبھی حملہ آوروںکے قہقہے،۔۔نفرت میں ڈوبے تحقیر آمیز جملے سماعتوں...

آج پھرتصویریں سونے نہیں دیتیں

کیسا ہوگا2021 ۔۔۔؟ وجود - پیر 04 جنوری 2021

ایک سال کی مختصر ترین مدت میں جس قدر دنیا کے تبدیل ہونے کا تصور کیا جاسکتاتھا ،بلاشبہ سال 2020 کا سورج ہماری دنیا میں اُس سے کہیںزیادہ تغیر و تبدل کا باعث بن کر غروب ہوچکا ہے۔سادہ لفظوں میں یوں سمجھئے کہ2020 نے ہم انسانو ں کے طرززندگی کو اوجِ ثریا سے زمین پر دے مارا ۔ملاحظہ ہو کہ مادر پدر آزاد معاشرے از خود ہی قرنطینہ ہوگئے،مسلم خواتین سے چہرہ دکھانے کا قانونی مطالبہ کرنے والوں نے اپنے ہی چہرے ماسک سے ڈھانپ لیئے ،جسمانی اختلاط کے علمبردار ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی ...

کیسا ہوگا2021 ۔۔۔؟

دریائے نیل صرف مصر کا نہیں وجود - پیر 04 جنوری 2021

(مہمان کالم) تھم بیسافکوڈے گرینڈ ایتھوپین ڈیم پر مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے مابین سیاسی کشیدگی تاحال جاری ہے۔ دریائے نیل پر 4ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا یہ ہائیڈروالیکٹرک منصوبہ سوڈان سے 15کلو میٹر دور مشرق میں واقع ہے، اس کی تعمیر کا کام 2011ئ￿ میں شروع ہوا۔ اس ڈیم کیلئے پانی بلیو نیل سے حاصل کیا جائیگا، جو کہ سوڈان، مصر اور ایتھوپیا کے مابین تنازع کی وجہ ہے۔ دریائے نیل کے دو معاون دریا ہیں، سفید نیل اور بلیو نیل۔ سفید نیل کا منبع روانڈا اور برونڈی کے درمیان واقع عظیم اف...

دریائے نیل صرف مصر کا نہیں

خوش رہنا بھی ایک عادت ہے وجود - اتوار 03 جنوری 2021

اخلاق دیانت اور امانت جیسی خوبیاں ہی انسانیت کی معراج ہیں۔ دولت مند ہونا کامیابی کی علامت نہیں ہے ہماری سوسائٹی میں دولت ہی معیار بن گیا ہے اور اخلاقی تصورات پیچھے چلے گئے ہیں۔ ایک بہت بڑے تاجر اور صنعت کار نے کامیابی کے اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ ،،کامیابی کا پہلا اصول محنت ہے۔ میں نے سب کچھ بھلا کر صرف کام کیا ہے۔ کاروبار کے ابتدائی دنوں میں، میں فجر کی نماز سے لے کر رات 11:00 تک کام کرتا تھا میں نے بزرگوں سے یہی سبق سیکھا تھا کہ اللہ محنت میں برکت ڈالتا ہے۔ میرا دوسرا صول ...

خوش رہنا بھی ایک عادت ہے

خوش باش قوم وجود - اتوار 03 جنوری 2021

دوستو،گیلپ پاکستان کے سروے میں کہا گیا ہے کہ 65 فیصد پاکستانی تمام مسائل کے باوجود خوش، 25فیصد پریشانی کا شکار ہیں، پاکستانیوں کی خوشی کا نیٹ اسکور40فیصد رہا،پی ایم ایل ن کے دور میں نیٹ اسکور 71 فیصد کی بلند ترین سطح پر گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے سال میں 65 فیصد رہا۔ کورونا اور معاشی مشکلات کے باوجود پاکستانیوں نے اپنی زندگی سے خوش ہونے کا اظہار کردیا۔گیلپ سروے میں ایک ہزارسے زائد افراد نے ملک بھر سے حصہ لیا۔ یہ سروے 09 اکتوبر سے 02 نومبر 2020 کے درمیان کیا گیا۔گیلپ پاک...

خوش باش قوم

2020 ذہنی دباو کا سال تھا وجود - اتوار 03 جنوری 2021

(مہمان کالم) رچرڈ فریڈمین آپ کو یہ بات بتانے کے لیے کسی سائیکاٹرسٹ کی ضرورت نہیں کہ 2020ء ایک وحشیانہ سال تھا؛ تاہم اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ بالکل واضح طور پر نظر آتا ہے کہ نفسیاتی طور پر ہم ایک سنگین ذہنی آزمائش سے گزرے ہیں۔کووڈ۔19 کے مہلک چیلنج پر ہمارے ردعمل سے ہی ہمیں پتا چلا کہ ہمارے نزدیک کس چیز کی اہمیت ہے اور حقیقت میں ہم کون ہیں۔ یہی سوالات انسانیت کے لیے ایک آئینہ ثابت ہوئے ہیں۔کووڈ نے انجانے میں ہمیں اپنے دوستوں، فیملی اور بیرونی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا...

2020 ذہنی دباو کا سال تھا

فیصلہ اٹل ہے وجود - هفته 02 جنوری 2021

فیصلہ ہوچکا کوئی تسلیم کرے نہ کرے اس کی مرضی ۔خدا اس وقت تک اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک خود اس کو اپنی حالت بدلنے کا احساس نہ ہو ،اب دنیا بھرکے اسکالر، دانشور،مذہبی سیاسی رہنما ڈھنڈورا پیٹتے پھریں لاکھ دلیلیں دیں کوئی فرق نہیں پڑتا فیصلہ اٹل ہے۔درویش نے عقیدت مندوںکی طرف محبت سے دیکھا ،ان کے چہرے پر تبسم تھا انہوںنے کہا تبدیلی انسان کے اندر سے آتی ہے ،اب تو یہ چلن عام ہے کہ ہم خود کو ،درست قراردیتے ہیں اپنے ہر فعل کو درست سمجھنے لگیہیں یعنی خود تبدیل نہیں ہونا چاہتے خواہ...

فیصلہ اٹل ہے

استعفے اور لطیفے وجود - هفته 02 جنوری 2021

یکم جنوری کے ساتھ نئے سال کا آغاز ہو چکاہے ویکسین کے باوجود ابھی تک کورونا کا پھیلائو جاری ہے اِس لیے ماہرین کہتے ہیں وبا پر جلد قابو پا بھی لیا گیا تو جتنی تباہی ہو چکی کئی دہائیوں تک اثرات محسوس ہوتے رہیں گے رواں برس ملکی مسائل کا خاتمہ ہو سکے گا؟اِس سوال کا جواب دینا بھی آسان نہیںکیونکہ ماضی میں اشرافیہ نے عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں لی بلکہ بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا ہے عین ممکن ہے معاشرتی رویے یکسر تبدیل ہو جائیں گزرے برس حل طلب ملکی مسائل ختم نہیں ہوسکے بلکہ ریلوے...

استعفے اور لطیفے

مفت کی نوکری وجود - جمعه 01 جنوری 2021

فیصل آباد کے ایک محلے میں عمران بھائی کی ایک چھوٹی سی کریانہ کی دکان تھی ، لیکن ان کے پاس ہروقت گاہکوںکارش رہتا ،جس میں اس کی خوش مزاجی کا بھی بڑا ہاتھ تھا، ویسے بھی ایک کہاوت ہے جسے مسکرانا نہیں آتا اسے دکان بنانے کا کشٹ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سڑیل،خشک مزاج اور جھگڑالوشخص ایک کامیاب بزنس مین نہیں بن سکتا ، بہرحال عمران بھائی کے پاس اکثر اوقات پیسے کھلے (change ) لینے کے لیے کوئی نا کوئی آتا رہتا تھا، اور وہ کسی کو بھی انکار نہیں کرتا تھا ،یہی وجہ تھی لو...

مفت کی نوکری

لاک ڈاؤن کی اصل قیمت وجود - جمعه 01 جنوری 2021

(مہمان کالم) زیدایم ۔بلباگی آئی ایم ایف نے اس سال عالمی سطح پر وبائی امراض پر اخراجات کا تخمینہ 28 ٹریلین ڈالر لگایا ہے، جبکہ لگاتار لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں کمی سے معیشتوں میں 33 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ کاروبار اور تجارت پر وبائی امراض کے غیر معمولی اثرات اگرچہ دستاویزی شکل میں ہیں۔ تاہم، یہ مطالعات ایک زیادہ اہم نقصان کو نظر انداز کرتے ہیں، جو انسانی زندگیوں کا ہے۔ بزرگوں پر تنہائی، گھروں تک محدود رہنے والوں کے لیے ذہنی صحت کے مسائل، خودکشیوں اور بچپن...

لاک ڈاؤن کی اصل قیمت

دل اور دلخراش وجود - جمعرات 31 دسمبر 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ایک اور لہر آنے کا شورمچاہواہے یہ وباء اتنی بھیانک ہے کہ ہرطرف خوف وہراس ہے ،اس سے متاثرین کے لوگ قریب بھی نہیں جاتے جن کے لیے مریض ساری زندگی کما کما کر تھک جاتاہے جن کو ایک خراش لگے تو اس کی نیند حرام ہوجاتی تھی وہ بھی ا س کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں حتیٰ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل ا سٹاف بھی ان سے خوف کھاتا ہے، گزشتہ سال لاہورکے میو ہسپتال میں کورونا وائرس کا ایک مریض طبی امداد کے لیے کئی گھنٹے چلاتارہاکوئی اس کے قریب بھی نہ پھٹکا اسی دوران بے بسی کے عالم...

دل اور دلخراش

خطرہ ہے مولاناکو،خطرے میں عمران نہیں وجود - جمعرات 31 دسمبر 2020

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر علی زیدی نے اپوزیشن الیون پر پھبتی کستے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اپوزیشن کے پانچ رہنما ،ابھی اپنے کنفرم استعفے اسپیکر کی خدمت میں پیش کریں اور ہم سے عمرے کے ٹکٹ بطور انعام فوری طور پر حاصل کرلیں‘‘۔عوامی نقطہ نظر سے علی زیدی کی سیاسی پیشکش بظاہر نفع بخش معلوم ہوتی ہے مگر یہ پیشکش اپوزیشن رہنماؤں کے حسبِ حال اور حسب خواہش ہرگز نہیں ہے ۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگر وفاقی وزیر علی زیدی تھوڑی سی مزیدسیاسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنفرم استعفوں کے عوض عمرے کے...

خطرہ ہے مولاناکو،خطرے میں عمران نہیں

لائے ہیں بزمِ یار سے خبر الگ وجود - بدھ 30 دسمبر 2020

ملک کا سیاسی منظر نامہ خوشگوار نہیں تنائو اورٹکرائوکی کیفیت ہے اگر حکومت بات چیت میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے تو اپوزیشن بھی مذاکرات کے لیے بے چینی کا شکار نہیں دونوں طرف بے زاری ہے حالانکہ حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کے دو پہئے ہیں اگروسائل رکھنے کی بناپر عوامی بھلائی کی ذمہ دار حکومت ہے تو عوام دشمن اقدامات پر اپوزیشن کو نکتہ چینی کرنے اور عوامی مفادسے ہم آہنگ بنانے کی تجاویز ینااُس کا حق ہے لیکن ہمارے ہاں دونوں فریق ااہمیت دینا تو درکنارایک دوسرے کی حثیت تسلیم کرنے پر بھی ...

لائے ہیں بزمِ یار سے خبر الگ

عدالت عالیہ بلوچستان کا اہم فیصلہ وجود - بدھ 30 دسمبر 2020

عدالت عالیہ بلوچستان نے 16دسمبر2020ء کو ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ ا ے )ایکٹ2015ء کی قانون سازی کو تب کی حکومت اور اراکین اسمبلی کی نا اہلی اور عدم قابلیت قرار دے کر30مئی2018ء کوجاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو غیر مؤثر اور کالعدم قرار دے دیا ۔ نوٹیفکیشن کی رو سے مخصوص علاقہ میں اراضی کے حصول سے متعلق ڈی ایچ اے کے ایگزیکٹیو بورڈ سے اجازت درکار ہوگی۔بلا شبہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ہاشم خان کاکڑ ، جسٹس عبداللہ بلوچ، ج...

عدالت عالیہ بلوچستان کا اہم فیصلہ

ہوشیارباش وجود - بدھ 30 دسمبر 2020

دوستو،ایک خبرکے مطابق بھارت میں ایک گھریلو ملازمہ کو چوری کیے گئے زیور پہن کر واٹس ایپ پر اپنی تصویر لگانا مہنگا پڑ گیا۔بھارتی ریاست آندرا پردیش کے ضلع گنٹور کے ایک علاقے میں مسروقہ زیورات پہن کر واٹس اپ اسٹیٹس پر تصویر لگانے والی گھریلو ملازمہ گرفتار کر لی گئی۔پولیس کے بیان کے مطابق 29 نومبر کو امود نامی شخص کے فلیٹ میں چوری کی واردات ہوئی تھی، جس میں 4 طلائی چوڑیاں، ایک نیکلس، کان کی 2 بالیاں، بے بی چین اور دیگر قیمتی چیزیں اڑائی گئی تھیں۔پولیس نے مالک مکان کی شکایت پر چور...

ہوشیارباش

پاکستانی ریل گاڑی اور آگے ہے دنیا ساری وجود - پیر 28 دسمبر 2020

سچ تو یہ ہے کہ ریل گاڑی، انجن اوردرجن بھر ڈبے اپنے ہمراہ لے کر چلنے والی جدید دنیا کی ایک عام سی سواری سے بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔مگر یہ بات شاید وہ عاقبت نااندیش افراد سمجھ ہی نہیں سکتے ،جن کے نزدیک ریل گاڑی ہمیشہ سے فقط ایک سستی اور عوامی سواری سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ ایسے ہی افراد کے ’’دستِ انتقام‘‘ میں جب ریل گاڑی کی انتظامی باگ تھمادی جاتی ہے تو پھر وہ ہی حال ہوتا جو اس وقت پاکستان ریلوے کا ہو چکا ہے۔ یعنی ریل گاڑی پٹر ی پر چلتی کم ہے اور پٹری سے اُ...

پاکستانی ریل گاڑی اور آگے ہے دنیا ساری

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مودی کا خطاب وجود - پیر 28 دسمبر 2020

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ جشن میں وزیراعظم نریندر مودی کی بطور مہمان خصوصی شرکت اپنے آپ میں ایک سنسنی خیزخبر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ اس خبر نے میڈیا کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ اس موقع پروزیراعظم نے جو تقریر کی ، اس پر بھی خوب بحث ومباحثہ ہوا۔ حالانکہ یہ تقریر دوبدو نہیں تھی بلکہ انھوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ یونیورسٹی برادری کو خطاب کیا ۔ دراصل جب یہ اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم نریندر مودی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صدسالہ تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شریک ہ...

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مودی کا خطاب

بھارت ایشین ٹائیگر یا سپرپاور کیوں نہیں بنا؟ وجود - پیر 28 دسمبر 2020

بھارت کی آزادی کو تقریباً 74 برس ہونے کو آئے ہیں ایک قدم آگے جانے کی بجائے دو قدم پیچھے کی جانب جارہے ہیں، چین نے آزاد ہوتے ہی تعمیری سمت کی راہ اپنائی اور محض ایک دہائی بعد ہی منگ سلطنت کے دور کا کھویا ہوا مقام پانے کی راہ پر ہولیا، 1990 میں چین کی جی ڈی پی بھارت سے تقریباً 30 ارب ڈالر آگے تھی اور آج یہ فرق چار سو گنا اضافے کے ساتھ تقریباً 12000 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سابق چیف شماریات پرناب سین و دیگر ماہرین معاشیات کے مطابق بھارت کی جی ڈی پی 10 فیصد تک سکڑتی نظر آر...

بھارت ایشین ٹائیگر یا سپرپاور کیوں نہیں بنا؟

ٹوئنٹی، ٹوئنٹی وجود - اتوار 27 دسمبر 2020

دوستو،رواں سال سب کو یعنی کہ پوری قوم کو ’’ٹوئنٹی ٹوئنٹی‘‘ میں لگی رہی۔۔جس طرح کرکٹ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ جس تیزی سے شروع ہوتا ہے اسی تیزی سے ختم ہوتا ہے اور کسی کے لیے دردناک یادیں چھوڑ جاتا ہے اسی طرح رواں سال نے قوم کے ساتھ ایسا ہی کیا، پتہ ہی نہیں چلا یہ سال کب شروع ہوا اور کب ختم؟؟ اس سال تو مہینوں کے نام بھی کچھ ا س طرح سے تھے کہ۔۔جنوری،فروری، مارچ۔۔لاک ڈاؤن۔۔اگست ،ستمبر،اکتوبر،نومبراور دسمبر۔۔اسی ہفتے نیا سال شروع ہوجائے گا۔۔ یعنی بیس ،بیس کے بعد اب بیس ،اکیس آرہا...

ٹوئنٹی، ٹوئنٹی

کووڈ۔19، نتائج دنیا بدل سکتے ہیں! وجود - اتوار 27 دسمبر 2020

جارڈڈائمنڈ آج، کورونا وائرس کی بیماری (کووڈ۔19) دنیا کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو (شاید سب سے زیادہ لوگوں کو) متاثر، کچھ کو ہلاک، ہمارے عام معاشرتی تعلقات کو بند کرنے، بیشتر بین الاقوامی سفر کو روکنے اور معیشت و تجارت کی تباہی میں ملوث ہے۔ اس شدید بحران کے خاتمے کے بعد، اب سے چند سال کے بعد دنیا کیسی ہو گی؟ ایک وسیع پیمانے پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ویکسین جلد ہی ہم سب کو کووڈ۔19 کے خلاف حفاظت فراہم کریگی، افسوس اس بات کا امکان بہت کم ہے۔ بیماریوں سے ا...

کووڈ۔19، نتائج دنیا بدل سکتے ہیں!

ٹرمپ کا دورِ صدارت اور امریکا کے نقصانات وجود - اتوار 27 دسمبر 2020

بریٹ ا سٹیفنس منصبِ صدارت چھوڑنے سے ایک دن پہلے صدر براک اوباما نے قدامت پسند رائٹرز کے ایک چھوٹے سے گروپ کو بات چیت کے لیے مدعو کیا۔ ان میں سے کوئی بھی ٹرمپ کا حامی نہیں تھا۔ سب لوگ وائٹ ہائوس کے روز ویلٹ روم میں بیٹھے تھے۔ ماحول اتنا خوشگورار نہیں تھا۔ براک اوباما ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے متفکر تھے۔ کسی نے ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایک عالمی تھرمو نیوکلیئر جنگ چھڑنے کے امکان کا ذکر کیا۔ ٹرمپ کے چار سال گزر جانے کے بعد یہ مناسب ہو گا کہ ان کے دورِ صدار ت کے بارے میں...

ٹرمپ کا دورِ صدارت اور امریکا کے نقصانات

مراکش اسرائیل تعلقات کی تاریخ وجود - هفته 26 دسمبر 2020

یہ 16ستمبر 1977ء کی ایک سرد شام ہے جب اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ موشے دایان نے تل ابیب سے پیرس تک اڑان بھری اور رات گئے پیرس کے جارج ڈیگال ائر پورٹ پر اتر گیا جس کے فورا بعد اسے پیرس سے حلیہ بدل کر مراکش کے شہر رباط پہنچنا تھا۔ پیرس میں نقلی داڑھی مونچھ کے ساتھ اس نے رباط تک کا سفر کیا جہاں مراکش کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اسے اپنی حفاظت میں لیکر ایسے مقام پر پہنچادیا جہاں پر مصری نائب وزیر اعظم حسن تھامی ایک اعلی سطحی مصری وفد کے ساتھ اس کا انتظار کررہا تھا۔ موشے دایا ن کا ...

مراکش اسرائیل تعلقات کی تاریخ

عرب بہار کے بعد کا مشرقِ وسطیٰ وجود - هفته 26 دسمبر 2020

تصادم کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی مگر افہام و تفہیم کافیصلہ کرتے ہوئے مفادات کو پس پشت ڈالنا بھی مناسب نہیں مذاکرات سے مسائل کا حل نکلتا ہے لیکن ٹھونسا گیا حل مسائل بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال بڑی حد تک ٹھونسی گئی معلوم ہوتی ہے عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں یا نہ کریں حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی لیکن سفارتی روابط قائم کرنے سے قبل کیا جانے والا کام ہوتا نظر نہیں آرہا ،بادی النظر میں فریقین راہ وراسم بڑھانے کے سوا کچھ دیکھنے سے گریزاں ہیں جس سے ...

عرب بہار کے بعد کا مشرقِ وسطیٰ

عشق ِ حقیقی وجود - هفته 26 دسمبر 2020

محبت بھی کیا چیزہے جس کے دل میں موجزن ہوجائے دنیا کا ہر عیش و آرام اس کے سامنے ہیچ ہوجاتاہے یہ جذبہ ہر جذبے پر حاوی ہے ،درویش اپنی دھن میں کہے جارہاتھا یہ الگ بات ہے کہ آج محبت اور ہوس میں لوگ تمیز کرنا بھول گئے ہیں کہاں محبت جیسا لطیف جذبہ جہاں اپنی ذات کی نفی ہوجاتی ہے کہاں ہوس صرف اپنے فائدے متعلق سوچتے رہنا ،ہوس انتہا درجے کالالچ ہے ،محبت میں انسان صرف اپنے محبوب کے بارے میں سوچتاہے ،دھیرے دھیرے جلنے اور صندل کی آگ کی طرح سلگنے کااپنا ہی مزہ ہے ہرطرح کا خوف ،ڈر،لالچ دل...

عشق ِ حقیقی

قائداعظمؒ اور مصنوعی خیالات وجود - جمعه 25 دسمبر 2020

مصنوعی خیالات سے زیادہ بڑا دشمن کوئی نہیں۔انسان کو اپنے مخالفین سے کہیں زیادہ ان مصنوعی خیالات سے لڑائی کرنا پڑتی ہے۔ دنیا کے عظیم لوگ اپنے اندر سے اُبھرے ہیں۔ عظیم مفکر شاعر علامہ اقبالؒ نے گِرہ کھول دی تھی: اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی قائد اعظمؒ ایسے ہی ایک عظیم رہنما تھے، جن کا اپنا رہنما اُن کے من سے اُبھرتا تھا۔ برصغیر کے منچ پر تب کوئی دوسرا شخص نہ تھا، جس کی زندگی مصنوعی خیالات سے اس طرح پاک رہی ہو، جیسے قائداعظمؒ کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا تبحر علمی انسان...

قائداعظمؒ اور مصنوعی خیالات

عاجزی کاتحفہ وجود - جمعه 25 دسمبر 2020

والی کونین معراج شریف کے دوران سرِلامکاں تشریف لے گئے یہ مقام۔یہ مرتبہ۔یہ اعزاز ان سے پہلے کسی اور نبی کے حصہ میں نہیں آیا تھا یہ وہ لمحات تھے جب انوارو تجلیات کے سب پردے ہٹا دئیے گئے ،طالب و مطلوب نے جی بھر کر ایک دوسرے کا دیدار کیا اس موقع پر اللہ تبارک تعالیٰ نے پوچھا اے میرے محبوب ﷺ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو؟ نبیوں کے سردار کے چہرہ ٔ انوارپر تبسم پھیل گیا آپ ﷺ نے اتنا جامع، مکمل اور مدلل جواب دیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ فرمایا یا باری تعالیٰ!میں وہ تحفہ لے کر آیا ہوں...

عاجزی کاتحفہ

جمعیت علماء اسلام کے اندر کا محاذ وجود - جمعه 25 دسمبر 2020

جمعیت علماء اسلام کے اندر سے مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب ، شجاع ا لملک وغیرہ کی پارٹی قائد اور پالیسیوں پر نقد و جرح نے جے یو آئی کو بحران سے دو چار کر رکھا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ جب جمعیت علماء اسلام پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت کررہی ہے ۔اور ایک موثر وارکی تدبیر کررہی ہے ۔مولانا فضل الرحمان کے آ گے نیب کے ذریعے بند باندھا جارہا ہے۔ کردار کشی کی مہم زوروں پر ہے۔ سچ یہ بھی ہے کہ مولانا کے خلاف محاذ عمران خان ہی شروع کرچکے ہیں۔ مولانا فض...

جمعیت علماء اسلام کے اندر کا محاذ

کورونا کہانی۔۔ وجود - جمعه 25 دسمبر 2020

دوستو،کورونا وائرس اگرچہ تمام عمر کے لوگوں کو لاحق ہوتا ہے تاہم اس کی شدت کا انحصار عمر، جنس اور صحت سمیت کئی دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔ جنس کے حوالے سے کئی تحقیقات میں سائنسدان یہ انکشاف بھی کر چکے ہیں کہ یہ وائرس خواتین کو کم لاحق ہوتا ہے اور ان میں اس کی شدت کی شرح بھی کم پائی گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ان تحقیقات میں سائنسدانوں نے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ خواتین میں ایسے پروٹینز زیادہ پائے جاتے ہیں جو کورونا وائرس سے ان کو مردوں کے مق...

کورونا کہانی۔۔

مولانا فضل الرحمان اور ہواکا جھونکا وجود - جمعرات 24 دسمبر 2020

جمعیت علمائے اسلام میں داخلی انتشار کی کھڑکی کھل گئی۔ عقیدت کا بہاؤاور نظم وضبط کا رچاؤ اس کی ایک پہچان ہے، مگر اب نہیں۔ مولانا فضل الرحمان وقت کے دائرے میں تاریخ کا وہی وار سہہ رہے ہیں جو کبھی وہ دوسروں پر کرتے تھے۔ مولانا خان محمد شیرانی کا موقف نک سک سے غلط ہی ہو، مگر مولانا فضل الرحمان کے لیے ایک چیلنج تو پیدا ہوگیا۔ بلوچستان سے مولانا شیرانی اس طرح گونجے ہیں کہ ’’مولانا فضل الرحمان خود ایک سلیکٹڈ ہیں‘‘۔ اتنا ہی نہیں، اُن کے الزامات میں ایک تحقیر بھی ہے۔ اُنہوں نے جے یو...

مولانا فضل الرحمان اور ہواکا جھونکا

کامیابی کامفہوم وجود - جمعرات 24 دسمبر 2020

درویش آج معمول سے زیادہ سنجیدہ تھے ،اس لیے دور دراز سے آئے ہوئے حاضرین کو سوال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہورہی تھی حالانکہ وہ بڑے شفیق ،وضع داراور محبت کرنے والی شخصیت تھے ،جن کے آستانے پر خدام د ن رات آنے والے مہمانوںکی خاطر مدارت کرتے رہتے تھے وہ خود صاحب ِ نصاب تھے کئی مرتبہ وہ چپکے سے ضرورت مندوںکی مددبھی کردیا کرتے تھے ۔ ایک نوجوان نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا کہ جناب کامیابی کی Definition کیا ہے؟ درویش مسکرائے اپنے چاروں جانب نظر دوڑائی اور بڑی متانت سے جواب دیا کامیابی کی ...

کامیابی کامفہوم

پاکستان اسٹیل ملز’’ نجکاری‘‘ سے ’’آہ و زاری‘‘ تک وجود - جمعرات 24 دسمبر 2020

یقینا ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پاکستان اسٹیل ملز کو بچایا نہیں جاسکتاہے ،آج ، کل،پرسوں یا زیادہ سے زیادہ ترسوں بہر حال پاکستان اسٹیل ملز کاخاتمہ بالخیر ہوہی جاناہے،کیونکہ پاکستان اسٹیل ملز ملک و قوم پر ایک ایسا معاشی بوجھ بن چکی ہے کہ جسے جلد ازجلد حکومت کے سر سے اُتارنے میں ہی قوم کی معاشی راحت پہناں ہے۔ لیکن پاکستان اسٹیل ملز کو نہ سہی مگر اس میں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین کو تو بچایا ہی جاسکتاہے ۔کیا یہ ضروری ہے کہ جب عظیم و الشان و پر شکوہ پاکستان اسٹیل ملز کو ز...

پاکستان اسٹیل ملز’’ نجکاری‘‘ سے ’’آہ و زاری‘‘ تک

معاشی اشاریے مثبت،حکومت کامیاب ہے وجود - بدھ 23 دسمبر 2020

اپوزیشن کہتی ہے اناڑیوں کی وجہ سے ملکی احوال اچھے نہیںمہنگائی اور بے روزگاری سے لوگ دووقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں غربت کی لیکر سے نیچے جانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے چوربازاری عروج پر ہے اِس لیے موجود ہ حکمرانوں سے فوری جان چھڑانا اشد ضروری ہے لیکن پیارے ہم وطنو،آپ نے گھبرانا نہیں کیونکہ وزیرِ اعظم نے دلنشیں انداز میں معاشی اِشاریوں کے مثبت ہونے کی نوید سنا دی ہے جس کے بعد حکومت کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کوئی بھوک افلاس یا بے رزگاری مرتا ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے ج...

معاشی اشاریے مثبت،حکومت کامیاب ہے

کر۔آپشن۔۔ وجود - بدھ 23 دسمبر 2020

دوستو،ایک خبر کے مطابق تحریک انصاف کی ایم پی اے میڈم ساجدہ کے شوہر نوید سیلانی کے ساتھ کرپشن کی وجہ سے اندرونی اختلافات سامنے آ گئے، ایم پی اے میڈم ساجدہ نے طلاق کے لیے عدالت میں خلع کیس دائر کر دیا،مقامی عدالت نے شوہر نوید سیلانی کو 24 دسمبر کو طلب کر لیا،ساجدہ نوید کے مطابق شوہر نوید سیلانی کی کرپشن کی وجہ سے مجبوراً خلع لینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہی کرپشن فری پاکستان ہے،ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل تحریک انصاف کی ایم پی اے میڈم ساجدہ نے اپنے سابق...

کر۔آپشن۔۔

افغانستان کی جنگ ختم ہو چکی ہے! وجود - بدھ 23 دسمبر 2020

ایلیٹ ایکرمین میں نے ہومر کی رزمیہ نظم The Iliad اپنے ہائی ا سکول کے زمانے میں پڑھی تھی۔ میری ٹیچر نے اس کا ترجمہ مجھے دیا تھا، جس کے کور پیج پر چھپی تصویر میں ڈی ڈے پر امریکی فوجی اوماہا بیچ پر ایک جہاز سے باہر نکل رہے تھے۔ کم عمری کی وجہ سے مجھے اس وقت تو اس کی کوئی خاص سمجھ نہ لگ سکی اور ایکلیز کے غصے، ہیکٹر کی موت اور کالے پیندے والے بحری جہازوں میں بیٹھے یونانیوں کا جنگ عظیم دوم سے کچھ لینا دینا بھی نہیں تھا۔ کئی سال بعد خود دو جنگیں لڑنے کے بعد کور پیج پرچھپی تصویر میر...

افغانستان کی جنگ ختم ہو چکی ہے!

خلافت کی بحالی وجود - منگل 22 دسمبر 2020

مسلمانوںکی نشاۃ ِ ثانیہ کا احیاء ایک آرزو ہے ، امت ِ مسلمہ کے دلوں میں ایک تڑپ ہے ،ایک جستجو سال ہا سال سے مسلمانوںکے دلوں میں مچل رہی ہے ،ماضی میں ہندوستان میں قیام ِ پاکستان سے پہلے تحریک بحالی ٔ خلافت کا بہت چرچا رہا مولانا محمد علی جوہرؒ کی والدہ کا یہ قول ’’بیٹا جان خلافت پر قربان کردو‘‘ کئی مہینوں تک لوگوں کے دلوں کو گرماتا رہا آج بھی پاکستان میں کئی دہائیوںسے کچھ مذہبی تنظیمیں اس مقصد کے لیے پیش پیش ہیں۔تاریخی اعتبارسے خلفاء راشدین کے بعدحضرت امیرمعاویہ ؓ کا دور معاش...

خلافت کی بحالی

’لوجہاد‘ پر مودی حکومت کے دوہرے پیمانے وجود - منگل 22 دسمبر 2020

بھارت کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش میں ’ لوجہاد‘ کے خلاف جو نیا قانون وجود میں آیا ہے، اس کے تحت صرف مسلمانوں کوہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔حالانکہ بی جے پی یہ کہتی ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی بھید بھائو نہیں کرتی اور سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں مسلمانوں کو دوئم درجے کا شہری بنانے اور انھیں دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جارہا ہے۔یوں تو جب سے مرکز میں بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے ،تب ...

’لوجہاد‘ پر مودی حکومت کے دوہرے پیمانے

اسرائیل کی آبادی اور حجاز مقدس کی بربادی وجود - پیر 21 دسمبر 2020

’’اسرائیل سے سے سفارتی تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک دراصل مسئلہ فلسطین سے غداری کرتے ہوئے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں ‘‘۔یہ الفاظ ترکی کے صدر طیب اردوان کی زبان اقدس سے چند ہفتے قبل ہی ادا ہوئے تھے لیکن حیران کن با ت یہ ہے کہ اسرائیل مخالف یہ بیان عالمی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی ’’دیوارِ گریہ‘‘ سے ابھی پوری طرح سے مٹنے بھی نہ پایا تھاکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر دے کرفلسطینیوں پر بجلی گرادی کہ ترکی کے صدر طیب اردوان نے اسرائیل کے ساتھ گزشتہ دو برس...

اسرائیل کی آبادی اور حجاز مقدس کی بربادی

باپ رے باپ وجود - اتوار 20 دسمبر 2020

دوستو،ونس اپان اے ٹائم،ایک بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے، باباآدمی کس طرح وجود میں آیا؟؟ باپ نے اسے سمجھایا، بیٹا پہلے انسان بندرتھا،بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دُم غائب اور چہرے بدل گئے تو وہ انسان بن گیا۔۔بچے کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اپنی ماں سے پوچھا، مما،آدمی کس طرح وجود میں آیا؟؟ ماں نے اسے بتایا کہ، خدانے انسان کا جسم بنایا اور اس میں اپنی روح پھونکی اور آدمی وجود میں آیا۔۔بچے نے کہا،لیکن بابا تو کہہ رہے تھے کہ انسان پہلے بندرتھا۔۔ماں نے بچے کو گھورتے ہوئے کہا...

باپ رے باپ

پی ڈی ایم کا بیانیہ اور اچکزئی کا شور وجود - هفته 19 دسمبر 2020

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کررہی ہیں اور اِس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح عوام کی غالب اکثریت کو ساتھ ملا کر حکومت کو رخصت کردیا جائے لیکن پی ڈی ایم کے تمام کیے کرائے کو لسانی اور علاقائی تعصب کا شکار لوگ ناکامی سے دوچار کرنے پر تلے بیٹھے ہیں جنھیں درست روش پر لائے بنا بات نہیں بن سکتی ملک کی اکائیوں میں چند ایک ایسے چہرے ہیں جنھیں وطنِ عزیز کی بجائے اغیار کے مفادات کی فکر ہوتی ہے جن سے قوم آگاہ لیکن پی ڈی ایم شاید اِ س لیے نظر انداز کرنے پر مجبور ہے مب...

پی ڈی ایم کا بیانیہ اور اچکزئی کا شور

ٹرمپ کے حواری اور کورونا ویکسین وجود - هفته 19 دسمبر 2020

میشل گولڈبرگ ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز کی ایک دستاویز کے مطابق ریجینرون (Regeneron) کے مونوکلونل اینٹی باڈی کاک ٹیل کی کل 108 خوراکیں واشنگٹن کے لیے مختص کی گئی ہیں جہاں صرف بدھ کے دن 265 نئے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔ صدرٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے بھی اس ویکسین کی ایک خوراک حاصل کی ہے۔ منگل کے دن نیویارک کے ایک ریڈیو ا سٹیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے جولیانی نے ہم پر اپنی نوازشات کی بارش کرتے ہوئے اس امر کی وضاحت کی کہ وہ اس اعلیٰ سطح کے علاج کے کیوں مستحق ہیں۔ ان...

ٹرمپ کے حواری اور کورونا ویکسین

موت کی دعا وجود - جمعه 18 دسمبر 2020

وہ ہمیں جب پہلی بار ملا تو سردی سے کانپ رہا تھا اس کے منہ سے بے جملے خارج ہورہے تھے ،حالت انتہائی خستہ۔پائوں گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے کی وجہ سے جوتوںکی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی تھی۔بال گرد و غبارسے اٹے ہوئے شکل و صورت سے بھکاری نہیں لگ رہا تھا مگر تھا بھکاری۔۔۔ یقینا پروفیشنل نہیں تھا اس بوڑھے کو دیکھ کر ہم ٹھہر گئے اس کی آنکھوں میں ایک لحظے کے لیے امید کی ایک کرن ٹمٹمائی پھر وہ دور کہیں خلائوں میں گھورنے لگا ہمیں لگا شاید وہ بھوکا ہے۔دوستانہ انداز میں مسکراکراس کے شانے پرہاتھ رکھ کر...

موت کی دعا

جان چھڑانامشکل ہے وجود - جمعه 18 دسمبر 2020

دوستو،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی ویکسین تیار ہو چکی ہے اور ایک امید بندھی ہے کہ جلد اس موذی وباسے نجات مل جائے گی تاہم اب بل گیٹس نے اس کے متعلق ایک تشویشناک انکشاف کردیا ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق بل گیٹس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباکے اگلے چار سے 6ماہ بدترین ہو سکتے ہیں اور پہلے سے زیادہ اموات ہو سکتی ہے تاہم ان اموات سے بچا جا سکتا ہے اگر لوگ اس وباسے متعلق بتائے گئے قوانین اور پابندیوں کی پاسداری کریں، فیس ماسک پہنیں اور بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔بل گی...

جان چھڑانامشکل ہے

ٹرمپ کے حواری اور کورونا ویکسین وجود - جمعه 18 دسمبر 2020

(مہمان کالم) میشل گولڈبرگ ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز کی ایک دستاویز کے مطابق ریجینرون (Regeneron) کے مونوکلونل اینٹی باڈی کاک ٹیل کی کل 108 خوراکیں واشنگٹن کے لیے مختص کی گئی ہیں جہاں صرف بدھ کے دن 265 نئے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔ صدرٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے بھی اس ویکسین کی ایک خوراک حاصل کی ہے۔ منگل کے دن نیویارک کے ایک ریڈیو ا سٹیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے جولیانی نے ہم پر اپنی نوازشات کی بارش کرتے ہوئے اس امر کی وضاحت کی کہ وہ اس اعلیٰ سطح کے علاج کے ...

ٹرمپ کے حواری اور کورونا ویکسین

عاشق ِ صادق وجود - جمعرات 17 دسمبر 2020

لوگ اسے دیوانہ کہتے تھے انتہائی غریب،مفلوق الحال پرائے تو پرائے اپنے بھی نظراندازکرتے تو وہ کسی سے گلہ کرتا نہ غصہ ۔ وہ گھروں کی تعمیر کے لیے مزدوری کرتاتھا لیکن لوگوںنے اس سے کام کروانا چھوڑدیا کہ وہ دیواریں ٹیڑھی بنا دیتا ہے بھوک اوربیروزگاری سے تنگ آکر اس نے پتھروںکو تراش کر تیڑھی میڑھی مورتیاں بنانا شروع کردی جو بچے شوق سے لے جاتے جس سے کچھ رقم ملنے لگی تو اس نے مستقل اسی کو روزگار کا وسیلہ بنا لیا اس کے لیے کسی کی ناراضگی، غمی، خوشی ایک جیسا ماحول تھا وہ مگرتھا سچا عاشق...

عاشق ِ صادق

ہومیو پیتھک استعفے وجود - جمعرات 17 دسمبر 2020

گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’استعفے تو ہماری جیب میں موجود ہیں ،جب قیادت طلب کرے گی اُسے پیش کردیں گے‘‘۔ یعنی پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے ہلکا ساایک’’ سیاسی اشارہ ‘‘کیا تو استعفے سید مرادعلی شاہ کی جیب سے نکل کر آناً فاناً ہی بلاول بھٹو زرداری کی جیب میں پہنچ جائیںگے ۔ مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کے استعفے فقط ایک دوسرے کی جیبوں میں ہی رُلتے رہیں گے اور قومی و صوبائی اسمبلیوںکے اسپیکرز ک...

ہومیو پیتھک استعفے

گوادر کا نیا تنازع وجود - جمعرات 17 دسمبر 2020

پاکستان جمہوری تحریک ( پی ڈی ایم ) میں شامل جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ارکان مزید خود کو ایوانوں سے وابستہ نہیں رکھیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبے کی مخلوط حکومت کا حصہ ہے ۔جس کی صوبائی قیادت کہہ چکی ندیہ دے چکی ہے ،کہ مرکزی قیادت طلب کرے گی تو استعفے بھیج دیں گے ۔ البتہ پارٹی کے پارلیمانی ارکان کا تذبذب بھی عیاں ہے۔ نواب اسلم رئیسانی اسمبلی میں آزاد رُکن ہیں۔ وہ پی ڈی ایم کے ہمراہ اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا مؤقف ...

گوادر کا نیا تنازع

مسلم دنیا کے دارالحکومت اسرائیلی موساد کے نرغے میں۔۔۔ وجود - جمعرات 17 دسمبر 2020

(گزشتہ سے پیوستہ) یہی صورتحال باقی کے یورپی ملکوں کی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ یہودی دنیا میں کہیں بھی رہے اور کسی بھی رنگ یا نسل سے اس کا تعلق ہو اسے اسرائیل کے آئین کے مطابق اسرائیل کا شہری ہونے کابھی حق ہے۔اس لیے کسی بھی ملک کا پاسپورٹ حاصل کرنا اور کسی بھی ملک کے باشندے کے طور پر یہودی بآسانی جہاں بھی جانا چاہے پہنچ سکتا ہے۔ امریکا اور یورپ کے سفید فام یہودیوں کے علاوہ سیاہ فام یہودی بھی اسرائیل میں بستے ہیں ان میں سے یہود فلاشا کی بڑی...

مسلم دنیا کے دارالحکومت اسرائیلی موساد کے نرغے میں۔۔۔

اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج وجود - جمعرات 17 دسمبر 2020

برکھا دت اس سے قطع نظر کہ آپ کسانوں کے متعلق نئے قوانین پر کیا رائے رکھتے ہیں، کسانوں کا احتجاج چند غلطیوں یا بے ترتیبی کے باوجود انتہائی منظم ہے، یہ کامیاب ہو یا ناکم اس سے قطع نظر اس قدر منظم کہ وہ اپنے اعصاب و حواس پر قابو رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کے خلاف اتنا منظم احتجاج شہریت قانون میں تبدیلی کے خلاف ’’مہذب‘‘ سول سوسائٹی کا بھی نہ تھا۔ اس سے ہندوستان میں جمہوریت کے حوالے سے کی گئی ایک سازش بھی آشکار ہوتی ہے۔ اس میں ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ای...

اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج

مسلم دنیا کے دارالحکومت اسرائیلی موساد کے نرغے میں۔۔۔ وجود - بدھ 16 دسمبر 2020

دور حاضر جسے دور دجالیت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کس کس طرح سے عالم انسانیت خصوصا مسلمانوں کو دھوکے کے جال میں جکڑ کر انہیںان راستوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں پرعالمی دجالی صہیونیت نے جال بجھا رکھے ہیں۔ چند روز قبل انتہائی اہم عرب ذرائع کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ گذشتہ دنوں اسرائیل میں بیس ایسے اسرائیلی سفارتکاروں کی خدمات کے اعتراف میںسابق اسرائیلی آرمی چیف اور موجودہ وزیر خارجہ گوبی اشکنازیGabi Ashkenazi, کی صدارت میں ایک مختصر لیکن خفیہ محفل منعقد کی گئی ج...

مسلم دنیا کے دارالحکومت اسرائیلی موساد کے نرغے میں۔۔۔

دھمکیاں نہیں جمہوری سوچ وجود - بدھ 16 دسمبر 2020

دھمکیوں اور تھریٹ الرٹس کوبھی اہمیت نہ دی گئی کرونا پھیلائو کے خدشات بھی نظرانداز کر دیے گئے گرائونڈ میں پانی بھرنے ، دروازوں کو تالے لگا نے، سائونڈ سسٹم اور کرسیاں فراہم کرنے والوں کے خلاف کاوائیوں کی بڑھیکیںلگانے کے باوجود مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو ئے تو حکومت نے مجبوراََ پی ڈی ایم کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کی اجازت دیدی حکومت اجازت نہ بھی دیتی توکون اپوزیشن نے جلسہ کرلینا تھا اب جلسے کے بعد منتظمین اور خدمات فراہم کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں ہوتی دیکھ کر اندازہ ہو گا کہ سیا...

دھمکیاں نہیں جمہوری سوچ

مزے ۔دار وجود - بدھ 16 دسمبر 2020

دوستو،ہر انسان کی اپنی پسند ناپسند ہوتی ہے۔۔ کسی کو کچھ مزیدار لگتا ہے تو کسی کو کچھ۔۔ جیسے ہمیں چائے کے ساتھ مولی بہت پسند ہے۔۔ مزہ آتا ہے۔۔ آپ شاید چائے کے ساتھ بسکٹ، رولز، سموسے یا پکوڑے پسند کرتے ہوں گے۔۔ جس طرح ہمیں آپ کی پسند پر اعتراض نہیں ،آپ کو بھی ہماری پسند پر انگلی نہیں اٹھانی چاہیئے۔۔ چلئے پھر آج کچھ ’’مزے دار‘‘ ہوجائے۔۔ ہمارے پیارے دوست نے ہمیں ایک واقعہ واٹس ایپ کیا۔۔لکھتے ہیں۔۔ نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔۔ بائیک پر جاتے ہوئے ایک انکل اور آنٹی پر نظر...

مزے ۔دار

بدنام کرنے کی مہم اورذمہ داران وجود - منگل 15 دسمبر 2020

ملک میں اِس خبرپر مسرت ظاہر کی جارہی ہے کہ، ای یوڈس انفو لیب،نے بھارت کی مکاریوں و سازشوں پر مبنی جھوٹے پراپیگنڈے کو بے نقاب کردیا ہے مگر سوال یہ پیداہوتا ہے ہم کیا کررہے ہیںاور ہمارے اِداروں کی کیا مصروفیات ہیں؟ بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مُہم تو برسوں سے جاری ہے آزادی سے لیکر آج تک پاکستان کوزک پہنچانے کی کوشش میں ہے اب بھی اگر یورپی یونین کا اِدارہ بھارت کا کچا چٹا نہ کھولتا تو ہم الزامات کی تردید کے سواکچھ کرتے؟ صورتحال کے تناظر میں ہاں میں جواب دینا ممکن ...

بدنام کرنے کی مہم اورذمہ داران

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا وجود - منگل 15 دسمبر 2020

شاید اب سوچنا محال، بات کرنا مشکل اور سمجھانا یقینا اس سے بھی مشکل مرحلہ ہے ، قحط الرجال ہے ،یا اخلاقی اقدار کے امین خال خال رہ گئے ہیں کیا زمانہ آگیاہے جو سچے ،کھرے اور بے غرض ہیں ان کی کوئی سننے کو تیارنہیں ،بات ماننے پر آمادہ نہیں لوگ لچھے دار باتیں کرنا اور سننا پسند کرتے ہیں بیشتر صاف ،ستھری کھری بات کرنے والوں سے ناراض، ناراض رہتے ہیں جیسے وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں ہر چیزپر مادیت اس قدر غالب ہے کہ لوگوں کا،چیزوں کا اور ماحول کا اصل حسن چھپ گیا ہے بات کرو تو سب تسل...

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا

تھائی لینڈ میں سیاست کا عمرانی معاہدہ وجود - منگل 15 دسمبر 2020

(مہمان کالم) پوین چچ ولپونگپن تھائی لینڈ کے شاہی خاندان کے پسندیدہ زرد اور گلابی رنگوں کے لباس پہنے ہزاروں افراد ہفتے کے دن بنکاک میں گرینڈ پیلس کے باہر اپنے بادشاہ بھومی بول اڈلیا ڈیج کی سالگرہ منانے کے لیے جمع تھے جن کا 2016ء میں انتقال ہو گیا تھا۔ عوام کی کثیر تعداد حال ہی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی شریک تھی جہاں لوگ بادشاہی نظام میں اصلاحات لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 25نومبر کو زرد رنگ کی اس شاندار بلڈنگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہونے والا تھا جہاں کرائون...

تھائی لینڈ میں سیاست کا عمرانی معاہدہ

بستہ بے۔۔ وجود - اتوار 13 دسمبر 2020

دوستو، ایک خبر کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بچوں کے اسکول بیگز کے وزن کی حد مقرر کردی، خلاف ورزی کرنے والے اسکول پرنسپلز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کے پی اسمبلی نے اسکول بیگز لیمی ٹیشن آف ویٹ بل2020 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بچوں کے اسکول بیگز کا وزن ان کی جماعت کے مطابق ہوگا۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے تحت ہر کلاس کے لیے الگ الگ بیگ کے وزن کا تعین کیا گیا ہے، پہلی جماعت کے بچوں کے لیے بیگ کا وزن 2.4 کلوگرام ہوگا، اور جماعت دوئم کے لیے2.6 کلوگرام وزن...

بستہ بے۔۔

بھارت میں کسان اور مزدوردشمن قوانین وجود - هفته 12 دسمبر 2020

ماہرین کہتے ہیں آئندہ برس کئی ممالک میں بھوک وفلاس سے مرنے والوں کی تعداد کورونا وبا سے تجاوزکرسکتی ہے اسی لیے فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے ایسی تحقیقات جاری ہیں جن سے خراب موسمی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے ساتھ پانی کی کمی یا زیادہ بارش کے باوجود اچھی پیدوارلی جا سکے لیکن بھارت جو سب سے بڑی جمہورت کا دعویدار ہے وہ دنیا سے ہٹ کر کسان اور مزدور دشمن قوانین کے ذریعے ملک کو کارپوریٹ دوست اور کسان و مزدور دشمن بنانے میں مصروف ہے ہندوتوا کے نظریے کی علمبردار مودی سرکار ملک میں...

بھارت میں کسان اور مزدوردشمن قوانین

ہلکی پھلکی تواضع وجود - جمعه 11 دسمبر 2020

دوستو، ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے سرکاری اجلاسوں میں ہلکی پھلکی تواضع کی اجازت دے دی۔۔وزارت خزانہ کے مطابق کسی بھی سرکاری اجلاس میں 50 روپے فی کس چائے پانی پر خرچ کیے جاسکیں گے۔وزارت خزانہ کے چیف اکاؤنٹس آفیسر کی طرف سے وزارتوں کو لکھے جانیوالے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اجلاسوں میں ریفریشمنٹ کے لیے صرف 50روپے فی کس خرچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔مزید یہ کہ کسی بھی اجلاس میں چائے پانی پیش کرنے سے پہلے اپنی وزارت کے پرنسپل اکاؤن...

ہلکی پھلکی تواضع

یہ کراچی کو بدل رہے ہیں یا کراچی سے بدلہ لے رہے ہیں؟ وجود - جمعرات 10 دسمبر 2020

مثل مشہور ہے کہ ’’ایک انسان کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کبھی بھی برابر نہیں ہوتیں ‘‘۔لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ کھاتے وقت یہ پانچوں انگلیاں ایک برابر ہوجاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بالکل ایسے ہی کراچی شہر کے مستقبل کو بنانے ،سنوارنے اور چمکانے کے لیے سندھ کی سیاسی جماعتیں کبھی بھی نہ توماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ’’سیاسی اتفاق‘‘ قائم کرسکی ہیں اورغالب امکان یہ ہی ہے کہ نہ ہی آئندہ کبھی قائم کرپائیں گی۔لیکن جب بات آجائے کراچی کے وسائل کو لوٹنے کی، کراچی کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی ،کر...

یہ کراچی کو بدل رہے ہیں یا کراچی سے بدلہ لے رہے ہیں؟

مارکیٹنگ کے خد وخال وجود - جمعرات 10 دسمبر 2020

ماضی کے تجربات اور اصول اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں لیکن آج کاروبارکے طریقے ماضی سے کہیں مختلف ہیں جدید دورکے تقاضے اور ہیں فرسوہ اور دقیانوسی ٹوٹکے فیل ہوگئے ہیں اگر آپ کاروبارکو نئے،اچھوتے اور جدید انداز میں کریں تو دنیا متاثرہوجاتی ہے جس کا فائدہ ہی فائدہ ہے ایک ووقت تھا برسوںکی محنت و مشقت سے کاروبار جمتے جمتے جمتا تھا آج بھاری سرمایہ کاری سے نتائج پہلے ہی سال حاصل کیے جاسکتے ہیںآج بھی چھوٹے کاروبار کو بڑے کاروبار میں ڈھالنے کے لیے فنانس کے علاوہ جو اہم کام ہوتا ہے وہ ہے ...

مارکیٹنگ کے خد وخال

دفاع اور جارحیت وجود - بدھ 09 دسمبر 2020

ایک مشہورکہاوت ہے کہ افغانستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں امن نہیں اور اسے کوئی جارح فتح نہیں کرسکا افغانستان کی تاریخ بہت پرانی ہے ، دنیا میں شایدسب سے زیادہ تغیر اس کے خمیرمیں رچا بسا ہے یہاں ایک دوسرے کو فتح کرنے کی دھن میں کشت و خون کے ہولی ہمیشہ کھیلی گئی ،افغانستان کے برصغیرپر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں ،اسے برصغیرمیں آنے کا دروازے بھی کہاجاسکتاہے ،اس خطہ سے آنے والے اولیاء کرام نے ،اسلام کے فروغ میں اہم کردار اداکیا جس کے نتیجہ میں لاکھوںافرادمسلمان ہوئے جبکہ مختلف ادوار...

دفاع اور جارحیت

وسیع تر مکالمہ وقت کی ضرورت وجود - بدھ 09 دسمبر 2020

صاحبانِ فہم ودانش کا کہنا ہے کہ سیاست میں اخلاق و اصول کی اہمیت نہیں بلکہ اقتداراور مفادترجیحی ہوتی ہے دیگر ممالک کا تو پتہ نہیں مگر وطنِ عزیز کی سیاست پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہی یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے یہاں دوستی کادم بھرنے والے مخالف بنتے ہوئے کسی جواز کا سہارہ بھی نہیں لیتے اور جواز نہ ہونے پر شرمندگی تک محسوس نہیں کرتے یہاں تو اقتدار کے ساتھ ہی دوست بھی رخصت ہوجاتے ہیں اقتدار ملتے ہی دشمن بھی دوست بننے میں دیر نہیں کرتے خیر اپنے وطن میںپہلی بار ایک نئی روایت قائم ہو رہی ہے ...

وسیع تر مکالمہ وقت کی ضرورت

جہیز،مراقبہ اور سینٹائزر وجود - بدھ 09 دسمبر 2020

دوستو،تازہ سروے کے مطابق جہیز کی حوصلہ شکنی کے لیے اسے ایک لعنت قرار دیا جاتا ہے تاہم پاکستانیوں کی اکثریت جہیز دینے کے حق میں ہے۔ پلس کنسلٹنٹ نے 2 ہزار سے زائد افراد کی آراء پر مبنی نیاسروے جاری کردیا جس کے مطابق 61 فیصد پاکستانی شادیوں میں جہیز دینے کے حامی ہیں اور حکومت سے اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔36 فیصد نے جہیز دینے کی مخالفت کی۔ سروے کے مطابق جہیز دینے کی اجازت کے حق میں 73 فیصد خواتین نے آواز اٹھائی جبکہ 24فیصد نے مخالفت کی۔ مردوں میں جہیز دینے کی حمایت 59 فیصد ...

جہیز،مراقبہ اور سینٹائزر

شکستہ خوابوں کا قبرستان وجود - بدھ 09 دسمبر 2020

مہمان کالم مارک لینڈلر پتوں سے اَٹے جنگل میں سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے لندن کے شمال مشرق میں بیس میل کے فاصلے پر واقع ایپنگ قصبے کی ا سٹریٹ مارکیٹ کے پاس سے گزریں تو ایک ناگوار سا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔یہاں لندن کی سیاہ ٹیکسیاں بمپر ٹوبمپر پارک کی گئی ہیں۔ارد گرد شہد کی مکھیوں کے چھتے لگے ہیں۔یہ کوویڈ کی وجہ سے ہونے والی معاشی تباہی کا منظر ہے جسے کسی بھی وقت کیمرے میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔جب مارچ میں برطانیا میں لاک ڈائون ہوا تو ٹیکسی ڈرائیورز نے یہ ٹیکسیاں کاروبار م...

شکستہ خوابوں کا قبرستان

زندہ قوموں کافلسفہ وجود - منگل 08 دسمبر 2020

ایک وقت تھا میاںنوازشریف نے پیپلزپارٹی کے موجودہ چیئرمین کو مسٹرٹین پرسنٹ قراردے کر ان کا ناقطہ بندکردیا تھا پھر مفاہمی سیاست کا دور آیا تو ایک دوسرے کو سیکیورٹی رسک گرداننے والے نوازشریف اور بے نظیر بھٹو بہن بھائی بن گئے ،چندسال پہلے جب پانامہ لیکس نے دنیا بھرکی اڑھائی سو سے زائد شخصیات کا بھانڈہ عین چوراہے میںپھوڑدیا جس سے ان کی نیک نامی اڑن چھو ہو گئی کبھی جھوٹے لوگوں سے منہ چھپاتے پھرتے رہے اور کبھی وکٹری کا نشان بناکر یوں اتراتے رہے جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو، پاکستان میں ...

زندہ قوموں کافلسفہ

بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت کے 28سال وجود - منگل 08 دسمبر 2020

(مہمان کالم) معصوم مرادآبادی جی ہاں، 6 دسمبر کے دن اب سے 28 سال پہلے اجودھیا میں بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت کا سانحہ پیش آیا تھا۔ وہی بابری مسجد جسے 1528میں ایک غیر متنازعہ اراضی پر تعمیر کیا گیا اور جسے 22 دسمبر 1949 تک مسلمانوں نے اپنے سجدوں سے منور کیا تھا۔جی ہاں وہی بابری مسجد 6دسمبر 1992کو دن کے اجالے میں شہید کردی گئی۔ جس وقت نام نہاد کارسیوکوں نے مسجد کو شہید کیا تو وہاں نظم ونسق کی پوری مشینری موجود تھی اور صوبے کے وزیراعلیٰ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں حلف نامہ...

بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت کے 28سال

دوستوں سے ریا کی بات نہ کر وجود - پیر 07 دسمبر 2020

ایک شخص کے حالات خراب ہوگئے کاروبار جاتارہا دیوالیہ ہواسو ہوا اس پر لاکھوںکاقرض چڑھ گیا وہ انتہائی پریشانی کے عالم میں سوچنے لگا ان برے حالات میں کون میری مددکرسکتاہے ،سوچتے سوچتے اسے اپنے ایک بچپن کے دوست کا خیال آیا جو اب ایک بڑا بزنس مین بن چکا تھا ،وہ بادل نخواستہ اس کے گھر چلاگیا ،بزنس مین بڑے تپاک سے ملا دونوںنے مل کر کھانا کھایا ،ایک دوسرے کے حالات دریافت کیے ،اس شخص نے سارا ماجرا کہہ سنایا ،اس نے افسوس کااظہارکیا پھربزنس مین اٹھ کر گھرکے اندرگیا اور پھولا ہوا لفافہ ا...

دوستوں سے ریا کی بات نہ کر

ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے اثرات و مضمرات ؟ وجود - پیر 07 دسمبر 2020

عموماً سائنس دانوں کے بارے میں ہم تب ہی واقف ہوپاتے ہیں جب یا تو انہیں کوئی بڑا انعام مثلاً نوبل پرائز وغیرہ ملتا ہے یا پھر جب کسی سائنس دان کی طبعی موت واقع ہوتی ہے تو ہمیں ذرائع ابلاغ کی جانب سے خبر دی جاتی ہے کہ ’’آج جس سائنس دان کا انتقال ہوا ہے ،فلاں فلاں ایجاد اُس کے ذہن رَسا کی ہی مرہونِ منت ہے‘‘۔واضح رہے کہ سائنس دان اکثر وبیشتر طویل عمر گزارنے کے بعد اپنی طبعی موت ہی مرتے ہیں ،کیونکہ ایک تو ہر سائنس دان شہرت سے کوسوں دور ہوتاہے ،دوسرا اُن کے اخلاص نیت کے لوگ اتنے مع...

ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے اثرات و مضمرات ؟

عالمی صہیونی اسٹیبلشمنٹ جو بائیڈن سے کیا کام لے گی؟ وجود - اتوار 06 دسمبر 2020

کچھ عرصہ پہلے تک امریکی صدر ٹرمپ جو کسی طور پر بھی عام انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اچانک کیسے اپنی شکست تسلیم کربیٹھے؟ ڈیموکریٹک جو بائیڈن جو 20جنوری 2021میں وائٹ ہائوس میں برجمان ہوں گے امریکی اسٹیبلشمنٹ ان سے کیا کام لینے جارہی ہے؟ یہ اہم سوالات ہیں جن کے جواب میں دنیا کے لیے آنے والے اگلے چار برسوں کی کہانی پوشیدہ ہے ۔ الیکشن کے نتائج کے حوالے سے دنیا میں اس قسم کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ صدر ٹرمپ اور امریکی صہیونی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات ہ...

عالمی صہیونی اسٹیبلشمنٹ جو بائیڈن سے کیا کام لے گی؟

ہارڈ۔ٹاک۔۔ وجود - اتوار 06 دسمبر 2020

دوستو، سوشل میڈیا پر ’’ہارڈ ٹاک‘‘ کے چرچے ہیں، اسحاق ڈار انٹرویو دے کر ’’سیاپا‘‘ ہی کربیٹھا ۔۔ باباجی فرماتے ہیں۔۔ ہر وہ بات جو مزاج یار پر ناگوار گزرے’’ہارڈ ٹاک‘‘ کہلاتی ہے۔۔ جب باباجی سے ان کے فرمان کی تشریح چاہی تو کہنے لگے کہ ۔۔مثال کے طور پر اگرمیں کوئی ایسی بات کروں جس سے تمہارا موڈ آف ہوجائے یا پھر تم زچ ہوجاؤ، ہر ایسی بات تمہارے نزدیک ہارڈ ٹاک ہی کہلائے گی۔۔ جب کہ وہ بات میرے لیے بالکل نارمل ہوگی۔۔ باباجی کی مثال تو سر سے ایسے گزرگئی جیسے بڑھاپے میں سرسے بال ’’گزر‘‘...

ہارڈ۔ٹاک۔۔

ایرانی سائنس دان کا قتل وجود - اتوار 06 دسمبر 2020

(مہمان کالم) باربرا سلیون جب اسرائیل نے 2010-12ء کے عرصے میں ایران کے نصف درجن سے زائد ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کروا دیا تو اس قتل عام کے حامیوں کا موقف تھا کہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام میں سست روی آجائے گی کیونکہ امریکا کی سفارتکاری اس مسئلے پر زیادہ پیش رفت دکھانے سے قاصرنظر آرہی تھی۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی محسن فخری زادہ کا قتل ایک بالکل مختلف تناظر میں ہوا ہے۔ ایران دوبارہ بھاری مقدا رمیں یورینیم افزودہ کر رہا ہے مگر یہ اس سطح کا نہیں ہے کہ اس سے ایٹمی ہتھیا...

ایرانی سائنس دان کا قتل

اسرائیل تسلیم کرنے کی بحث وجود - هفته 05 دسمبر 2020

دنیاکوروناکی تباہ کاریوں سے متوحش ہے لیکن اسلامی ممالک کو بظاہر خطرے کا کوئی احساس نہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے یانہ کرنے کی بحث تمام مسائل پر حاوی ہے کچھ اسلامی ممالک یو اے ای اوربحرین نے تو سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں تسلیم سے کترانے والے بھی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے چکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیل آف سینچری سے اسرائیل کے لیے فضا سازگار ہوئی ہے اوروہ تہائی صدی کے بعد عرب ممالک کو امن پسندی کا احساس دلانے میں کامیاب ہو گیا ہے اور عربوں پہ عقدہ کھلا ہے کہ اصل خطرہ اسرائ...

اسرائیل تسلیم کرنے کی بحث

قلوپطرہ کی حقیقت وجود - هفته 05 دسمبر 2020

اس کا ایک ہی خواب تھا کہ میںملکہ ٔ عالم بنوں پوری دنیامیرے زیرِنگین ہوجائے اسی حکمتِ عملی کے تحت اس نے عظیم یونانی سلطنت کے شہرہ آفاق حکمران جولیس سیزرتک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ اختیارکیا،اس نے خودکو ایک خوبصورت قالین میں لپیٹ لیا جب یہ قالین روم کے فرمانروا کے حضور پیش کیا گیا تو اس سے جو خاتون برآمدہوئی اس کے حسن نے جولیس سیزر کی آنکھوںکو خیرہ کردیا وہ سوچنے لگا کوئی عورت اتنی بھی حسین ہوسکتی ہے ،وہ اس کی زلفوں کااسیرہوکررہ گیااسی دوران اس عیار عورت نے جول...

قلوپطرہ کی حقیقت