وجود

... loading ...

وجود

پی ڈی ایم پارٹ ٹو حکومت بنانے کا فیصلہ

جمعه 09 فروری 2024 پی ڈی ایم پارٹ ٹو حکومت بنانے کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے انتخابات میں تمام جیتنے والی جماعتوں کو مل کر حکومت بنانے کی دعو ت دیتے کہا ہے کہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) مرکز اور پنجاب میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے ،ہم سب جماعتوںاور فرد واحد کے مینڈیٹ کا بھی احترام کرتے ہوئے ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے سب کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں، بلا تاخیر پیشرفت کے لئے شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی رہنمائوں کو ذمہ داری سونپ دی ہے جو آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان ، خالد مقبول صدیقی اور دیگر سے ملاقاتیں کریںگے ،ہم بار بار انتخابات کرانے کے متحمل نہیں ہو سکتے ، یہ اکیلا مسلم لیگ (ن) کا نہیں سب کا پاکستان ہے ، سب کو رواداری کے ساتھ بیٹھ کر ملک کو مشکلات سے باہر نکالنا چاہیے ،سیاستدان ،پارلیمنٹ ،افواج پاکستان ،عدلیہ اورمیڈیا سب کو ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ،استحکام کے لئے کم از کم دس سال چاہئیں،جو لڑائی کے موڈ میںہیں ہم ان سے لڑنا نہیں چاہتے ،پاکستان اس طرح کی کسی لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ان خیالات کا اظہارا نہوںنے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میںجشن منانے کے لئے جمع ہونے والے پارٹی کارکنوںسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر شہباز شریف،مریم نواز ، اسحاق ڈار، عطا اللہ تارڑ، مریم اورنگزیب سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔ ماڈل ٹائون آمد پر نواز شریف اور مریم نواز کا پرتپاک استقبال کیاگیا اور ان کی گاڑی پر گل پاشی کی گئی ، اس موقع پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔ نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کی آنکھوںمیںصاف صاف خوشی کی لہر دیکھ رہا ہوں،آپ کی آنکھوںمیںایک چمک دیکھ رہاہوں ، میں اس کو پہچان رہا ہوں ،آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر اس چمک کو بھی دیکھ رہا ہوںجو آپ کی آنکھوںمیںہے،یہ چمک کہہ رہی ہے میرے پاکستان کوسنوار دو، پاکستان زخمی ہے ، ہماری زندگیوںمیں روشن تبدیلی آنی چاہیے ، یہ چمک پاکستان کو ایک بہت خوبصورت ملک دیکھنا چاہتی ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ میں آپ کو اپنی طرف سے شہباز شریف کی طرف سے اور پارٹی کے تمام رہنمائوںکی طرف سے مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے ،مسلم لیگ (ن) سنگل لارجسٹ پارٹی ہے ،ہمارافرض ہے کہ اس ملک کو بھنور سے نکالا جائے ،ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس ملک کو بھنور سے نکالنے کی تدبیر کریں ، ہم نے پہلے بھی ملک کومشکلات سے نکالا ہے ، آج بھی نکالنے کا اہتمام کر رہے ہیں،ہم سب جماعتوں کے مینڈیٹ کا دل کی اتھاہ گہرائیوںسے احترام کرتے ہیں ،جو فرد واحد جیتا ہے ، چاہے کوئی آزاد ہے ہم ان کا بھی احترام کرتے ہیں ، انکو بھی دعوت دیتے ہیں اس زخمی پاکستان کے لئے آئو ہمارے ساتھ بیٹھو ، ہمارا ایجنڈا صرف اور صرف ایک خوشحال پاکستان ہے جو ہم نے پہلے بھی کر کے دکھایا ہے ۔ آپ جانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کس نے پاکستان کے لئے کام کیا ہے ، ہم نے کون کون سے منصوبے بنائے آپ کو معلوم ہے، کس طرح سے ملک کو مالی مشکلات سے نکالا کس طرح سے معیشت کو ٹھیک کیا آپ کو سب معلوم ہے ،پاکستان ایک وقت خوشحال ہوتا چلا جارہا تھا آپ کو یہ بھی معلوم ہے ۔ ملک کی دفاعی صلاحیت کے لئے ہم نے اپنا کردار ادا کیا ، چاہے معاشی ہو ،دفاعی ہو معاشرتی نظام ہو سب کی بہتری کے لئے کام کیا اوربھرپور خدمت کا ریکارڈ قائم کیا ،میں زبانی جمع خرچ نہیںکر رہا ہے میں ریکارڈ کے ساتھ بات کر رہا ہوں کہ ہمارا ایک ٹریک ریکارڈ ہے ۔ ہم اپنے سینے میں پاکستان کا درد رکھتے ہیں ،ہمیںجو مینڈیٹ ملاہے ضروری ہے دوسری جماعتیںبھی ساتھ بیٹھ کر حکومت قائم کریں اور پاکستان کو اس بھنور سے نکالیں ۔نواز شریف نے کہا کہ ہم بار بار ملک میں انتخابات کرانے کے متحمل نہیں ہو سکتے ، میں 8فروری کو بھی یہاں آیا تھا لیکن نتائج ابھی آرہے تھے مکمل نتائج نہیں آئے ورنہ کل ہی بات کرنے کا ارادہ تھا،اس لئے بات نہیں کی کیونکہ نتائج بہت کم آئے ہوئے تھے،دس فیصد بارہ فیصد نتائج آئے تھے اور لوگوںنے رائے قائم کرنا شروع کر دی ایسا نہیںہونا چاہیے ، اس ملک کے اندر سب ادارے ،سیاستدان ،پارلیمنٹ ،افواج پاکستان ،عدلیہ اورمیڈیا سب کو ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔یہ صرف شہباز شریف یا اسحاق ڈار کی ذمہ دار نہیں ، یہ سب کی ذمہ داری ہے یہ سب کا پاکستان ہے ،اکیلا مسلم لیگ (ن) کا پاکستان نہیں، سب کا پاکستان ہے ،سب کو رواداری کے ساتھ بیٹھ کر ملک کو مشکلات سے باہر نکالنا چاہیے ، تبھی پاکستان مشکلات سے باہر نکلے گا۔نواز شریف نے کہا کہ یہ آپ کی زندگیوںکا سوال ہے ،بچوںکے زندگیوں اور مستقبل کا سوال ہے ، یہ کوئی معمولی بات نہیںہے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے ، اس قوم کی امنگوں کے مطابق پورا اترنا چاہیے ،قوم کی توقعات پر پورا اترنا چاہیے تب ہم اس بھنور سے باہر نکلیںگے ، استحکام کے لئے کم از کم دس سال چاہئیں،جو لڑائی کے موڈ میںہیں ہم ان سے لڑنا نہیں چاہتے ،پاکستان اس طرح کی کسی لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔میں بار بار کہہ رہا ہوںسب کو مل جل کربیٹھنا ہوگا اور بیٹھ کر سارے معاملات کو طے کرنا ہوگا اور پاکستان کو اکیسویں صدی میں لے کرجانا ہوگا۔اگر ہم کوتاہیاں نہ کرتے تو شاید آج پاکستان منفرد مقام حاصل کر چکا ہوتا ، وہ مومینٹم جو ہم نے 1990میں بنایا تھا اگر وہ قائم رہتا تو آج پاکستان دنیا کی بہت بڑی طاقت ہوتا،ہم نیوکلیئر پاور بنے تو اس وقت پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی تھی ،یہ کہا جارہا تھا کہ پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہے اور دفاعی طو رپر بھی مضبوط ہے ، آج کوئی میلی آنکھ سے پاکستان کی طرف نہیں دیکھ سکتا کیونکہ نیوکلیئر پاور ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ 1990کا ریکارڈ منگوا لیں دیکھ لیں ہماری خدمات کیا ہیں،لیکن ہم دوسروں کے ساتھ موازنہ بھی نہیں کرنا چاہتے ، ہمارے اپنے منفرد ریکارڈ ہیںجو قوم جانتی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ اگر انتخابات میں ہمیں پورا مینڈیٹ ملتا ہم اکثریتی پارٹی بنتے تو حکومت بناتے تو بہت خوشی کی بات ہوتی ،لیکن اس کے باوجود ہم باقی جماعتوں کو بھی دعوت دیتے ۔ اب باقی جماعتوںکو دعوت دیتے ہیں وہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں ہمارے ساتھ چلیں کیونکہ ہمارے پاس اکثریت نہیںہے کہ حکومت بنا سکیں ۔ ہم اپنے اتحادیوں اور جو جماعتیں اس الیکشن میں کامیاب ہوئی ہیں ضرور ان کو دعوت دیں گے ہمارے ساتھ شراکت کریں ہمارے ساتھ آئیں ہم مل کر بنائیں اور پاکستان کومشکلات سے نکالیں۔نواز شریف نے مجمع سے پوچھا میں جو حل بتا رہا ہوں کیا آپ اس حل کو منظور کرتے ہیں۔انہوںنے بتایا کہ میںنے شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی رہنمائوں کی ڈیوٹی لگائی ہے وہ اس پر پیشرفت کریں اور آج ہی آصف زرداری ،مولانا فضل الرحمن ، خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کریں ،ایم کیو ایم کے ساتھ ملاقات کر کے اپنی سوچ سے آگاہ کریں کہ پاکستا ن کے حالات کیا تقاضہ کرتے ہیں ،ہم سب مل کر بھنور سے کشتی کو نکالیں ،شہباز شریف سے کہا ہے آج ہی پہلی ملاقات کریں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ میںچاہتا ہوں ملک اتنا خوشحال ہو کہ عوامکو بجلی کا بل ادا کرتے ہوئے ،گیس کا بل ادا کرتے ہوئے ،گاڑی اورموٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتے ہوئے بوجھ محسوس نہ ہو ،بچوں کی سکول کی فیس ادا کرتے ہوئے بوجھ محسوس نہیںہونا چاہیے ، پاکستان میں بہترین روزگار ہونا چاہیے ،خوشحالی ہو،ان شا اللہ روشنیاں پھر لوٹیں گی بد امنی ،بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا ،غریب کا چولہا جلے گا ،قوم کی حالت بدلے گی ،ان شا اللہ قوم سکھ کا سانس لے سکے گی ۔ہم چاہتے ہیں ہمارے تعلقات دنیا کے ساتھ بہتر ہوں ،اپنے ہمسایوںکے ساتھ بہتر تعلقات ہوں،ہم تعلقات بہتر کریں گے اور تمام مسائل حل کریں گے ۔نواز شریف نے کہا کہ اپنی پارٹی کے کامیاب ہونے والے لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں اور تاکید کرتا ہوں آپ نے سیاست کو عبادت سمجھ کر کرنا ہے، حلقے کی عوام کی خدمت کرنی ہے ،عوام کے مسائل کو حل کرناہے، بیروزگاری کے خاتمے کے لئے حکومت کابھرپور ساتھ دینا ہے ۔نواز شریف نے کہا کہ ہمیںمرکز کے ساتھ پنجاب میںبھی اکثریت مل گئی ہے ، پنجاب میں بھی ہم سنگل لارجسٹ پارٹی ہیں،انشا اللہ مرکز میںخدمت کریںگے جو پورے ملک کی خدمت ہو گی ، پنجابمیںبھی عوام کی خدمت کریں گے ۔ نواز شریف نے کہاکہ یوتھ کے لئے شہباز شریف کی بڑی قابل قدر خدمات ہیں ، یہ یوتھ کے لئے لیپ ٹاپ خرید رہے ہیں ،آرڈر دے دیا ہے ، اچھے سکول بنائیں گے ، وظائف دیںگے ،ہسپتالوںمیںمفت ادویات دیںگے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے وجود - جمعه 13 فروری 2026

تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حی...

آزاد کشمیر صدارتی انتخاب،نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف وجود - جمعه 13 فروری 2026

تین ماہ سے دائیںآنکھ کی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، بانی چیئرمین کی عدالتی معاون سے ملاقات دو سال سے دانتوں کا معائنہ نہیں کرایا گیا، باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، رپورٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بارے رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں، اس حوالے س...

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی اچانک ختم ہونے کا انکشاف

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ وجود - جمعه 13 فروری 2026

ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف ...

کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی وجود - جمعه 13 فروری 2026

نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں...

اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر